مرتب: محمد انور سرور
کتب نما



مقتدرہ قومی زبان کے کتب خانے کو موصول ہونے والی اعزازی کتب کے تعارف کا نیا سلسلہ اخباراردو میں شروع کیا جارہا ہے۔ اس سے جہاں ان اداروں اور مصنفین کا شکریہ ادا کرنا مقصود ہے، وہاں ہم طالب علموں اور اساتذہ کو بھی نئی شائع ہونے والی اردو کتابوں سے آشنا کرنا چاہتے ہیں۔ ادارہ


فیض فہمی
رواں سال کوفیض احمد فیض سے منسوب کیا گیا تھا او راہلِ قلم نے اس نسبت سے اب تک متعدد کتابیں تصنیف وتالیف کیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کتاب ’’فیض فہمی‘‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آئی ہے۔ اسے ڈاکٹر سید تقی عابدی نے مرتب کیا ہے۔ کم و بیش ڈیڑھ سو سے زائد مضامین کے اس انتخاب میں فیض صاحب کی شخصیت اور فن کے متنوع گوشوں کا تحقیقی اور تنقیدی حوالوں سے ایک ایسا جامع روپ سامنے آتا ہے کہ کسی نوعیت کی تشنگی باقی نہیں رہتی۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی نے جس محبت، توجہ اور محنت کے ساتھ اس کی ترتیب و تبویب کی ہے, فیض صاحب کے سال کی نسبت سے اسے بے حد خوب صورت اور نمایاں تر تحفے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ کتاب میں شامل مضامین کے لکھنے والوں پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو اردو کا کوئی نمایاں محقق یا تنقید نگار شاید ہی ایسا ہو جو اس میں شامل ہونے سے رہ گیا ہو۔ کتاب کی ایک اور خوبی بھی قابل توجہ ہے کہ فیض شناسی کے آغاز سے عصرِ حاضر تک کی تمام اہم تحریریں اور ضروری مباحث اس میں سمو دیے گئے ہیں۔ اس میں فیض صاحب کی پہلی بار منظر عام پر آنے والی نادر تصویروں کی ایک بڑی تعداد اس کی اہمیت کو دو چند کرتی ہے۔ فیض صاحب کی کہانی اس تصویری البم کے ذریعے سے بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے فیض صاحب کا عہد اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نظروں میں گھومنا شروع ہوجاتا ہے۔درست طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فیض صاحب نہ صرف یہ کہ شاعر تھے بل کہ سماجی مصلح اور ایک سیاسی رہنما کی حیثیت سے بھی ممتاز مقام کے حامل ہیں۔ 
ڈاکٹر سید تقی عابدی نے فیض شناسی کی روایت میں علمی حوالوں سے اضافہ تو کیا لیکن کتاب کے صوریِ حُسن کو دیکھتے ہوئے قاری ان کی فیض صاحب سے محبت کی داد دیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ’’سال فیض‘‘ کے سلسلے میں ’’فیض فہمی‘‘ کا بے حد نمایاں کتاب کے طور پر خیر مقدم کیا جائے گا۔ 
(ڈاکٹر راشد حمید)
پاکستانی اردو ورس
کسی بھی زبان کا ادب اس وقت تک محدود رہتا ہے جب تک کہ اس کے تراجم دوسری اور بڑی زبانوں میں دستیاب نہ ہوں۔ اس پہلو کی اُتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ دوسری زبانوں کے ادب کے ہماری زبان میں تراجم کی ہوسکتی ہے کیوں کہ کسی بھی زبان کی ثروت مندی کا پتا اسی زبان میں دوسری زبانوں کے بڑے ادب کے تراجم کی مقدار اور معیار سے ہوتا ہے۔ پیش نظر کتاب ’’پاکستانی اردو ورس‘‘ پاکستانی اردو شاعری کے انگریزی ترجمے پر مشتمل ہے۔ انگریزی ترجمہ معروف شاعرہ اور ترجمہ نگار یاسمین حمید نے کیا ہے۔ تریسٹھ شاعروں کے کلام کے انگریزی ترجمے پر مشتمل یہ کتاب کئی اعتبار سے بے انتہا اہم ہے۔ اس کی پہلی اہمیت تو یہی ہے کہ اردو ادب کو دنیا کے دوسرے لکھنے والوں تک پہنچانا یقیناًبے حد اہم کام ہے۔ دوسری اہمیت یہ ہے کہ ثقہ اردو شاعروں کا بے حد نمائندہ انتخاب ایک مجموعے میں فراہم کردیا گیا ہے۔ تیسری اہمیت یہ ہے کہ ترجمہ نگار نے شاعروں کے کلام کا انتخاب عرق ریزی کے ساتھ کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بعض شاعروں کا سب سے اچھا کلام منتخب کیا گیاتو غلط نہ ہوگا۔ آخری مگر دراصل اولین اہمیت یہ ہے کہ ترجمہ نگار یاسمین حمید نہ صرف یہ کہ اردو کی بے حد اہم شاعرہ ہیں بل کہ ترجمہ نگار اور انگریزی مدیرہ کی حیثیت سے ان کا کام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
یاسمین حمید نے پاکستان کا نمائندہ ترین انتخاب مرتب اور عمدہ انگریزی روپ میں پیش کرکے اُردو کی خدمت سرانجام دی ہے۔
(ڈاکٹر راشد حمید)
کشورِ گلگت پاکستان
’’کشور گلگت بلتستان‘‘ سید عالم استوری کی ایسی تصنیف ہے جس میں گلگت اور بلتستان کے جغرافیے، آب و ہوا ، مناظر، آداب معاشرت ، رسوم و رواج کا احاطہ کیاکیا ہے۔ کتاب پڑھ کر وادی گلگت اور بلتستان سے ایک اُنس ہونے لگتا ہے۔ کتاب کے آغاز میں سیدعالم استوری نے مختلف مناظر کی تصاویر دے کر اس کی رنگارنگی میں نہایت خوب صورت اضافہ کیا ہے۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بھی ایک عمدہ ہے کہ نئے سیاح اس کے مطالعے سے سفر وحضر کی بہت سی کلفتوں سے بچ جاتے ہیں۔
رباعیات کمال الہامی 
’’رباعیات کمال الہامی‘‘ پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کا رباعیات پر مشتمل تازہ شعری مجموعہ ہے۔ حشمت علی سکردو اور بلتستان کی معروف علمی و ادبی شخصیت اور ہردل عزیز شاعر ہیں۔ موجودہ کتاب میں کمال الہامی کی معاشرتی، سماجی، مذہبی اور شخصی موضوعات پر ۵۳۴ دلچسپ رباعیاں ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے انتہائی فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ آغاز میں مصنف کا تعارف اور ان کے کام کے حوالے سے خدمات کا اعتراف بھی مختلف علمی شخصیات کی طرف سے کیا گیا ہے۔ ۳۶۷ صفحات اور خوبصورت سرورق کے ساتھ عمدہ کاغذ کتاب کی زینت کا باعث ہے۔ 
شورش باطن 
’’شورش باطن‘‘ توفیق احمد جیلانی کی عسکری زندگی کی سرگزشت ہے جسے اظہار سنز پرنٹرز، لاہور نے ۲۰۱۰ء میں چھاپاہے۔ ۳۵۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۴۰۰ روپے ہے، اس سے پہلے ان کی ایک کتاب ’’ضیافت رفتگاں‘‘ نے کافی پذیرائی حاصل کی ہے۔ موجودہ کتاب ایک ایسی خودنوشت ہے جس میں بہت شگفتہ اندازتحریر اختیار کرتے ہوئے اپنی عسکری ذمہ داریوں کا احوال اور ان حالات میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ کتاب پڑھ کر ایک سرشارکردینے والی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
****
کھیڈاں 
