قومی زبان کی کہانی، قومی اسمبلی کی زبانی
(آئین ۱۹۷۳ء کی اڑتیسویں سالگرہ پر خصوصی انتخاب)

دفعہ ۲۵۱

چوہدری مختاراحمد

 

جناب اسپیکر : دفعہ ۲۵۱ میں ترمیم نمبر۱۸۱۷ پیش کرنے
کے لیے ملک محمد اختر!
جناب ملک محمد اختر: ترمیم پیش نہیں کریں گے۔
جناب اسپیکر : ترمیم نمبر۱۸۱۸ کے لیے ملک محمد سلیمان!
جناب ملک محمد سلیمان: جناب اسپیکر! میں یہ ترمیم پیش کرتا ہوں:
" کہ آئینی بل میں دفعہ ۲۵۱ کی شق (۱) کی پہلی سطر میں درج لفظ' اردو 'کو لفظ 'پاکستانی 'سے بدل دیا جائے "
جناب محمد افضل رندھاوا: جناب اسپیکر میں اس ترمیم کی مخالفت کرتا ہوں۔
جناب اسپیکر:ترمیم نمبر
۱۸۱۹ از: مولانا محمد ذاکر
۱۸۲۰ از: مولانا عبدالحق
۱۸۲۱ از: صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری
۱۸۲۲ از: مولانا غلام غوث
مولانا غلام غوث: محترم جناب اسپیکر صاحب! میں تحریک پیش کرتا ہوں کہ مسودہ آئین کی دفعہ ۲۵۱ میں:
(الف) شق (۱)کی پہلی سطر میں لفظ "پندرہ" کی بجائے
لفظ "پانچ" درج کیا جائے۔
(ب) شق (۲) کے شروع میں حسب ذیل کا اضافہ کیا
جائے۔ یعنی "فی الحال جہاں جہاں اردو
استعمال کی جا سکتی ہے اس کو استعمال کرنے کے
انتظامات کیے جائیں گے، جیسے ٹکٹو ں پر اردو
تحریر؛ راستوں پر اردو بورڈ؛ اسمبلیوں کی تقاریر اردو
میں؛ ذریعۂ تعلیم اردو ہو؛ عدالتی کارروائی اردو میں۔‘‘
جناب اسپیکر: تحریک پیش کی گئی:

کہ آئینی بل کی دفعہ ۲۵۱ میں:
الف:شق (۱) کی تیسری سطر میں درج لفظ ' پندرہ' کو
لفظ ' دو' سے بدل دیا جائے۔
ب: شق (۲) کے شروع میں درج ذیل عبارت کا اضافہ کر دیا جائے: " اردو زبان کے استعمال کے لیے ، جہاں ممکن ہوا، ٹکٹوں کی طباعت ، سڑکوں کے کنارے لگے بورڈوں، اسمبلیوں میں کی جانے والی تقاریر اور بحیثیت ذریعۂ تعلیم و عدالتی زبان جیسے فوری انتظامات کیے جائیں گے۔"
اس پر کوئی اعتراض
جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جی ہاں ، جناب والا!
جناب اسپیکر: ترمیم نمبر ۱۸۲۳ کے لیے ملک محمد سلیمان!
جناب ملک محمد سلیمان:جناب اسپیکر! میں یہ ترمیم پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں: کہ آئینی بل کی دفعہ ۲۵۱ کی شق (۲) کے آخر پر درج لفظ اردو' کولفظ ' پاکستانی 'سے بدل دیا جائے۔
جناب اسپیکر: تحریک پیش کی گئی
کہ آئینی بل کی دفعہ ۲۵۱ کی شق (۲) کے آخر پر درج لفظ 'اردو' کو لفظ' پاکستانی' سے بدل دیاجائے۔
جناب محمد افضل رندھاوا: جناب اسپیکر! میں اس ترمیم کی مخالفت کرتا ہوں۔

جناب اسپیکر: ترمیم نمبر ۱۸۲۴ مولانا عبدالحق۔۔۔ تحریک پیش نہیں کی گئی۔
جناب ملک محمد سلیمان اپنی پیش کردہ ترمیم پر بات کریں۔
ملک محمد سلیمان: جناب صدر! کسی قوم کی عظمت کا اندازہ اس کی زبان سے لگایا جاتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی قومیں ہیں وہ اپنی اپنی زبان رکھتی ہیں۔جہاں تک اس برصغیر کا تعلق ہے یہاں سب سے پہلے سنسکرت رائج تھی۔ جب مسلمانوں کا دور آیا تو اس ملک میں کچھ حصوں میں عربی زبان بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس کے بعد پھر دور بدلا تو اس ملک میں فارسی آئی اور اس کے بعدمختلف علاقوں کے لوگ مل جل کر بیٹھے تو ایک نئی زبان وجود میں آئی جس کا نام علیحدہ رکھا گیا۔ اس کے بعد انگریزوں کا دور آیا اور قومی زبان انگریزی ہو گئی۔ اور وہ آج تک رائج ہے۔ یہاں اس ڈرافٹ پر یہ بات موجود ہے کہ اس غیر ملکی زبان کو۱۵ سال کے عرصہ میں اردو سے بدل دیا جائے گا۔ اس ملک میں اب بھی بعض لوگوں کا یہ نعرہ ہے کہ ۴ قومیتیں آباد ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ قومیتوں کا نعرہ ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ جب اس ملک میں چار قومیتیں ہیں تو پھر چار زبانیں ہیں اور زبان ہی کی بنا پر مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ہماری قومی زبان اردو ہے۔ لیکن پنجابی کہتے ہیں کہ ہماری مادری زبان پنجابی ہے۔ سندھی کہتے ہیں کہ ان کی مادری زبان سندھی ہے اور بلوچی کہتے ہیں کہ ان کی مادری زبان بلوچی ہے ۔ اسی طرح سرحد کے لوگ کہتے ہیں کہ ان کی مادری زبان اردو نہیں۔حالانکہ ہر علاقے نے اردو کو قومی زبان تصور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر لفظ اردو کی بجائے پاکستانی رکھ دیا جائے اور دس سال کے عرصہ میں اس میں پنجابی ،بلوچی، سندھی اور سرحدی الفاظ کا اضافہ کر دیا جائے تو اس سے چار قومیتیوں کے نعرے بلند نہیں ہوں گے اور ہم لوگوں میں اتحاد بڑھے گا۔جناب والا ! میں اردو کی مخالفت نہیں کر رہا ہوں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ اردو زبان کے لفظ کو بدل دیا جائے۔یہ کوئی صحیفۂ فطرت تو نہیں کہ بدلہ نہ جا سکے۔ ہندوستان نے اپنی زبان ہندی رکھی ہے۔ مشرقی پاکستان کی اپنی زبان ہے۔ ان دلائل کی روشنی میں میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ جذبات سے کام نہیں لیں گے بلکہ قومی سا لمیت کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
جناب محمد افضل رندھاوا: جناب والا ! میرے فاضل دوست نے آرٹیکل ۲۵۱ میں دو ترامیم پیش کی ہیں جن میں وہ یہ کہتے ہیں کہ اردو کی بجائے زبان کا نام پاکستانی ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس کی ترکیب استعمال یہ بتائی ہے کہ اردو کے ساتھ پنجابی، سندھی، بلوچی اور سرحد کی زبانوں کے لفظ ملا کر ایک زبان بنا لی جائے اور اس کا نام پاکستانی ہونا چاہیے۔
