پروفیسر زاہد ہمایوں

میر انیس…''غزل کو سلام کرو''

میر انیسؔ ارو شاعری کی تاریخ میں ایک نہایت اعلیٰ و ارفع مقام رکھتے ہیں۔ اردو مرثیہ کا تذکرہ انیس کے بغیر نامکمل ہے۔ مرثیہ اردو میں میر انیس سے پہلے بھی موجود تھا، لیکن اس کا شمار غزل، قصیدہ اور مثنوی جیسی اہم اصناف میں نہ ہوتا تھا۔
انیسؔ کے جمالیاتی احساس نے مرثیہ میں تنوع اور بوقلمونی پیدا کر کے اس میں ادبی وقار پیدا کر دیا اور اسے عظیم ادب کی صف میں لا کھڑا کر دیا؛ پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب رقم طراز ہیں:
''معنوی حیثیت یا تاثرات کے اعتبار سے شاعری کی جتنی قسمیں ہو سکتی ہیں؛ انیسؔ کے مرثیے ان سب پر حاوی ہیں، شاعری جذبات کی ترجمانی ہو یا خیالات کی، وجدان کی تعمیر ہو یا حیات کی، تخیل کی جولاں گاہ ہو یا محاکات کی، اس کا مقصد فنی حسن کی تخلیق ہو یا انسانی اخلاق کی تکمیل؛ سکونِ قلب کی تحصیل ہو یا کسی پیغام کی تبلیغ۔ مختصر یہ کہ شاعری کی جو تعریفیں کی گئی ہیں اس کے جو محاسن قرار دیے گئے ہیں؛ اس کے جو مقاصد بیان کیے گئے ہیں؛ ان سب کے اعتبار سے انیسؔ کے مرثیوں کا شمار، اعلیٰ درجہ کی شاعری میں ہو گا۔ ایسی جامع صنفِ سخن انیسؔ کے مرثیہ کے سوا اور کون ہے''۔۱؎
مرثیہ شُہدائے کرب و بلا کی یاد میں لکھا جاتا ہے۔ ضمیر و خلیق اور انیسؔ و دبیرؔ نے اردو مرثیہ میں جدتیں پیدا کیں۔ چہرہ، سراپا، رخصت،آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین اس کے اجزائے ترکیبی متعین کیے۔ میرا نیسؔ نے فکری موضوعات اور جدید فنی تقاضوں کو سامنے رکھ کر مرثیہ کو ایک نیا رنگ و آہنگ دیا۔ جوش، نسیم، جمیل مظہری، سید آلِ رضا، صبا اکبر آبادی، رئیس امروہوی، وحید الحسن ہاشمی، ڈاکٹر ہلال نقوی، شبیہہ الحسن زیدی اور کوثر نقوی وغیرہ کے مرثیوں میں مراثی انیسؔ کے اسلوب کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے:
مرتضیٰ حسین فاضل میر انیسؔ کی پیدائش کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ:
''میر حسن نے عشرہ محرم ۱۲۰۱ھ/۱۷۸۶ء میں رحلت کی اور خلیق کے گھر میں اس واقعے کے تقریباً بیس سال کے ہیر پھیر سے غالباً ۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء میں انیسؔ کی ولادت ہوئی یا میر حسن علی اشک (متوفی۔ ۱۸۹۰ئ) اور عارف کے اندازے کے مطابق میر صاحب ۱۲۱۶ھ/۱۸۰۱ء میں پیدا ہوئے۔'' ۲؎
میر انیسؔکے سنِ پیدائش کے سلسلہ میں اب تک اختلاف چلا آ رہا ہے۔ میر انیسؔ فیض آباد میں پیدا ہوئے، وہیں پلے بڑھے اور جوان ہوئے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے علوم رسمی صرف و نحو، معنی و بیان، عروض، منطق، فلسفہ، تاریخ، طب، رمل وغیرہ سبھی سیکھے۔ عربی اور فارسی زبان و ادب پر عبور حاصل تھا۔ مروجہ علوم کے علاوہ سپہ گری، ورزش اور اسپ رانی میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔
خوش مزاجی، خودداری اور عزتِ نفس ان کی سَرِشت کے نمایاں پہلو تھے۔ شعر گوئی کا شوق انھیں لڑکپن ہی سے تھا۔ دراصل یہ اُن کے گھر کا ماحول اور باہر کی فضا کا اثر تھا۔ اپنے والد خلیق کی طرح انیسؔ کی شاعری کا آغاز بھی غزل سے ہوا۔ بہ قول محمد حسین آزاد:
''ابتدا میں انھیں بھی غزل کا شوق تھا۔ ایک موقع پر کہیں مشاعرے میں گئے اور غزل پڑھی، وہاں بڑی تعریف ہوئی۔ شفیق باپ خبر سُن کر دلی میں باغ باغ ہوا۔ مگر ہونہار فرزند سے پوچھا کل کہاں گئے تھے؟ انھوں نے حال بیان کیا۔ غزل سنی اور فرمایا کہ بھائی اس غزل کو سلام کرو۔