’’کھیڈاں‘‘ عبدالوحید بسمل کے ہندکو ڈراموں کا مجموعہ ہے۔ ۱۱۲ صفحات کی کتاب میں وحیدبسمل کے کل چھ ڈرامے شامل ہیں۔ اسے مثال پبلشر نے فیصل آباد سے شائع کیا۔ کتاب میں موجود تمام ڈرامے اپنے اندر ایک خوب صورت طنزومزاح کا بہاؤ رکھتے ہیں۔ بلاشبہ اس کتاب میں ہندکو زبان کا دلنشیں مزاح پوری کشش رکھتا ہے۔ 
رسائل وجرائد 
’’قومی زبان ‘‘
انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی کے’’قومی زبان‘‘ جولائی ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ۵ مضامین ،فیض احمد فیض اور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے بارے میں ہیں۔ اس کے فاضل مضمون نگاران میں ڈاکٹر علی احمد فاطمی ، ضیاء ندیم، فرحت فاطمہ ، پروین کاظمی اور حیات نظامی ، پروفیسر آفاق صدیقی ، محمدیونس ہویدا شامل ہیں۔ منشایاد نے نجم الثاقب کے ناول ’یہاں سے آگے‘ اور یونس حسنی نے ’ مشرق ومغرب کے نغمے ‘ پر تبصر ہ کیا ہے۔ عطاء الحق قاسمی نے اے حمید کی یاد میں ’ میں تم سے ملنے آتا رہوں گا ‘ لکھا ہے۔ ‘‘
****
سہ ماہی فنون 
جنوری تا جون۲۰۱۱ء شمارہ ۳۰کے سرورق پر میر کاروانِ فنون کے طور پراحمد ندیم قاسمی اور مجلس ادارت میں نےئر حیات قاسمی اور ڈاکٹر ناہید قاسمی کے نام شامل ہیں۔ گزشتہ شماروں سے انتخاب کے طور پر ابوالخیر مودودی ، احمد ندیم قاسمی ، مسعود مفتی ، سید عبداللہ اور فیض کی نظم ونثر شامل ہے۔ مقالات میں ڈاکٹر سلیم اختر (تہہ خانے سے ) مرزا حامد بیگ (ورجینا وولف سے سب ڈرتے کیوں ہیں )، محمد یار گوندل (قومی زبان کا العباد)، عامر سہیل (اقبال کا فکری نظام)، ظفر سہیل (منطقی اثباتیت) اور ہارون الرشید (گلگت بلتستان کا اہم شاعر : حسن شاد ) شامل ہیں۔ ضیا بٹ ، نگہت مرزا، نصرت منیر، علی تنہا، فرحت پروین ، نیلم احمد بشیر ، رئیس فاطمہ اور نجیبہ عارف کے افسانے ، نظمیں، غزلیں سفرنامہ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
****
سہ ماہی تسطیر
نامور شاعر نصیر احمد ناصر کی زیر ادارت سہ ماہی ’تسطیر‘ جنوری تا جون ۲۰۱۱ء کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا ہے ۔ اس میں ڈاکٹر ستیہ پال آنند ، ڈاکٹر ناصر عباس نےئر ، ظفر سپل ، محمد حمید شاہد ، عمران شاہد بھنڈر ، تنویر ساغر اور ڈاکٹر عظمیٰ سلیم کے مقالات، نظمیں ، غزلیں ، ترجمے، تبصرے اور مکاتیب شامل ہیں۔ 
****
کتابی سلسلہ ’’دنیا زاد ‘‘
نامور افسانہ نگار ، مترجم اور نقاد ڈاکٹرآصف فرخی کی زیر ادارت ’دنیا زاد ‘ کا نیا شمارہ کتابی سلسلہ ۳۱شائع ہوگیا۔ اس میں بیدل کے منتخب کلام کا وہ ترجمہ شامل ہے، جو افضال احمد سید نے کیاہے ۔ اس کے علاوہ شمس الرحمن فاروقی ، حسن منظر ، خالدہ حسین ، انیس اشفاق ، غازی صلاح الدین اور راشد اشرف کے افسانے جبکہ زہرا نگاہ ، کشور ناہید ، فہمیدہ ریاض کی نظمیں ، غزلیں ، تراجم اور تبصرے شامل ہیں۔ 
****
صحیفہ(احمد ندیم قاسمی نمبر)
جناب شہزاد احمد ]اظہرغوری اور اشرف جاوید[کی ادارت میں صحیفہ کا احمد ندیم قاسمی نمبر شائع ہو گیاہے، جو ۴۸۰ صفحات پر محیط ہے۔ اس میں نوادراتِ ندیم کے حوالے سے شاعری اور افسانے کے انتخاب کے علاوہ ان کی ۶ نثری تحریریں شامل ہیں۔ اس خاص نمبر کے مقالات: دوران حیات ؛ مضامین: بعد از حیات، منظوم خراجِ تحسین اور ایک مصاحبہ]ان کا آخری انٹرویو[ہر باذوق کو دعوتِ مطالعہ دیتاہے۔ ایک دلچسپ مضمون قاسمی صاحب کے قلمی سفر کے حوالے سے بھی ہے، گلزار کے بابا کے نام ۴ شعر بھی ہیں۔
