عظمیٰ طارق
اردو کے مقبول عام رسائل اور خواتین کی نفسیات پر

خواتین فطرتاً جذباتی ہوتی ہیں اسی لیے تفریح کے لیے ایسے ذرائع پسند کرتی ہیں جو انھیں تسکین دیں اور ان کے جذبات کی ترجمانی کریں، اسی لیے فلم، ڈرامے بالخصوص خواتین کے رسائل میں اس امر کا خیال رکھا جاتا ہے کہ جذبات نگاری کی جائے۔ خواتین کے رسائل میں ایسی کہانیاں شائع کی جاتی ہیں جن سے گھریلو خواتین کو تفریح بھی میسر آتی ہے اور ان کا کیتھارسس بھی ہو جاتا ہے۔یہ رسائل ہر مہینے شائع ہوتے ہیں۔ ان رسائل میں لکھنے والی خواتین رائٹرز کو خاصی مقبولیت حاصل ہے ان کی کہانیوں کو ڈرامائی تشکیل بھی دی جا رہی ہے اسی لیے ہم سفر، زندگی گلزار ہے، شہر ذات اور میری ذات ذرہ بے نشاں جیسے ڈراموں کو خواتین میں مقبولیت حاصل ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان رسائل میں ایسی کیا بات مضمر ہے کہ خواتین کی بڑی تعداد ان کو پسند کرتی ہے اس ضمن میںمختلف عمر کی گھریلو خواتین سے گفتگو کی گئی تاکہ گھریلو عورتوں کی نفسیات کا تجزیہ کیا جا سکے۔ خواتین کے مخصوص گروہ سے ترتیب وار کچھ سوال کیے گئے (یہ سوال نامہ ضمیمے میں ساتھ مہیا کر دیا گیا ہے) مخصوص سوالوں کے علاوہ کچھ ضمنی سوالات بھی کیے گئے تاکہ بہتر نتائج اخذ کیے جا سکیں۔ اس عملی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ خواتین ان رسائل پر تنقید کو ناپسند کرتی ہیں غالباً ایک خاص جذباتی وابستگی اس کا سبب ہو سکتا ہے۔
گھریلو خواتین سے جب پوچھا گیا کہ آپ کس قسم کے رسائل کا مطالعہ کرتی ہیں؟ ۱۰۰ فی صد عورتیں ''خواتین ڈائجسٹ'' کا مطالعہ کرتی ہیں انہی میں سے ۲۸ فی صد خواتین ''شعاع'' اور ۱۲ فی صد خواتین ''کرن'' کو بھی پسند کرتی ہیں۔ ۵۶ فی صد خواتین ''اخبار جہاں'' کا بھی شوق رکھتی تھیں اس میں تین عورتیں تین کہانیاں ان کی توجہ کا مرکز ہیں۔ وہ خواتین جن کی عمر ۵۰ سے زائد تھی انھوں نے بتایا کہ انھوں نے آغاز ''زیب النسا'' ''حور'' اور ''آداب عرض'' سے کیا۔ پہلے خواتین موجود نہیں تھا اسی لیے خواتین متذکرہ رسائل کا مطالعہ کرتی تھیں۔ بعض خواتین نے باقاعدہ جلدیں ترتیب دی ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خواتین ڈائجسٹ کو بھی پڑھا ہے لیکن اب وہ مذہبی رسائل میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان رسائل میں 'عبقری'، 'محاسن اسلام' اور حسن اخلاق' قابل ذکر ہیں۔ کچھ عورتوں نے بتایا کہ حج کے بعد انھوں نے ان رسائل کا مطالعہ شروع کیا۔ رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے یہ اردو رسائل مفید ہیں اسی لیے بعض کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو شادی سے پہلے مشورہ دیتی ہیں کہ ان رسائل کا مطالعہ کریں۔
