دھم م م م م م م م م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرفان احمد عرفی
فو نیکس :

 

وہ حروف کے صوتی آہنگ کو پہچاننے تو لگی ہے مگر ابھی تک لکھے ہوئے لفظوں کی پہچان پر عبور حاصل نہیں کر پائی اِسی لیئے ، اُسے پڑھنے میں دُشواری ہوتی ہے ۔ وہ ایک شائستہ طالبہ ہے۔ کلاس میں اُسکا رویہ اگرچہ اُستاد کے لیئے قابلِ قبول ہے لیکن بلیک بورڈ پر وہ تو جہ نہیں دے پاتی ہے ۔کبھی تو لگتا ہے اُس کی دُور کی نظر کمزور ہے وہ بورڈ پر لکھے لفظ یا تو دیکھ نہیں پاتی یا پھر حرفوں کے صوتی تاثر آپس میں جوڑ نہیں سکتی ۔۔
اصل میں اُسکی توجہ کا تسلسل اچانک کسی مقام پر ٹوٹ جاتا ہے اور وہ سامنے کھلی کتاب پر سے توجہ ہٹا کر کلاس روم کی کھڑکی سے باہر دکھائی دیتے منظر پر نظریں گاڑ لیتی ہے
ٹیچر کو ہمیشہ اُسے مخاطب کر کے کلاس میں متوجہ کرنا پڑتا ہے بظاہر وہ کلاس میں واپس آ تو جاتی ہے اور مشق میں شریک بھی ہوجاتی ہے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع ہو جاتی ہے۔
کلاس میں جب ٹیچر اُس سے اُسکی عدم دلچسپی اور بے توجہی کی وجہ پوچھتی ہے تو وہ اپنے اندر کی بے کلی کی وجہ اگلے پیریڈ کا انتظار بتاتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے اُسے فونیکس سے کہیں زیادہ ریاضی سے دلچسپی ہے۔
ریاضی :
ریاضی کی کلاس میں وہ کبھی بھی اپنا ’’کلاس ورک ‘‘وقت پر ختم نہیں کر پاتی ہے ۔ ہندسوں کو وہ بہت مشکل سے پہچانتی ہے مگر ابھی تک جمع تفریق ضرب اورتقسیم کے تکنیکی جواز کو گرفت میں نہیں لا پائی ۔۔ وہ نقل کرنے اور تقلید کرنے کو ترجیح دیتی ہے اپنی تخلیقی قوتوں کو بروئے کار لانے سے اجتناب برتتی ہے ، صرف اندازوں سے کام لینے پر یقین رکھتی ہے اس طرح وہ کبھی بھی اعدادو شمار کے اسرار نہ سمجھ پائے گی۔
جب بھی اُسے کسی مشق کو دہرانے کو کہا گیا ہے ایسے میں وہ کہیں اور کھو جانے کو ترجیح دیتی ہے ۔ کسی بھی سبق کو دہرانے میں وہ بہت جلد اُکتا جاتی ہے وہ اپنی کسی بھی ایک نیم کامیاب کاوش سے بہت زیادہ مطمئن اور خوش ہو جاتی ہے بھلے وہ کوشش کتنی ہی نا پختہ کیوں نہ ہو ۔
وہ خود مختاری سے اپنا کام کرنے کی اہل نہیں ہے اگر اُسکا رویہ ایسا ہی رہا تو ہندسوں سے اُسکی دوستی ہو نہ پائے گی۔۔ وہ اپنی نوٹ بُک کے اگلے ورقے پلٹنے لگتی ہے وہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اُس خاص سبق پر عبور حاصل کر چکی ہے جِسے بار بار اُسکے سامنے دہرایا جا رہا ہے ۔
ایسے میں وہ کلاس روم کی کھڑکی کی طرف نظریں ٹکا لیتی ہے اور باہر دکھائی دیتے آسمان میں جانے کیا ڈھونڈ تی رہتی ہے۔
