کتاب میلہ
معاصرینِ مبارک
سید مبارک شاہ جیلانی
سید انیس شاہ جیلانی پنجا ب اور سندھ کی سرحد پر صادق آباد کے قریب نہ صرف ایک بے مثال کتب خانے کے وارث اور نگینہ دار ہیں ، بلکہ سرائیکی تہذیب کے دلآویز نشانیوں میں سے ہیں۔ ان کے علم وفضل کی اپنی اہمیت ہے مگر ان کا مصلحت سوز اسلوب مستقبل کی اس اُردو کو نوید دیتا ہے جس میں پاکستان کو رسیلی سرزمین کی بو باس شامل ہے ، شاہ محمد مری اور امر جلیل کی تحریروں کی طرح انھوں نے شکوہ کیا کہ مقتدرہ قومی زبان سے میری وابستگی کے بعد ان کے لیے اخبار اُردو کی اعزازی ترسیل موقوف ہوئی ، میں نے ان کی جانب سے دفتر میں سالانہ چندہ جمع کرا دیا تو ان کا ایک شگفتہ خط ملا’’ میڈے واروں تُساں کوں ترے سو روپے دی چٹی بھرنی پئے گیی، ایجھے تھورے کوں کون لہا سگدے،سو معاصر ینِ مبارک کے پڑھنے کی مسرت میں آپ کو بھی شریک کیا جارہا ہے۔
انتساب
اُن بزرگوں کے نام ، جنھوں نے بات بے بات بلا جواز اور بلا ضرورت دو دوتین تین چار چار بلکہ پانچ پانچ نکاحوں کی آڑ میں شرعی عیش کوشیوں کا ارتکاب کیا۔ قبیلوں اور خاندانوں کو تباہ وبرباد کیا اور اپنی عاقبت کا خدا جانے کیاکیا ، غالباً خراب ہی کیا ۔
انیس(۱۶ دسمبر ۲۰۰۲ء (
غریقِ شعرو سخن
سید مبارک شاہ جیلانی از سید انیس شاہ جیلانی
اذان انھوں نے کبھی دی ہی نہیں۔ اونچی آواز میں بہت کم بولتے تھے۔ ۔۔۔غصہ پینے میں بلا نوش تھے۔ ۔۔۔بڑا بیٹا پرلے درجے کا نافرمان خود سر خود رائے بالکل الگ تھلگ ۔ مگر کماؤ اور محنتی، اس سے غرض نہیں تھی ، چالبازی سے روپیہ بٹورتا ہے۔ یا چور بازاری سے ۔ مرحوم کی طمانیت کے لیے یہی کافی تھا کسی کا دست نگر نہیں ہے خود کماتا اور لٹاتا ہے۔ ۔۔۔تقسیم ملک کے خلاف تھے مگر جب پاکستان بن گیا تو فلاح وبہبود کا بڑا خیال تھا۔ ۔۔۔جوانی بڑھاپے میں وزن قریب دو من دو سیر سے نہ گھٹا نہ بڑھا۔ بتیسی ہم نے ان کی دیکھی ہی نہیں ۔ اتنا ضرور تھا کہ ایک ہی داڑھ رہ گئی تھی ، جس پر وہ پیسٹ اور برش گھسا کرتے تھے۔ ۔۔۔سندھی اور سرائیکی مادری پدری زبانیں تھیں مگر وہ مرحوم اول و آخر اُردو تھا۔ ۔۔۔وہ چاہتے تھے ضلعی صدر مقام رحیم یار خاں میں سرکاری سرپرستی میں دارالمصنفین اعظم گڑھ کی وضع کا ادارہ اگر قائم کردیا جائے تو پورا کتب خانہ نذر کردیں گے۔ ۔۔۔ایک ڈپٹی کمشنر جناب غلام فرید خاں نے حاتم کی قبر پر بارہ مربع فٹ زمین دکھا کر دولتی جھاڑ تو دی تھی۔ غالباً لائبریری کے نام سے وہ بجھکڑ سمجھے یہ کوئی اکنی دونی کمانے کا چکر ہے۔ ایک عظیم علمی ادارے کے تصور کا متحمل ایک سرکاری دماغ کیونکر ہوسکتا تھا۔ ایسی خفتہ ملت پر لعنت کے سوا اور کیایا کہا جاسکتا ہے۔ ۔۔۔انھوں نے جوانی کو لٹایا بھی تو اس انداز سے کہ کسی کو کانوں کان خبرنہ ہوئی ۔ بدنام نہیں ہوئے۔ ۔۔۔ایک ہی خادمہ کو آواز دیتے تھے اور بھی تھیں مگر چونکہ اس کے نام کا صوتی اثر اچھا تھا اسی لیے کسی اور کو نہ بلاتے۔
------
ڈاکٹر انوار احمد
ہم غریب شہری
