کالم سے انتخاب
لطف اللہ خاں ایک داستان جنون
انتظار حسین


جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی ہے اس وقت ان پہ دھن سوار تھی کہ مشاہیر کی آوازوں کو مقید کر و اور ایک آڈیو لائبریری ایسی قائم کرو کہ کیا آج کے اور کیا اگلے پچھلے اہل ہنر ہیں اور اپنے اپنے میدان کے شہسوار ہیں وہ سب اپنی آوازوں کے ساتھ اس لائبریری کی زینت ہوں۔
یہ تھے لطف اللہ خاں جو نوے برس سے اوپر کی عمر پا کر دنیا سے رخصت ہوئے اور خود انہیں یہ احساس ستا رہا تھا کہ جو سو دا ان کے دل و دماغ میں سمایا ہوا تھا اس میں تو ابھی بہت کچھ کرنے کو باقی ہے ۔مگرآئی کو کیسے ٹالتے
کام تھے عشق میں بہت پر میر
ہم ہی رخصت ہوئے شتابی سے
یہ جو ایک شوق نے بڑھتے بڑھتے آڈیو لائبریری کے منصوبے کی شکل اختیار کر لی اس کا آغاز تو تصویر کھنچوانے کے شوق سے ہوا تھا۔ اپنی تصویریں کھنچواتے کھنچواتے دوسروں کی تصویریں کھینچنے لگے ۔ لیجئے فوٹو گرافر فن گئے۔ اور ایسے بنے کہ عمر کے باون برس اسی ہنر میں کمال حاصل کرنے کی دھن میں گزار دیے ۔ بتاتے ہیں کہ ’’فوٹو گرافی کا شوق جاری تھا بلکہ عروج پر تھا کہ ایک نئے شغل نے انگڑائی لی۔ یہ شوق صرف میرے لیے نیا نہیں تھا بلکہ دنیا بھر کے لیے نئی چیز تھی۔ یعنی کہ ٹیپ ریکارڈنگ ۔ کہتے ہیں کہ یہ مشین برصغیر میں پہلی بار جولائی ۱۹۵۱ء میں کراچی کے ایک الیکٹرانک ڈیلر نے درآمد کی ۔ ’’میں نے اسے دلچسپ پایا۔ پہلی مشین میں نے خریدی یہ سوچ کر کہ اپنی والدہ کی گفتگو ریکارڈ کرو کہ ’’خدانخواستہ جب وہ ہم میں موجود نہ ہو ں تو ان کی آواز سن کر ہم سب مسرور ہوں گے۔ ‘‘
بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں تک پہنچی۔ کس کس کی آوازوں کے پیچھے دوڑتے پھرے ۔ موسیقا،‘شاعر،افسانہ نگار،نقاد،محقق‘علمائے ادب، علمائے دین۔ سب کے اپنے اپنے نخرے ۔ سب کے ناز اٹھائے جا رہے ہیں۔ کسی نہ کسی طور شیشے میں اتارا جا رہاہے۔ یہ تو زمانہ حاضر کے ہنر مند اور اہل علم ہوئے۔ سوچا کہ جب لائبریری ہی بننی ہے تو فنون ادبیات کی پوری تاریخ یہاں جلوہ گر ہونی چاہیے۔ موسیقاروں کے جب سے ریکارڈ تیار ہونے شروع ہوئے تھے تب تک کے ریکارڈ ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کئے گئے۔ کہاں کہاں کنوؤں میں بانس ڈالے گئے ۔ اور شاعروں مشاعروں کے کھوج لگائے گئے ۔ کن کن کونوں کھدڑوں سے آوازوں کے خزینے کھود کر نکالے گئے۔
اس چکر میں لگے ہاتھوں دوسرا کام بھی ہو گیا۔ موسیقاروں نے جو ناز و نخرے دکھائے، ان سے مال اگلوانے کے لئے جو جتن کرنے پڑے اس کا احوال قلمبند کر ڈالا۔ اس طرح ایک تصنیف ’سر کی تلاش‘ وجود میں آئی۔ شاعروں ادیبوں سے پالا پڑا تو انہوں نے اپنے رنگ سے ستایا۔ اس چکر میں ان کی کمزوریوں سے بھی واقفیت ہوئی۔ ان کی خوبیوں کا بھی پتہ چلا۔ لیجئے ایک اور تذکرہ تیار ہو گیا جو’ تماشائے اہل قلم‘ کے نام سے شائع ہوا۔ مطلب یہ کہ ساتھ میں ادب کا چسکا بھی تو لگا ہوا تھا۔ تو ساتھ ساتھ قلم بھی چل رہا تھا۔ یوں کئی کتابیں لکھی گئیں۔ ایک کتاب میں اپنے سیروسفر، اپنے شوق، اپنی ریاضتیں ‘اپنی ناکامیاں اور کامیابیاں ۔ غرض احوال اسی طرح لکھا گیا کہ خود نوشت بن گئی۔