ایک دِن اگر وہ عدد سیکھ بھی لیتی ہے تو اگلے روز اُسکا ذہن پھر سلیٹ کی مانند کورا ہوتا ہے ۔ اگلا پیریڈ چونکہ مصوری کا ہوتا ہے اس لیئے اگلی کلاس کا بہت بے چینی سے انتظار کرنے لگتی ہے۔
مصوری :
کلاس شروع ہونے سے پہلے وہ بہت بے چین اور خوش ہوتی ہے لیکن اُس نے کبھی بھی دیا گیا ’’ہوم ورک‘‘ڈھنگ سے کیا نہیں ہوتا ۔۔ وہ ڈرائنگ چاٹ پر بہت شوق سے پنسل اور رنگ بکھیرنے کی کوشش کرتی ہے مگر ابھی تک پہلے سبق کو ہی پختہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہوتی کہ اگلے خاکے کی طرف بڑھ جاتی ہے ۔اگر وہ تھوڑی سی بھی یکسوئی اور مزید توجہ کے ساتھ کلاس میں دلچسپی لے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے بچے جو اپنے دوسرے درسی مضامین میں اتنے روشن نہیں ہوتے آرٹ میں ضرور اپنے امکانات دریافت کر لیتے ہیں ۔
کبھی کبھی اُسے رقص کی کلاس میں نہ بھیجنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے تا کہ وہ آرٹ کی کلاس میں اپنے برش کو مضبوطی سے تھام کر توجہ سے کام کر سکے مگر اِسکے باوجود وہ اپنی اگلی کلاس کا بے چینی سے انتظار کرتی ہے ۔ مصوری کی کلاس میں بھی اُسکی عدم دلچسپی کی وجہ یکسوئی میں کوئی بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
رقص :
وہ رقص کی کلاس میں بہت شوق اور جذبے سے آتی ہے۔ اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ لَے پکڑتی ہے۔ مشق شروع کرنے لگتی ہے کہ کمرے کی کھڑکی کے باہر کا منظر اُسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ہم نے نوٹ کیاہے کہ جونہی اُسے کوئی مشق یا ترتیب دہرانے کے لیئے کہا جائے وہ بہت جلد اُکتاہٹ کا اظہار کر تے ہوئے کوشش ترک کر دیتی ہے ۔
اُسکی تمام حرکات و سکنات بے ترتیب اور بے لَے ہوتی جاتی ہیں۔ اُسکے ساتھی بھی ڈسٹرب ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اُسے رقص کا بہت شوق ہے اور وہ شاید اِس لیے ہے کہ وہ اِسے کھیل سمجھتی ہے لیکن وہ اپنے بازوؤں اور ٹانگوں پر اُتنا کنٹرول نہیں رکھتی جتنا رقص کی بنیادی مشق کا تقاضا ہے ۔
بے کلی اُسے اچھا رقاص نہ بننے دے گی ۔ اُسکا دھیان پنگ پانگ کے گیند کی طرح کبھی کہاں تو کبھی کہاں اُچھلتا رہتاہے ۔ جلد سیکھ جانے کی بے چینی اُسے گروپ کے باقی بچوں سے دُور کر دیتی ہے۔ اُسے کھیل کے پیریڈ کا بے چینی سے انتظار ہوتا ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ رقص کی کلاس میں بھر پور توجہ نہیں دے سکتی ۔۔
کھیل :