پاکستان کی تقریباً بیالیس فی صد آبادی غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ پاکستان کے وہ لوگ ہیں جن کی زندگی بہت تلخ اور مشکل ہے بہت کم ایسا ہوا ہے کہ پاکستان کے ان لوگوں کے مسائل پر کچھ لکھا جائے۔ کتاب ’’ہم غریب شہری‘‘خاتون سماجی رہنما سمیرا گل نے اس ملک کے عام شہریوں کے حالات زندگی اور ان کے مسائل پر لکھی ہے۔ جس میں تفصیل کے ساتھ ان غریب علاقوں کے لوگوں کی زندگی اور ان سے جڑے ہوئے روزمرہ کے مسائل کا احاطہ کیا ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ معروف سماجی رہنما فیاض باقر نے تحریر کیا ہے اور اس کتاب کا انتساب کچی آبادیوں سے محبت کرنے والی عظیم سماجی شخصیت عارف حسن کے نام کیا ہے۔ یوں میں سمجھتا ہوں جس انداز میں اس کتاب میں غریبوں اور عام پاکستان کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے وہ بہت منفرد ہے جس میں عشق ، محبت، شادی ، بچے ، علاج ، حصول تعلیم ، جھگڑے، وفات کی رسمیں زیر بحث لائی گئی وہ قابل تحسین ہیں۔ یہ کتاب یقیناًپاکستان کے اکثریتی طبقہ کی زندگیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس طرح کی کتابیں ہمارے حقیقی مسائل کی آئینہ دار ہوتی ہیں اور یہ وہ تجربات ہوتے ہیں جس سے انسان گزرتا ہے۔ سماج میں کام کرنے والے دیگر لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ بھی اپنے تجربات تحریر میں لائیں۔
-------
شاہنواز خان ، ملتان
مٹی کا مضمون، شاعر: فرخ یار
’’شاعری ، حواسِ خمسہ سے ماخوذ سبب اور نتیجے کی منطق میں ایک چھٹا عنصر شامل کردیتی ہے جو اسے تھوڑا سا پر اسرار بنا دیتا ہے۔ اگر ہم نئی نظم میں موجود چھٹے عنصر کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ جو ہمارا تربیت کار بھی ہے، افلاطون کی اکادمی سے فارغ التحصیل ہوا ہے۔ ہمارا سائنسی کلچر اسی نظام منطق کے تابع ہے۔ سچ یہ ہے کہ کڑا وقت شاعری کو دیس بدر کرنے کے لیے دنیا کی دہلیز پر کھڑاہے۔ ہماری دنیا آدھے آدمی کے ہاتھ پر بیعت کرچکی ہے اور ایسے سمے میں اگر فرخ یارؔ کی کتاب منصہ شہود پر نمودار ہوتی ہے تو یوں سمجھیے کہ دیوارِ حبس میں ایک اور درِبادوا ہوا ہے۔
نئی نظم جدید طرزِ حسیت سے بھی مشروط ہے۔ فرخ یار ؔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور گلوبولائزیشن کے دور کا باشندہ ہے اور اُس کا طرزِ احساس اتنا توانا ہے کہ اپنے پیش منظر کو اپنے پس منظر سے جوڑ کر بھی دیکھ سکتا ہے۔ اس کی نظموں میں مصرع در مصرع جدید طرز حسیت کا وقوعہ نمایاں ہے۔
فرخ یار ؔ نئی نظم لکھ رہا ہے لیکن اس التزام کے ساتھ کہ وہ اسے سطرِ زریں سے مزین بھی کرتا ہے۔ یہ ہنر اُس نے اخترؔ حسین جعفری سے سیکھا ہے لیکن دونوں میں اِس لحاظ سے فرق بھی ہے کہ اختر حسین ؔ جعفری کی زریں سطر اس کے اسلوب کا حصہ ہے۔ جب کہ فرخ یارؔ معنی کی گہرائی میں اتر کر وہاں سے زریں سطر نکالتا ہے اور مٹی کے مضمون کی تلاش کے دوران سونا نکالنا کان کنی نہیں جان کنی کا مرحلہ ہے۔ یہ زریں سطر کتاب کے سطری شاخچوں میں یہاں وہاں جگنو کی طرح لودیتی نظر آئے گی۔
وہ عصرِ حاضر کی نارسائیوں اور تاریخ کے ایک درخشاں دور کے چھن جانے کے احساس زیاں کے ساتھ ساتھ مٹی کو اپنا مضمون اور لاعصر کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ وہ انسانی تاریخ کو حالتِ التو امیں دیکھتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد دیکھتا ہے کہ خوب صورت استعاروں کے بہی کھاتے نامکمل ہیں۔ مکالمے کے نئے سے نئے صندوق کھلتے ہیں لیکن مکالمے کی دبیز تہوں سے کیا نکلتاہے ؟ ایک علامت بھی نہیں نکلتی ، زمین ناراض ہے روما کے کھیتوں کھیلانوں اور تہہ خانوں میں پختہ اورکیچڑ جیسی مٹی کا کہرام مچا ہے لیکن کہیں سے کسی آتے ہوئے شہزادے کی رتھ کی اڑتی ہوئی گرددکھائی نہیں دیتی۔ ‘‘
