عمر فاروق
ڈاکٹر وزیر آغا کے نام ترسیل نہ ہو سکا ایک خط

محترم ڈاکٹر وزیر آغا صاحب،سلام مسنون!
عرض ہے کہ کچھ عرصہ سے یہ بات باعثِ خلش ہے کہ لفط بے معنی کیوں ہو جاتے ہیںاور انھیں ان کی معنویت کیونکر واپس دی جائے؟ آپ ہی کی کسی تحریر میں پیش کیے گئے ایک خیال سے بات کا آغاز کرتا ہوں۔ یوں ہے کہ ایک تو فطرت کا جمالیاتی پہلو ہے اور دوسرا تباہ کن اور اذیت ناک پہلو، جسے فقط پُر ہیبت کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا اور جسے دیکھتے ہوئے انسان ایک طرف چّلہ کشی اور وظائف کے ذریعے اور دوسری جانب بعض مادی اسباب و وسائل کے ساتھ آج تک ذہن و جسم کے سکون اور سلامتی کی تلاش میں رہا ہے۔ بالکل ابتدائی دور کا انسان بھی یہ سکون و سلامتی، جھاڑ پھونک، پوجا پاٹ (جس میں ''جنسی عبادت'' بھی شامل ہے) کے ذریعے اور غاروں میں پناہ لے کر حاصل کرتا یا اس کی کوشش کیا کرتا تھا۔ فطرت یقیناً وہی ہے، مگر انسان کی دماغی اور جسمانی کیفیات ضرور مختلف ہیں۔ سو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف فطرت کے ساتھ رومانوی وابستگی اور داستانوی مزاج کو لے کر اور دوسری طرف طاری ہونے یا کی جانے والی مختلف نفسیاتی/ روحانیاتی کیفیتوں/تجربوں اور تقدیر جیسے عنصر کی کارفرمائی کے تصور کے ذریعے انسان اور فطرت کے تعلق کو ٹھکے بیٹھے پیمانوں سے ماپ کر صرف اور صرف روایتی آنکھ کے تل میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔ ادب کی جمالیات، حسن و عشق اور بے مہر آسمان کی تثلیث کو مختلف سماجی اور فطری مظاہر پر منطبق کر کے مسرت یا ملال کے شعری لطف سے ہم کنار تو کر سکتی ہے، لیکن کیا محب، محبوب اور دشمن آسمان (یا ظالم سماج) کی تکون ہی ، گنے چنے چند تلازموں کے ساتھ ، فطرت کے خارجی اور داخلی ہمہ قسم کے ''جمال و جلال''، ان سے پیدا شدہ مختلف النوع مسائل و کیفیات اور پھر سب سے بڑھ کر خود اپنی ذات کے اثبات کے لیے، فطرت کی بے قیاس و شمار حیاتیاتی اور ریاضیاتی حد بندیوں سے آزادی کی ہڑک اور اس کے ممکنہ حصول کی خاطر کی جانے والی فکری اور عملی جدوجہد کو پوری طرح ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے؟(۱)
(ضمناً) جلال کا لفظ ہیبت، رعب اور غصے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مگر یہ ان معنوں میں جمال سے الگ نہیں بلکہ اسی کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے اور یہ اس تباہی، بے امانی اور قہرسامانی کو بیان کرتا نظر نہیں آتا جو فطرت کا ہمیشہ سے غالب پہلو رہی ہے اور خیر کے مقابلے میں شر کی کثرت کا روایتی رونا بھی جس کی تباہ کن، ہر دو مادی اور غیر مرئی جہات کا اظہا رکرنے سے قاصر ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ روایت میں رمز و ایما اور اشارہ کنایہ اور ان کے ساتھ ساتھ اہل بلاغت کے نزدیک جائز قرار دی جانے والی صراحت بیانی، مذکورہ صدر تثلیث کے ذریعے، ہر کیفیت اور جہت کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ واقعتاً بڑی حد تک ایسا ہی رہا ہے، مگر کیا لفظ کے (کلیشے نہیں، بلکہ) ''بے معنی'' (ایک خود ساختہ اصطلاح کے طور پر سہی) ہو جانے کے بعد بھی کوئی ایسی نظر آنے والی معنوی قوت باقی بچی ہے جو کسی تخلیقی سوچ کا بھرپور اظہار اور اس اظہار کو قاری (''ریڈر رسپونس تھیوری'' والے قاری ہی) کے فہم و ادراک تک ٹھیک ٹھیک منتقل کر سکے؟ ایک طرف یہ اور دوسری طرف کیا جدید وضع کردہ لفظیات اپنے اندر وہ گہرائی اور قوت رکھتی ہے کہ (عوام تو یقیناً نہیں) خواص ہی میں مقبول ہو کر اپنی بیشتر معنوی اور فکری جہات کے ساتھ کوئی جمالیاتی اثر چھوڑ سکے؟ کم از کم میرا جیسا تیسا کتابی سروے اور اس پر مبنی ذاتی (مگر ایک طرح کا استقرائی) تأثر بڑی حد تک اس بات کی نفی کرتا ہے۔
یا پھر یوں ہو (جیسا کہ ''نیا منظر نامہ'' تشکیل دینے کی کوشش میں کیا گیا) کہ پچھلی تمام لفظیات اور اس سے متعلق مختلف تلازمہ جات بیک قلم موقوف کر دیے جائیں اور نئی تشبیہات ، استعارات ، تمثیلات وغیرہ کا، ان کی لفظیات سمیت، یوں ساتھ دیا جائے کہ پچھلی چیزیں ذہنوں سے گویا محو ہو کر رہ جائیں لیکن بعد ازاں، اس نئی ڈکشن کے آگے چلائے اور نبھائے جا سکنے والے مختصر سے حصے کو ساتھ لے کر پچھلی لفظیات کی باز خوانی کی جائے اور اسے از سر نوزندہ کر کے اس کی حقیقی معنویت کو اجاگر کیا جائے، تاکہ روایت کے ساتھ تہذیبی تعلق بھی معقول انداز میں بر قرار رکھنا ممکن ہو سکے۔
(ضمناً) کیا یہی بات ہمارے مذہبی متون پر منطبق آ سکتی ہے، کہ شاید اس طرح ان میں بھی کوئی زندہ حقیقت جھلکتی نظر آئے اور کوئی نئی اطلاقی تعبیر بھی ممکن ہو، کہ جس سے کچھ قابل عمل معاشرتی قواعد و ضوابط اور قوانین بھی اخذ ہو سکیں۔ کسی حد تک خالی ذہن ہو کر اور جیسی تیسی غیر جانبداری کے ساتھ ان متون کو پڑھنے اور ان سے معنویت کا حامل کوئی نظامِ فکر و عمل اخذ کرنے کی بعض کوششیں ضرور کی گئی، لیکن فی زمانہ، روایت کی معنویت سے عاری چھاپ اور اس کے ساتھ خواہ مخواہ کی ایک رومانوی وابستگی انھیں قبول کرنے اور ''تدبّر و تفکر'' سے کام لے کر مزید بہتر بنانے اور آگے بڑھانے میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ ''بیچ اس مسئلہ کے'' علم و فضل کے ٹھیکے دار ''علماء فضلا'' سے تو کیا عرض و استفسار کرنا، کہ ان کے ہاں اس طرح کی بات کرنے کا مطلب آج بھی وہی ''تکفیر و تفسیق'' اور پھر عملی غم و غصہ کا عوامی ہدف بننا ہے۔عدالت ایسی معتبر اتھارٹی کے سامنے بھی اس موضوع پر بات تقریباً ناممکن ہے۔ ہاں، ادب کے حوالے سے آپ جیسے مقتدر نقاد سے یہ بات ضرور کی جا سکتی ہے۔ امید ہے اپنی رائے سے نوازتے ہوئے راقم کی لا علمی یا کم فہمی دور کریں گے۔ والسلام
عمر فاروق، لیکچرر/ریسرچ ایسوسی ایٹ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔۲۶؍جولائی ۲۰۰۶ء
پسِ نوشت