جناب والا !ہم ابھی تک انگریز سامراج کی یادگار یعنی انگریزی زبان سے نجات نہیں حاصل کر سکے ہیں۔ اس آئین میں یہ جو کہا گیا ہے کہ ۱۵ سال کے اندر اندر انگریزی کو اردو سے replace کر دیا جائے گا۔ دفتروں کی زبان بھی اردوہو گی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انگریزی زبان میں سائنس،medicine ،قانون یا اس قسم کی دوسری چیزیں سب انگریزی زبان میں ہیں۔ ان کو منتقل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ اب اگر اس کو چھوڑ کر اس کو اردو میں منتقل کرنے کے بجائے ملک صاحب کی تجویز پر عمل کیا جائے کہ سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتو کو ملا کر ایک نئی زبان بنا لی جائے تو میرے خیال میں یہ غیر مناسب ہے۔ جہاں تک اردو زبان کا تعلق ہے وہ ہماری قومی زبان رہی ہے اور جہاں تک علاقائی زبانوں کا تعلق ہے تو ان کو اس آئین میں پورا پورا تحفظ دیا گیا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ علاقائی زبانوں کو اس حد تک ترقی دی جائے گی جس حد تک کہ وہ قومی زبان کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔ ان گزارشات کے ساتھ میں ان کی ترامیم کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔
مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ: جناب والا! میری گزارش یہ ہے کہ ہر ملک کی اپنی اپنی زبان ہوتی ہے۔ انگریزوں کے ہاں انگریزی، ہندؤوں کی زبان ہندی ہے اوراسی طرح دوسرے ملکوں میں دوسری زبانیں ہیں۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ۶۰ سال بعد ہر زبان میں تھوڑا بہت فرق آتا ہے۔ موجودہ اردو زبان میں بھی کافی ملاوٹ ہو گئی ہے۔ یہ زبان خود بخود۵۰ سال کے بعد ایک دوسری صورت اختیار کرلے گی۔ اس لیے پاکستان کی زبان کا کوئی خاص نام ہونا چاہیے۔
سید عباس حسین گردیزی: جناب والا! اردو زبان کا لفظ اسلامی لفظ ہے۔ جب سے اس ملک میں مسلمان تاجدار ہوئے ہیں، انھوں نے اس زبان کو اپنایا ہے۔ اس کے علاوہ غیر مسلموں کو ہمیشہ اس لفظ سے چڑ تھی۔ ایک دفعہ قائداعظم سے گاندھی نے کہا کہ تمہارے بڑے بڑے لوگ مجھے مہاتما کہتے ہیں لیکن آپ نے مجھے کبھی مہاتما نہیں کہا۔ آپ میرے ساتھ ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے اعلان جنگ ہو۔ قائداعظم نے فرمایا کہ ہماری زبان اردو ہے اور آپ کو اردو سے نفرت ہے اور آپ ہندی کو قومی زبان رکھنا چاہتے ہیں۔ قائداعظم نے ۲ چیزیں اورکہیں اور فرمایا کہ آپ کے جھنڈے پر چکر کا نشان ہے جو مسلمانوں کے لیے قتل کی نشانی ہے۔ اور اسی طرح تمہارا ترانہ بندے ماترم مسلمانوں کے لیے موت کا اعلان ہے۔ اب تو بتا کہ میرا ترے لیے اعلان جنگ نہ ہو تو اور کیا ہو۔ پاکستان کی پہلی حیثیت Lingua Franca زبان دانی پر ہوئی، جب ہندوؤں نے اعلان کیا کہ آزادی پر ملک کی زبان ہندی ہو گی تو مسلمان ان کے اس اعلان پر بپھر اٹھے اور اس کو اس برعظیم میں اپنی موت کے مترادف سمجھا۔ جب ہندو بضد ہوئے تو قائداعظم نے کانگریس کی شمولیت کو ترک کردیا۔ آج اگر اس لفظ اردو کو ہٹا دیا جائے تو یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ اردو میں عربی اور فارسی الفاظ اور تراکیب شامل ہیں اور اس کو ہٹانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو تمام دنیا سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ان کے اس مطالبہ کو تسلیم کر لیا گیا تو پھر کہیں گے کہ رسم الخط بھی بدل دیاجائے۔ قائداعظم نے اس کو بڑی اہمیت دی ہے اور مسلمانوں نے اس زبان کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں بلکہ پاکستان کی بنیاد اسی بات پر رکھی گئی۔ اب آپ یہ کہتے ہیں کہ اردو ہماری زبان نہ ہو۔ تو کیا آپ ہمیں اسلامی دنیا سے منقطع کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر آپ اپنے امام اور نبی بھی یہیں بنا لیں گے۔ اور ہم سب کچھ اسی جگہ پر رکھ لیتے ہیں۔ میں یہ عرض کروں گا کہ یہ اردو زبان پر حملہ ہے بلکہ یہ مذہب پر بھی حملہ ہے۔ اسے روکا جائے۔
ملک محمد سلیمان: جہاں تک میری اس amendment کا تعلق ہے مجھے اپنی پارٹی کی طرف سے یہ بات بتائی گئی ہے کہ گورنمنٹ اس ۱۵ سال میں اردو کو زیادہ وسعت دے گی اور اس کے ساتھ سندھی،پشتو، پنجابی کے الفاظ زیادہ اس میں سمو دیں گے۔ اردو میں اور یہ تقریباً پاکستانی بن جائے گی تو اس یقین دہانی کے بعد میں اسamendment کو واپس لینے کی اجازت چاہتا ہوں۔
ایک آواز : پاکستانی تو نہیں چوں چوں کا مربہ بن جائے گی۔
جناب اسپیکر جناب ملک سلیمان کی پیش کردہ ترامیم اور ترامیم مندرجہ ۱۸۱۸اور ۱۸۲۳ واپس لی جاتی ہیں۔