کھیل کے دوران وہ اپنے گروپ کے بچوں کے ساتھ باتیں کرنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ وہ بہت اونچائی میں جست بھرنے سے اور اپنی جانب پھینکی گئی گیند کو کیچ کرنے سے بہت ڈرتی ہے۔ کھیل میں دلچسپی لیتی تو ہے لیکن اُسے چوٹ لگ جانے سے بہت ڈر لگتا ہے۔
عمومی نشو و نما :
اُس کی زیادہ دلچسپی اپنے ساتھ مصروف رہنے میں ہے ۔ وہ بہت آسانی سے آنسو بھی بہانے لگتی ہے اور خود ترسی کے ہتھیار سے وہ خوامخواہ میں توجہ لینے کی عادی بنتی جا رہی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ کلاس میں ہونے والی گفتگو میں باقاعدہ شریک ہونے کی خواہش مند ہوتی ہے لیکن جب وہ گفتگو میں حصہ لیتی ہے تو زیرِ بحث موضوع میں غیر متعلقہ نکات پر اپنے ذاتی تجربے بیان کرنا شروع کر دیتی ہے۔
وہ اب خاصے عرصے سے سکول میں آ رہی ہے لیکن ابھی تک اُسکے رویے میں کوئی اُمید افزا تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ آئندہ چھٹیوں میں اُسے کسی معالج کے پاس ضرور لے جایا جائے ۔ معالج کھیل کھیل میں اُسے پتہ لگے بغیر ممکن ہے اُسکی سیکھنے کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرنے میں کامیاب ہو جائے ۔ سکول میں اُسکے ہم عمر بچے کھیل کے دوران اُسکا تمسخر اُڑاتے ہیں شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں اپنا بگڑا ہوا تاثر رکھتی ہے اور اُسے بار بار حقیقی دُنیا سے کسی اور دُنیا کے سفر پر جانا پڑتا ہے۔
موٹر سکلز (جسمانی گرفت )
گتے کی کٹائی پر بھی وہ ابھی تک اپنی گرفت مضبوط نہیں کر پائی ہے۔ قینچی کو بہت ڈرتے ڈرتے تھامتی ہے اور چارٹ پر کھینچی گئی لکیر پر سے اِدھر اُدھر بھٹک جاتی ہے اُسکی توجہ کا دورانیہ بہت مختصر ہے ۔ سوئی تھامنے سے بھی وہ بہت خوفزدہ رہتی ہے۔ اُسے ہر وقت چوٹ لگنے کا خطرہ رہتا ہے ۔اِسی لیئے وہ اپنے ہم عمر بچوں کے تمسخر کا نشانہ بہت آسانی سے بن جاتی ہے کٹنگ اور پیسٹنگ میں بہت دشواریاں ہیں ، قینچی اور کٹر کے استعمال میں جس باریکی اور نفاست کی ضرورت ہوتی ہے اُسکا تقاضا یکسوئی ہے۔ وہ اپنی ماں کا نام لیتی ہے جو اُسے چھری ، کانٹے اور سوئی تھامنے سے منع کرتی ہے ۔ سننے میں آیا ہے ابھی اُسے پیدا ہونے میں چند مہینے باقی تھے جب اُسکی ماں دھماکے کے فوراً بعد خود کو بچاتی بھگدڑ سے نکلی تو ایک خون آلود تیز دھار ٹکڑے نے اُسے بھی زخمی کر دیا تھا۔ لگتا ہے اُس نے اپنی ماں کے بازو پر وہ خراش دیکھ لی ہے ۔
اتنے سال گزر جانے کے باوجود اُسکی ماں کو اُمید ہے کہ اُسکا لاپتہ شوہر آج بھی ویسی ہی کسی بھگدڑ میں سے زندہ بچ کر لوٹ آئے گا جبکہ چیتھڑے کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہو چکا ہے وہ مر چکا تھا۔
دھم ۔۔م۔۔ م۔۔ م۔ م۔ م م م ۔۔۔۔۔