الفاظ اور معانی کے حوالے سے جون ایلیا کی ایک نظم (سوفسطا) بھی ساتھ منسلک ہے، جس میں اگرچہ الفاظ کے بے معنی ہو جانے کی بات نہیں کی گئی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ جب تک الفاظ کو خلاقانہ انداز اور ''مبدعانہ روش'' سے برت کر جمود توڑتے اور ذہنوں کو جھنجھوڑتے ہوئے معنی کی ترسیل نہ کی جائے،ان کی ''حقیقت'' ''ریستورانوں کے نابہ ہنگام دانشوروں شاعروں'' کو ایک طرف کرتے ہوئے، کسی بھی تخلیقی ذہن کے حامل لکھاری اور تحرک پسندی قاری کے نزدیک ''خارش زدہ بھیڑ کی چھینک سے کچھ زیادہ'' نہیں۔
ایک تمثیلچہ جو مصری ڈرامہ نگار توفیق الحکیم کے ایک ڈرامے (یا طالع الشجرۃ) سے لیا گیا ہے، اس کا اردو ترجمہ '' اوراق'' میں چھپنے کے لیے ساتھ ملفوف ہے۔ (یہ ترجمہ کردہ تمثیلچہ اب ''نقاط'' کے آئندہ شمارے میں شائع ہو گا)
خط کا حاشیہ
(۱) مثال کے طور پر حقیقی شعری تجربے پر مبنی (اگرچہ حقیقت پر فی الحقیقت پر دہ ڈالنے والے) یہ دو شعر بڑے لطف کے حامل ہیں:
یہ بُخل کیا ہے خداوند ِ آسمان و زمیں
ہر ایک سمت ہے تُو، اور مَیں کہیں بھی نہیں (مشفق خواجہ)
یہ عالم نابود ہے یا بود ہے ، کیا ہے؟
مَیں کہتا ہوں: مَیں ہوں، کوئی کہتا ہے: نہیں !مَیں (اختر عثمان)
اسلوب کی وجہ سے اگر کوئی لطف اٹھا سکے تو اٹھا لے، ورنہ پہلے میں (خدا وند آسمان و زمین، تُو اور سمت) اور دوسرے میں (عالم بود و نابود اور میں)، کسی کی ذہنی طور پر خوب کلاسیکی مزاولت ہو تو ان کے پیچھے چھپے معنی سمجھ میں آتے ہیں۔ بصورت دیگر عام قاری ایک طرف ، ستر کی یا اس سے پچھلی دہائی میں پیدا ہونے والی پاکستان کی دوسری نسل کے شعرا، چند ایک کو چھوڑ کر، ان ترکیبوں اور ان میں استعمال کیے گئے یا دوسرے مجّرد لفظوں کی کلاسیکی دلالت سے یقیناً ناواقف ہوں گے۔ جب کہ ایسی لفظیات (ترکیبوں اور لفظوں) کا استعمال خود پچھلی نسل کے لفاظی کا شوق فرمانے والے بیشتر حضرات کے ہاں بھی بس معمول ہی کا ہے، جسے ''بے معنی'' تو کہہ سکتے ہیں، تخلیقی ہرگز نہیں۔ جبکہ نئے لوگ ، عام تعلیمی صورت حال سے قطع نظر، مطالعہ یا شخصی رابطے کے ذریعے تربیت ذوق کو ترک کر کے فقط طبعی شوخی اور اپج سے، یا شاید ایک طرف ''جدید حسیات'' اور دوسری جانب''سائیں /مولا'' کے سہارے کام چلا رہے ہیں۔ معاف کیجیے گا، میں اس بحث میں ذرا''مدرسانہ'' ذہن کا ثابت ہو رہا ہوں، شاید اس لیے کہ عربی زبان کا ٹیچر رہا ہوں۔
پس نوشت میں مذکور جون ایلیاکی نظم
سوفسطا
وہ جو ہے، وہ مجھے
میرے شائستہ افکار،
میرے ستودہ خیالات سے
باز رکھنے کی کوشش میں
ہر لمحہ سر گرم رہتا ہے
کل رات کی بات ہے،
وہ پروٹاگورس کا جنا،
نطفۂ نا بجاے سو فسطائیاں،
میرے بستر پہ کروٹ بدلتے ہوئے
آپ ہی آپ کہنے لگا
لفظ معنی سے برتر ہیں
میں قبلِ سقراط کے سب زباںور حکیموں
کے سر کی قسم کھا کے کہتا ہوں
یہ میری اُغلوطہ زائی نہیں،
ژاژخائی نہیں
لفظ بر تر ہیں، معنی سے، معناے ذی جاہ سے
اور وہ یوں کہ معنی تو پہلے سے موجود تھے
سن رہے ہو! میں واہی تباہی نہیں بک رہا
اپنی بستی کا سر شور، بیہودہ گفتار دیوانہ 'جودا گَرم'
اپنے ہیجانِ معنی کی حالت میں
علامہ ہائے زماں سے کسی طور بھی کم نہ تھا
یہ بھی سن لیجیے!
