پہلا قتل
شبانہ تحریم


مجھے زندگی میں صرف دو لفظ پسند ہیں ایک ’’ میں ‘‘ اور دوسرا ’’ وہ ‘‘ لیکن چونکہ ’’ میں ‘‘ پہلے آتا ہے اس لیے میری زندگی میں اب تک ’’ وہ ‘‘ نہیں آیا یا آیا بھی تو ایک جھلک دکھانے !ان دو الفاظ کا سحر جب کبھی اترتا ہے جو کہ اکثر اترتا ہے تو مجھے ہر شے ، ہر مخلوق سے محبت ہوجاتی ہے۔ میری ذات ایک سحر سے دوسرے سحر میں سفر کرتی ہے۔ دونوں ایک خاص وقت اور خاص حالات میں وجود رکھتے ہیں۔
میرے اندر بے شمار خرابیاں ، کمزوریاں اور الجھنیں ہیں جو وقت کے ساتھ مزید الجھ رہی ہیں۔۔۔ میں کوئی ایسی انسان نہیں جو بہت زیادہ توجہ کے قابل ہوں یا بہت زیادہ محبت کے ۔۔۔میں نے آج تک صرف قابلِ رحم والی محبت دیکھی ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ محبت درد کی وہ انتہا مانگتی ہے جو بعض نادانوں کو بیدردی لگتی ہے۔ میں اس حوالے سے بھی بے حس ہوں ۔ کہتے ہیں اور درست کہتے ہیں کہ محبت زندگی کی وہ نعمت ہے جو زندگی کو حسن میں تبدیل کردیتی ہے کوئی شخص حسین ہوسکتا ہے لیکن زندگی کو بِتانے یا جینے کے لیے فقط حسین ہونا کافی نہیں ہوتا باطنی حسن تب آتا ہے جب انسان اپنی ذات کے خول سے نکل کر باہر آئے اور کسی شخص کو اپنے سے زیادہ چاہے جو اپنی ذات سے باہر نہیں نکل سکتا وہ کسی اور کو کیا چاہے گا ؟ محبت کے بغیر انسان نامکمل رہتا ہے چنانچہ میں ایک نامکمل فرد ہوں۔
میری محبت ادھوری ہوتی ہے ،مجھے دوسرے پر بہت اعتماد ہے مگر خود پر بالکل بھی نہیں۔ میرا وجود میرے واسطے ہے رازا ب تک ! میں بے حد خود غرض انسان ہوں اور خود غرض ہمیشہ بزدل ہوتا ہے۔ وہ دوسرا مرحلہ جس میں مجھے لوگوں سے محبت ہوجاتی ہے،پر اس ایک واقعے نے مجھے کوفت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
بات یوں ہے کہ تین دن سے میں ایک مریض کے ساتھ مصروف ہوں۔ وہ میری دوست کے نانا ابو ہیں ، ایک سینئر ڈاکٹرہمیں کہتے ہیں کہ مریض کا سی ٹی سکین کروانا ہے چونکہ یہ مریض ایمرجنسی سے وارڈ میں شفٹ ہوئے ہیں اس لیے ان کا فارم آپ ICU سے پر کروا کر لائیں تاکہ وقت جلد مل سکے۔ وارڈ سے ایمرجنسی جاتے ہیں ICUمیں ڈاکٹرز بیٹھے ہیں۔ وہ ایک منٹ انتظار کرنے کو کہتے ہیں اور وہاں پہنچ کر ایک جان لیوا انتظارشروع ہوتا ہے، یہ "ICU" کا "Lunch"ہے ۔ ہم کافی دیر سے کھڑے ہیں۔ آخر کچھ سوچ کر Sister سے فارم لے کر میں خود پُر کرتی ہوں اتنے میں ایک ڈاکٹر ہمیں بتاتے ہیں کہ آپ نے باہر Bayسے فلاں ڈاکٹر سے پُر کروانا ہے۔ میں ان سے بات کرچکا ہوں ۔ اللہ آپ کا بھلا کرے بھئی اتنی سی بات تھی تو کیوں اتنی کوفت دی ؟ خیر بتائی ہوئی جگہ جاتے ہیں تو ایک جو نےئرڈاکٹر فارم پر دو لفظ لکھ کر ہمیں مسکرا کر واپس کردیتی ہے۔ خیرسکین کرواتے ہیں ۔ ہدایت ملتی ہے کہ فلم صبح کاؤنٹر پہ جمع کروائیں گے تو رپورٹ مل جائے گی۔
میرے ذہن میں فضول سی بات آتی ہے کہ اب رپورٹ کا فائدہ نہیں شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے پھر میں فوراً ہی تردید کردیتی ہوں ۔ اگلے دن وارڈ جا کر معلوم ہوتا ہے رات والا diagnosis کوئی رپورٹ آنے سے تبدیل ہوچکا ہے۔ مریض کی حالت پہلے سے خراب ہے۔ ساتھ آئے لوگوں کا سامنا کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں کچھ دیر رک کر میں واپس آجاتی ہوں۔ آنے والے لمحوں کا سامنا کرنے سے جن کی جاپ میں اپنے اندر سن سکتی ہوں میں بہت خوفزدہ ہوں ۔
