ڈاکٹر راشد حمید

اقبال اور اسلامی عقائد و عبادات
''اقبال کے نزدیک انسان کے تجربہ ہی کی صحیح تشریح اور تعریف کا نام مذہب ہے''

 

اسلام ایک مکمل نظام حیات اور عملی تجربے کا نام ہے، یہ کسی فلسفے اور ذہنی کاوش کا نام نہیں۔ اسلام زندگی اور اس کے مختلف النوع رویوں کو دینی اور لا دینی، کیفیات میں تقسیم نہیں کرتا۔ اس سلسلے میں علامہ اقبال نے اپنے فارسی کلام میں یوں ارشاد فرمایا ہے:
''از کلیدِ دیں در دنیا کشاد
ہم چو او بطن اُمّ گیتی نژاد''(۱)
اقبال کے شعر میں متذکرہ کلیدِ دیں سے مراد قرآن کریم ہے۔ قرآن مجید محض عبادات و مناسک کی کتاب نہیں بلکہ انسانوں کے لیے زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں کتابِ ہدایت ہے۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے اور انسان کو ناقابل تبدیل اقدار عطا کرتی ہے۔ اگر ہم کلام ِ اقبال کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی اقدار، افکار اور تعلیمات کی صدائے بازگشت اقبال کے اردو اور فارسی کلام میں ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔ سید کرامت حسین جعفری کے بقول:
''اقبال کے نزدیک مذہبی زندگی کے تین دور ہیں :
۱۔اعتقادی
۲۔اجتہادی
۳۔ استشہادی'' (۲)
اقبال نے خطباتِ اقبال میں مذہبی زندگی کو ایمان، فکر اور معرفت کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ (۳)
اپنی ابتدائی صورت میں مذہب عقیدہ کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے جب کہ دوسرے دور میں مذہب کی تاسیس اور تشکیل، مابعد الطبیعیات کی بنیاد پر استوار ہوتی ہے۔ اس مقام پر صرف مذہبی عقیدے کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا بلکہ عقلی طور پر اس کی حقانیت کو بھی مانا جاتا ہے، اس کے بعد مذہب ذاتی استشہاد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ مذہبی زندگی کا تیسرا اور آخری درجہ ہے، انسان اس منزل پر اپنے تمام فکری ، جذباتی اور ارادی پہلوئوں کی ترتیب و تعدیل کے بعد اپنے اندر ایک خاص قسم کی زندگی اور قوت پاتا ہے۔ اسے آزاد شخصیت کا تجربہ حاصل ہوتا ہے، یہ آزادی کسی قسم کے قوانین سے ماورائیت کی غماز نہیں ہوتی، بلکہ یہاں آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی خودی کی وسعتوں اور گہرائیوں میں اصل اصول کا مشاہدہ کرتا ہے، یہ مشاہدہ ایک مکاشفائی رویے کو جنم دیتا ہے۔ اس منزل پر مذہب زندگی اور تجربہ کی نفی کا قائل نہیں بلکہ اثبات کا داعی ہے۔ بقول سید کرامت حسین جعفری:
''اقبال کے نزدیک انسان کے تجربہ ہی کی صحیح تشریح اور تعریف کا نام مذہب ہے۔''(۴)
یہ سوال سب سے پہلے کانٹ نے اٹھایا ہے کہ کیا مابعدالطبیعیات کا علم ممکن ہے ؟ کانٹ نے اپنے اٹھائے ہوئے سوال کا خود ہی جواب دیا ہے کہ اشیا کی ذوات کا علم تقریباً ناممکن ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ ہر شے کی اصلیت کا علم تجربے کی حدود سے باہر ہے اور اس لیے عقلی طور پر اس کے وجود کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ مگر بقول ڈاکٹر ابصار احمد:
''اقبال کے نزدیک کانٹ کا یہ عقیدہ ناقابل قبول ہے''۔(۵)
علامہ اقبال نے نہ صرف مذہب کے امکان پر شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے بلکہ انھوں نے اسلام کے اساسی اور بنیادی عقائد اور عبادات پر نظری حوالے سے بحث بھی کی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان کے عملی پہلوئوں کی بڑی مؤثر تعبیر پیش کی ہے۔ انھوں نے رموز بے خودی میں توحید اور رسالت کے ضمن میں ایسی تفسیر بیان کی ہے کہ چند اشعار میں موضوع کا حق ادا کر دیا ہے، اسی طرح انھوں نے دیگر عقائد اسلامیہ کے بارے میں نظم و نثر میں عمدہ اسلوبِ بیان اختیار کیا ہے، مثلاً اردو کلام میں وہ یوں رطب اللسان ہوتے ہیں:
''زندہ قوت جہاں میں تھی یہی توحید کبھی
آج کیا ہے فقط مسئلہ علم کلام''(۶)
''زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری قصّۂ قدیم و جدید'' (۷)
اقبال کے نزدیک قرآن کریم کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ان گونا گوں روابط کا ایک اعلیٰ اور برتر شعور پیدا کرے، جو اس کے اور کائنات کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔ (۸)
علامہ اقبال نے اپنے کلام اور افکار میں اسلام کے بنیادی عقائد کی نہایت ہی خوبصورت اور عالمانہ تعبیر پیش کی ہے۔ توحید اور رسالت کی اہمیت اور افادیت کا جیسا عالمانہ اظہار علامہ کے ہاں ملتا ہے اس سے قبل شاید ہی ایسا تعبیراتی اور تفسیراتی اظہار کسی شاعر کے کلام کاحصہ بن سکا ہو۔ علامہ نے فکر و فلسفہ کی بوقلمونی میں الجھنے اور کش مکش سے دو چار ہونے کے بجائے سیدھے سادے انداز میں اسلامی تصورات اور عقائد کی جامعیت کو بیان کیا ہے۔ توحید اور رسالت کی فکری تعبیر میں ذرا علامہ کے یہ شعر ملاحظہ ہوں:
''درجہانِ کیف و کم کردید عقل
پی بہ منزل برد از توحید عقل
ورنہ ایں بیچارہ را منزل کجاست
کشتیٔ ادراک را ساحل کجاست
اہل حق را رمز توحید از بر است
دراٰتی الرحمن عبداً مضمر است'' (۹)
دراصل یہ تین شعر ''ارکان اساسی ملیہ اسلامیہ'' کے ہیں جس کا پہلا حصہ توحید کے بار ے میں بڑے عالمانہ، فکر انگیز اور حکیمانہ نکات کا حامل اور یہ پوری نظم ہی اس مسئلے پر اقبا ل کی فکر کی عکاس ہے۔
علامہ کے ہاں مسئلہ توحید اس قدر واضح اور اہم تھا کہ انھوں نے صرف اس نظریے کی الہامی کیفیت کو منزہ اور صاف رکھنے کے لیے وحدت الوجود کی مخالفت کی۔ انھوں نے وحدت الوجود اور تصور توحید کے درمیان خط تنسیخ کھینچتے ہوئے مختلف مقامات (۱۰) پر ارشاد فرمایا کہ توحید کی ضد شرک ہے اور وحدت الوجود یا وحدت کی ضد کثرت ہے، فکر و فلسفہ میں شرک اور کثرت کا معنوی منظر نامہ اپنے مجموعی فکری پس منظر میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس لیے ان اصطلاحات کو گڈمڈ کر کے غلط سلط، ایک دوسرے کے ترادف میں استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ انھیں مترادف جان لینا، بہت سارے فکری مغالطوں کو جنم دیتا ہے اورایسے ہی مغالطوں سے تصوف کی علمی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ علامہ توحید میں اس نوعیت کی فکری تاویلات کو عجمی تصورات یا عجمی تصوف سے منسوب کرتے تھے۔ تصوف کے باب میں علامہ حقیقی تصوف اور صوفیا کے مخالف نہ تھے لیکن انھیں وحدت الوجود، قدم ارواح، حلول و اتحاد جیسے مسائل سے اختلاف تھا، وہ عجمی تفکر کے بجائے عرب کے سوز و ساز کو بے پناہ اہمیت دیتے تھے، انھوں نے ایک مقام پر مذکورہ بالا حوالے سے یوں ارشاد فرمایا ہے:
''ذرا سی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسے
بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے'' (۱۱)
تصور توحید کے ساتھ ساتھ عقیدۂ رسالت میں بھی افراط و تفریط پائی جاتی تھی، علامہ نے قرآن و حدیث کے فکری اور معنوی پس منظر میں اس عقیدے کی جلوہ نمائی کی، انھوں نے تصور رسالت کی وضاحت کے ساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوتؐ پر بھی اظہار خیال کیا۔ وہ اس عقیدہ رسالتؐ کے باب میں بھی بے جا تاویلات کو شرک سے تعبیر کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے ایک خطبے ''اسلامی ثقافت کی روح'' میں عقیدہ ختم نبوت کی بڑی شرح و بسط کے ساتھ وضاحت فرمائی ہے اور اس عقیدے کی فکری، سماجی اور معاشرتی حوالوں سے اہمیت اور افادیت کا اظہار کیا ہے:
''اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یوں نظر آئے گا جیسے پیغمبر اسلامؐ کی ذاتِ گرامی کی حیثیت دنیائے قدیم اور جدید کے درمیان ایک واسطہ کی ہے۔ بہ اعتبار اپنے سر چشمۂ وحی کے آپ کا تعلق دنیائے قدیم سے ہے لیکن بہ اعتبار اس کی روح کے دنیائے جدید سے۔ یہ آپ ہی کا وجود ہے کہ زندگی پر علم و حکمت کے وہ تازہ سر چشمے منکشف ہوئے جو اس کے آئندہ رُخ کے عین مطابق تھے۔ لہٰذا اسلام کا ظہور جیسا کہ آگے چل کر خاطر حواہ طریق پر ثابت کر دیا جائے گا، استقرائی عمل کا ظہور ہے۔ اسلام میں نبوت چونکہ اپنے معراج کمال کو پہنچ گئی لہٰذا اس کا خاتمہ ضروری ہو گیا۔ اسلام نے خوب سمجھ لیا تھا کہ انسان ہمیشہ سہاروں پر زندگی بسر نہیں کر سکتا، اس کے شعور ذات کی تکمیل ہوگی، تو یوں ہی کہ وہ خوداپنے وسائل سے کام لینا سیکھے۔'' (۱۲)
مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے وقوع پذیر ہونے کے بعد علامہ اقبال نے مختلف اوقات میں اور مختلف مقامات پر عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت فرمائی، ان کا عقیدہ تھا کہ ختم نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اگرچہ یار لوگوں نے ان پر بہتان باندھے اور ان کے آدھے گھرانے کو قادیانی بنا دیا۔ اس سلسلے میں علامہ اقبال کے وہ بیانات اور مضامین دیکھے جا سکتے ہیںجو نہرو کے جواب میں مختلف اخبارات میں شائع ہوئے یا مابعد ''حرف اقبال'' (۱۳) کی صورت میں محفوظ کیے گئے۔ جاوید اقبال نے بھی اپنی کتاب ''زندہ رود'' کی تیسری جلد (صفحات ۵۵۰ تا ۵۹۹) میں اس حوالے سے تفصیلی اظہار خیال کیا ہے۔