-----
آفتاب اقبال شمیم
مہینہ وار ’’کانگاں ‘‘
گجرات سے افضل راز ؔ کی ادارت میں شائع ہونے والا پنجابی میگزین مہینہ وار ’’ کانگاں‘‘ کا ’سید وارث شاہ ‘نمبر شائع ہوگیا ہے۔ اس میں ۸۴ مضامین (اُردو ، پنجاب ، گورسکھی ، انگریزی ) شامل ہیں۔ سید وارث شاہ پنجاب کے شعری ادب میں اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ ان کی لکھی ہیر میں پنجاب کی مکمل تصویر موجود ہے اور اس دور سے مکمل آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔وارث شاہ کی لکھی ہیر پنجاب کے شعری ادب میں ایک شاہکار ہے۔ جو سدا بہار ہے۔ آج بھی اسی طرح تروتازہ ہے۔ اس کے کردار بولتے ہیں۔ یہ خاص نمبر تقریباً ۹۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ شعبہ تحقیق کے طالب علموں کے لیے خاصے کی چیز ہے۔
شہرِ بے اذاں
شاعر: فضل احمد خسرو
آج جب دنیا ایک نئے انقلابی اُبھار کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے تو خسرو بھی اِس شہرِ بے اذاں کی صورت میں اپنی مسافت کی اگلی منزل پر کھڑا نظر آتا ہے۔ اذاں خسرو کے ہاں استعارہ ہے ۔۔۔ زندگی کی طرف ۔۔۔ فلاح کی طرف۔۔۔ تبدیلی کی طرف بُلائے جانے کا ۔۔۔نوحہ ہے! ایک ایسی دنیا کا جس میں کوئی حضرت بلال حبشیؓ اپنے ایسے غلام زادوں کو تمام دنیاوی خداؤں کی نفی کر کے فلاح کی طرف۔۔۔ تبدیلی کی طرف۔۔۔ بُلانے والا بھی نہ رہا ہو۔ دوسری طرف اس کے کلام میں اسی شہرِ بے اذاں کے کھنڈرات سے اُبھرتے ہوئے ایک نعے منظر نامے کی بشارت بھی ہے۔
شہرِ بے اذاں کی شاعری سماجی گھٹن، معاشی ناہمواری اور تہذیبی ٹُوٹ پھوٹ کے الاؤ کی وہ چنگاریاں ہیں جو پھول پھول شعلوں کی صورت اشعار کا روپ دھار گئی ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے اس کی شاعری حرفوں کے اوپر بھی سجی ہوئی ہے اور حرفوں کے اندر بھی اور اس کے لہجے میں بھی۔۔۔ یہی نہیں بلکہ اس کی محسوسات کی دنیا اتنی حساس ہے کہ شہرِ بے اذاں اُبھرتی ہوئی طبقاتی فکری آب و ہوا کا آئینہ خانہ بن گیاہے۔ یوں یہ شاعری ہمارے اس عہد کا صحیفہ ہے اور انقلابی فکر کے ساتھ تہذیبی ورثہ کی جُڑت سے رونما ہونے والی قلبی واردات کی کہانی ہے۔ -----حشمت لودھی
(Labour Management Relations in Islam )
شہزاد ولنگاہ کی یہ کتاب آجر ،مزدور مالکان، حکومت ،لیبر لیڈر ۔وکلا حضرات اور لیبر پر کام کرنے والے تربیتی اداروں ،NGO ،وفاقی صوبائی حکومت کے مزدوروں سے متعلق کا ر آمد ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایل ایل بی ،ایل ایل ایم ،ایم بی اے ،کنامکس ،پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ان لیبر لاء اور بینکنگ کی تعلیم سے متعلق معلومات افزا ہو سکتی ہے۔ کتاب میں مزدوروں سے متعلق مکمل مسائل کا حل قانون ،قرآن کریم اور حدیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے ،خاص طور پر لیبر کورٹ کے ججز ،وکلاء حضرات کے لیے بھی بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب شہزادہ ولنگا ہ کی وفاقی ،صوبائی خود مختار، نیم خود مختار ،کارپوریشن اور اتھارٹی کے ملازمین کے لیے کارآمد ہے ۔ اس کتاب میں ۱۹۷۴ سے لے کر ۲۰۰۸ء تک لاہور ہائی کورٹ ،پشاور ہائی کورٹ ،سندھ ہائی کورٹ ،بلوچستان ہائی کورٹ فیڈرل سروس ٹریبونل کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ۵۰۰۰ کیسز موجود ہیں۔ یہ کتاب لاکالجوں ،یونیورسٹیوں لائبریریوں کے حوالے سے خاص طور پر قانون کے طالب علموں ،وکلا حضرات اور انتظامی امور پر کام کرنے والوں کے حوالے کے طور پر کام آسکتی ہے ۔ اس کتاب کو ہائر ایجو کیشن کمیشن نے ایل ایل بی کے نصاب میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ اس کتاب کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے ۔
شہید بینظیر بھٹو بطور دانش ور اور ادیب
کتاب کے مرتب خالد کشمیری لکھتے ہیں کہ بطور دانشور و ادیب شہید بنظیر بھٹو کا خاندان ایک ایسے خانوادہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے جس کے آباد و اجداد اپنی ذاتی وجاہتوں اور قومی خدمات کے باعث کے مسلمانوں میں ممتاز مقام کے حامل تھے،
محترمہ بینظیر بٹھو پاکستان کی پہلی ایسی خاتون دانش ور ،منفرد اسلوب کی شاعرہ ،دلنشین طرز تحریر کی ادیبہ ،آتش نوا مقررہ اور زیرک سیاستدان تھیں جو نہ صرف پاکستان ، جنوبی ایشاء بلکہ امریکہ اور یورپ کے ممالک میں بھی مقبول عام کی حیثیت رکھتی تھیں، ان کی شخصیت کے ایسے اوصاف کی نشاندہی ان کے شہید باپ ذوالفقار علی بھٹو نے واضح طور پر کر دی تھی ۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو نے ابھی باقاعدہ طورپر سیاست میں قدم رکھا تھا نہ ان کی کوئی تحریر منظر عام پر آئی تھی ،نہ سنخوری میں محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی ذاتی آزمائی کی تھی‘ اور نہ ہی انہیں کہیں آتش نوائی کا موقعہ ملا تھا ‘ اس وقت تک محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی ذاتی محنت ،ذہانت اور قابلیت سے صرف ایک ہی اعزاز حاصل کیا تھا ‘ ۲۶ نومبر ۱۹۷۶ء کو آکسفورڈ یو نین (ڈوبیٹنگ سنٹر آکسفورڈ یونیورسٹی ) کے صدارتی انتخاب میں انہوں نے مد مقابل کے مقابلے مںے ۲۴ ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی ھتی وہ جنوبی ایشاء کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے انگریزوں کی شہر آفاق دانش گاہ آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ میں اتنا بڑا اعزاز حاصل کیا تھا
محترمہ بینظیر بھٹو کے جوہری باپ ذوالفقار علی بھٹو نے ۲۱ جون ۱۹۷۸ء کو سنٹرل جیل راولپنڈی سے ایک قیدی کی حیثیت سے اپنی قیدی بیٹی بینظیر بھٹو کو جو خط لکھا تھا، انہوں نے اس بینظیر بیٹی سے یونہی ہی نہیں توقعات وابستہ کی تھیں باپ کی نگاہ دور بیں نے اپنی بیٹی کے پوشیدہ اوصاف کا پوری طرح اندازہ لگا لیا تھا ، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کے شاندار مستقبل کے حوالے سے اسی خط مںے ایک جگہ لکھا تھا ۔۔۔۔۔۔’’اگر مجھے سیاسی سٹیج سے علیحدہ رہنا پڑا تو میں تمہیں اپنے احساسات کا تحفہ دیتا ۔۔۔۔ تمہاری تقاریر میری تقریر کے مقابلے مںے زیادہ فصیح و بلیغ ہوں گی عوام کے ساتھ تمہاری وابستگی مساوی طور پر مکمل ہو گی۔۔۔۔ تمہارے اقدامات زیادہ جرات مندانہ ہوں گے مںے اس انتہائی مقدس مشن کی برکتیں تمہیں منتقل کرتا ہوں ‘‘ پھر کس خوبصورت اور دلنشین پیرائے میں اپنی بیٹی سے امیدیں باندھتے ہوئے خط لکھتے ہیں:۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جیل کال کوٹھڑی سے اپنی بیٹی کے نام جو خط لکھا تھا سا میں دانش و حکمت کے موتیوں کو فقروں میں بلا سوچے سمجھے ہی نہیں بکھیر دیا تھا ‘ انہیں اپنی شاعرانہ طبیعت وسیع مطالعے اور عظیم سیاسی بصیرت کی بدولت اس بات کا یقین ہو چکا تھا کہ ان کی ہونہار بیٹی باپ کے احساسات کی لاج رکھے گی۔ یہ کتاب اکادمی ادبیات نے شائع کی ہے۔
’’
ایرانِ نوین ‘‘
ایران سے اردو زبان میں شائع ہونے والا رسالہ ماہنامہ’’ایران نوین ‘‘ طباعت اور تزئین کے اعتبار سے ایک خوبصورت رسالہ ہے، جس میں سیاسی، اقتصادی، ادبی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ پیش نظر شمارہ ستمبر۲۰۱۱ء کے صریر خامہ میں جنوبی ایشیا کے اس خطے میں علاقائی یکجہتی کے درپیش مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ علاقائی یکجہتی خصوصاً ہمارے اس خطے ایران ،پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑا مسئلہ ہے۔جس پر قومی اور علاقائی ادیب شاعراور سیاستدان وغیرہ اس کے نفاذ کے لیے اپنی تحریروں کے وسیلے سے اقوام کی آگاہی بڑھا سکتے ہیں۔ علاقائی و بین العلاقائی شناخت خطے میں رہنے والے ممالک اور اقوام کی تہذیب اور ثقافت کی شناخت سے حاصل ہوتی ہے۔ ان ممالک میں ثقافتی ، سیاسی، اقتصادی اور عمرانی اشتراکات کے عناوین کافی حد تک موجود ہیں۔ کیونکہ ایران برصغیر پاک و ہند اور مسلم تہذیب و ثقافت و اسلامی تاریخ کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں اور اجنبی قوتیں اور دشمن انھیں مٹانے کے در پے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے نشریاتی ادارے ، دانشور، شعراء و ادباء کردار ادا کر سکتے ہیں۔ماہنامہ ایرانِ نوین کے لیے www.itf.org.itf پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
-----
تجمل شاہ
حمد و نعت، سلام و منقبت ۔۔۔سلسبیل
شاعری میں حمد و نعت، سلام و منقبت اظہار عقیدت اور مدحت نگاری کی مختلف صورتیں ہیں۔ ان تمام اصناف میں نعت رسول ﷺ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
یہ کہاں تاب کہ اس ذات کی مدحت کریں ہم
یہی کافی ہے کہ اظہار محبت کریں ہم
جس کی رفعت کا کرے ذکر خدا قرآن میں
ہم بھلا کون کہ وصف قد و قامت کریں ہم
یہ نعتیہ اشعار جناب توصف تبسم کی کتاب ’’سلسبیل‘‘ کے ہیں توصیف تبسم کی نعت گوئی کو ان کی زندگی بھر کی تخلیقی ساعتوں کی روشن کارکردگی کا تکملہ سمجھنا چاہیے ان کے پاس شعرگوئی سے شعرفہمی تک کے مراحل کی وہ ساری ذہنی استعداد اور خیال کی صورت گری کے وہ سارے اسباب موجود ہیں جن سے تخلیق سرشت اور تاثیر نژاد فن پارے اظہار پذیر ہوتے ہیں۔ ان کی نعتوں میں حب رسول اکرم ﷺ کا اظہار جس والہانہ پن، جاں سپاری، فدویت اور فریفتگی کے ساتھ ہورہا ہے وہ اظہار عام نہیں بلکہ ایک جذبہ خاص رکھتا ہے۔
