عبدالرحیم خان
نفاذ اردو میں حائل رکاوٹیں
(سابقہ حکام مقتدرہ کی نظر میں)

پروفیسر فتح محمد ملک
(سابق صدر نشین)
س: نفاذ اُردو میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
ج: نفاذ اُردو میں سب سے بڑی رکاوٹ کو دو لفظوں میں بیان کرنا ہو تو وہ ہیں’ غلاما نہ ذہنیت‘۔
س: اُردو کے نفاذ کے سلسلے میں کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
ج: سب سے پہلا قدم تو وفاقی اور صوبائی پبلک کمیشن کے مقابلے کے امتحانوں میں اُردو کو ذریعۂ اظہار بنا دیا جائے اور پھر دفتری کاروبار مملکت انگریزی کی بجائے اُردو میں شروع کر دیا جائے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زمانے میں یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آن کی آن میں سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ بات نیت کی ہے اور سب سے بڑا قدم جو بیش بہا نفسیاتی اور جذباتی اہمیت کا حامل ہے وہ یہ ہے کہ وزیر ، مشیر اور اعلیٰ سرکاری کارندوں پر یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ سرکاری تقریبات میں وہ اُردو میں تقریر کریں گے۔
___________________

افتخار عارف
(سابق صدر نشین)
س: نفاذ اُردو کی راہ میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں؟
ج: میں اس سلسلے میں سمجھتا ہوں کہ نفاذ اُردو کا فیصلہ کرنا ارباب سیاست کا کام ہے۔ صاحبان علم کا کام زبان کو اس سطح پر لانا ہے جہاں وہ روزمرہ کا کاروبارحکومت اور معمول کے نظم و نسق میں استعمال کے قابل ہوجائے۔ میں سمجھتا ہوں ملک کے بہت سے اداروں نے اس سمت میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔
س: اُردو کے نفاذ کے سلسلے میں کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
ج: فوری طورپر تو جو فیصلے کیے جا چکے ہیں اگر انہی کو نافذ کیا جا سکے تو میں سمجھتا ہوں کہ پہلے مرحلے میں یہ بھی ایک بہت اہم بات ہوگی مثلاً نفاذ اُردو کے سلسلے میں ایک خط حوالہ نمبر۲/۵/۸۳/۔ این ایل اے، مورخہ ۲۶۔ فروری۱۹۸۵ء کو جاری ہوا تھا۔ اگر اسی پر فوری کارروائی کی جائے تو یہاں سے دوبارہ آغاز ہوسکتا ہے۔ اس خط کے مندرجات کچھ اس طرح ہیں:
۱۔ ضروری ہے کہ افسران اپنے دفتری کام کا کچھ حصہ اُردو میں سرانجام دیں تاکہ اُردو میں تربیت یافتہ ٹائپ کار اور سٹینو گرافر مشق جاری رکھ سکیں اور تربیت کے ثمرات ضائع نہ ہوں۔
۲۔ فائلوں پر جہاں تک ممکن ہو، مختصر کیفیت نگاری(نوٹنگ) اُردو میں کی جائے۔
۳۔ سکیل(۱۔۲) کے سرکاری ملازمین مثلاً خاکروب، فراش، نائب قاصد، قاصد ، جمعدار، ڈرائیور وغیرہ کے ساتھ مراسلت اُردو میں کی جائے۔
۴۔ اُردو میں وصول ہونے والے خطوط کے جواب اُردو میں ڈائری کیے جائیں اور ان کا جواب بھی اُردو میں دیا جائے ۔جہاں تک ممکن ہو عوام کے ساتھ خط و کتابت اُردو میں کی جائے۔
۵۔ دفاتر کے لیے داخلی ہدایات/ حکم نامے اُردو میں جاری کیے جائیں نیز اندرونی اجلاسوں میں کارروائی اُردو میں کی جائے۔
۶۔ تازہ رسیدوں پر مختصر احکامات مثلاً ’’اسے فوری پیش کیجیے‘‘، ’’متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش کریں‘‘ وغیرہ اور دستخط اُردو میں جاری کیے جائیں۔
۷۔ مختصر مراسلات یاددہانی، جہاں تک ممکن ہو، اُردو میں جاری کیے جائیں۔
۸۔ دفاتر/ ملازموں کی ناموں کے تختیاں اُردو میں لکھوائی جائیں۔
۹۔ جنرل سیکشن کا تمام کام اُردو میں کیا جائے اور اس سیکشن سے مختلف مثلاً سٹیشنری وغیرہ کی طلب اُردو میں کی جائے۔
۱۰۔ چھٹی کی درخواست اُردو میں تحریر کی جائے۔
۱۱۔ آئندہ بھرتی کیے جانے والے کم از کم ایک تہائی مختصر نویس/ ٹائپ کاراردو او رانگریزی دونوں میں استعداد رکھتے ہوں۔
۱۲۔ آئندہ خرید ی جانے والی ٹائپ مشینوں میں سے ہر دفتراپنی ضرورت کے مطابق اُردو ٹائپ مشینیں خرید کرے۔ (اب اس میں کمپیوٹر میں مہارت کا اضافہ کیاجانا چاہیے)۔
۱۳۔ دفاتر میں استعمال ہونے والی سٹیشنری کا مطلوبہ حصہ اُردو میں چھاپا جائے۔
___________________