گھر لرز کر رہ گیا ، میں ہر بڑا کر بستر سے اُٹھا
کمرے میں گھپ اندھیرا
نائٹ بلب بجھا ہوا
پاور کا بریک ڈاؤن
مجھے اُس کی فکر
وہ آج رات کمرے میں اکیلی
اُسکی ماں شہر سے باہر
پہلی بار تھی کہ وہ ماں کے بغیر کمرے میں تھی
ڈر گئی ہو گی
میں نے فوراً سرہانے رکھے سیل فون کی ٹارچ روشن کی تا کہ اُسکے کمرے میں جا کر اُسے دیکھ سکوں۔
رات ہوتے ہی اگرچہ میں نے اُسے اپنے کمرے میں سونے کی تجویز دی تھی جو وہ ماننے کو تیار نہ ہوئی۔
’’
ڈونٹ یُو وری ماموں۔۔؟۔ میں ماما کے بغیر اکیلی سو لوں گی ۔۔ نہیں ڈروں گی۔؟۔ ‘‘
پھر بھی رات سونے سے پہلے اُسکے کمرے میں جا کر میں نے کھڑکی کے پردے گرا دیئے تھے مبادا وہ سونے کی بجائے باہر دکھائی دیتے آسمان میں نظریں ٹکالے۔
جیسے ہی میں نے لاؤنج میں قدم رکھا میرے سامنے اندھیرے میں ایک ننھاوجود خوف سے کانپ رہا تھا۔
’’
گھو۔۔۔گھو۔۔۔گھو۔۔سٹ۔۔ ‘‘
میں نے فوراً اُسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
اُسکی سرگوشی سارے بدن میں سرسرا رہی تھی۔
’’
میرے روم میں گھوسٹ ہے ماموں۔۔۔ ۔‘‘میں نے اُسے مضبوطی سے تھام لیا تاکہ وہ اندھیرے میں خود کو اکیلا مت سمجھے ۔ ۔ ننھے سے دِل کی دھک دھک سارے بدن کی دھمک بنی ہوئی تھی ۔
اُسے فوری طور پر آسودہ کرنا ضروری تھا ۔۔ اُسی دم اپنے کمرے میں لا کر پانی سے بھرا گلاس اُسکے ہونٹوں سے لگایا۔ جب ایک ہی گھونٹ میں پانی حلق میں اُتارنے کے لیے گلاس کا پیندا اُوپر اُٹھا تو فون کی مدہم روشنی میں اُسکی حیران اور ہراساں آنکھیں پانی میں یوں ڈوبی نظر آئیں جیسے پیندے میں اُسے کلاس روم کی کھڑکی سے باہر کا منظر دکھائی دے رہا ہو۔ ۔
مارکیٹ گھر سے چند گز کے فاصلے پر تھی اور مجھے یقین تھا کہ دھم وہیں ہوئی ہے۔
وہ سیکٹر بھی کوئی اتنا دُور نہیں تھاجہاں کئی مہینوں سے شب خون گھات لگائے بیٹھا تھا ۔سنسنی خیزی نے سارے ملک کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ خبروں نے خونخوار چمگادڑوں کی طرح دیکھنے والوں کی آنکھوں میں پنجے گاڑ رکھے تھے۔
ایسے ماحول میں اچانک شہر کے کسی بھی گوشے سے دھمک بعید از قیاس نہیں تھی ۔
یقین تھا جیسے ہی باہر نکلوں گا گھر کے پاس مارکیٹ کے اُوپر آسمان پر سُرخ دھواں دکھائی دے گا اب تک لوگ سڑکوں پر نکل چکے ہوں گے ۔
اُسے گھر میں اکیلا چھوڑ کر باہر نکلنے لگاتو اُسکی آنکھوں میں دمکتی حیرت ایک دم بُجھ گئی ۔ اُس نے میرے بازو کو مضبوطی سے تھام لیا ۔ ۔ اس حالت میں اُسے اندھیرے سے بھرے گھر میں اکیلا چھوڑ کر جانا مناسب نہیں تھا۔
باہر نکل کر دیکھا تو سارا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا تھا