ان رسائل کے مطالعے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور ہماری مشرقی خاتون خانہ گھر کو ترجیح دیتی ہے۔ ۱۰۰ فی صد رائے دہندہ خواتین کا کہنا تھا کہ انھیں جب بھی وقت ملتا ہے وہ رسالہ پڑھتی ہیں۔ ۱۴ فی صد خواتین نے کم زور نظر کی بھی شکایت کی جس سے انھیں مطالعے میں دشواری پیش آتی ہے۔ ۸۵ فی صد خواتین نے بتایا گو وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی مصروفیات زیادہ ہیں لیکن جب بھی وقت ملتا ہے ان رسائل کے مطالعے میں صرف کرتی ہیں۔ ان جوابات سے یہ بات سامنے آئی کہ عورتیں جسمانی آرام کے بجائے ذہنی آرام کی خواہاں ہیں۔ وہ ایسے کام کرنا زیادہ پسند کرتی ہیں جن سے انھیں جذباتی آسودگی حاصل ہو۔
جذباتیت کا دور ایک خاص عمر میں شروع ہوتا ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ خواتین فطرتاً جذباتی واقع ہوئی ہیں اور جذباتی عمر کا آغاز ۱۵ سے ۲۰ کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ عمر کا وہ حصہ ہے جب خواتین رومان پرور ہوتی ہیں خواب دیکھتی ہیں اور خیالی دنیا انھیں دل کش لگتی ہے۔ رسائل میں خواتین کی نفسیات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور انھیں وہ ماحول فراہم کیا جاتا ہے جس کی وہ خواہاں ہیں۔ اسی لیے خواتین کے اس مخصوص گروہ سے دریافت کیا گیا کس عمر میں ان رسائل کے مطالعے کا آغاز کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ۱۵ سے ۱۸ سال کی عمر میں خواتین نے آغاز کیا۔ ۷۱ فی صد خواتین کالج کے زمانے سے ان رسائل کو پڑھ رہی ہیں۔ ۲۸ فی صد نے سکول سے اور ۱۴ فی صد کو گھر سے ان رسائل کی عادت پیدا ہوئی۔ بیشتر خواتین نے بتایا کہ جب انھوں نے ان رسائل کے مطالعہ کرنے کا آغاز کیا تو ان پر والدین کی طرف سے سختی کی گئی ایسے میں انھوں نے چھپ کر اپنی شوق کی تشفی کی۔ حلقہ اناث کے ان جوابات کی روشنی میں ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ غالباً گھر کا ماحول سخت تھا اسی لیے انھوں نے پناہ ان رسائل میں ڈھونڈی جہاں وہ حسب منشا سانس لے سکیں۔ گھر کی چاردیواری نے جس دنیا سے انھیں محروم کر دیا گیا ہے خواتین نے رسائل سے اس دنیا سے رسائی حاصل کی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے انسانوں کی پرکھ بھی ان رسائل سے سیکھی اب یہ کہنا کہ عورتوں کو مثبت نتائج حاصل ہوئے درست نہ ہوگا۔ رومان پرور کہانیوں نے نو عمر جذبات کی آبیاری تو کی لیکن خواتین مثالیت پسندی کا بھی شکار ہوئیں۔ من پسند تخیلاتی کائنات میں گم ہو گئیں۔ جس نے خواتین میں مشاہدے کی صلاحیت کو دیمک کی طرح چاٹ لیا، وہ منطقی فکر سے بھی محروم ہو گئیں۔ اس کا سارا الزام رسالوں پر عائد نہیں کیا جاتا بلکہ گھر کا ماحول بھی خاصا اہم ہے۔
کہانیاں پڑھنا خواتین کی اولین دلچسپی ہے لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ تخلیق کار بھی ان کے لیے اہم ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک یہ سوال کیا گیا کہ انھیں کون سی خواتین رائٹرز پسند ہیں۔ ۵۰ سال سے زائد عمر کی خواتین نے فاطمہ ثریابجیا اور رضیہ بٹ کا نام لیا۔ جب کہ نو عمر لڑکیوں میں ۴۲ فی صد کو عمیرہ احمد پسند ہے۔ ان کے خیال میں ان کی کہانیوں میں حقیقی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ ان لڑکیوں کو ان کہانیوں کے نام ازبر تھے عمیرہ کی ان کہانیوں کو ڈرامے کی صورت بھی پیش کیا گیا ہے اس لیے خواتین نے بتایا کہ وہ ان ڈراموں کو بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔ اس وقت وہ اپنے سارے کام ترک کر دیتی ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواتین کی نفسیات کو میڈیا نے سامنے رکھا اور چینل کی Ratingمیں اضافہ کرنے کے لیے ، خواتین کی کہانیوں کو بطور حربہ استعمال کیا گیا۔۱۴ فی صد لڑکیاں نمرہ احمد کو پسند کرتی ہیں۔ ان کا ناول 'جنت کے پتے' ان دنوں خاصا مقبول ہے۔ مقبولیت کا یہ حال ہے کہ تحریک انصاف کی طرح فیس بک پر ان کا ایک بڑا حلقہ ہے۔ اس صفحہ کے ۶۰۳، ۴۳ ارکان ہیں۔ ان اراکین میں مرد حضرات بھی ہیں۔ اس صفحہ سے ناول کی خرید میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اکثر خواتین جو بیرون ملک مقیم ہیں بذریعہ ڈاک اس ناول کا آرڈر بک کرواتی ہیں۔
۲۸ فی صد خواتین کا کہنا تھا کہ وہ کہانیاں پڑھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں مگر انھیں رائٹرز کے نام یاد نہیں رہتے۔
ایک عام رائے ہے کہ خواتین رومانیت کو پسند کرتی ہیں۔ انھیں زندگی میں خوابوں کی کائنات پسند ہے لیکن یہ خیال اس وقت مسترد ہو گیا جب خواتین کی ۱۰۰ فی صد اکثریت نے کہا کہ انھیں خواتین کے رسائل میں حقیقی کہانیاں پسند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رومانوی کہانیاں بھی پڑھتی ہیں لیکن حقیقت پر مبنی کہانیاں ان کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ۴۲ فی صد خواتین کو ایسی کہانیاں پسند تھیں جن میں خواتین کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہو۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ خواتین کے ساتھ ہمیشہ جنسی تخصیص کی جاتی ہے اس کے سبب سے انھیں ہمہ وقت مشکلات کا سامنا رہتا ہے ۔ اسی لیے وہ محسوس کرتی ہیں کہ اس دنیا میں مظلوم مخلوق صرف وہی ہیں۔ اسی لیے رونا، شکایت کرنا اور بے اعتباری ان کے مزاج میں در آئی ہے۔
خواتین کے رسائل کے مقبول عام کا سبب یہ بھی ہے کہ ان میں خصوصاً عورت کے مسائل کو قلمبند کیا جاتا ہے۔ کرداروں میں مظلومیت کا عنصر پیدا کیا جاتا ہے تاکہ خواتین ان کرداروں میں اپنی محرومیوں کا عکس دیکھ سکیں اور کبھی ایسا ماحول تخلیق کی جاتا ہے جس میں سانس لینے والے کردار تنگ ماحول کے پروردہ ہیں۔ یہ بھی ہماری خواتین کا المیہ ہے ۔ اسی لیے مشرقی خواتین کو یہ نسوانی کردار اصل زندگی کے قریب تر محسوس ہوتے ہیں۔ چنانچہ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ۱۰۰ فی صد عورتوں کی رائے تھی کہ ان رسائل میں جو کردار پیش کیے جاتے ہیںوہ اصل زندگی سے مشابہہ کردار ہیں۔ خواتین کے خیال میں بہو، ساس ، بیوی، بیٹی اور ماں کے جو کردار تخلیق کیے جاتے ہیں۔ ان کا اصل ماخذ حقیقی زندگی ہے۔ کچھ عورتوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایسے مرد کردار جو ظالم ہیں ان کے خاندان میں نظرآتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں خواتین کا ایک اہم نفسیاتی مسئلہ سامنے آیا کہ خواتین کے نزدیک عورت مظلوم ہے جبکہ مرد ظالم ہے۔ شاید اسی لیے ان رسائل کو خواتین کی نفسیات کومد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا تاکہ قاری خواتین کی دلچسپی قائم رہے۔