زینت اللہ خان
(سابق معتمد)
سوال: اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ؟
جواب: اُردو کے نفاذ میں سب سے رکاوٹ یہ ہے کہ جنھوں نے اُردو کو نافذ کرنا ہے اُنھیں اس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے کہ تمام بیوروکریسی انگریزی زبان کی تعلیم یافتہ ہے اور وہ انگریزی زبان کو ہی آسان سمجھتے ہیں۔ اگرچہ بیوروکریسی لیڈرشپ کو اس سلسلے میں نیم دلی سے تجاویز دیتی رہی ہے لیکن یہ ایک آئینی مسئلہ ہے جس کے مطابق پہلے پندرہ دن ہی میں اسے نافذ ہو جانا چاہیے تھا لیکن بیوروکریسی کے پاس نفاذ اُردو کے سلسلے میں کوئی مثبت جواب موجود نہیں۔ اصل فیصلہ ساز decision markers سیاستدان ہیں لیکن اُن کے رویوں میں بھی کوئی گرمجوشی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ ہمارا ہمسایۂ ملک انڈیا بھی ابھی تک ہندی کو نافذ نہیں کر سکا۔ اگرچہ عوام الناس کی زبان ہندی ہے۔
سوال: نفاذ اُردو کے سلسلے میں حکمت عملی؟
جواب: حکمتِ عملی کے سلسلے میں، میں یہی کہوں گا کہ دفتروں میں انگریزی پسندیدہ زبان ہے جبکہ بازاروں میں اُردو پسندیدہ زبان ہے۔ اُردو کو بحیثیت ذریعۂ تعلیم اور ذریعہ دفتری زبان ہونا چاہیے لیکن اس میں دونوں طرح سے الگ الگ مسائل ہیں۔ جبکہ عوام الناس میں اُردو کی پذیرائی فطری طور پر ہورہی ہے۔ اُردو عوام کی زبان ہے اور میں اس بات کا گواہ ہوں کہ بڑی سے بڑی میٹنگ یا اجلاس میں بھی انگریزی چند فقروں سے زیادہ کا سفر طے نہیں کر سکتی۔
___________________

باقر ایچ نسیم
(سابق معتمد)
سوال :آپ کے خیال میں اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
جواب: میرے خیال میں اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی بیورو کریسی ہے۔ وہ کسی طور پر بھی اُردو کے نفاذ میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ وہ اُردو کو قبول کرنے کو تیار ہی نہیں اس لیے موجودہ بیوروکریسی کی موجودگی میں اُردو کا نفاذ ممکن نہیں۔
سوال: موجودہ حالات میں نفاذ اُردو کے لیے ہمیں کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟
جواب:اس ضمن میں میں صرف یہ کہوں گا کہ ہمیں کسی مناسب حکومت کا انتظار کرنا چاہیے جو واقعی اُردو کے نفاذ میں دلچسپی رکھتی ہو اور وہ اس پر عمل درآمد کرنے میں بھی پُرعزم ہو۔
___________________

شاہد مسعود
(سابق معتمد)
سوال : آپ کے خیال میں اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
جواب:میرے خیال میں نفاذ اُردو کے ضمن میں اگر رکاوٹوں کا تفصیل سے ذکر کیا جائے تو ایک طویل کہانی ہے۔ تاہم اسے مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہماری بیوروکریسی اور اُس کی غلامانہ ذہنیت اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
سوال: موجودہ حالات میں نفاذ اُردو کے لیے ہمیں کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟
جواب:جہاں تک اُردو کے نفاذ کے لیے اقدامات کا تعلق ہے۔ اس ضمن میں مقتدرہ کو ہمہ وقت مستعد اور فعال رہنا چاہیے۔ سیاسی قیادت کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ اُردو کا نفاذ عوام کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس سے اُن کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے اور یہ اُن کی سیاسی ساکھ میں اضافے کا باعث بنے گا۔
___________________

آغا طارق
(سابق معتمد)
سوال: اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ؟
جواب: نفاذِ اُردو میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عزم کا فقدان ہے صرف اور صرف سیاسی قوتِ ارادی ہی سے اُردو کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔
سوال: نفاذ اُردو کے سلسلے میں حکمت عملی؟
جواب: اُردو کے نفاذ میں حکمتِ عملی کا تعین بھی عوام کے منتخب نمائندے ہی کر سکتے ہیں اور یہ اُن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

محمد اکرام بلال
(سابق معتمد)
سوال : آپ کے خال میں اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
جواب: میرے خیال میں اُردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عزم کا فقدان ہے۔ اُردو کے نفاذ کے سلسلے میں مقتدرہ قومی زبان اور دیگر کئی ادارے کام کر رہے ہیں لیکن سیاسی عزم کے فقدان کی وجہ سے آج تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ انتظامی حکم کے تحت اُردو کا نفاذ ہو سکتا ہے۔
سوال: موجودہ حالات میں نفاذ اُردو کے لیے ہمیں کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟
جواب: اس سلسلے میں بہترین حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ اسمبلیوں میں عوام کے منتخب نمائندوں کو اُردو کی اہمیت سے متعلق قائل کیا جائے اور اُنھیں یہ احساس دلایا جائے کہ یہ عوام کی زبان ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں، دفتری اُردو پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے اور ترجیحی بنیادوں پر دفتروں میں اُردو کو نافذ کیا جائے۔

 

اعزازی ترسیل موقوف
مقتدرہ قومی زبان کے ترجمان ماہنامہ ’اخبار اردو ‘ کی روز افزوں مانگ مگر محدود مالیاتی وسائل کے پیش نظر اعزازی ترسیل آئندہ سے بند کی جا رہی ہے۔ نفاذ اردو کے لیے کوشاں اور قومی زبان سے والہانہ لگن رکھنے والے اہل علم ودانش اور معزز اعزازی قارئین سے التماس ہے کہ اخبار اردو کا اپنا زر سالانہ 236/۵۰۰ روپے ، اساتذہ اور طلبہ کے لیے 236/۳۰۰ روپے نقد یا بذریعہ منی آرڈر فوری ارسال فرما دیں تاکہ آئندہ انھیں پرچہ جاری رکھا جا سکے۔ (ادارہ)