سٹریٹ اور سامنے والی دو رویہ شاہراہ ویران تھی
مارکیٹ کی طرف نظر دوڑائی تو وہاں بھی اندھیرا
لوگ دھم سُن کر مارے خوف کے شاید گھروں میں دبکے پڑے تھے
چاروں اور قبرستان جیسا سناٹا
آس پاس گلیوں میں کسی گارڈ ، چوکیدار کی نہ حرکت دکھائی دے رہی تھی نہ سنائی
مارکیٹ کی جانب ٹیکسی سٹینڈ پر صرف ایک ٹیکسی کھڑی تھی
اُسے اپنے ہمراہ لے کر کسی جائے حادثہ تک جانا مناسب تو نہیں تھالیکن میرے پاس اور کوئی چارا بھی نہیں تھا۔
میں جاننا چاہتا تھا کہ اتنی شدید دھم کی آواز اور وہ بھی اتنے قریب سے ۔۔۔۔آئی کہاں سے ہے۔۔؟۔
کون جانے وہ کتنی عظیم اور تاریخی دھم ۔ ۔م۔۔م۔۔م م م م ہو ؟ جسکی گونج آنے والی کتنی صدیوں اور نسلوں تک سُنی جائے
میں خود کو کیونکر بے خبر رکھ سکتا تھا ۔۔۔ اتنا زندہ تو میں تھا ہی
وہ میری اُنگلی تھامے میرے ساتھ تھی ، اب تک ہم ٹیکسی کے قریب آ چکے تھے ، ڈرائیور سیٹ کی ٹیک پیچھے گرائے گہری نیند سو رہا تھا ۔
’’
اُستاد جی ۔۔!۔ ‘‘ میں نے کھڑکی کے پاس جھک کر اُسے جگانے کی کوشش کی ۔۔ ’’سوئے ہوئے ہو کیا۔۔؟‘‘ وہ ہڑ بڑا کر نیند سے باہر آ گیا ، کچھ اس چابکدستی سے کمر بستہ ہو گیا جیسے اُسے کوئی دُور کی سواری مِلی ہو۔
’’
جی سر۔!۔ ۔ حکم ۔ ؟۔۔ ‘‘
’’
تم نے سُنا نہیں ۔؟۔۔۔ ‘‘
’’
جی ۔؟۔ ۔ کیا۔۔؟۔ ‘‘ وہ چوکس ہو گیا ایک عجیب سنسنی خیز تجسس اُسکی آنکھوں میں چمکا۔
’’
آپریشن ۔۔؟۔۔ ہو گیاجی۔۔؟۔ ‘‘
ایکسائٹمنٹ میں جیسے وہ خود پھٹنے لگا ہو۔
پتہ نہیں چل رہا تھا وہ اُن کے حق میں تھا جو معرکہ مارنے والے تھے یا اُن کے جو معرکے کی زد میں آنے والے تھے
’’
اتنے زور سے دھم کی آواز آئی ہے مارکیٹ سے۔۔۔تم نے نہیں سُنی۔؟۔‘‘ یہ سنتے ہی اُسکے سارے وجود میں گویا بجلی کوند گئی ۔وہ ٹیکسی سے نکل کر یوں باہر آیا جیسے کوئی بندر ڈگڈگی کی ڈم ڈم سُن کر اُچھلنے لگتا ہے ۔
سمجھنا مشکل تھا اُسکی بے کلی کی وجہ خوشی تھی یا خوف۔۔؟
ذہن پر زور دینے کے لیئے وہ سر کو کھجانے لگا ۔
’’
سر ۔!۔ ویسے آپ کہتے تو ٹھیک ہیں۔۔ آواز آئی تو ہے۔۔۔ ‘‘
پلٹ کر گھُپ اندھیرے میں ڈوبی پہاڑیوں کی طرف یُوں دیکھنے لگا جیسے ڈسٹر پھرنے کے بعد بلیک بورڈ پر مِٹی ہوئی تحریر کو پڑھنے کی کوشش کی جائے ۔۔
’’
شاہراہِ فیصل میں نہ کچھ ہوا ہوسر جی۔!۔ ۔۔۔ وہاں بھی تو ایک مدرسہ ہے۔۔؟۔ ‘‘
’’
وہ مدرسہ نہیں یونیورسٹی ہے۔۔۔۔ ‘‘
غلط وہ بھی نہیں کہہ رہا تھا ۔۔۔ مرغزاروں میں اُگے اس شہر میں قدم قدم پر کوئی نہ کوئی درس گاہ بھی تو سانپ چھتری کی طرح سر اُٹھائے ہوئے ہے۔
شہر جہاں پر ختم ہوتا ہے اُس سے آگے گھنی پگڈنڈیوں میں صدیوں پرانا برگد ہے ۔۔ لوگ اکثر اُس کے چرنوں میں دیا جلانے آتے ہیں ۔