میری دوست مجھے بتا رہی ہے کہ نانا ابو اور میری امی جان کا اس دفعہ عمرہ پر جانے کا پکا پروگرام ہے۔ کچھ دن سے کہہ رہے تھے کہ اب میں تندرست ہوجاؤں تو اکٹھے چلیں گے۔ اس سے پہلے جب بھی انھوں نے رقم جمع کی ضرورت پڑنے پر کسی کو دے دی ۔۔۔ میں خاموشی سے نظریں جھکا لیتی ہوں، اسے کیسے سمجھاؤں کہ قدرت کو جذباتی طور پر بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں اس کی مخلوق کو کیا جاسکتا ہے۔ ہم اکٹھے خالی سڑک پر چل رہے ہیں۔ اسے حوصلہ ہے شاید میرے ہوتے ہوئے موت باہر ٹھہر جائے گی یا ٹل جائے گی۔ مجھے بھی اس کے ساتھ ہونے سے اطمینان ہے شاید ہم دونوں مل کر اسے روک لیں گے ! ہم دونوں ہی وارڈ میں نہیں جانا چاہتے۔ باہر بہت خاموشی ہے اندر اس سے بھی زیادہ۔ باہر موسم تھوڑا مہذب اور ہوا ہے پر ،اندر غمگین اور گُھٹا ہوا سا ! ہونے و الی چیز کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔اس دفعہ کچھ زیادہ دیر نہیں لگی ۔ اگلے ہی روز پیغام آگیا کہ نانا ابو کی ڈیتھ ہوگئی ہے میں نے یک دم خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بہت بڑا بوجھ بھی آن گرا۔ مجھے لگا یہ کوئی قتل ہوگیا ہے جس میں شامل ہاتھوں میں میرا بھی ایک ہاتھ ہے۔ تو کیا میں قاتل ہوں ؟ ؟ اُف میرے خدایا ؟ ؟
مجھے یاد ہے لاہور کالج کے لان میں بیٹھے ہوئے میں نے سعدیہ منان سے کہا تھا ’’ یار قتل ! کوئی شخص قتل کرکیسے سکتا ہے ؟ مجھے تو اس نام سے بھی خوف آتا ہے میں تو سوچ بھی نہیں سکتی ۔ ‘‘ تو وہ مسکرا کر بولی تھی ’’ اتنا بھی مشکل نہیں یہ ! ‘‘ خاموش قتل ! ایک یہ احساس جرم ہے جو مسلسل مجھے پریشان کر رہا ہے۔ جس نے مجھے عجیب کو فت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نہ جانے روز کتنے خاموش قتل ہوتے ہوں گے مگر ہمارے مریض بہت معصوم ہیں۔ وہ اسے خدا کی رضا سمجھتے ہوئے بغیر کسی پس وپیش کے قبول کرلیتے ہیں لیکن ہر کوئی اپنی وجہ سے ہی مرتا ہے کوئی کسی دوسرے کی وجہ سے نہیں مرتا۔ وقت مقرر آجائے تو پھر ان بحثوں سے کیا فائدہ کہ کون سی دوا غلط تھی کون سی درست ؟ موت کا سبب کیا تھا ؟ سب بے کار ہے ! یہ ایک مسلسل بے حسی کا سفر ہے۔ مجھے تو فقط اس دن سے خوف آتا ہے جس دن میں بے حس ہوجاؤں گی !
اس دن سے خوف آتا ہے جب میں بھی ICUمیں بیٹھ کر لنچ میں مصروف ہوں گی اور اپنے جیسے کسی شخص کو کافی دیر کھڑا رکھوں گی ! مجھے ڈرلگتا ہے اس دن سے جب کسی مریض کی وفات پر میں اہل خانہ کو کرخت آواز میں بیڈ خالی کرنے کا حکم دینے والی Sister کی بات کو معمول کے اندازسے سنوں گی اور میرے خون کی رفتار پر کوئی اثر نہ پڑے گا !
مجھے اس دن سے ڈرلگتا ہے جب کسی کے آنسو میرے لیے Secretion Lacrimal سے زیادہ اہمیت نہیں رکھیں گے !
لیکن شاید صرف’’ پہلا قتل ‘‘ ہی ضمیر پر بوجھ بنتا ہے پھر سب آسان ہوجاتا ہے ۔۔۔ !
****