اور اس شغل میں زور طبع کو صرف کرو، جو دین و دنیا کا سرمایہ ہے۔ بیٹے نے اُسی دن سے ادھر سے قطع نظر کی۔'' ۳؎
''غزل کو سلام کرو'' یہ فقرہ ذو معنی ہے۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ ''غزل ترک کرو'' دوسرا یہ کہ اس غزل کو سلام میں تبدیل کرو۔ غزل کی طرح سلام کے تمام اشعار مقفیٰ ہوتے ہیں اور سلام میں غزل کی طرح مطلع و مقطع ہوتا ہے۔ پہلے سلام میں ردیف ''سلام'' ہی باندھی جاتی تھی اور اسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا وسیلہ بنایا ہوا تھا۔ مگر اب انقلاب ِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس میں ظاہری و معنوی جدتیں آ گئی ہیں۔ اب اخلاقی، اصلاحی اور حکیمانہ پہلو بھی ''سلام'' میں داخل ہو گئے ہیں۔ یعنی ''سلام'' بہ لحاظ معنی ''غزل'' کے بہت قریب ہو گیا ہے۔ جس محفل میں غزلیں سنائی جاتی ہیں اسے ''مشاعرہ'' اور اسی کے وزن پر جس محفل میں ''سلام'' پر داد وصول کی جاتی ہے اسے ''مسالمہ'' کہتے ہیں:
''غزل کی طرح سلام میں بھی ہر شعراپنی جگہ ایک مکمل نظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کا دوسرے شعروں کے ساتھ منطقی اعتبار سے مربوط ہونا ضروری نہیں، یعنی غزل کی طرح سلام میں بھی تمام اشعار کا متحد المضمون ہونا لازم نہیں بلکہ مختلف المضمون ہونا ہی انسب ہے۔ غزل کی طرح سلام کے لیے بھی کوئی عنوان تجویز نہیں کیا جا سکتا۔ سلام میں بھی تعداد اشعار زیادہ تر دس بارہ ہی ہوتی ہے۔ ایجازواختصار اور نکتہ سنجی کو سلام گو شعرا بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔''۴؎
انیسؔ طبعاً غزل کی طرف مائل تھے۔ اور تغزل ان کی طبع شاعرانہ کا جزواعظم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انھوں نے غزل چھوڑ کر سلام کی طرف رجوع کیا تو مرثیہ کے اصل موضوع سے تعلق رکھنے کے باوجود اُن کا ''سلام'' غزل کے بہت قریب ہو گیا۔
میر انیسؔ نے ظاہری طور پر غزل لکھنا تو ترک کر ی مگر باطنی طور پر مرثیوں اور سلام کی شکل میں غزل ہی کہتے رہے۔ چونکہ میرا نیسؔ کے مرثیے تغزل کی اسی کیفیت سے دل آویز اور پُرتاثیر بنتے ہیں۔ انیسؔ کے سلام کے اکثر اشعار اپنی سادگی و پُرکاری اور سوزوگداز کی بدولت تغزل میں اس طرح ڈھل گئے ہیں کہ غزل اور سلام کے اشعار میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے اپنی تصنیف ''میر انیسؔ… حیات اور شاعری''میں انیس کے سلاموں کے ایسے اشعار پیش کیے ہیں، جن سے یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ غزل کے اشعار ہیں۔ چند مثالیں بطور مشتِ نمونہ از خروارے ملاحظہ فرمائیں:
انیسؔ دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جائو
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
O
عالم پیری میں آئے کون پاس
اے عصا گرتی ہوئی دیوار ہوں
O
سُبک ہو چلی تھی ترازوئے شعر
مگر ہم نے پلّہ گراں کر دیا
O
نہ جانے برق کی چشمک تھی یا شرر کی لپک
ذرا جو آنکھ جھپک کر کھلی شباب نہ تھا
O
کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبر
کہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے
ابوالاعجاز حفیظ صدیقی ''کشاف تنقیدی اصطلاحات'' میں حسب ذیل اشعار میر انیسؔ کے سلاموں سے پیش کرتے ہیں:
یہ جُھریاں نہیں ہاتھوں پہ، ضُعف پیری نے
چنا ہے جامہ ہستی کی آستینوں کو

