ڈاکٹر شائستہ حمید
اقبال کی اردو نثر
(مکاتیبِ اقبال کی روشنی میں)

اقبال کے عہد میں نثری اسالیب کے ارتقاء پر نظر ڈالی جائے تو اس زمانہ میں ایک طرف سر سید، حالی، شبلی، نذیر احمد اور آزاد کی قائم کردہ علمی و ادبی روایت ملتی ہے اور اس کے متصل رومانی نثر نگاروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو اقبال کے معاصر بھی ہیں۔ سر سید احمد خاں نے اردو نثر کو اجتماعی مقاصد زندگی کے اظہار کا وسیلہ بنا کر اس میں مدعا نگاری اور بیان کی بے ساختگی پر بڑا زور دیا۔ ان کے رفقاء نے اس امر میں ان کا ساتھ دیا اور اپنے اپنے انداز میں معاشرتی ، تہذیبی، مذہبی، اخلاقی اور تعلیمی مسائل کو عقلی انداز میں پیش کیا اور جذبے اور تخیل سے حتی الوسع گریز کیا۔ اس عقلی گرفت سے نثر میں افادیت تو خوب پیدا ہوئی لیکن اسلوب سے بے اعتنائی کی وجہ سے ان لوگوں کی نثر لطافت و دلکشی سے محروم ہو گئی۔ اس امر میں سر سید اور رفقاء سر سید کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ سر سید تو عبارت کے حسن کو بالکل ہی نظر انداز کر گئے (ما سوائے چند مضامین کے جو انھوں نے نسبتاً سکون و اطمینان کے ساتھ لکھے) حالی ، سر سید سے قدرے بہتر ہیں کہ عبارت کے حسن پر بھی ان کی نظر رہتی ہے اور شاعرانہ ابہام ان کی منطقی خشک بیانی پر سایہ فگن ہو کر فرحت افزا بن جاتا ہے۔ نذیر احمد محاورہ کے زور سے منطق کی سنگلاخ سر زمین میں بھی کچھ پھول کھلا لیتے ہیں، نیز ان کے ناولوں کا قصہ پن اور گھریلو زندگی کے نقشے دلچسپ ہوتے ہیں۔ شبلی علمی مطالب کے بیان میں جوش جذبات سے ، استعاروں اور مبالغوں کے بے محابا استعمال پر اتر آتے ہیں۔ ''سیرت النبیؐ'' میں جذبہ بھی موجود ہے اور ساتھ ہی احساسِ ذمہ داری بھی عناں گیر ہے اس لیے یہاں بھی متانت کا دامن ہاتھ سے نہیںچھوٹتا۔ غرض کہ موضوع بھی اسلوب کا رُخ متعین کرنے میں اہم حصہ لیتا ہے۔ موضوع کی مناسبت ہی سے بیانیہ، وصفیہ ، استدلالی ، تشریحی و توضیحی صورتین اسلوب میں پیدا ہوتی ہیں۔ چونکہ اقبال کی اردو نثر کے موضوعات مختلف ہیں اس لیے اسلوب کی بھی متنوع صورتیں ان کی تحریروں میں جلوہ گر نظر آتی ہیں، جن کے تنوع میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو ان کے مزاج کا حصہ تھے۔ اسلوب کی یہ نیرنگی مکاتیب میں تو اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے کیونکہ یہاں اسلوب کا لب و لہجہ مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت کے علاوہ ان مطالب و موضوعات سے بھی متعین ہو گا جو خط کی تحریر کا باعث ہوئے ۔ اقبال کے مکتوب الیہم کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان میں کئی طرح کے لوگ شامل ہیں۔ اس لیے اسلوب کا مسئلہ یہاں اور بھی نازک ہو جاتا ہے اور اگر یہ امر پیش نظر رکھا جائے کہ اقبال، خطوط اکثر قلم برداشتہ لکھتے تھے اور ان کی تحریر چونکہ مختلف تقاضوں سے (عملی سے لے کر معاملاتی اور کاروباری) ہوتی تھی، اس لیے ضروری نہیں کہ یہ تحریں کسی اطمینان و فراغت کے لمحہ میں ہی لکھی گئی ہوں اور پھر خطوط کی صورت میں یہ تحریریں زیادہ تر نجی ہوتی ہیں، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ نجی تحریریں بھی منظر عام پر آ کر رہتی ہیں۔ یہی وہ نازک مقام ہے جس سے غالب بھی اپنے زمانے میں خائف ہوتے تھے اور ہر وہ مکتوب نگار خائف ہوتا ہے جو طباعت و اشاعت کے خطرے سے بے نیاز ہو کر عام کاروبارزندگی کی سطح پر خط کتابت کرتارہتا ہے۔ اور جب یہ خطرہ امر واقع بننے لگتا ہے تو کاتبِ تحریر کا اضطراب قابل دید ہوتا ہے۔ یہ خطرہ اقبال کو بھی پیش آیا۔ اگرچہ ان کے خطوط کے مجموعے ان کی وفات کے بعد چھپنے شروع ہوئے اور اب تو ''تبرکاتِ اقبال'' کے طور ان کے قلم سے نکلا ہوا ہر ہر لفظ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اقبال نے اپنی زندگی میں اس خطرے کا احساس کرتے ہوئے اپنے ایک خط میں لکھا کہ:
''مجھے یہ سن کر تعجب ہوا کہ آپ میرے خطوط محفوظ رکھتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا جب انھوں نے میرے خطوط ایک کتاب میں شائع کر دیئے تو مجھے بہت پریشانی ہوئی کیونکہ خطوط ہمیشہ عجلت میں لکھے جاتے ہیں اور ان کی اشاعت مقصود نہیں ہوتی۔ عدیم الفرصتی تحریر میں ایک ایسا انداز پیدا کر دیتی ہے جس کو پرائیویٹ خطوط میں معاف کر سکتے ہیں مگر اشاعت ان کی نظرثانی کے بغیر نہ ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ میں پرائیویٹ خطوط کے طرز بیان میں خصوصیت کے ساتھ لا پروا ہوں۔ امید ہے آپ میرے خطوط کو اشاعت کے خیال سے محفوظ نہ رکھتے ہوں گے۔''
(بحوالہ ''مکاتیب اقبال، بنام نیازالدین خاں'' صفحہ۲۴)
اقبال نے اپنے خطوط میں یا تو اپنے افکار کی وضاحت کی ہے یا کسی نہ کسی علمی مسئلے پر استفسار کا جواب دیا ہے یا اظہار خیال کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اظہار ان خطوط کے مکتوب الیہم کی شخصیت، علمی مرتبہ اور تعلقات کی نوعیت کے مطابق ہوا ہے۔ عام قارئین یہاں مدنظر نہیں تھے ۔ (ان مکتوب الیہم میں سید سلیمان ندوی جیسی شخصیات شامل ہیں) اقبال کے اسلوب میں یہاں خاص ٹھہرائو ہے وہ بڑے ٹھوس انداز میں فلسفیانہ مسائل پر بے ساختہ طو رپر لکھتے چلے جاتے ہیں۔ خودی اور زمان و مکان کے تصورات پر علمی مصطلحات اور عربی و فارسی کے دقیق الفاظ بھی ان تحریروں میں آتے ہیں لیکن وضاحت ہر جگہ مدنظر ہے۔ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مطالب بیان کرنا اقبال کے اسلوب کا عام وصف ہے، لیکن خطوط میں تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں طول بیانی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی اور چونکہ کاتب کو مکتوب الیہ کی فضیلتِ علمی پر بھروسہ ہوتا ہے، اس لیے وہ ایجاز و بیاں کی روش اور بھی زیادہ بے تکلفی سے اختیار کرسکتا ہے۔ تاہم ان تحریروںمیں عام قاری بھی اقبال کے نقطۂ نظر کو بخوبی سمجھ سکتا ہے اور بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ شارحین اقبال کی فلسفیانہ موشگافیوں کی بہ نسبت یہ تحریریں افکارِ اقبال کی وضاحت کے سلسلہ میں زیادہ فہم ہیں اور ان کی روشنی میں فکر اقبال کی بعض باریکیوں کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ خطوط میں سے چند مقالات بطور مثال یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ ذیل کے دو اقتباس استفسار کی صورت ہیں جن کے مخاطب سید سلیمان ندوی ہیں:
''اگر دھرممتد اور مستمر ہے اور حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر مکان کیا چیز ہے؟ جس طرح زمان دھرکا ایک طرح سے عکس ہے، اسی طرح مکان بھی دھر ہی کا عکس ہونا چاہیے۔ گویا یوں کہیے کہ زمان و مکاں دونوں کی حقیقت اصلیہ دھرہی ہے، کیا یہ خیال محی الدین ابن عربی کے نقطۂ خیال سے صحیح ہے؟''(بحوالہ''اقبال نامہ'' حصہ اول، صفحہ ۱۸۰)
''دنیا اس وقت عجیب کشمکش میں ہے۔ جمہوریت فنا ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ڈکیٹیٹر شپ قائم ہو رہی ہے۔ جرمنی میں مادی قوت کی پرستش کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ سرمایہ داری کے خلاف پھر ایک جہاد عظیم ہو رہا ہے۔ تہذیب و تمدن بالخصوص یورپ میں بھی حالت نزع میں ہے۔ غرض کہ نظام عالم ایک نئی تشکیل کا محتاج ہے۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں اسلام جدید تشکیل کا کہاں تک ممد ہو سکتا ہے۔ اس مبحث پر اپنے خیالات سے مستفیض فرمائیے۔
(''اقبال نامہ'' صفحہ ۱۸۱)
اقبال اگر باضابطہ طور پر نثری ادب کی طرف توجہ کرتے تو یقینااس میدان میں بھی ان کے ادبی کارنامے ان مٹ نقوش چھوڑ جاتے لیکن ادبی تخلیق کے اس دائرے میں وہ ایک آدھ جھلک دے کر صاف نکل گئے ہیں۔ یہ ادبی جھلکیاں بھی زیادہ تر خطوط ہی کی شکل میں ہیں۔ خاص طو رپر وہ خطوط اس ضمن میں بہت اہم ہیں جن میں انھوں نے اپنے سفر انگلستان کے تاثرات بیان کیے ہیں یا پھر وہ خطوط قابل ذکر ہیں جو بعض بے تکلف احباب کو لکھے گئے ہیں اور جن میں مسائل و معاملات کی بجائے جذباتی کیفیات اور احساسات کی بے ساختہ تصویر کشی ہوئی ہے۔
اقبال کے کم از کم تین خطوط ایسے ہیں جن میں انھوں نے اپنے سفر انگلستان کے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ چونکہ یہ خطوط اشاعت کے لیے لکھے گئے تھے اس لحاظ سے انھیں مضامین یا انشائیے کہنا مناسب ہو گا۔ یہ مضامین ایک لحاظ سے سفر نامہ بھی ہیں اور رپورتاژ بھی۔ سفرنامہ میں نئے مقامات کی ذرا مفصل روداد ہوتی ہے مگر اقبال کے ان مضامین میں یہ تفصیل نہیں ہے۔ صرف اثنائے سفر کے کچھ مشاہدات ہیں، کچھ واقعات ہیں، جو جذبات و احساسات کے ساتھ مل کر ایک دلچسپ روداد بن گئے ہیں۔ اس لیے انھیں رپورتاژ کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ اقبال کے ان خطوط میں سطح بحر کے یہ مناظر قابل دید ہیں:
سمندر کا پانی بالکل سیاہ معلوم ہوتا ہے اور موجیں جو زورسے اٹھتی ہیں، ان کی سفید جھاگ چاندی کی ایک کلغی سی پہنا دیتی ہے کہ دور دور تک ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کسی نے سطح سمندر پر روئی کے گالے بکھیر ڈالے ہیں''۔
سمندر میں طلوع آفتاب کا یہ منظر بھی جاذب توجہ ہے:
''میں بہت سویرے اٹھا ہوں۔ جہاز کے جاروب کش ابھی تختے صاف کر رہے ہیں۔ چراغوں کی روشنی دھیمی پڑ گئی ہے۔ آفتاب چشمۂ آب میں سے اٹھتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور سمندر اس وقت ایسا ہی ہے جیسا ہمارا دریائے راوی۔ شاید صبح کے پرتاثیر نظارے نے اس کو سمجھا دیا ہے کہ سکون قلب بھی ایک نایاب شے ہے۔ ہر وقت کی الجھن اور بے تابی اچھی نہیں۔ طلوع آفتاب کا نظارہ ایک درد مند دل کے لیے تلاوت کا حکم رکھتا ہے''۔ (بحوالہ: ''مقالات اقبال'' صفحہ ۷۱، ۷۲)
مذکورہ بالا اقتباسات ۱۹۰۵ع کے سفر کے ہیں۔ ذیل کا اقتباس ۱۹۳۱ء کے سفری مکتوب کا ہے۔ اس میں تشبیہ اور تمثیل کی ندرت داد طلب ہے۔ تلمیحات نے اس مختصر بیان میں کتنی فکر انگیز وسعت پیدا کر دی ہے:
بمبئی سے لے کر اس وقت تک جہاز ملحوجابحر روم کی موجوں کو چیرتا ہوا چل رہاہے۔ سمندر بالکل خاموش ہے۔ طوفان کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ موسم بھی نہایت خوش گوار رہا۔ البتہ بحراحمر میں گرمی تھی۔ یہ سمندر عصائے کلیم کا ضرب خوردہ ہے، گرم مزاج کیوں نہ ہو۔ چاروں طرف جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے، سمندر ہی سمندر ہے۔ گویا قدرت الہٰی نے آسمان کے نیلگوں خیمے کو الٹ کر زمین پر بچھا دیا ہے''۔(بحوالہ: ''گفتار اقبال'' صفحہ ۱۴۱)
پہلے سفر میں عدن کے قریب پہنچ کر ساحل عرب کے تصور نے اقبال کے دل میں وفور شوق کی جو کیفیت پیدا کر دی اس کا اظہارانھوں نے عجب والہانہ انداز میں کیا ہے۔ جذب و جنوں کا یہ وہ مقام ہے جہاں عقل کے پر جلتے ہیں۔ یہاں اقبال سراپا وادی عشق کے رہرو ہیں اور اسی کیف و مستی کے عالم میں دیارِ محبوبؐ پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ حقیقت اور تخیل کے ملاپ نے یہاں تمثیل کے پیرائے کا سہارا لیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال نثر نگار معلوم نہیں ہوتے بلکہ شاعر نظر آتے ہیں۔ اقبال کے ہاں رومانی نثر (یا ادب لطیف) کے نمونے مفقود ہیں لیکن یہ ٹکڑا اسی اسلوب نگارش کاحامل ہے:
''اے عرب کی مقدس سر زمین! تجھ کو مبارک ہو، تُو ایک پتھر تھی جس کو دنیا کے معماروں نے رد کر دیا تھا، مگر ایک یتیم بچے نے خدا جانے تجھ پر کیا فسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کی تہذیب و تمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی۔ باغ کے مالک نے اپنے ملازموں کو مالیوں کے پاس پھل کا حصہ لینے کو بھیجا لیکن مالیوں نے ہمیشہ ملازموں کو مارپیٹ کے باغ سے باہر نکال دیا اور مالک کے حقوق کی کچھ پرواہ نہ کی۔ مگر اے پاک سر زمین، تو وہ جگہ ہے جہاں سے باغ کے مالک نے خود ظہور کیا، تاکہ گستاخ مالیوں کو باغ سے نکال کر پھولوں کو ان کے نامسعود پنجوں سے آزاد کرے۔ تیرے ریگستانوں نے ہزاروں مقدس نقش قدم دیکھے ہیں اور تیری کھجوروں کے سائے نے ہزاروں ولیوں اور سلیمانوں کو تمازتِ آفتاب سے محفوظ رکھا ہے۔ کاش میرے بد کردار جسم کی خاک تیرے ریت کے ذروں میں مل کر تیرے بیابانوں میں اڑتی پھرے اور یہی آوارگی میری زندگی کے تاریک دنوں کا کفارہ ہو۔ کاش میں تیرے صحرائوں میں لٹ جائوں اور دنیا کے تمام سامانوں سے آزاد ہو کر تیری تیز دھوپ میں جلتا ہوا اور پائوں کے آبلوں کی پروانہ کرتا ہوا اس پاک سر زمین میں جا پہنچوں ، جہاں کی گلیوں میں بلالؓ کی عاشقانہ آواز گونجتی تھی''۔(بحوالہ ''مقالات اقبال'' صفحہ: ۷۵)