وضاحتی اردو کتابیات )عمرانی علوم (
علوم اسلامیہ کے ایک معروف عالم پروفیسر انورمعظم نے اردو میں موجود عمرانی علوم کے ادب پر مبنی ایک انتہائی قابل قدر کتابیات پیش کی ہے۔ یہ انیسویں صدی کے اوائل سے بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے عرصے پر محیط ہے۔وضاحتی کتابیات پر علمی کاموں کا دارومدار ہوتا ہے۔ حوالوں کے یہ مآخذ اس وقت اور قیمتی ہوجاتے ہیں جب انھیں عالموں نے خود اپنے مخصوص تحقیقاتی میدان کے لیے تیار کیا ہو۔ ایسی فہرستیں کسی بھی مضمون تک رسائی کا دروازہ کھول دیتی ہیں بلکہ علمی تحقیقات کے میدان میں موجود معلومات کی تلخیص پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مخصوص کتاب کو ایک وسیع تناظر میں قائم بھی کردیتی ہیں۔
معلومات کو رومن اور فارسی عربی رسم الخط میں درج کرنے سے اس کتابیات کی پہنچ ایک وسیع تر حلقہ قارئین میں ہوگئی ہے ایک اور اچھی بات جو اس کتابیات کی ہے وہ یہ کہ اس کی تمام معلومات کو الیکٹرانک ڈیٹابیس میں رکھا گیا ہے۔
فخرزمان : کل اور آج
یونیورسٹی آف گجرات جدید خطوط پر ابھرتی ہوئی دانشگاہ ہے جو اپنے مختصر ارتقائی سفر میں راہ عمل کا تعین کررہی ہے۔ یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں ، علمی و فکری کردار اور قومی فرائض سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کا ماحول رسمی تدریس تک محدود نہیں بلکہ سماجی فلاح کے لیے اس جامعہ اور اس کی قیادت نے اجتہادی فکر کو رہنما بنا کر ہمہ گیر کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔فروغ علم و ادب کے حوالے سے جامعہ گجرات کے وسیع مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خطہ گجرات کے نامور فرزندوں کے حوالے سے تحقیق کی جائے ۔دانشور، لکھاری ادیب فخرزمان ایک ہمہ جہت انسان اور شخصیت ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا اعتراف نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک کیا جاتا ہے۔ہندوستان نے انھیں پنجابی ادب کے حوالے سے خدمات کے اعتراف میں ’’مترمنی ساہتک‘‘ سے نوازا ، ناول نگاری کے حوالے سے انھیں میلینئم ایوارڈ ملا۔ حکومت پاکستان نے بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں ۱۹۹۴ء میں ستارۂ امتیاز اور ۲۰۰۸ء میں ہلال امتیاز سے نوازا۔
درداں دیاں پٹیاں۔۔۔ ریاض ارم
سات دریاؤں کی سرزمین جس کو ’’سرائیکی وسیب‘‘ کہتے ہیں زرخیز ہونے کے ساتھ ساتھ مردم خیز بھی ہے۔ اس سرزمین پر بڑے بڑے دانشمند، دانا، ادیب شاعر اور اسکالر پیدا ہوئے۔سید پیرکبیراحمدبخاریؒ کے نام سے منسوب کبیروالہ کی بات کریں تو یہاں پر عبدالرحمن المعروف بیدل حیدری جیسا بڑا آدمی اور شاعر پیدا کیااو راس سے بڑھ کر یہ کہ ان کی شخصیت ایک ہی وقت میں علم و حکمت، دانائی کا منبع تھی۔ریاض ارم نے ۱۹۷۸ء میں اپنے دکھوں کو شاعری کے روپ میں ڈھالنا شروع کیا اور اپنے ٹوٹے پھوٹے خیالات کو لکھ کر جناب بیدل حیدری کی خدمت میں حاضر ہوا جہاں سے ان کو حوصلہ افزائی ملی اور پھر یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ریاض ارم کی اس کتاب میں سرائیکی۔ ڈوھڑے، ماہیے اور گیت شامل ہیں جن کو پڑھنے کے بعد سرائیکی زبان کی مٹھاس کااحساس ہوتا ہے۔