جانے کیوں
ڈاکٹر انور نسیم


باہر بڑی تیز بارش ہورہی تھی ۔ گزشتہ کئی دنوں سے موسم کا یہی حال تھا۔ گلی میں ہر جگہ پانی ہی پانی ۔۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح کھڑکی کے اس طرف اپنے صوفے پر بیٹھا یونہی شاعری کی کچھ نئی کتابیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بس یونہی سرسری طور پر ورق گردانی ۔ ماضی کی طرف جھانک کر دیکھنا کچھ مشکل تونہیں ذہن میں یہ سب کچھ محفوظ ہی ہوتا ہے ۔۔۔ سکول کے نوعمر بچے جن کی کوئی دس برس کی عمر ہوگی پانچویں یا چھٹی جماعت کے طالبعلم ۔۔۔ ایک چھوٹے سے قصبے کا سکول کنگن پورہ۔ وہ وہاں اپنے شہر والوں کے ساتھ ۔۔۔ والد پولیس میں ملازم تھے ۔۔۔ یہ بچے ایک چھوٹی سی گلی کی نکڑ پر کھڑے نعرے لگارہے تھے۔ بڑے جوش وخروش سے پاکستان کا مطلب کیا ۔ لا الہ الا اللہ ، لے کے رہیں گے پاکستان ؟ اور خضر حیات مردہ باد ، قائد اعظم (جانے اس کا کیا مطلب ہے ) زندہ باد ۔۔۔۔۔۔ ان دنوں بس ہر طرف یہی رہتا تھا پاکستان کب بنے گا ۔ ہم کہاں ہوں گے____ گاؤں کے لوگوں کی سمجھ میں آسانی سے یہ بات نہیں آتی تھی کہ مسلم لیگ کیا ہے اور کیا چاہتی ہے تو اس جماعت کے کارکن بڑی آسانی سے سمجھا دیتے ۔۔۔۔۔۔یہ درمیان میں ہے ایک لکیر یعنی لیک ۔۔۔ اس طرف ہیں ہندو اور دوسری طرف مسلمان توپھر آپ کس طرف ہیں ۔ وہ جی بس مسلمانو ں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ تو گویا آپ بھی ہوئے مسلم لیگی۔۔۔ یہ ساری باتیں اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ جب انگریز بہادر چلے جائیں گے تو پھر بادشاہ کون بنے گا ۔۔۔ اللہ کرے قائد اعظم صاحب ہی بادشاہ بن جائیں۔ سبھی لوگ تو کہتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح بہت اچھے اور ایماندار آدمی ہیں۔ محنت بھی بہت کرتے ہیں ۔۔۔ اس کی سمجھ میں کچھ اور تو آیا نہیں بس ایک کوئلے سے تھانے کی دیوار پہ لکھ دیا ’’ لے کے رہیں گے پاکستان ‘‘ اور اپنے والد سے بھرپور ڈانٹ کھائی ۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سمجھ میں تھوڑی تھوڑی باتیں آنا شروع ہوگئیں ۔ امر تسر میں ہندو مسلم فساد ہورہے ہیں ۔ محلہ شریف پورہ کے مسلمان کمال بہادری سے اپنا دفاع کرتے ہیں ۔۔۔ پھر فسادات کی خبریں۔۔۔۔۔۔ ہر طرف قتل وغارت۔۔۔۔ آج اتنے سالوں بعد اسے یوں لگا جیسے سبھی واقعات ایک مسلسل فلم کی طرح ایک ترتیب سے اس کی نظروں کے سامنے ہیں ۔۔۔ پاکستان بن گیا ۔ بھئی یہ تو بڑا زبردست کام ہوا اب تو اپنا ملک بن گیا ہے۔ آزادی مل گئی اپنے ہی لوگوں کی حکومت ہوگی ۔ ظاہر ہے کہ وہ حاکم بھی تو پاکستانی ہیں اُن کے دل میں قوم کا درد ہوگا۔ ہم جیسے لوگوں کے مسائل حل کریں گے۔ تعلیم عام اور مفت ۔۔۔۔۔۔اساتذہ شفیق اور دل لگا کر پڑھانے والے ۔۔۔۔۔۔ ایک سال بعد ستمبر ۱۹۴۸میں قائد اعظم کا انتقال ہوگیا۔ وہ بہت دکھی ہوا۔ اب کیا ہوگا کوئی نیا رہنما ۔صوفے پہ بیٹھے بیٹھے اس نے باہر اپنے باغیچے میں کھلے ہوئے بہت سارے مختلف رنگوں کے پھول دیکھے۔ بارش اُسی طرح جاری تھی ۔
ماضی کی یاد یں۔۔۔۔۔۔ ۱۹۵۱ء آیا تو وزیر اعظم لیاقت علی کو راولپنڈی کے ایک باغ میں جلسہ عام میں شہید کردیا گیا۔۔۔ کون ذمے دار تھا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ اس کے بعد تو خیر اس نے اخبارات کا مطالعہ بھی شروع کردیا۔ وزیر اعظم تیزی سے بدلتے رہے ، سیاست دان ملک چلانے میں ناکام ہورہے ہیں ۔۔۔ پھر فیض صاحب کی دستِ صبا ۔۔۔ شائع ہوئی۔ یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر (یہ شب گزیدہ سحر کیا بلا ہے ) نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم (کون سی رسم ، کہاں سے آن ٹپکی ) ۔پھر ایک دن ریڈیو پہ بڑی جوشیلی تقریر ۔۔۔ میرے عزیز ہم وطنو ۔۔۔۔۔۔ اب حکومت کرنے کا کام فوج کرے گی قانون یعنی مارشل لاء ہوگا۔ یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا پھر مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوگیا۔ نئی حکومت روٹی، کپڑا اور مکان سبھی کچھ دے گی ۔۔۔ سیاست دان آپس میں مستقل جھگڑے ۔۔۔ پھر فوجی حکومت نے منتخب وزیر اعظم کو رات کی تاریکی میں تختہ دارپر لٹکا دیا ۔۔۔ ایک طیارے کا حادثہ اور صدرصاحب کئی ساتھیوں سمیت حادثے کا شکار ہوگئے ۔آج تک معلوم نہیں کیا ہوا۔ بس یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ پھر جمہوریت ، پھر فوجی حکومت اُسے خیال آیا یہ سب کچھ کیا ہے ، تجزیہ لا حاصل ہے۔ جیسا بھی ہے کیا کریں ۔ مگر حالات مزید خراب ہوگئے ۔۔۔ ہر طرف دھماکے ہی دھماکے جمعہ کے دن مسجد میں دھماکہ ہوا۔ ۵۰ لوگ شہید ہوگئے ان میں بہت سارے بچے بھی شامل تھے۔ کراچی میں امن کا مسئلہ ۔۔۔ اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل ۔۔۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ لوگ کہتے ہیں ، اخبارات بھی لکھتے ہیں ، TVپہ کیسے ہوسکتا ہے ، ہمارے حکمران تو سب اپنے ہی پاکستانی بس بھائی ہیں ان کے دلوں میں تو اپنے ہم وطنوں کے لیے بڑا درد ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کچھ انتشار پسند لوگ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ سب کچھ جھوٹ اور بہتان ہے۔ مہنگائی کی اصل وجہ تو بین الاقوامی اقتصادی صورتِ حال ہے ! بجلی تو مہنگی ہونی ہی تھی ۔ بلوچستان میں پاکستانی بہن بھائی خوش ہیں ۔۔۔ یہ سب کچھ تو اچھا ہے ۔ اُس نے سوچا حالات کی بہتری کے لیے صدقِ دل سے دعا کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ یہ موڑ بھی کچھ عجیب سا موڑ ہے چند سال بعد پھر وہی نازک موڑ ؟ وہ فکری سوچ میں گم ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ افسردہ ہوگیا۔ آخر کیا کریں ! کوئی صورت نظر ۔۔۔ اب سے بہت سارے سال پہلے تو اس نے سوچا تھا ۔۔۔۔۔۔ کنگن پورہ کے مڈل سکول کی جب وہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا تو ۔۔۔۔۔۔
اچانک اُسے محسوس ہو اکہ کمرے میں ا یک کونے سے کسی نے بلند آواز میں کہا پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔۔۔ پھر وہی آواز پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔۔ پانچویں جماعت میں تو جب وہ تعلیم یافتہ بھی نہیں تھا اب تو اس کے پاس بہت ساری ڈگریاں ہیں۔ اصل پی ایچ ڈی جو قطعاً جعلی ڈگری نہیں ۔ اس نے تو بی اے بھی کر رکھا تھا۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل بھی تھا مگر اب اسے کوئی جواب ۔۔۔۔۔۔
[
تیسری اور آخری بار یوں لگا کہ وہی نعرہ پھر سے دہرایا جارہا ہے۔۔۔ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔ اس نے بالکل سرگوشی کے انداز میں خود اپنے آپ سے کہا ، پتہ نہیں ]
دنیا کے بہت سارے ملکوں میں بین الاقوامی اجلاس ، اتنے سارے مفکر، تجزیہ نگار اور دانشور لوگوں سے ملاقاتیں۔ اتنی ساری نئی کتابیں بھی پڑھ ڈالیں۔ ہر شام قومی T.V پہ دانشور اور تجزیہ نگار خواتین وحضرات کی گفتگو ہوتی ہے ! پھر بھی اتنے سارے علم کے باوجود ، ایسی اچھی ذہنی پختگی ، اُسے تو یہ وہم سا ہوتا جارہا تھا کہ شاید وہ کہیں سچ مچ کا Intellectual تو نہیں۔ جانے یہ کیا بلا ہے ۔۔۔ پھر بھی جانے کیوں آج اس مختصر سے سیدھے سادے سوال کا جواب ۔۔۔پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔؟ اس سوال کا کوئی مختصر جواب سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔۔۔ چپ چاپ خاموشی سے اس نے پھر سے باہر پھولوں کو دیکھنا شروع کیا ۔ بارش اور بھی تیز ہوچکی تھی ۔۔۔ اس نے پھر سے دستِ صبا کی طرف رجوع کیا ۔۔۔ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔
****