****
دریافت
نمل، اسلام آباد کے تحقیقی و تنقیدی مجلے ’دریافت‘ کا شمارہ ۱۰ شائع ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد کی علمی امانت کو ان کے شاگردوں ڈاکٹر روبینہ شہناز اور ڈاکٹر شفیق انجم خوبی سے نباہ رہے ہیں۔ اس میں ۴۸ مقالات شامل ہیں اور موضوعات کے اعتبار سے ۶ گوشے بنائے گئے ہیں۔ ۵ مقالات ایسے ہیں جو مقالہ نگاروں نے اپنے نگران کے اشتراک سے لکھے ہیں، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایک شرط کی بجا آوری کے مظہر بھی ہیں۔ امید ہے کہ ایسے تحقیقی مجلوں کے مقالہ نگار اپنے مقالات میں ایسے جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کے مواد کو زیرِ بحث لانے کی روش بھی اختیار کریں گے تاکہ اشاریہ سازی کا وہ مرحلہ طے ہو سکے جو اب تک اردو کے تحقیقی جرائد کو ایچ ای سی کی نظر میں درجہ بندی کے نچلے درجے سے بلند نہیں ہونے دیتا۔
****
مجلہ موسمیات
دنیا بھر میں قدرتی اور انسان کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلیوں نے عام انسانوں پر اس کے اثرات کے موضوع پر غور وفکر میں اضافہ کیا ہے۔ اب ایک عام انسان بھی یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس عالمی قصبہ (Global Village)میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ابتدائی معلومات سے آگاہ رہے۔ محکمہ موسمیات پاکستان ’پاکستان جرنل آف میٹرولوجی‘ کے نام سے ایک ششماہی سائنسی مجلہ کی اشاعت کا اہتمام اسی مقصد کے لیے کرتا ہے۔ یہ تحقیقاتی مجلہ شعبۂ موسمیات اور اس سے متعلقہ مختلف سائنسی شعبوں میں کیے گئے تحقیقی کاموں کو منظر عام پر لاتاہے۔ اس مجلہ کے نمایاں موضوعات میں شامل ہیں: زلزلوں اور انسان کے پیدا کردہ دھماکوں اور موسمی حالات کے زمینی ارتعاشات کے مخرج، نمو اور خصوصیات، مائعیاتی تبدیلیاں، زرعی موسمیات اور ماحولیاتی سائنس وغیرہ۔ یقیناً مذکورہ مجلہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد تحقیقی مجلہ ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ یہ مجلہ انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں شائع کیا جائے۔ اس سے ایک عام قاری کو ان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجوہ اور ان کے اثرات تک بروقت آگاہی حال ہو سکے گی اور وہ اس عالمی قصبہ میں نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کا تعین کر سکے گا بلکہ آئندہ نسلوں کی بقاء کے لیے اپنے کردار کو احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش بھی کر سکے گا۔
(عظمت زہرا)
****
انشا
’’انشا‘‘ ایک ایسا سہ ماہی ادبی رسالہ ہے جسے صفدرعلی خاں پاکستان اور کینیڈا سے بیک وقت جاری کرتے ہیں۔ موجودہ شمارہ ’خاکے کا خاص نمبر‘ ہے جس میں مختلف مشاہیر کی شخصیت اور فن کا خوبصورتی سے نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ ۳۲۰ صفحات پر مشتمل اس رسالہ میں ۳۸ مضامین شامل ہیں جنھیں آپ کسی حد تک خاکہ بھی کہہ سکتے ہیں۔