ساتھ آڈیو لائبریری کا کام بھی جاری رہااور اب اس کام کی معنویت کا بھی شدید احساس ہوتا جا رہا تھا۔ سو اس کے لئے مزید دوڑ دھوپ۔ حاصل حصول کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں۔ نیکی کر دریا میں ڈال ۔ اپنے پیشہ ایڈورٹائزنگ سے جو آمدنی ہوئی اس میں لگا دی۔ لیکن عاشق اپنی جان سے اکیلا اور کارو بار عشق ایسا کہ اس کا کوئی انت ہے نہ تھا ۔ آخر کب تک عمر خضر تو لے کرنہیں آئے ہیں۔ تو آخر آخر میں یہ احساس ستانے لگا کہ ’’یہ کام میری اپنی زندگی میں پورا ہونے سے رہا اور اگر یہ کام میرے ہاتھوں پایہ تکمیل کوپہنچے گا یا کیوں کر جاری رہے گا۔‘‘ کہتے ہین کہ ’’ایک بات ببانگ دہل کہہ سکتا ہوں کہ کوئی پاکستانی ایسا نظر نہیں آتا جو مجھ جیسی احتیاط اور حفاظت کر سکے کیونکہ یہ جمع پونجی میری اپنی ذاتی کاوشوں سے اکھٹی ہوئی۔ اسے میں اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتا ہوں۔ ‘‘
اس پر کرار صاحب نے اچھا ٹکڑا لگا یا کہ اس لائبریری کو چلانے کے لئے لطف اللہ صاحب کسی پاگل مددگار کو لے آئیں یا کسی ہوش مند کو یہاں لا کر پاگل بنا دیں۔ اس پر ہمیں خدا بخش لائبریری کا خیال آیا ۔ وہ لائبریری بھی تو فرد واحد کے جوش عشق کا حاصل ہے ۔ کسی حکومت ، کسی نواب،کسی جاگیر دار نے اسے سہارا نہیں دیا۔ بس ایک صاحب جنوں کے دماغ میں عجب سمائی کہ اس نے عربی فارسی کے نادر نایاب مخطوطے کتنی تعداد میں جمع کر لئے۔ جب آخر وقت آیا تو بیٹے کو وصیت کی کہ یہ میرا کاروبار عشق تھا، اسے جاری رکھنا، بیٹا باپ سے بڑھ کر صاحب جنوں نکلا۔ اس نے مزید مخطوطے اور پرانی کتابیں جمع کیں اور ایک لائبریری کی بنیاد رکھی جو مشرقی علوم و ادبیات کے لحاظ سے سب سے بڑی لائبریری مانی جاتی ہے مگر لطف اللہ خاں صاحب نے اپنا قصہ درد یوں سنایا کہ ’’یہ میرا کاروبار عشق اردو میں ہے اور میرے بیٹے اردو سے نا آشنا ہیں۔ یوں بھی انہیں اس کام سے دلچسپی نہیں ۔‘‘ ادھر کر ارصاحب کا بتایا ہوا نسخہ بھی انہیں قابل عمل نظر نہیں آیا۔ سو انہوں نے اپنی آپ بیتی اس بیان پر ختم کی کہ ’’بیشک میں نے اب تک ہمت نہیں ہاری۔ میں تنہا راہ میں اتنا چلا ہوں کہ اپنا ہم سفر خود بن گیا ہوں مگر صرف ہمت نہ ہارنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ جوں توں کرکے کام چل رہاہے ۔ مگرتا بہ کہ ’’ دی اینڈ ‘‘ دور نہیں۔‘‘ یہ کہتے کہتے عاشق نے آنکھیں موند لیں۔ غالب کا یہ شعر اس کے حسب حال ہے۔
آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
(
بشکریہ :روزنامہ ایکسپریس ،اسلام آباد،۱۲مارچ ۲۰۱۲ )


امجد اسلام امجد
میں تیرے شہر میں مہمان کچھ دنوں کاہوں
شاعر، نقاد اور استا د اطہر ناسک کی بیماری کے بارے میں گزشتہ کچھ عرصے سے تشویش ناک خبریں مختلف دوستوں کی وساطت سے مل رہی تھیں لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی بیماری (کینسر) اس قدر بڑھ چکی ہے کہ معاملہ اب دوا سے نکل کر دعا کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ اتفاق سے آج دن میں مجھے ایس ایم ایس کے ذریعے ان کی ایک تازہ اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی غزل ملی اور شام کو ملتان سے برادر ان عزیز قمر رضا شہزاد اور رضی الدین رضی کا فون ملا کہ انہیں اپنے تدریسی فرائض انجام دینے کے لئے بیماری کی اس حالت میں گھر سے دور اور سفر میں رہنا پڑتا ہے جس سے ان کی حالت مزید بگڑتی جا رہی ہے اور خون کی تبدیلی کے عمل میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں سو سیکرٹری تعلیم حکومت پنجاب سے سفارش کی جائے کہ کسی بھی طرح اسے ایک خاص اور انسانی جان کے ضیاع سے متعلق کیس تصور کرتے ہوئے ان کی پوسٹنگ ملتان کر ا دی جائے تا کہ ان کی اس اذیت میں کچھ تو کمی ہو سکے جس سے خدا کسی دشمن کو بھی د وچار نہ کرے ۔ میں اپنے کالم میں اصولی طور پر سرکار، عوام یا مخیر حضرات وغیرہ سے اپیل سے احتراز کرتا ہوں لیکن یہ معاملہ ایک شاعر اور استاد بھائی کا ہے سومیں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کروں گا کہ برادرم اطہر ناسک کی تکلیف اور مسائل میں جس حد تک کمی ممکن ہے وہ کی جا سکے اور اس کے لئے سیکرٹری تعلیم حکومت پنجاب اور صوبے کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے بالمشافہ مل کران کی توجہ اس طرف مبذول کراؤں گا۔ ہر دو حضرات صاحب دل بھی ہیں اور انسان دوست بھی۔ مجھے یقین ہے کہ ان کو متحرک کرنے کے لئے اطہر ناسک کی وہ غزل ہی کافی ہو گی جسے پڑھنے کے بعد سے اب تک میرا دماغ جھن جھنا اور دل ڈوب رہا ہے۔
یقین برسوں کا، امکان کچھ دنوں کا ہوں
میں تیرے شہر میں مہمان کچھ دنوں کا ہوں
پھر اس کے بعد مجھے حرف حرف ہونا ہے
تمہارے ہاتھ میں دیوان کچھ دنوں کا ہوں
کسی بھی دن اسے سر سے اتار پھینکوں گا
میں خود پہ بوجھ مری جان ، کچھ دنوں کا ہوں
زمین زادے، مری عمر کا حساب نہ کر
اٹھا کے دیکھ لے میزان، کچھ دنوں کا ہوں
مجھے یہ دکھ ہے کہ حشرات غم تمہارے لئے
میں خوردونوش کا سامان کچھ دنوں کا ہوں
اس دنیا میں سانس لینے والی ہر چیز کو اپنے مقررہ وقت پر فنا ہونا ہے اور بقول شاعر جب ’’احمد مرسلؐ نہ رہے کون رہے گا ؟‘‘ مگر معلوم سانسوں کی گنتی کرنا اور زینہ زینہ اترتی ہوئی موت کے قدموں کی دھمک کو سننا اور پھر ان کو شمار کرنا کس قدر ہولناک بات ہے۔ اسے شائد لفظوں میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ عین ممکن ہے کہ علاج کی وہ سہولیات جن کا انتظام ایک محدود تنخواہ پانے والے پروفیسر کے بس میں نہیں۔ اگر اسے حکومت اور اس محکمے کی طرف سے مل جائیں جہاں وہ کام کر رہا ہے تو قدرت اور اللہ کی رحمت اس کی زندگی کی مہلت میں اضافہ فرما دے اور اسے وہ Extensionابھی سے مل جائے جو سرکاری ملازمین کو عام طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد ملا کرتی ہے۔
’’
خدا ہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ ‘‘یہ وہ دعا ہے جو اشفاق احمد مرحوم اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا کرتے تھے سو میں بھی اس پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ (بشکریہ :روزنامہ ایکسپریس ،اسلام آباد ۱۱مارچ ۲۰۱۲ )

بھگت سنگھ کے ساتھ شاعر بحی پھانسی چڑھ گیا
انتظار حسین
ہمارے نامی گرامی محقق اور اپنے وقت کے معتبر صحافی مولانا غلام رسول مہر کے صاحبزادے ہیں امجد سلیم علوی ویسے تو کاروبار کرتے ہیں مگر وہ جو کہتے ہیں کہ باپ پر پوت پتا پر گھوڑا بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا تو موصوف بھی تھوڑاتھوڑا تحقیق کا شوق رکھتے ہیں۔ ابھی پچھلے کالم میں ہم سوچ رہے تھے کہ تحریک آزادی کے زمانے کا اتنا مشہور شعر ؂
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