علامہ اقبال نے دراصل اپنے افکار و نظریات قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے اخذ کیے ہیں۔ انھیں قرآن سے بے پناہ شغف تھا۔ انھوں نے اسلامی عقائد کی تعبیر قرآن و حدیث کے پس منظر میں سر انجام دی ہے۔ وہ بے جا تاویلات میں الجھنے کو اچھا خیال نہ کر سکتے تھے۔ لہٰذا ان کے نثری اور شعری افکار میں عقائد اسلامیہ کے ضمن میں واضح نقطۂ نظر ملتا ہے۔
عقائد کی علمی اور فکری تعبیر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ارکان اسلام کی عملی تفسیر بھی بیان کی ہے۔ علامہ کے ہاں عبادات کا عملی پہلو خاص انداز سے زیر بحث رہا ہے، خودی جو ان کے فکر و فلسفہ کا مرکزی نقطہ ہے اس کی تکمیل عبادات کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ ضبط نفس اور اطاعت الہٰی کی منازل ارکان اسلام پر عمل پیرا ہوئے بغیر ہاتھ نہیں آتیں۔ نماز ہو کہ روزہ، حج ہو کہ جہاد، علامہ نے ان عبادات کے عملی پہلوئوں پر بہت زور دیا ہے۔ انھوں نے ان عبادات کو فرض سمجھ کر ادا کرنے پر زور نہیں دیا بلکہ ان کی حکمت کو بھی نہایت ہی واضح صورت میں بیان کیا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان ارکان پر عمل پیرا ہوئے بغیر نیابت الٰہی کی منزل پر پہنچنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔
بہر کیف ، علامہ اقبال نے اپنے افکار و نظریات کی ترتیب و تہذیب فکر اسلامی کے مجموعی پس منظر میں انجام دی ہے؛ انھوں نے عقائد اور عبادات کے عملی پہلوئوں کو نہایت شرح اور بسط کے ساتھ واضح کیا ہے، ان کے نزدیک معراج انسانیت اس نکتے میں پوشیدہ ہے کہ مسلمان تعلیمات محمد یہ سے فیض یاب ہو کر نیابتِ الٰہیہ کے مقام تک رسائی پالے ، کیونکہ!
''یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی'' (۱۴)
حواشی
۱۔ کلیاتِ اقبال (فارسی)؛ اقبال: لاہور : اقبال اکادمی بہ اشتراک نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد: ۱۹۹۰ئ؛ ص:۲۳
۲۔ راوی (اقبال نمبر) مجلہ گورنمنٹ کالج، لاہور: جون ۷۸ئ؛ ص:۱۸
۳۔ دیکھیے''کیا مذہب کا امکان ہے؟'' تشکیلِ جدید: مترجم سید نذیر نیازی: لاہور؛ بزم اقبال:۱۹۸۶ء
۴۔ راوی (اقبال نمبر)؛ ص:۱۹
۵۔ تسہیل خطبات اقبال: اسلام آباد؛ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ۱۹۹۷ء ؛ ص:۱۸۹
۶۔ کلیات اقبال مصور (اردو): اقبال؛ لاہور؛ مقبول اکیڈمی؛ ۱۹۹۵ئ؛ ص: ۴۸۹
۷۔ کلیاتِ اقبال مصور (اردو) : اقبال ؛ص:۴۹۵
۸۔ تشکیلِ جدید؛ ص:۱۳
۹۔ کلیاتِ اقبال (فارسی)؛ ص:۱۵۴
۱۰۔ خطوط، دیباچہ اسرار خودی وغیرہ، مزید وضاحت کے لیے لذتِ بیکار: مرتبہ حق نواز؛ اقبال اکادمی پاکستان: لاہور، ۱۹۸۴ء
۱۱۔ کلیاتِ اقبال مصور (اردو)؛ ص: ۳۴۵
۱۲۔ تشکیل جدید؛ ص:۱۹۴/۱۹۳
۱۳۔ ملاحظہ کریں ص ۱۲۱ تا ۱۳۸(بہ عنوان اسلام اور قادیانیت) حرفِ اقبال! مرتبہ لطیف احمد شروانی: لاہور؛ المنار اکادمی: ۱۹۴۷ء
۱۴۔ کلیات ِ اقبال مصور (اردو) ؛ ص: ۲۶۶
٭٭٭٭