غزل کے عاشق مہجور کی ان والہانہ کیفیات پر نظر ڈالئے جو کوچۂ محبوب کے آس پاس پہنچ کر اس پر طاری ہوتی ہیں اور پھر اس منثور غزل پر دوبارہ ایک نگاہ ڈالیے۔ غزل کی پوری روایت کا رس نثر کے اس ٹکڑے میں سمٹ آیا ہے۔ جذبات سے معمور خیال افروز نثر کے اس قسم کے نمونے اقبال کے ہاں بہت کم ملیں گے لیکن ان سے یہ ضرور واضح ہو جاتاہے کہ اگر وہ اس قسم کی نثر لکھنے پر آتے تو رومانی نثر نگاروں میں اہم مقام حاصل کر لیتے۔
اقبال کی ادبی نثر کا ایک اور پہلو بھی قابل ذکر ہے۔ یہ شوخی، زندہ دلی اور بذلہ سنجی کا پہلو ہے۔ اقبال عام طورپر متانت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے لیکن بعض اشخاص کے ساتھ ان کے روابط اس قسم کے تھے کہ ان کا ذکر اگر آ جائے یا وہ انھیں خط لکھیں تو وہ اپنی طبیعت کے اس چھپے ہوئے جوہر کو چھپا نہیں سکتے تھے۔ مولانا گرامی کی شخصیت سے اقبال کو جو محبت تھی اور اس محبت میں بے تکلفی کا جو رنگ تھا، اس کا تقاضا تھا کہ ان کے بارے میں شوخی کا وہ انداز اختیار کیا جائے جو اقبال کی خاص نجی صحبتوں کی پُر بہار کیفیتوں کا حامل ہوتا تھا۔ یہی حال ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کا ہے جو اقبال کی بزمِ طرب کے ایک نمایاں کردار تھے اور اقبال انھیں ''ماسٹر صاحب'' کہہ کر بے تکلفی سے یاد کرتے تھے۔ شوخیٔ طبع کی یہ صورتیں ملاحظہ ہوں:
''گرامی صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ محرم میں تشریف لائیں گے مگر الکوفی لا یوفی، اب معلوم نہیں کہاں تشریف رکھتے ہیں۔ عرصہ سے ان کاخط بھی نہیں آیا۔'' (مکاتیب اقبال بنام نیاز الدین، صفحہ: ۲۰)
٭٭٭
''گرامی صاحب نے شاید ملک الموت کو کوئی رباعی کہہ کر ٹال دیا ہے اور کیا تعجب کہ ہجو کہنے کی دھمکی دے دی ہو۔''(بحوالۂ سابق ، صفحہ ۱۳۰)
٭٭٭
''گرامی صاحب بیماری کے خوف سے سنا ہے خانہ نشیں ہیں، ان کی جگہ ان کا خط آیا تھا۔ ان کے خود آنے کی یہاں کسی کو توقع نہیں۔'' (بحوالۂ سابق، صفحہ ۱۴)
٭٭٭
''گرامی صاحب کی تپ کوئی نئی بات نہیں، شاعروں کو قدرتی تپ ہوتی ہے''۔ (بحوالہ سابق، صفحہ ۹۷)
٭٭٭
''اس پیش گوئی کے لیے کہ گرامی لاہور کبھی نہ آئے گا ، کسی پیغمبر کی ضرورت نہیں، جالندھر اور ہوشیار پور کا ہر شیر خوار بچہ بلا تامل ایسی پیش گوئی کر سکتا ہے۔''
(مکاتیب اقبال بنام گرامی، صفحہ ۱۳۷)
٭٭٭
''گرامی سال خوردہ ہے، یعنی سالوں اور برسوں کو کھا جاتا ہے، پھر بوڑھا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ بوڑھا تو وہ ہے جس کو سال اور برس کھا جائیں۔'' (بحوالۂ سابق، صفحہ ۱۵۱)
٭٭٭
خطوط میں کہیں کہیں بے ساختہ طور پر رعایت لفظی کی صورت یا استعارہ ، تلمیح، تمثیل، تشبیہہ اور محاورہ کے استعمال کا کوئی موقع آ جاتا ہے تو اقبال اسے نظر اندازنہیں کر دیتے۔ اس سے ان کے خطوط میں ادبی چاشنی پیدا ہو جاتی ہے لیکن یہ ان کا خاص رنگ نہیں ہے۔ چند مثالیں دیکھیے:
''وسط ایشیا کی ہانڈی ابل رہی ہے ، خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے'' (مکاتیب بنام نیاز، صفحہ ۳۴)
٭٭٭
''آج کل گرمی سخت ہے، بارش مطلق نہیں ہوئی۔ فکر و سخن کے لیے یہ موسم نہایت خراب ہے ، تاہم کبھی کبھی شبنم کی کوئی نہ کوئی بوند برس جاتی ہے۔'' (بحوالۂ سابق، صفحہ: ۵۰)
٭٭٭
''بھائی شوکت ، اقبال عزلت نشیں ہے اور اس طوفان بے تمیزی کے زمانے میں گھر کی چار دیواری کو کشتیٔ نوح سمجھتا ہے۔'' (بحوالہ ''اقبال نامہ'' حصہ دوم، صفحہ ۱۶۶)
٭٭٭
''کسی روز ضرور ملیے۔ آپ کی ''فوقیت'' اب اس قدر بلند ہو رہی ہے کہ نظر ہی سے غائب ہو گئی۔'' (محمد الدین فوق کے نام خط، ''انوارِ اقبال'' صفحہ:۶۵)
المختصر اقبال ایک صاحب طرز نثر نگار ہیں ان کا اسلوب مکتوب اقبال میں واضح طو رپر دیکھا جا سکتا ہے۔ اقبال اگر باضابطہ طور پر نثری ادب کی طرف توجہ دیتے تو یقیناً اس میدان میں بھی انمٹ نقش چھوڑ جاتے مگر پھر ان کے مکتوبات اور جونثر انھوں نے لکھی بطور نثر نگار ان کا مقام و مرتبہ متعین کرنے کے لیے کافی ہے۔
(''اقبال شنائی'' از ڈاکٹر شائستہ حمید سے ایک مضمون، ناشر: نذیر سنز پبلشرز، اردو بازار، لاہور)
٭٭٭٭
علامہ اقبال بنام سید سلیمان ندوی
لاہور
۵؍جولائی ۱۹۲۲ء
مخدومی، السلام علیکم،
پیامِ مشرق پر جو نوٹ آپ نے معارف میں لکھا ہے، اُس کے لیے سراپا سپاس ہوں۔
پروفیسر نکلسن کا خط بھی آیا ہے انھوں نے اسے بہت پسند کیا ہے، اور غالباً اس کا ترجمہ بھی کریں گے، وہ لکھتے ہیں کہ یہ کتاب جدید اور یجنل خیالات سے مملو ہے اور گوئٹے کے دیوانِ مغربی کا قابلِ تحسین جواب ہے۔ مگر میرے لیے آپ کی رائے پروفیسر نکلسن کی رائے سے زیادہ قابلِ افتخار ہے۔
سید نجیب اشرف صاحب نے اپنے مضمون میں محمد دارال کے لطیفہ غیبیہ کا ذکر کیا ہے۔ یہ چھوٹی سی کتاب ہے اور میں نے ایران سے منگوائی ہے۔ اگر وہ یا آپ اُسے دیکھنا چاہیں تو بھیج دوں۔ ندوے والے اُسے دیکھیں گے تو کوئی نہ کوئی بات پیدا کریں گے۔
اب کے انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ پر آپ سے ملنے کی توقع تھی۔ میں اسی خیال سے جلسہ میں گیا کہ آپ کو اپنے ہاں مہمان کرنے کے لیے لیتا آئوں گا۔ مگر جلسہ میں جا کر مایوسی ہوئی، انشاء اللہ پھر کوئی موقع پیدا ہو گا۔ کیا تفہیماتِ الٰہیہ چھپ گئی ہے؟
امید کہ مزاج بخیر ہوگا۔ والسلام
مخلص محمد اقبال، لاہور
(کتاب: اقبال اور سید سلیمان ندوی، مرتبہ: طاہر تونسوی، مکتبہ عالیہ ، لاہور)

''اقبال صرف شاعر نہ تھا، وہ حکیم تھا، وہ حکیم نہیں جو ارسطو کی گاڑی کے قُلی ہوں یا یورپ کے نئے فلاسفروں کے خوشہ چیں۔ بلکہ وہ حکیم جو اسرارِ کلامِ الٰہی کے محرم اور رموزِ شریعت کے آشنا تھے۔ وہ نئے فلسفہ کے ہر راز سے آشنا ہو کر اسلام کے راز کو اپنے رنگ میں کھول کر دکھاتا تھا۔ یعنی بادۂ انگور نچوڑ کر کوثر و تسنیم کا پیالہ تیار کرتا تھا۔''
(سید سلیمان ندوی)
٭٭٭٭