مولانا غلام غوث: محترم اسپیکر صاحب! آپ کو معلوم ہے کہ میں نے قومی اسمبلی کی مقننہ کے اجلاس میں اردو بل پیش کیا تھا۔ اردو زبان کے لیے ایک بل پیش کیا تھا۔اس بل کو مجلس عاملہ کے سپرد کرے گا۔ مجلس عاملہ کے اجلاس میں میں شریک تھا جو اجلاس غالباً محترم پیرزادہ صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا ۔میں نے اس میں کچھ معروضات پیش کیں لیکن جناب پیرزادہ صاحب نے ارشاد فرمایا کہ آئین سازی کا کام ہونے والا ہے، اس لیے ہمیں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات اسی وقت حل ہو جانی چاہیے تھی۔ اگر حل ہو جاتی تو یہ نوبت نہ آتی لیکن جناب میں اعتماد کرنے والا آدمی ہوں۔ میں سمجھا کہ بس آئین میں اردو کا مسئلہ خود حل ہو جائے گا لیکن یہ غلط بات ثابت ہوئی۔ میری نیک نیتی صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ آج جو میں نے اس کو دیکھا، اس میں لکھا ہے کہ آئین دستور کے یوم آغاز سے ۱۵برس کے اندر اندر اس کو سرکاری اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ ۲۵ سال پہلے گزر گئے اور ۱۵سال یہ اور گزر گئے جس کے معنی چالیس سال تک قومی زبان سے اردو زبان سے بے اعتنائی برتی گئی۔ یہ بے اعتنائی حقیقتاً انگریزی کی خاطر ہوئی ہے۔ انگریزی ہمارے عہد غلامی کی بدترین اور مانوس یادگارہے۔ میں ایک واقعہ کا ذکر کروں گا ۔اس دفعہ حج وفد میں جب ہم گئے اور محترم مولانا کوثر نیازی صاحب نے ایک دعوت کی جس میں مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، عرب نمائندے شریک ہوئے اور اس میں اراکین حج وفد بھی شریک تھے۔ جہاں صدر صاحب نے جو افہا م صاحب یہاں تشریف لائے تھے، ان سے کلام کا آغاز ہوا۔ انھوں نے پاکستان کی بڑی تعریف کی اور ایک فصیح و بلیغ عربی زبان میں تقریر فرمائی۔ ان کے بعد مولاناکوثر نیازی صاحب نے بھی عربی میں بڑی شستہ تقریر فرمائی۔ اس کے بعد میں نے بھی کچھ عربی زبان میں عرض کیا لیکن جو ہمارے قائم مقام سرکاری سفیر صاحب تھے، وہ جب اٹھتے تھے، کسی کا تعارف کراتے تھے یا اور کچھ کرتے تھے وہ انگریزی میں کرتے تھے جس سے ہماری گردنیں شرم سے جھک جاتی تھیں۔ اگر وہ عربی نہیں جانتے تھے تو اپنی زبان میں کہتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب چواین لائی وزیراعظم چین یہاں تشریف لائے تھے، ۶۲۔۶۳ء میں بھی One Unit Government میں اسمبلی کا ممبر تھا، انھوں نے وہاں جو تقریر کی وہ چینی زبان میں کی اور ہمارے دوستوں نے جو ترجمہ کیا وہ بھی انگریزی میں کیا، اپنی زبان میں نہیں کیا۔ انگریزی ہماری زبان نہیں ہے، یہ زبان عہد غلامی کی یادگار ہے اور ہمیں یہ زبان قبول نہیں ہے۔ یہ ہماری آزادی کی پہلی نشانی ہونی چاہیے تھی کہ ہم انگریزی زبان کو طلاق دے دیتے لیکن ۲۵سال تک انگریزی ہمارے رگ و ریشہ میں سرائیت کر کئی۔ اگر ۱۵ سا ل اور اس کو رکھا جائے تو پھر ہماری آئندہ نسلیں خدا جانے ہمارے بارے میں کیا رائے قائم کریں گی کہ چالیس سال تک ہم نے غلامی کی یاد گار کو قائم رکھا۔
جناب محترم! میں نے جو ترمیم تحریک کی وہ بل اگر اس وقت منظور کر لیاجاتا تو آج اس اسمبلی میں جو آئین بن رہا ہے، اس کی اصل کاپی اردو میں ہوتی مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اب تک جو ہم کو کاپیاں حاصل ہو رہی ہیں یا آئین مرتب ہو رہا ہے اس کی اصل آئین کمیٹی کی رپورٹ اس کی اصل انگریزی میں ہے اس کی نقل اردو میں ہے اور ہمارے کہنے سے ہم کو وہ دستیاب ہوتی ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔ میرے پاس کراچی تک کے خطوط آتے ہیں، آ رہے ہیں ،لوگ اس کو نہایت معیوب تصور کر رہے ہیں کہ کیوں قومی زبان کو نہیں لایا جا رہا ہے۔ میری یہ جو ترمیم ہے، اس کے دو حصے ہیں ایک تو ۱۵ سال کی جگہ میں نے ۵ سال کے الفاظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ میرا ذاتی خیال اور ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر حکومت چاہے تو ایک سال میں آسانی سے بغیر کسی دشواری کے تمام دفتری کارروائیاں اردو میں،اپنی قومی زبان میں، کر سکتی ہے اور ضروری ریکارڈ اور کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرا سکتی ہے اور سائنس وغیرہ کی مطلوبہ کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرا سکتی ہے اور اس کو تعلیم کے قابل بنا سکتی ہے۔ لیکن میں نے پھر بھی ۵ سال اس تبدیلی کے لیے تجویز کیا ہے،۱۵سال کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حکومت اگر کرنا چاہے تو ایک سال میں کر سکتی ہے ،بہت تھوڑے عرصے میں سب کچھ کر سکتی ہے۔ دوسری ترمیم میری یہ ہے کہ جب تک انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے، آہستہ آہستہ اردو کو اس کی جگہ دی جاتی رہے۔ جہاں تک اسمبلی کا تعلق ہے یہاں ممبر اردو زبان استعمال کریں، اسمبلی میں تقریریں اردو میں ہوں۔ زبان تعلیم اردو ہو، یہی لوگوں کی دلی خواہش ہے تو ہم کچھ عمل کرکے دکھلائیں۔ یہ زبان انقلاب کی نشانی ہے۔ اب حکومت تبدیل ہو رہی ہے، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے، اگر ہم قوم کے احساسات اور خواہشات کا احترام نہ کریں گے اور ان کو پامال کریں گے، قوم کی خواہشات امنگوں اور جذبات کو ہم قبو ل نہیں کریں گے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم رائے عامہ کو حکومت کے خلاف کر رہے ہیں۔ تو میں یہ حکومت کی خیر خواہی اور نیک نیتی کی طرف جا رہا ہوں، ملک و قوم کی خیر خواہی کے لیے، قومی زبان کے لیے، یہ ہماری آزادی کی یادگار ہے۔