اس زمانے میں زبان خلق پر جاری تھا مگر شاعر کون تھا، خلقت اس سے بے خبر تھی۔ اردو کے مقبول عام شعروں کے ایک تذکرے میں ہم نے لکھا دیکھا کہ اس شعر کے مصنف تھے بسمل عظیم آبادی مگر اصلی نام کیا تھا کیونکہ ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ یہ کوئی ہندو شاعر تھا۔ اب امجد سلیم علوی صاحب کا مکتوب ملاحظہ فرمائیے :
’’
کل کے’ ایکسپریس‘ میں آپ کا کالم پڑھ کر بسمل صاحب کے متعلق جاننے کا تجسس بیدار ہوا۔ انٹرنیٹ نے بہت زیادہ سہولتیں فراہم کر دی ہیں۔ معلوم یہ ہوا کہ بسمل صاحب کا پورا نام تھا رام پرشادبسمل۔ یہ عظیم آبادی نہیں بلکہ شاہجہاں پوری تھے۔ ۱۸۹۷ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹ دسمبر ۱۹۲۷ء کو پھانسی پر لٹکائے گئے۔ اسی دن ان کے ساتھی شاہجہاں پورہی کے اشفاق اللہ خاں کو کسی دوسری جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ انھوں نے شاہجہاں پور کے اسلامیہ ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔
’’
بسمل صاحب کی دو سو نظمیں محفوظ ہیں۔ ان کی دیگر نثری تحریریں اور ان کی زندگی کے حالات بھی بھارت میں چار جلدوں میں شائع کر دیے گئے ہیں۔ ان کی یہ نظم خاصی طویل ہے ۔انٹرنیٹ پر رومن رسم الخط میں لکھے ہوئے کئی مصرعے صحیح طور پر نہیں پڑھے جا سکے‘‘۔
جو پڑھے جا سکے ان میں سے چند شعر یہاں نقل کیے جاتے ہیں ؂
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
ایک سے کرتا نہیں کیوں دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تری محفل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
اب تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
کھینچ کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچۂ قاتل میں ہے
سر جو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکار سے
اور بھڑ کے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے
جاں ہتھیلی پر لیے، لو بڑھ چلے ہیں یہ قدم
سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
ہاں یہ بھی سنتے چلئے اور یہ ذکر شاید شاہد ندیم نے اپنی تقریر میں بھی کیا تھا کہ گاندھی جی تو اپنے فلسفہ عدم تشدد کی بنا پر بھگت سنگھ کے متشددانہ رویے کے خلاف تھے مگر قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی تقریروں میں بھگت سنگھ کی حمایت کی تھی۔
(
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس، ۳۰ مارچ۲۰۱۲ء )
O


بلوچی شعر کا ایک نادر مخطوطہ
بلوچی ادب و ثقافت کا سرچشمہ بلوچی معاشرہ ہے جو تاریخی اعتبار سے جفاکش اور وفا کیش ہے۔ مدت مدید سے اس معاشرے نے ’’میار‘‘ کے معیاروں کواپنایا ہوا ہے۔ ’’بلوچی میار‘‘ صدیوں کے دوران کے معیار و اقدار، بلوچ قبائل کا غیر مکتوب آئین (Unwritten Constitution) بن کر رہے ہیں جس سے اجتماعی طور پر قبائل کے درمیان صلتہ الوصل اور اشتراک عمل کی راہ ہموار ہوتی رہی ہے۔ علم الانسان کی رو سے بلوچی معاشرے کی یہ اقدار، سماج انسانی کے ارتقاء کی تاریخ میں ایک خاص الخاص اہمیت کے حامل ہیں، جن کی تاریخی طور پر تشریح اور جن کا علمی مطالعہ تا ہنوز تحقیق طلب ہے۔ ایسی تشریح اور ایسے مطالعے کے لیے اب صرف ایک ہی مآخذ رہ گیا ہے اور وہ ہے ’’بلوچ دپتر‘‘ یعنی بلوچی کلاسیکی شاعری کا ریکارڈ، جس نے تاریخی طور پر بلوچی معاشرے میں ’’میار ‘‘ کے اقدار کو دوام بخشا ہے۔ ’’دپتر ۂر‘‘قدیم روایتی بلوچی شعروں کا ذخیرہ ہے، اور اصطلاحاً پوری نظم کو شعر کہا جاتاہے۔
گلشن اردو( اردو مقالات نبی بخش خان بلوچ ) سے انتخاب