ڈاکٹر تاش مرزا سے ایک ملاقات

نبلی پیرزادہ، عظمت زہرا

پروفیسر ڈاکٹر تاش مرزا اردو زبان سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ آپ نے ۱۹۶۱ء میں ماسکو یونیورسٹی سے اردو زبان میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ تقریباً نصب صدی سے زائد عرصہ سے آپ اس زبان سے منسلک ہیں۔ آپ ازبکستان میں اردو زبان کے پروفیسر ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے اُن کی طویل خدمات کے اعتراف میں انھیں ۲۰۱۱ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا ہے۔ تاش مرزا کہتے ہیں پاکستان سے میرے تعلق کا آغاز ۱۹۸۳ء میں ہوا اور جلد ہی یہ تعلق ایک دلی لگاؤ اور دائمی رشتے میں تبدیل ہو گیا۔ پاکستان نہ صرف میرے لیے بلکہ میرے گھر والوں کے لیے بھی ایک خاص جگہ ہے۔ میرے دونوں بچے بیٹی اور بیٹا کسی کورس کے لیے بھارت گئے۔ کچھ ماہ بعد میں نے سوچا کہ جاکر اُن کی خیریت دریافت کر لوں لیکن جب میں وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں پاکستان چلے گئے ہیں۔ حالانکہ میری بیٹی کا ویزہ تو موجود تھا لیکن اُسے اپنے بھائی کے ویزے کے سلسلے میں کافی بھاگ دوڑ کرنی پڑی۔ یہ دونوں بچے ایوانِ صدر کی تقسیم اسناد کی تقریب میں بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے جس میں مجھے ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میرے لیے ہمیشہ ایک محبت بھری جگہ رہا ہے۔
س: اردو زبان میں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟
ج: واضح طور پر یاد نہیں۔ میرا تعلق ایک ان پڑھ گھرانے سے تھا۔ میرے والد ایک دہقان تھے۔ بچپن کی ایک بات یاد ہے کہ میرے والد صاحب دائیں جانب سے کچھ تحریر لکھا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ آپ کیا لکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ عربی ہے۔ اس طرح ایک ایسے رسم الخط سے شناسائی ہوئی جس کا آغاز دائیں جانب سے ہوتا تھا۔ بنیادی طور پر میں انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے تاشقند آیا۔ وہاں یہ بات میرے علم میں آئی کہ کچھ اوریئنٹل زبانوں کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اُسی سال جو اہر لال نہرو نے روس کا دورہ بھی کیا۔ روس میں اُس دورے کی بہت دھوم تھی۔ جس کے بعد ثقافتی سطح پر بہت سی چیزوں کا تبادلہ ہوا۔ ہندوستانی فلمیں وغیرہ دکھائی جانے لگیں اور اس طرح اردو زبان سے واقفیت کا سفر شروع ہوا اور مشرقی زبانوں کی تعلیم کا آغاز بھی۔ جب میں داخلے کی غرض سے اپنے گاؤں سے تاشقند آیا تو وہاں ایک روسی خاتون نے میری حوصلہ افزائی کی اور یہ مشورہ دیا کہ اس زبان یعنی اردو کی تعلیم حاصل کرنے سے آپ کو خصوصی پذیرائی حاصل ہو گی اور اس طرح میں نے اردو زبان کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لے لیا۔ شعبہ اردو میں صرف پانچ لوگوں کو لیا گیا۔ یہ تمام لوگ بہت عام سے لوگوں کے بچے تھے۔ جن میں دو لڑکیاں اور تین لڑکے تھے۔ اس طرح اردو زبان میں دلچسپی قائم ہوتی گئی اور یہاں ۱۹۴۷ء میں اردو کی باقاعدہ درس و تدریس شروع ہو گئی۔ جب ۱۹۶۰ء میں فارغ التحصیل ہوا تو اُس وقت ریڈیو تاشقند سے اردو نشریات کا آغاز ہو چکا تھا۔ اسی دور میں بھارت سے کچھ سکالر شپ آئے جس میں میرا نام بھی شامل تھا۔ میں مزید تعلیم کے لیے دلی چلا گیا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔
س: کیا ازبِکستان میں ہندوستانی اور پاکستانی اردو سے مراد ایک ہی زبان ہے؟
ج: بالکل نہیں۔ ہم اس معاملے میں انتہائی حساس ہیں اور یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ اردو کے شعبہ کے لیے اس وقت ’’انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین لینگویجز‘‘ کا نام تجویز کیاگیاکیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انڈین اور پاکستانی اردو میں واضح فرق موجود ہے۔ اس فرق کے لسانی عوامل بھی ہیں اور غیر لسانی عوامل بھی۔ سیاست، کلچر،مذہب تمام عوامل اس فرق میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ آس پاس کی زبانوں کا بھی اثر ہوتا ہے۔ یہاں خاص کر پنجابی زبان کا اثر نمایاں ہے۔ پنجابی زبان اردو زبان و ادب اور تلفظ پر بڑی حد تک اثر انداز ہے۔
س: اردو زبان کے شعرا سے اپنی دلچسپی کے بارے میں کچھ بتائیے۔
ج: اردو شعراء میں فیض احمد فیض سے میری واقفیت رہی۔ وہ تاشقند میں میرے غریب خانے پر بھی تشریف لائے۔ ماسکو میں بھی میری اُن سے ملاقاتیں رہیں۔ ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۷ء تک میں کراچی میں سوویت کلچر سنٹر کے ڈائریکٹر کے طو رپر رہا۔ اُس وقت فیض پاکستان آ چکے تھے تو یہ سلسلہ جاری رہا۔ فیض کی شاعری کا ترجمہ ازبِک زبان میں ہو چکا ہے۔اقبال کی شاعری کے تراجم بھی ہوئے ہیں جبکہ اقبال اکیڈمی لاہور سے ایک ازبِک سکالر کی کتاب ازبیک زبان میں چھپی جبکہ پاکستانی نثر نگاروں کا کوئی قابل ذکر ترجمہ ابھی منظر عام پر نہیں آیا۔
س: وسطی ایشیاء یا ازبِک لوگوں کی خصوصاً اردو میں دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟
ج: اردو اور ازبِک زبانیں ایک Common vocabularyرکھتی ہیں۔ ازبیک زبان کے کئی ہزار الفاظ اور اردو کے الفاظ کا ماخذ ایک ہی ہے۔ تاہم معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ازبِک میں کسی اخبار میں کام کرنے والے فرد کے لیے ’مخبر‘ کی اصطلاح عام ہے جبکہ اردو زبان میں ’مخبر‘ سے مراد جاسوس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ازبِک لوگوں کی نہ صرف اس زبان میں دلچسپی ہے بلکہ وہ باقی لوگوں کی نسبت نہایت بہتر انداز سے اُسے سیکھ سکتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کو وسطی ایشیاء میں اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح دیگر کئی ممالک میں اردو زبان کے ا ساتذہ کو بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح ازبِکستان میں بھی ایسا سلسلہ قائم ہونا چاہیے۔
س: آج کل آپ اردو روسی لغت پر کام کر رہے ہیں اس بارے میں کچھ بتائیے؟
ج: یہ ڈکشنری ۱۹۶۴ء میں شائع ہوئی تھی لیکن زبان کا سفر جاری رہتا ہے اور اُس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اسی حوالے سے اس پر کام ہو رہا ہے۔ میں وہاں ازبِک پاکستان سوسائٹی کا وائس پریزیڈنٹ ہوں۔ پاکستان کے حوالے سے تمام تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ سوسائٹی دونوں ممالک کو قریب لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔
****