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

تمام عُمر جو کی سب نے بے رُخی ہم سے
کفن میں ہم بھی عزیزوں سے منہ چھپا کے نکلے
اگر ان اشعار کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ یہ میر ببر علی انیسؔ کے سلام سے تعلق رکھتے ہیں تو کوئی بھی انھیں غزل کے سوا سلام کے اشعار نہ کہے گا۔ میر انیسؔ کی غزلیں آج ہمارے سامنے نہیں ہیں۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں مراثی ، رباعیات اور سلام تو ملتے ہیں مگر غزلیں نظر نہیں آتیں۔ مگر ان کے مرثیوں کے ٹکڑوں اور خاص طو رپر متغزلانہ اور جمال پرستانہ فضا سے یہ ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت کو غزل سے خاص مناسبت تھی۔ اگر وہ غزل کہتے رہتے تو اس میں بھی اپنا ایک الگ مقام بنا لیتے۔
پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب نے اپنے مقالے ''میر انیسؔ کی غزل گوئی'' مشمولہ ''انیسیات'' مرتبہ صباح الدین عمر ۱۹۷۶ء میں اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ''میر انیسؔ حیات اور شاعری'' میں میر انیسؔ کی غزلیں اور غزلوں کے بعض اشعار کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک غزل کاحوالہ دینا چاہوں گا تاکہ انیسؔ کے رنگ تغزل کی وضاحت ممکن ہو سکے:
شہیدِ عشق ہوئے قیس نام ور کی طرح
جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح

کبھی آج شام سے چہرہ ہے فق سَحَر کی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ
کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح

تمام خلق ہے خواہاں آبرُو یا رب
چُھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح

تجھ ہی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیں
مری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح

انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیری
بڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح
میر انیسؔ کے سلام کے اشعار، مرثیوں کے اشعار اور غزل کے اشعار سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے تغزل اور مرثیت دونوں کو ملا کر ایک ایسا حسین و جمیل امتزاج پیدا کیا ہے؛ جو آج تک نہ صرف پسندیدہ ہے بلکہ جدید شاعری کی بنیاد بن چکا ہے۔ اُن کی اس حسین و جمیل سخن سنجی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سانحہ کرب و بلا جو اردو ادب میں رونے رلانے اورماتم گُساری کا حوالہ بنا رہا وہ جدید مرثیوں میں قوت و حرارت کا مرکز و محور بن کر ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
میر انیسؔ نے غزل کو ایسا سلام کیا کہ اُن کے متغزلانہ لہجے میں رچے بسے سلام کے اشعار پر غزلیہ اشعار کا گمان ہوتا ہے اور ہمارے جدید غزلیہ اشعار سلام کے اشعار کی جھلک پیش کرتے ہیں، شہزاد احمد کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں جو سلام کی جھلک پیش کرتے ہیں:
''ظلم کرنے پہ تُلی بیٹھی ہے ساری دنیا
اور ہم لوگ فقط سوگ منانے والے

کیا بتائیں تجھے کیا چیز ہے یہ تشنہ لبی
خشک ہو جاتے ہیں، دریا نظر آنے والے

فیصلہ آپ کریں، آپ کو کرنا کیا ہے
آپ پر چھوڑتے ہیں، شمع بجھانے والے''۵؎
میر انیسؔ کے مرثیوں کے ٹکڑے ہوں یا سلام کے اشعار بہ لحاظ موضوع اور مواد دوسروں سے مختلف نہ بھی ہوں، لیکن زبان و بیان کی دل کشی، جاذبیت اور محاسنِ شعری کے لحاظ سے اتنے منفرد ہیں کہ انھیں اپنے طرز کا موجد کہنا پڑتا ہے۔
انھوں نے اپنی افتاد طبع اور احساسِ جمال سے مرثیت کو جو غزل کا آب ورنگ دیا ہے، اُسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی سے اقلیم سخن میں اُن کا فن زندہ ہے اور جمال نکھرا ہوا ہے:
کسی نے تری طرح اے انیسؔ
عروسِ سُخن کو سنوارا نہیں
حواشی
۱۔ مسعود حسن رضوی، ادیب، پروفیسر: ''میرانیسؔ کی خوش آوازی، خوش بیانی اور مرثیہ گوئی'' مشمولہ ''نقوش'' (میرانیسؔ نمبر) محمد طفیل، لاہور، ادارہ فروغ، شمارہ ۱۲۸، نومبر ۱۹۸۱، ص:۶۶۲
۲۔ مرتضیٰ حسین فاضل، سید: ''منتخب مراثی انیسؔ ''، لاہور، مجلس ترقی ادب، ۱۹۷۴ء ص:۱
۳۔ حسین آزاد، محمد: ''آبِ حیات'' ، لاہور، کمبائید پبلشرز، ایبک روڈ، سن، ن۔م،ص: ۵۳۰