میں یہ عرض کروں گا جناب محترم، ہندوستان میں آزادی سے پہلے ہندو راج کی جگہ مسلمانوں کا ملک بنانے کا جو سب سے پہلے خیال آیا وہ زبان کا مسئلہ تھا ۔مسلمان اردو زبان کو اسلامی و مسلمانوں کی زبان کی حیثیت سے بولتے تھے۔ یہ مسلمانوں کا ایک نشان بن گئی تھی۔ ہندومسلمانوں میں جو پہلا اختلاف ہوا وہ زبان کی وجہ سے ہوا۔ان کا ثقافت، تہذیب و کلچر اپنی زبان کے گرد گھومتی تھی۔ وہاں اس وقت ہندو راج تھا تو انھوں نے ہندوستانی زبان کا نام دیا۔ انھوں نے اردو کی جگہ ایک لفظ ایجاد کیا یہ ہندوستانی زبان تھا۔ زبان کے متعلق اردو زبان کے مایہ ناز شاعر علامہ اقبال نے گاؤ زبان لکھا ہے۔ ہمارا ہندوؤں سے اختلاف زبان کے مسئلے پر اور گائے کی قربانی پر ہوا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جب آزادی حاصل ہوئی، جو اسی زبان کی مرہون منت ہے، تو زبان کا مسئلہ سرد خانے میں پڑ گیا اور اردو بے چاری کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوا۔ میں ایک بات کہتا ہوں کہ اگر اسے پاکستان کی قومی زبان بنا دیا جاتا تونہ بنگال میں فسادات ہوتے اور یہ شرمناک صورت رونما ہوتی اور نہ سندھ میں لسانی فسادات ہوتے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر اب بھی ہم نے اس میں لیت و لعل کیا تو آئندہ بعض صوبہ جات میں اس کا خطرہ ہے کہ ایک لاوا اٹھے گا اور سارے ملک کو اس کانقصان اٹھانا پڑے گا جس طرح اس سے قبل ہم لامتناہی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اس لیے میری گزارش یہ ہے کہ میری یہ ترمیم اردو کے بارے میں منظور کر لیں۔
میاں محمدعطا اللہ: جناب صدر! میں ذرا آپ کی وساطت سے مولانا صاحب کی خدمت میں اتنا عرض کروں گا کہ مسلمانوں کا آئین قرآن حکیم تو عربی میں آیا اس لیے ہماری زبان عربی ہونا چاہیے۔ مولانا یہ ترمیم کیوں نہیں کرتے کہ اس ملک کی قومی زبان عربی ہونی چاہیے۔ اس سے کم از کم یہ فائدہ ہو گا کہ ہم قرآن مجید اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔
مولانا غلام غوث: ذرا وضاحت کی اجازت دی جائے۔
جناب اسپیکر: اب کیا؟
چوہدری شفاعت خان چوہان: جناب صدر! مشہور حدیث ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا مومن کی پہچان کیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ مومن وہ ہے جو وقت جہاد میدان میں پایا جائے اور دوران امن جہاد کی تیاری میں مشغول پایا جائے۔ اس حدیث سے ثابت ہے کہ مسلمان ایک جنگجو یعنی Martial Race ہے۔ بالفاظ دیگر ایک لشکری قوم ہے۔ اردو بھی لشکر کو کہتے ہیں اور یہ لشکر کی زبان ہے یعنی Martial language ہے۔ اس لیے مسلمان قوم کے لیے فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی قومی زبان بحیثیت ایک لشکری قوم کے اردو یعنی لشکری زبان کو اپنی قومی و مذہبی زبان تسلیم کرے اور اپنائے۔ اردو کے مقابلہ میں اور کوئی دوسری زبان موزوں نہیں ہو سکتی۔
(مداخلت)
چوہدری شفاعت خان چوہان: میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اردو زبان کے ساتھ جو بھی زیادتیاں ہوئی ہیں ، اس کا اثر پوری قوم پر پڑا ہے۔ جیسا کہ مولانا صاحب نے ابھی فرمایا کہ اگر شروع ہی سے اردو زبان کو قومی زبان قرار دیا جاتا اور سارے متحدہ پاکستان کے اندر اس کورائج کرنے کی پوری کوشش کی جاتی تو آج ہمیں یہ منحوس دن دیکھنا نہ پڑتا کہ اب ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ۱۵ سال کی شق کو ختم کیا جائے اور موجودہ قومی اسمبلی کی جو میعاد ۱۵اگست۱۹۷۷ء ر کھی گئی ہے، اس میعاد کے اندر اندر اردو کو ضروری اور لازمی زبان قرار دیا جائے یعنی اردو کو مکمل طور پراختیار کرنے کی میعاد ۱۵ سال کی بجائے پانچ سال مقرر فرمائی جائے۔
چوہدری غلام رسول تارڑ: جناب صدر! میں اس ترمیم کی حمایت کرتا ہوں، اس لیے کہ جب پاکستان معرض وجود میںآیا تو قائداعظم نے اردو زبان پر پاکستان کا الیکشن لڑا۔ اور اسی وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان کے رہنے والوں کی زبان اردو ہو گی لیکن یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسمبلیوں میں یہی ہوتا رہا ہے کہ اردو کو قومی زبان بنایا جائے۔ اس کے واسطے بار بار یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ میرا یہ یقین ہے کہ جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے اور جو اس ملک کے ساتھ ہوا ہے، وہ صرف اس وجہ سے ہوا کہ اس ملک کی زبان کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب تک آپ اردو زبان کے لیے یہ کہتے رہیں گے کہ اس میں یہ ملایا جائے اور اس میں وہ ملایا جائے، اس وقت تک اس ملک کی زبان اردو نہیں ہو گی۔ میں میاں عطا اللہ صاحب سے متفق ہوں کہ مسلمانوں کی زبان اردو ہونا چاہیے ۔میں عرض کروں گا کہ عربی مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے اور عربی زبان کی تعلیم پاکستان میں لازمی ہونا چاہیے لیکن چونکہ پاکستان اردو زبان پر ہی بنایا گیا ہے اس لیے اس کے واسطے یہ کہنا کہ انگریزی ۵ سال، ۱۰سال اور ۱۵ سال یہاں اور رکھی جائے، مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ مولانا صاحب نے فرمایایہ ٹھیک ہے کہ اس کی میعاد ۴ سال تھی ہوسکتا ہے، کوئی اور اسمبلی آئے اور وہ کہہ دے کہ اس کی میعاد ۱۵ سال یا ۲۰ سال کے لیے اور بڑھا دی جائے۔ میں عرض کروں گا کہ زبان پھیلنے کے لیے کوئی سینکڑوں سال نہیں لگتے۔ اگر زبان کی تشریح کے لیے کوئی مشکلات حائل ہوں تو میں عرض کروں گاکہ اس کے لیے ۵ سال مقرر کر دیے جائیں کیونکہ باقی دفتروں میں اردو زبان رائج ہے۔ ہمارے وکل�أصاحبان، مجسٹریٹ صاحبان جو اس ملک میں ہیں، وہ سب اپنی زبان میں باتیں کرتے ہیں تو کیا فرض ہے کہ اس کی میعاد ۱۰ سال اور ۲۰ سال مقرر کی جائے۔ جیسا کہ شفاعت علی خان صاحب نے کہا ہے، اس کی میعاد ۵ سال سے زیادہ نہ ہونا چاہیے، اس لیے میں اس ترمیم کی حمایت کرتا ہوں۔
