اِک ذرا فیض تک(اشاریہ کلام فیض و متعلقات)
از: ڈاکٹر محمد آصف اعوان

مبصر: شازیہ مجید ملک
اس کتاب کی تخلیق میں مصنف کی محنت شاقہ اور عرق ریزی اپنے کمال کو چھو رہی ہے۔ مؤقر مصنف نے اس عظیم تخلیق سے مستقبل کے محققین و مبصرین فیض کے لیے جہاں فکر و خیال کے نئے دریچے وا کیے ہیں ، وہاں آنے والے وقت میں فیض سے محبت رکھنے والوں کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ ڈاکٹر محمد آصف اعوان، استاد شعبہ اردو، جی سی یونیورسٹی فیصل آباد جن کا نام اقبال شناسی میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ نامور ماہراقبالیات ہیں۔
پیش نظر کتاب فیض شناسی میں بنیادی کردار ادا کرے گی اور آنے والے وقت میں فیض پر کام کرنے والوں کے لیے ایک سرمایہ بن کر سامنے آئے گی۔ مصنف کی یہ تصنیف کلام فیض کا مکمل اشاریہ ہے اور کلام فیض کے بارے میں ایک جامع آگہی بھی۔ اس جامع اشاریے کے ذریعے فکر فیض کے متنوع گوشوں کی نشاندہی اور سمت نمائی کر کے فیض شناسوں کے لیے اور عام قارئین کے لیے فیض کے فکر و فن کے تدریجی ارتقا کی زمانیت و مکانیت دونوں سے روشناس کرایا۔
''اک ذرا فیض تک'' کو مصنف نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جس میں سے پہلے حصے کو ''اشاریہ متعلقاتِ کلام فیض'' کا نام دیا ہے۔ دوسرے حصے کو ''اشاریہ کلامِ فیض'' کا نام دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے کتاب کے پہلے حصے کو جو کہ تقریباً سو صفحات پر مبنی ہے، بہت محبت ، محنت اور خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے اور سولہ عنوانات کے تحت متعلقات کو ترتیب دیا ہے۔ جس میں پہلے نمبر پر فیض کے تمام شعری مجموعوں کے نام اور اشاعت اول کے سن درج ہیں۔ دوسرے نمبر پر فیض کے شعری مجموعوں کے انتسابات شامل ہیں۔ فیض کے صرف پانچ مجموعوں کے انتساب درج کیے ہیں۔ تیسرے نمبر پر تمام شعری مجموعوں کی فہارس عنوانات درج ہے۔ جس کو پڑھ کر ہمیں فیض کے تمام شعری مجموعوں کے عنوانات ایک ہی جگہ میسر آ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جن شعری مجموعوں پر فیض نے دیباچے لکھے اس کی تفصیل ملتی ہے اور اگلے ہی صفحے پر فیض کے مجموعوں پر دیگر افراد کے دیباچے شامل ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے چھٹے نمبر پر حصہ اول میں کلام فیض کے تمام مجموعوں کی غزلوں، نظموں اور قطعات کا گوشوارہ دیا ہے اور حصہ ب دیگر اصناف سخن کا گوشوارہ شامل ہے، جن میں فیض کے ترانے، گیت، نغمے، قوالی ، شہرِآ شوب، مرثیہ، نوحہ، مدح اور نعت شامل ہیں اور ان تمام کے عنوان، مصرعہ اولیٰ، مجموعہ کلام کا نام اور صفحہ نمبر بھی شامل ہے۔ ساتویں نمبر پر فیض کی معنون کردہ منظومات بھی مصرعہ اولیٰ کے ساتھ اور عنوانات کے ساتھ درج ہیں۔ اس کے بعد فیض کی نا تمام منظومات کے عنوانات مصرعہ اولیٰ اور مجموعہ اولیٰ اور مجموعہ کلام اور صفحہ نمبر درج ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں فیض کی فردیات شامل ہیں۔ کلام فیض میں صرف دو اشعار ہیں جنھیں فردیات کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے جو درج ذیل ہیں:
ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے
گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے
(نقش فریادی ۱۷)
جواں مردی اُسی رفعت پہ پہنچی
جہاں سے بزدلی نے جست کی تھی
(سرِوادی سینا ۱۰۱)
فردیات کے بعد کلام فیض میں پنجابی منظومات کی تفصیل ہے اور ماخوذ منظومات اپنے عنوانات اور ماخذ کے ساتھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کلام فیض میں اساتذہ کے منقولہ اشعار کی تفصیل درج ہیں۔ جن میں عرفی، نظامی ، حافظ، سودا، میر، اقبال، حافظ اور بیدل کے اشعار شامل ہیں۔ پھر تمام تضمینات درج کی ہیں۔ مصرعوں کے ساتھ درج ہیں۔ فیض نے اپنی بہت سی غزلیات، نظموں اور قطعات کے آخر میں منظومات کی تخلیق کی تاریخ اور مقام کا ذکر کیاہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان تمام کا تفصیلی گوشوارہ دیا ہے۔ فیض نے اپنے کلام میں بارہا تراکیب سازی کا استعمال کیا ہے۔ اس اشاریے میں فیض کے تمام مجموعہ کلام میں حروف تہجی کے اعتبار سے تراکیب کی تفصیل دی گئی ہے۔ جس سے مصنف کی محنت کو داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ اس کے بعد کلام فیض میں موجود تلمیحات کا ذکر ہے۔ جس کو ڈاکٹر صاحب نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ یعنی قرآنی، شخصی اور تاریخی تلمیحات۔ ان کو بھی بڑی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے جو کہ مصنف کی عرق ریزی اور محنت شاقہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس تمام ترتیب کے ساتھ کلام فیض کے متعلقات کو ڈاکٹر صاحب نے اپنے خون جگر کو صرف کر کے مکمل کیا اور کتاب کے دوسرے حصے کو اشاریہ کلام فیض کے نام سے ترتیب دیا۔
دوسرے حصے میں مکمل کلام فیض کو ترتیب کے لحاظ سے ہر مصرعے کے بالمقابل چھے کالم بنائے گئے ہیں۔ ان کالموں میں مجموعہ کلام کا نام، نسخۂ ہائے وفا کا صفحہ نمبر، مجموعہ کلام کا صفحہ نمبر، نظم کانام، بند، شعر نمبر اور مصرعہ کا نمبر تک درج ہے۔ فیض کے کلام پر کام کرنے والوں کے لیے اتنی بڑی آسانی ہے کہ بغیر وقت ضائع کیے ''نسخۂ ہائے وفا'' میں موجود اس غزل یا نظم تک رسائی پانے کے بعد کسی بھی مصرعہ کے مقام کا بآسانی تعین کر سکتے ہیں۔ پھر مصنف نے فیض کے کلام میں غزلیات اور نظموں کی الگ الگ ترتیب اور تقسیم کر کے قارئین و ناقدین کے لیے بہت آسانی فراہم کر دی۔ اس قسم کی کتابیں تحقیق میں معاون و مدد گار بنتی ہیں کیونکہ اشاریہ ایسی منظم فہرست کو کہتے ہیں جس کی مدد سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہوں۔
ناشر: پورب اکادمی ۔ برقی رابطہ: www.poorab.com.pk
……o……