ممکن ہے بنین کے اُسی پیڑ کو اُڑانے کی کوشش کی گئی ہو ۔۔ ۔
اگر تو برگد کو اُڑا دیا گیا ہے تو یہ واقعہ بین الاقوامی نوعیت کا تھا ۔ ایسے واقعات کی چشم دید گواہی عام بات نہیں ۔۔ ہم دونوں اُسکی ساتھ والی نشست پر بیٹھ گئے ۔
ٹیکسی اب شاہراۂ فیصل پر تھی ۔۔
جیسے جیسے ٹیکسی مرغزار کی طرف بڑھ رہی تھی ،علاقے کی ویرانی دیکھ کر میرا یقین شک میں بدلنے لگا۔۔ دور پاس کہیں بھی دھم کے آثار نہ تھے ۔ مسجد کے چاروں مینار پس منظر کی پہاڑیوں کی طرح اپنی جگہ پر قائم تھے ۔
’’
میں نے آپ سے کہا نا ماموں۔؟۔۔ دھم میرے روم میں ہوئی ہے ۔۔باہر نہیں ہوئی۔ ‘‘
اُس نے میرے کان میں سرگوشی کی
’’
میرا خیال ہے سرجی۔!۔ میزائل چوک کی طرف چلتے ہیں ۔۔ دھماکہ وہاں ہوا ہو گا۔۔ ‘‘
ڈرائیور نے اُسکی کھسر پھسر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے شک کا اظہار کیا۔
’’
میزائل چوک ۔۔؟۔۔اب وہاں کون سا میزائل ہے۔؟۔۔ تمہیں نہیں پتہ ۔؟۔۔دُنیا بھر میں امن کی بحالی کے لیئے اِن چوراہوں ، سڑکوں کے نام بدل دیئے گئے ہیں۔۔۔ ‘‘
’’
سر جی۔!۔ ۔ ۔نام ایک دفعہ پڑ جائے تو پھر کہاں بدلتا ہے۔؟۔۔ ہم تو اُنہی ناموں سے جانتے ہیں ۔۔ شاہین چوک ، غازی چوک ، چاغی موڑ ۔۔۔۔ ‘‘
’’
تم بورڈ پڑھ لیتے ہو ۔۔؟۔ جن پر سڑکوں کے نام لکھے ہوتے ہیں۔۔؟۔ ۔ ‘‘
اُس نے فوراًبریک پر پاؤں رکھا۔۔۔ ٹیکسی جھٹکے سے رُک گئی ۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے وہ سڑک کے کنارے دکھائی دیتے ایک باوردی گارڈ سے دھماکے کے بارے میں دریافت کر رہا تھا ۔۔۔ اس دوران میری نظر اندھیرے میں چمکتے اُس نیلے سائن بورڈ پر ٹِک گئی جس پر لکھے الفاظ گاڑی کی ہیڈ لائٹ گرنے سے چمک رہے تھے۔۔۔۔
’’
میں پڑھ سکتی ہوں بورڈ ۔۔۔ ۔پڑھوں۔؟۔۔ ‘‘
’’
اچھا تو پڑھو سامنے کیا لکھا ہے۔؟۔۔ ‘‘
’’
پے ۔۔۔رے ۔۔ پر۔۔؟۔پروین ۔۔۔۔۔ وہ کون ہے ماموں۔؟۔۔ کیا وہ یہاں رہتی ہے۔؟۔ ‘‘
’’
وہ یہاں رہتی نہیں اُسکی یاد میں اس سڑک کا نام رکھا گیا ہے۔ ۔ پروین شاکر ایک شاعرہ تھی ۔۔ ‘‘
’’
دھم ۔۔؟۔ ‘‘
ڈرائیور کے پوچھنے پر گارڈ بھی سر کھجانے لگا ۔۔ اور جیسے ذہن پر زور دے رہا ہو کہ اُس نے آواز کب اور کہاں سے سُنی تھی۔۔۔۔ آگے پیچھے دائیں بائیں اندھیرے میں ڈوبی ہر سمت دیکھنے کے بعد آسمان کے ہی ایک گوشے پر اُسکی نظر گڑ گئی ۔
ڈرائیور نے ٹیکسی اُس طرف جاتی سڑک پر دوڑا دی جس طرف گارڈ کی نظریں جمی تھیں ۔۔۔ اندھیرے اور سناٹے میں وہ تمام شاہراہیں راہنمائی کرنے سے انکاری تھیں ۔ اِن تمام چوراہوں ، دوراہوں اور دو رویہ شاہراہوں پر نصب بورڈوں پر لکھے لفظوں پر کبھی میری نظر پڑی ہی نہ تھی جو آج گاڑی کی ہیڈ لائٹ گرنے سے دمک رہے تھے اور جنہیں وہ پڑھنے کی کوشش میں تھی ۔۔