چوہدری ممتاز احمد: صدر محترم! نظریہ اور عقیدے کے بعد زبان ہی ایک ایسی چیز ہے جو کسی قوم کے جغرافیائی حدود کومتحد رکھتی ہے۔ اور اردو ایک ایسی زبان ہے جو شروع ہی سے تھی۔ اس سے نہ صرف چاروں صوبوں کے رہنے والے اکٹھا تھے بلکہ سارے ہندوستان میں مشترکہ طور پر کسی ایک صوبے کے لوگ اگردوسرے صوبے میں چلے جاتے تھے تو ان کی بات سمجھی جاتی تھی۔ زبان کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔ اس سے تجارت کو فروغ ہوتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اپنے صوبے سے باہر جب دوسرے صوبے میں لوگ جاتے ہیں تو دوسرے صوبوں کے لوگوں کی بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اس کے لیے صرف اردو زبان ہی ہے۔ میرے خیال کے مطابق پاکستان کو ایک رکھنے کے لیے ایک نظریہ کی ضرورت ہے۔ اگر استحصال کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ایک قومی زبان کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں اور وہ زبان علاقائی زبانوں سے متصادم نہ ہو ، علاقائی زبانوں سے کوئی جھگڑا نہ ہو۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ جب پاکستان بنا تو بنگال میں بنگالی زبان کی تحریک چلی اور وہاں اردو سے دشمنی پیدا کر دی گئی۔ یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب جذبات مشتعل ہوں تو ان پر ٹھنڈے دل سے قابو پانا چاہیے۔ اس سے آپ کی زبان بھی رہے گی، آپ کا علاقہ بھی سلامت رہے گا اور آپ کی صحافت بھی رہی گی۔ ایک زبان کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر آپ سرحد یا بلوچستان چلے جائیں تو وہاں بہت لوگوں کی سمجھ میں آپ کی بات آ جائے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اگر آہستہ آہستہ زبان چلے گی جیسا طالب المولیٰ صاحب نے فرمایا تو چاروں صوبوں کے لوگ اکٹھا ہو کر اسے قبول کر لیں گے۔ اس لیے میں مولانا صاحب سے گزارش کروں گا کہ اس پر ابھی زور نہ دیں، اس پر آہستہ آہستہ عمل درآمد ہو گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ انگریزی انگریزوں کی زبان ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ انگریزی بین الاقوامی زبا ن ہے، یہ صرف انگریزوں کی زبان نہیں ہے اور یہ تمام دنیا کے ممالک میں سمجھی جاتی ہے۔ آپ چین چلے جائیں، آپ روس چلے جائیں یا دنیا کے کسی ملک میں بھی چلے جائیں اب مگر انگریزی زبان میں بات چیت کی جاتی ہے۔ اس لیے فوری طور پر ہمیں اس کو نہیں ہٹانا چاہیے۔ ویسے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت سے استدعا کریں کہ اردو زبان کو جلد سے جلد رائج کیا جائے تاکہ ہم جلد سے جلد اس قابل ہو جائیں کہ اردو کو انگریزی کی جگہ مل جائے۔۔۔
چوہدری غلام رسول تارڑ: میں honourable ممبر صاحب کی خدمت میں عرض کروں گا کہ جب آپ انگریزی کو اور ۱۵ سال کے لیے رکھ رہے ہیں، اس سے کیسے آپ اردو کو رائج کریں گے۔
چوہدری ممتاز احمد: جو کچھ ممبر صاحب نے فرمایا ہے، میں اس سے بھی متفق ہوں لیکن ہمارے ملک میں ۲۵ سال انگریزی رہی لیکن اس کے باوجودتمام آدمی انگریزی نہیں بول سکے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے، اس میں اپنے خیالات کا اظہار لوگ کر سکتے ہیں۔ دفتروں میں بھی یہ زبان چل رہی ہے۔ تو فوری طور پر ہم یہ فتویٰ اگر دے دیں گے کہ اس کو سال دو سال میں ختم ہو جانا چاہیے یا جلد سے جلد ختم ہو جانا، مناسب نہیں ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی ہو جائے کہ اردو اس ملک میں جلد سے جلد رائج کی جائے گی تو وہ اپنی ترمیم کو واپس لے لیں اور ہم سب حمایت کرتے ہیں کہ اردو زبان رائج ہونا چاہیے۔
جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا! یہ جو ترمیم ہے اس کا دوسری وزارت سے تعلق ہے جسے وزارت تعلیم کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں قطعی طور پر میں کچھ نہیں بتا سکتا ہوں اور یقین دہانی بھی کرا سکتا ہوں اور کچھ ایسی باتیں بتاؤں گا جن سے نہ صرف نام ہوگا بلکہ مولانا صاحب اور دوسرے دوستوں کو خوشی بھی ہوگی کہ حکومت کیا کام کر رہی ہے۔