وائرس تک سروبرگ الہامِ معنی سے پُرمایہ ہے
اب رہے لفظ ]بیچارے! جن کی، جنھیں مُبد عانہ رَوِش سے
برتنے کے دشوار پر داز کی، رستورانوں کے
آساں طلب، نابہ ہنگام فقرہ طراز اور غوغائی
دانشوروں، شاعروں کے تئیں
ایک خارش زدہ بھیڑ کی چھینک سے
کچھ زیادہ حقیقت نہیں
کیا یہ بکواس ہے، صرف بکواس؟[
ہاں لفظ ایجاد ہیں
یہ ہزاروں ، ہزاروں برس کے
سراسیمہ گر اجتہادِ تکلم کا انعام ہیں
اِن کے اَنساب ہیں،
جن کی اسناد ہیں
اور پھر ان کی تاریخ ہے
اور معنی کی تاریخ کوئی نہیں
٭٭٭٭
دیارِ مغرب میں اپنی زبان اردو کی تدریس کے سلسلے میں طرح طرح کے حربے آزمانے پڑتے ہیں۔ انگریزوں کے دیس میں انگریزی کی گہما گہمی میں بچوں، نوجوانوں کے دل میں اردو سیکھنے کا شوق پیدا کرنا انھیں اس کی اہمیت و افادیت کا احساس دلانا، دنیا کی بڑی بڑی زبانوں کے درمیان اس کے حاصل کردہ مقام ومرتبے سے آگاہ کرنا کچھ آسان نہیں ہوتا۔ میں نے چند سکولوں، بعد ازاں مسلسل اٹھارہ برس تک کالج میں اردو پڑھانے کے دوران مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے طرح طرح کی ترکیبیں آزمائیں اور یہ کہتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بڑی حد تک اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوتے رہے۔
یہاں فرنچ، جرمن، سپینش سیکھنے والے طلباء فرانس جرمنی، سپین وغیرہ جا کر چند ہفتے بسر کرنے کے بعد اپنی قابلیت کو چار چاند لگا کر واپس آتے ہیں، بولنے کی خوب مشق کرتے ہیں وہاں۔ ہمارے طالب علم جب یہاں شوق سے اردو سیکھنے کے بعد وطن عزیز جاتے ہیں تو وہاں چھوٹے بڑے پیمانے پر ہر جگہ انگریزی کا عام استعمال دیکھ کر بہت مایوس ہوتے ہیں، انھیں بڑی محنت مشقت سے سیکھی ہوئی وہ زبان استعمال کرنے کا موقعہ نہیں ملتا۔ یہاں ہم انھیں بتاتے ہیں کہ وہاں آپ کو خریداری میں سہولت ملے گی۔ بزرگوں سے بات چیت کرنا، اپنے ہم عمر عزیزوں دوستوں سے گھلنا ملنا، ٹیلی ویژن کے پروگراموں سے لطف اندوز ہونا آپ کے لیے آسان ہو گا لیکن جب وہ مایوس انداز میں بتاتے ہیں کہ وہاں تو لوگ انگریزی کے دیوانے ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے اردو بولنا کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ ہمیں اردو بولنے کا خاص موقعہ ہی نہ ملا۔ بس گائوں میں مقیم بزرگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بڑا مزہ آیا وہ بھی ہمیں اردو بولنے، پڑھنے لکھنے کے قابل پا کر بہت خوش ہوئے۔ ٹی وی کے ٹاک شوز وغیرہ میں اردو بولتے بولتے خوامخواہ لوگ اور اینکرز بھی انگریزی شروع کر دیتے ہیں، پروگرام اردو میں شروع ہوتا ہے مہمان غلط سلط انگریزی بولنے لگتے ہیں۔ ہر پروگرام میں لوگ خوامخواہ انگریزی کے فقرے گفتگو میں کیوں شامل کرتے ہیں کیا رعب ڈالنا چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی انگریزی آتی ہے۔ اردو کے اچھے بھلے الفاظ کے ہوتے ہوئے بار بار انگریزی کے لفظ استعمال کرتے ہیں۔ کئی الفاظ کے مترادفات تو ہم بھی بتا سکتے ہیں۔