’’
م۔۔۔مم۔۔۔تاز۔۔۔ ممتاز ۔۔۔مفتی ۔۔ ‘‘
’’
شا۔۔۔ہ۔۔راہ۔۔۔۔شاہراہ۔۔صوفی تبسم۔۔۔ ‘‘
’’
رحما۔۔۔ن۔۔۔بابا۔۔۔ایو۔۔نیو۔۔۔ ‘‘
’’
سل ۔۔۔ سلطا۔۔۔ن ۔۔ سلطان باہو روڈ ۔ ‘‘
نام اجنبی بھی تھے اور جانے پہچانے بھی ۔۔ ۔ بھولے بسرے سبق تھے جیسے ۔
پطرس بخاری روڈ پر پہنچتے تو وہاں سے پتہ چلتا شاید دھم کی آواز فیض احمد فیض روڈ سے آئی ہے۔ ۔۔۔ صادقین ایونیوتک جاتے تو کوئی ہمیں خیابانِ کتھک مہاراج تک جانے کو کہتا۔۔۔ سناٹا تھا کہ ہر جانب خیمہ زن تھا۔
ایک سائن بورڈ پر ڈاکٹر عبدالسلام لکھ کر مٹا ہوا تھا۔۔۔ سیاہی سے روشنائی بجھی پڑی تھی ۔
’’
میں نے آپ سے کہا نا ماموں یہاں کہیں بھی دھم کی آواز نہیں ملے گی ۔۔ ‘‘
لیکن جب ہم بیگم سرفراز روڈ سے اُتر کر شہیدِ ملت روڈ پر آئے تو سڑک جس مقام پر مسجد روڈ کو کاٹتی ہے وہیں کالے آسمان پر مجھے بنین کا پیڑ اپنی شاخیں پھیلائے نظر آیا
’’
ر۔۔و۔۔رو۔روکو یہیں پر۔۔ ‘‘
ٹیکسی جھٹکے سے رُکی ۔ میری نظریں آسمان پر ٹکی تھیں جہاں اندھیرے میں ڈوبی گھنی شاخیں جل کر بھسم ہو چکی تھیں اور دھواں جیسے بادلوں کی طرف اُوپر ہی اُوپر اُٹھ رہا تھا ۔
مجھے کچھ کچھ یاد پڑتا ہے جیسے وہ دونوں اُس رات بہت دیر تک مجھے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھتے رہ گئے تھے کہ میں آسمان میں کیا دیکھ رہا ہوں۔۔۔ ؟۔
_________________
سکول کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے سکریننگ ذ ہنی نشو و نما کی جِن ممکنہ رکاوٹوں کے حوالے سے کی گئی ہے اُن میں اٹینشن ڈیفی سیٹ اور ہائپر ایکٹوٹی ڈس آرڈر کے علاوہ بہت سے دوسرے ڈس آرڈر بھی زیرِ غور لائے گئے ہیں۔۔ وہ اِن سب ڈس آرڈروں میں سے کسی بھی ایک ڈس آرڈر کا شکار نہیں ۔ حروف کے صوتی آہنگ پر عبور حاصل کرنے کی ضرورت نہیں اگر کوئی حکم عدولی ہے تو وہ سیکھنے کے عمل سے ہے اور وہ بھی صرف اس لیئے کہ ذہن میں ماورائی قوتوں کا خوف بِٹھا دیا گیا ہے جواُس کے لیے اپنی کمی سے انکار کا خوبصورت بہانہ اور حقیقت سے فرار کا راستا بھی ہے۔۔
بہت ضروری ہے کہ آس پاس ہوتے روز مرہ کے واقعات کے تذکرے سے گریز کیا جائے ۔ مافوق الفطرت باتوں سے جانکاری دھیان کو آلودہ کر تی ہے۔ تجویز کیا جاتا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ڈاٹ ہُکڈ آن فونیکس ڈاٹ کام پر جا کر سوچے سمجھے بغیرلفظوں کو پہچاننے کی صلاحیتیں بڑھانے کی ایوارڈ یافتہ مشقیں ڈاؤن لوڈ کی جائیں تو بہتری کا امکان ہے ۔
ری سٹارٹ۔۔۔ سٹینڈ بائے ۔۔۔ شٹ ڈاؤن
دھم۔۔م۔۔م۔۔م م م ۔۔۔