سب سے پہلے ہمیں اپنی تاریخ کو نہیں بھولنا چاہیے، خاص طور پر ہمیں پاکستان کی ۲۵ سالہ تاریخ کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ دو چیزوں پر پاکستان کے عوام مشتعل ہو سکتے ہیں اور اشتعال انگیزی ہو سکتی ہے۔ ایک ملک کی سا لمیت اور دوسرے دین کا معاملہ ۔ مسلمان کبھی بھی اپنے دین کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ بڑا سنگین مسئلہ ہے، اس پر ہمیں بڑی سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا پڑتا ہے۔ جذبات پر قابو پانا پڑتا ہے۔ اگر ہم اسے جلد بازی سے کریں گے تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ دوسرا مسئلہ جو اس برصغیر ہی میں نہیں اورصرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ برصغیر کے دوسرے حصوں میں بھی رہا ہے،وہ زبان کا مسئلہ ہے۔ اس پرہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں میں جلدی سے اشتعال ہو گیا ہے۔ اشتعال انگیزی ہوتی ہے، لڑائی ہوتی ہے،خون خرابے ہوتے ہیں اور نہ صرف یہاں یہ ہوا ہے بلکہ ہندوستان کے کئی صوبوں میں بھی اسی قسم کی باتیں ہوئی ہیں۔ یہ دو مسائل ہیں جن پر لوگ بہت جلدی مشتعل ہو جاتے ہیں اور یہ ہماری تاریخ ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ آئینی کمیٹی میں جب یہ مسئلہ آیا تو اس پر بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہماری قومی زبان اردو ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس میں یہ صاف طور سے لکھا ہوا ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہے۔ دوسرے یہ کہا گیا ہے کہ اردو کو آہستہ آہستہ لایا جائے، جو ہماری پوزیشن آج ہے وہ پہلے نہیں تھی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو کو آگے لانے میں کوئی کام نہیں ہوا ہے تو یہ غلط فہمی ہے اور مبالغہ ہے۔ میں نے پرسوں ہی ایک فائل پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے میں نے سرکاری ٹائپ رائیٹر کے لیے منظوری دی۔ وہ اردو کا ٹائپ رائیٹر مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ اردو کی ڈکشنری تیار کرنے کے سلسلے میں وزارت تعلیم نے لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں۔ اس کی نو جلدیں تیار ہو چکی ہیں، ابھی نو یا دس جلدیں مزید تیار کرناباقی ہیں۔ اس کامقصد یہ ہے کہ اردو کی ترویج کے لیے کام ہو رہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری دو سو سالہ روایات ہیں کہ جس عرصے میں تمام تر کام انگریزی میں ہوتا رہا ہے اور عدالتوں کا جتنا بھی گزشتہ ریکارڈ ہے۔ مثلاً جو مقدمات فیصلے ہوئے ہیں یا جو رپورٹیں وغیرہ چھپی ہیں، وہ تمام کا تمام ریکارڈ انگریزی زبان میں ہے۔ علاوہ ازیں آپ کی تمام یونیورسٹیوں میں انگریزی کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں جو کتابیں مختلف مضامین کے لیے چھپتی ہیں، وہ انگریزی ہی میں چھپتی ہیں اور استعمال ہوتی ہیں۔ آخر وہ فرانسیسی زبان میں تو نہیں چھپتیں۔ اب اگر یہ سمجھا جائے کہ انگریزی زبان صرف انگریزوں ہی کی زبان ہے تو یہ غلطی ہو گی،کیونکہ اس کی مثال سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جائے گا کہ عربی صرف سعودی عرب کی زبان ہے۔ حالانکہ ہم نے اس آئین میں ایک شق یہ بھی رکھی ہے کہ عربی سیکھنے، سمجھنے اور پڑھنے پر لوگوں کو آمادہ کیاجائے گا۔ اس لیے کہ اسلام عرب سے شروع ہوا اور عربی زبان ہمارے رسول اکرمﷺ کی زبان ہے اور تمام مسلمان ممالک میں عربی ہی بولی جاتی ہے۔ تو ہمیں اس سے فائدہ پہنچے گا ۔ انگریزی زبان کے سلسلے میں میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ دنیا کی ایک تہائی آبادی انگریزی زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔لیکن اردو زبان ابھی اتنی ترقی نہیں کر سکی کہ وہ برصغیر سے باہر یعنی سمجھی اور بولی جائے۔ اس لیے ہمیں بیرونی ممالک سے تعلقات رکھنے کی غرض سے ایک ایسی زبان کی لازماً ضرورت رہے گی کہ جو ہماری قومی زبان یعنی اردو کے علاوہ ہو۔ ہمیں حقائق کو پیش نظر رکھناچاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کون سی ایسی زبان ہے کہ جو ساری دنیا میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ انگریزی کوبالکل ترک کرناہمارے قومی مفادات کے منافی ہو گا۔لیکن یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم اردو کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہم نے پندرہ سال کے لیے اس کا پڑھنا لکھنا ہر سکول و کالج میں لازمی قرار دیا ہے اور اب کوئی سکول ایسا نہیں ہے کہ جہاں پر اردو لازمی طور پر بچوں کو نہ پڑھائی جاتی ہو۔ کسی کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اردو نہ پڑھیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا ہے کہ بچوں کو پہلے دس بارہ سال تک ہی کسی زبان کو اچھی طرح سیکھنے کے لیے درکار ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ خود بخود اسے مزید سیکھنے کی سعی کرتے ہیں۔ اگر آپ زبردستی کریں گے تو پھر اسے کوئی بھی نہیں مانے گا اور پھر اس کے ماننے یا نہ ماننے کے لیے جھگڑا اور دنگا فساد ہوتا ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ اردو ہماری بھی مادری زبان نہیں ہے اورہم پہلے اچھی طرح سے نہیں بول سکتے تھے۔لیکن اب آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں پر زیادہ تر تقریریں اردو زبان میں ہی ہوتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس پر آمادہ کیاگیا ہے اور اب ہم اچھی طرح سے پڑھ بھی لیتے ہیں،حالانکہ اس سے پہلے ہم دو تین جملے بھی ٹھیک طرح نہیں بول سکتے تھے۔ اب جو ں جوں وقت گزرتا رہے گا، دو تین سال کے اندر اندر ہم اس میں مزیدترقی کر لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین کمیٹی میں بیٹھ کر ہم لوگوں نے بڑی سوچ بچارکے بعدیہ فیصلہ کیا تھا کہ اس کے لیے ہم پندرہ سال کی مدت رکھیں ۔مولانا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ آئین میں یہ بھی لکھ دیا جائے کہ ریلوے کے ٹکٹ بھی اردو میں چھپیں۔ میں آپ کی وساطت سے ان کی خدمت میںیہ عرض کروں گا کہ اگر ہم نے ایساکیا تو لوگ ہمیں کیا کہیں گے۔ ہم اتنی معمولی باتیں بھی لکھ رہے ہیں۔ پہلے ہی ہمارے آئین میں تقریباً تین سو آرٹیکل ہیں۔ حالانکہ دنیا کے بہت سے ممالک کے دساتیر زیادہ سے زیادہ سو شقات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ آپ جاپان کا آئین پندرہ منٹ میں اور فرانس کاایک گھنٹے میں پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن ہمارا آئین ایک موٹی کتاب ہے۔ اگر اسی طرح چھوٹی چھوٹی تفاصیل آئین میں درج کر دی جائیں تو پھر دیگر قوانین بنانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ آپ غور فرمائیں تو معلوم ہو گا کہ یہ پندرہ سال عرصہ کافی طویل عرصہ ہے۔ اس دوران میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ذریعے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کو سستے داموں کتابیں مہیا کی جا رہی ہیں اور اس کے علاوہ بھی اس فاؤنڈیشن کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ بیرون ملک کی کتابوں کے تراجم وغیرہ بھی کروا کے بچوں کو مہیا کر دیں۔ تواس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بچوں کو آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ اردو سیکھیں اور پڑھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ زبردستی اردو کو کسی کے سر تھوپنے کی کوشش کریں گے تو وہ اسے دل سے قبول نہیں کریں گے۔ حالانکہ ہم نے اردو زبان کو قومی زبان کی حیثیت سے قبول کرنا ہے اور یہ تمام باتیںآئین کمیٹی میں زیربحث آئی تھیں اور ہم نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کرکے اس کے بعد آپ کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس وقت تمام کی تمام جماعتیں موجود تھیں اور جو اختلافی نوٹ لکھا گیا تھا وہ بھی اس بارے میں قطعاً نہیں تھا۔ اس لیے میں یہ عرض کروں گا کہ حکومت کا ارادہ بالکل واضح ہے اور اس سلسلے میں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کیے جائیں گے اور پھر آپ یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ اردو زبان کو تمام صوبوں میں لازمی مضمون قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان تمام حقائق کے پیش نظر اب اس قسم کی کسی شق کی ضرورت نہیں رہتی۔
مولانا غلام غوث: جناب صدر! میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ غالباً میاں محمد عطا اللہ صاحب نے اپنی تقریر کے دوران یہ فرمایا تھا کہ میں نے عربی کے بارے میں یہ کیوں نہیں کہا کہ اسے لازمی قرار دیاجائے۔ تو میں آپ کی وساطت سے اس معزز ایوان کی خدمت میں عرض کروں گا کہ میں نے اس کا ذکر اپنے اس بل میں کیا تھا کہ جو قومی اسمبلی میں پیش کیاگیا تھا اور اس میں یہ کہا گیاتھا کہ عربی کو لازمی قرار دیا جائے۔ یہ بات دیگر ہے۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ انگریزی زبان کو بالکل ترک کر دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بین الاقوامی زبان ہے اور ہماری بین الاقوامی ضروریات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اسے بھی استعمال کیا جائے۔ لیکن جیسا کہ کہا گیا ہے کہ انگریزی ہمارے بین الاقوامی تعلقات کے لیے لازمی ہے کہ ہم انگریزی کو ترک نہ کریں تو میں اس سلسلے میں یہ عرض کروں گا کہ اس کے لیے ایک طریقہ یہ بھی اپنایا جا سکتا ہے کہ بعض لوگوں کوانگریزی اور عربی سیکھنے کے لیے وظائف دیے جائیں تاکہ بیرون ملک ہمارے کاروبار اور تعلقات قائم رہ سکیں۔ ہماری قوم کی زبان تو انگریزی نہیں ہے لیکن انگریزوں نے ہم پر انگریزی مسلط کر دی ہے لیکن عدالتوں وغیرہ میں تمام کام ہمارے لیے وکلاء کرتے رہتے ہیں اور کام خوش اسلوبی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے آپ اشخاص کو مخصوص کر سکتے ہیں تاکہ آپ کی بین الاقوامی ضروریات پوری ہوتی رہیں لیکن اس کے لیے قومی مفاد اور قومی زبان کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔ یہاں پر آئینی کمیٹی کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ میرے پاس مسودہ آئین کی اردو نقل موجود ہے۔ اس کے اندر دیباچے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ "تاہم دیگر تعبیر و توضیح کی اغراض اور جملہ مقاصد کے لیے مستند متن صرف وہی تصور کیا جائے گا جو انگریزی زبان میں ہے۔"