لڑکیاں کھانے پکانے کے پروگراموں میں انگریزی کے بے جا استعمال پر حیران ہوتی ہیں کہ ہم یہاں کاٹنا، ابالنا، پیسنا ،چھاننا، ملانا، تلنا سیکھتے رہے وہاں کوئی کہتا ہی نہیں۔ بھلا چھوٹے شہروں اور دیہاتوں کی عورتیں انگریزی الفاظ کے معنی سمجھتی ہیں؟
ان کے ان تابڑ توڑ سوالوں کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، سوائے شرمندگی کے۔ انھیں مسلسل پاکستان میں استعمال کا لالچ دے دے کر اردو سکھائی اور انھوں نے وہاں کیا دیکھا؟ آخر یہ مضحکہ خیز صورت حال بدلنے کے لیے ایک زور دار تحریک کیوں نہیں چلائی جاتی؟ سرکاری زبان قرار دیئے جانے والی زبان کی بے توقیری کیوں بڑھتی جا رہی ہے۔ اردو کوئی گری پڑی زبان نہیں دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے کروڑوں لوگ بولتے ہیں۔ جناب انعام الحق جاوید کی کتاب 'بیرونی ممالک میں اردو' بچوں کو دکھا کر اس کے اقتباسات سنا کر ہم بتاتے ہیں دیکھو اردو زبان نے کہاں کہاں دھوم مچا رکھی ہے۔ اب اپنے وطن عزیز میں احساس کمتری کے ہاتھوں ذلیل و خوار کیوں کیا جا رہاہے؟ انگریزی کی اہمیت سے کسے انکار ہے؟ سیکھیے ضرور سیکھیے مگر اپنی زبان کی اہمیت کم نہ کیجیے۔ اسے اس کا جائز مرتبہ دیجئے۔ اسے پیچھے دھکیل کر اس کا وقار گھٹا کر نہیں۔ یہاں اساتذہ، والدین اور کمیونٹی کی مسلسل اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں یہ ۸۰ کی دہائی میں اردو تعلیمی نصاب کا حصہ بنی تو بچوں کے دل میں اس کے لیے عزت محبت پیدا ہوئی۔ ورنہ وہ کھانے اور کھیل کے اوقات میں، سکول سے پہلے اور چھٹی کے بعد اردو پڑھنے پر خوش نہیں ہوتے تھے۔ دوسری یورپی زبانوں کو نصاب کے اندر پڑھتے ہوئے وہ اپنی زبان کو کم درجے کی زبان سمجھتے تھے۔ نصاب کا حصہ بننے پر ان کے شوق میں اضافہ ہوا اور یہ بات ہم اساتذہ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔ اردو اے لیول اے گریڈ میں کرنے پر یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کئی مضامین میں اضافی نمبر ملنے پر بچے اچھے خاصے معیار کا اردو لٹریچر پڑھنے میں دلچسپی لینے لگے۔ یہاں ہر سال تقریباً ۱۲۰۰ طلباء اے لیول اردو کرتے ہیں۔
پاکستان میں انگریزی کی بڑھتی ہوئی یلغار اس دلچسپی کم کر رہی ہے اور ہماری شبانہ روز محنت پر پانی پھیرنے کے برابر ہے۔ اسے روکنے کے لیے ایک مضبوط تحریک کا آغاز ازبس ضروری ہے۔ میری استدعا ہے کہ مقتدرہ قومی زبان اس سلسلے میں ضرور کچھ کرے۔ آخر کسی کو تو بارش کا پہلا قطرہ بننا چاہیے نا۔
٭٭٭٭