میں یہ عرض کروں گا کہ جب آپ آئین کا مسودہ لکھ رہے تھے تو اس وقت آپ کی راہ میں کوئی بین الاقوامی رکاوٹ ایسی نہ تھی جس کی وجہ سے آپ نے یہ لکھ دیا کہ وہی مستند متن ہو گا جوانگریزی زبان میں ہے۔ آپ نے اردو کے متن کو کیوں نہ مستند قراردیا۔ مجھے آپ کی نیت پر شبہ نہیں ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اگر آپ نیک نیتی کے ساتھ اردو کی ترویج چاہتے ہیں تو آپ کو یہاں پر لکھ دینا چاہیے تھا۔ اور پھر یہ پانچ سال کا عرصہ کچھ کم عرصہ نہیں ہے اوراس میں حکومت بہت کچھ کر سکتی ہے۔ وزیر محترم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ لاکھوں روپے ڈکشنری تیار کرنے پر خرچ ہو چکے ہیں اور ابھی مزید کام بھی ہو رہا ہے۔ تو میں عرض کروں گا کہ اس پندرہ سال کے متعلق جو بھی سنے گا، وہ یہی کہے گا کہ حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے کیونکہ خدا جانے اگلی حکومت کیسی ہو گی۔ ساری عمر ہی اس معاملے میں ختم ہو جائے گی اور اردو اپنے صحیح مقام کو حاصل نہ کر سکے گی۔ میری گزارش یہ ہے کہ آپ بے شک انگریزی کو ترک نہ کریں لیکن کم از کم یہ تو کریں کہ ہمارے جو سفیر وغیرہ بیرونی ممالک میں تقاریر کریں، وہ اردو میں کریں۔ میں انگریزی جاننے یا پڑھنے کے خلاف نہیں ہوں لیکن بلا وجہ اسے اردو پر ترجیح نہیں دینا چاہیے۔ ہم عربی کے بارے کہہ سکتے ہیں کہ اسے لازمی قرار دیا جائے لیکن جیسا کہ محترم وزیر صاحب نے فرمایا ہے کہ فی الحال ہم چھوٹی چھوٹی بات کو آئین میں درج نہیں کر سکتے ۔تو اگرمیری ترمیم کے اس حصے کو منظور کر لیا جائے کہ جہاں جہاں اردو استعمال کی جا سکتی ہے، اس کو استعمال کرنے کے متعلق انتظامات کیے جائیں۔ تو اس کے بعد کی دوسری تفاصیل میں واپس لے لوں گا۔ وہ پانچ سال کی مدت مقرر کر دیں یاپھر یہ کہ جہاں جہاں اردو استعمال ہو سکتی ہے، اسے استعمال کرنے کے انتظامات کر دیے جائیں۔ میں اس ترمیم کااگلا حصہ واپس لے لیتا ہوں اور تفاصیل میں نہیں جاتا۔
جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا! مجھے اس بات پر اعتراض نہیں ہو گا ۔میں مولانا صاحب کی عزت کرتا ہوں اور اس کا انھیں علم ہے ۔ لیکن اس کے باوجود میں یہ عرض کروں گا کہ انھوں نے جو تفصیلات اپنی ترمیم میں گنائی ہیں، وہ بے معنی ہیں۔ کیونکہ جب آپ آئین میں یہ لکھتے ہیں کہ جہاں جہاں ممکن ہو سکتا ہے وہاں وہاں اردو زبان کورائج کیاجائے ۔ تومیرا خیال ہے کہ یہ بات مہمل اور بے معنی ہو جائے گی کیونکہ یا تو یہ لکھ دیجیے کہ ا س کی ضرورت ہے۔ ورنہ تو بعد میں حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ ابھی اس کے امکانات نہیں ہیں کہ اردو کو رائج کیاجائے۔ مولانا صاحب نے اس سلسلے میں ایک بل بھی پیش کیا تھا جس پر صدر صاحب نے ایک کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر بھی غور ہو رہا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو پندرہ سال کا عرصہ مقرر کیا ہے، اس عرصے کے دوران اردو مکمل طور پر انگریزی زبان کی جگہ سنبھال لے گی۔ یہ الفاظ ہیں جناب والا ! ان کا مطلب یہ ہر گزنہیں ہے کہ دو سال کے اندر کچھ بھی نہیں ہوگا۔ قومی اسمبلی کے خلاف آپ کو اب تک یہ شکایت رہی ہے کہ انگریزی کے ترجمے نہیں ہوتے ہیں۔لیکن آپ یہاں یہ دیکھ رہے ہیں کہ تمام کی تمام تقریروں کے ترجمے اردو میں ہوتے ہیں۔ یہاں کی کارروائی اردو اور انگریزی دونوں میں ہوتی ہے۔ تو یہ ۱۵ سال کی حد ایک آخری حد ہے اور پندرہ سال میں مکمل طور پر انگریزی کی جگہ اردو کو استعمال کیا جائے گا۔ اس کے باوجود ۱۵ سال میں بہت سی چیزیں رہ سکتی ہیں۔ پھریہ کہنا کہ آئین سے غداری کی جا رہی ہے تو جناب والا، یہ بڑی ذمہ داری کی بات ہے۔ اسے سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اور اس ضمن میں جب ایکٹ آئے گا تو اس ایکٹ پر سوچ سمجھ کر ہم فیصلہ کریں گے اور آئین بنانے کے بعد اسے ہم ایکٹ میں یہاں لے آئیں گے۔
جناب اسپیکر: مولانا صاحب! پھر یہ ترمیم آپ واپس لیتے ہیں؟
مولانا غلام غوث: میر ی ترمیم اگر آپ منظور فرمائیں تو اچھا ہے۔ اگر آپ پہلے حصے کو مان لیں اور اس سلسلے میں ابھی سے کوشش شروع کر دیں اور پانچ سال کی شرط مان لیں تو اس صورت میں دوسرا حصہ میں واپس لے لوں گا۔
جناب اسپیکر: پہلے حصے میں آپ کی ترمیم میں دو سال کی مدت لکھی ہوئی ہے، پانچ سال نہیں لکھی ہوئی ہے۔
مولانا غلام غوث: پانچ سال کا لفظ درج ہے۔ دو سال بہت بڑی چیز ہے۔ اگر دو سال رکھ دیے جائیں تو اور بھی اچھاہے۔لیکن اگر آپ ۱۵ کی جگہ پانچ سال رکھ دیں تو میں اسے قبول کر لوں گا۔
جناب اسپیکر: انھوں نے آپ کی تقریر کا جواب دے دیا ہے۔
مولانا غلام غوث: جناب والا ! ۱۵ سال کے لفظ سے لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔ اس مدت سے لوگ بھڑکیں گے۔
جناب اسپیکر: اچھا۔
جناب اسپیکر:سوال یہ ہے:
کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کی جانب سے پیش کردہ ترمیم اور ۱۸۲۲ پر درج ترمیم کو اختیار کرلیا جائے۔
حق میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۵
تحریک سے اتفاق نہ ہوا۔
جناب اسپیکر:ترمیم نا منظورکی جاتی ہے۔
جناب اسپیکر:سوال یہ ہے:
کہ آیا دفعہ ۲۵۱ آئینی بل میں بدستور شامل رہے۔ جس قدر ارکان اس رائے کے حق میں ہوں، وہ اپنی نشستوں پر کھڑے ہو جائیں۔
حق میں ۔۔۔۔۔۸۴
تحریک کو اختیار کیا جاتا ہے۔
دفعہ ۲۵۱ آئینی بل میں بدستور شامل ہے۔
بحوالہ : پاکستان قومی اسمبلی مباحث (سرکاری رپورٹ منظور شدہ بتاریخ جمعرات ۲۹؍مارچ ۱۹۷۳ء ؛ ص: ۲۰۷۷ تا۲۰۹۲۔