اخلاقی کہانیاں انسان کو اچھائی کا سبق دیتی ہیں۔ ان رسائل میں بھی ایسی کہانیوں کی کثرت ملتی ہے جس میں اخلاقی پہلو موجود ہیں لہٰذا خواتین میں خیال پایا جاتا ہے کہ وہ ان کہانیوں سے اپنی زندگی کو سنوارتی ہیں اور انھیں زندگی میں رہنمائی ملتی ہے۔ ۵۶ فی صد عورتوں نے کچھ کہانیوں کا ذکر کیا جن سے انھیں رہنمائی حاصل ہوئی۔
۵۳ سالہ ایک شادی شدہ خاتون نے بتایا کہ شادی سے پہلے اس نے ایک کہانی پڑھی تھی کہ ماں کے مرنے کے بعد اس کی بیٹیوں نے مشکلات کا سامنا کیا بعد ازاں خاتون نے انکشاف کیا کہ اس کی والدہ بھی وفات پا چکی تھیں چنانچہ اس نے اس کہانی سے سیکھا کہ زندگی میں ہر شے نہیں ملتی، بلکہ کچھ چیزوں کے بغیر بھی جینا پڑتا ہے۔
۳۰ سالہ لڑکی سے یہی سوال پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ایک کہانی پڑھی تھی جس میں ایک قبول صورت لڑکی رشتے کے انتظار میں پریشان رہتی ہے لیکن جب قسمت کو منظور تھا اس وقت شادی ہو جاتی ہے اس لڑکی کو وہ سب مل جاتاہے جس کی وہ متمنی تھی۔ چنانچہ رائے دہندہ نے سیکھا کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔
۴۲ سالہ عورت نے حیرت میں ڈال دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے ایک کہانی پڑھی تھی کہ عورت کو جہیز کم لے جانے پر سسرال تنگ کرتا ہے۔ اسی لیے وہ خاتون اپنے والدین سے اصرار کر کے قیمتی جہیز لے کر سسرال گئی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس کے بعد سسرال والوں نے تنگ نہیں کیا تو اس کا کہنا تھا ''ساس کہاں جینے دیتی ہے لیکن میں نے اس کہانی سے صبر و تحمل ضرور سیکھ لیا تھا''۔
مندرجہ بالا آراء کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان رسائل کے خواتین کی نفسیات پر مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خواتین اپنے مسائل کا تدارک ان کہانیوں کی روشنی میں کرتی ہیں اور ان کہانیوں سے ان کو صابر و شاکر رہنے کی تلقین ملتی ہے۔
ہماری خواتین میں ناقدانہ صلاحیت خاصی کم ہے اس کا ادراک ایک سوال کے جواب پر ہوا ان سے پوچھا گیا کہ ان رسائل میں برتی جانے والی زبان کیسی ہے؟ تو ۱۰۰ فی صد کی رائے تھی ''زبان اچھی ہے'' اس کے متبادل کوئی جملہ ان کے پاس نہیں تھا۔ ایک خاتون نے رسائل کی زبان کو بارہ مصالحے کے چاٹ کہا جس سے خواتین کو لذت ملتی ہے تاہم عمومی رائے ایک ہی تھی۔ جس سے یہ حقیقت بے نقاب ہوئی کہ خواتین اپنے جذبات کی اساس پر چیزوں کو پرکھتی ہیں ان کے نزدیک کسی شے کی خوبی یا خامی ان کی پسند یا نا پسند پر منحصر ہے۔ اس بات کا اظہار وہ نادانستہ طور پر اپنے رویے سے کرتی ہیں۔ اسی لیے ان رسائل کے آخر میں جو خطوط شائع کیے جاتے ہیں۔ اس میں خواتین صرف تعریفی کلمات کہتی ہیں۔
مجموعی طور پر اس گفتگو سے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں جن سے رسائل کی اہمیت کا تعین کیا جا سکتا ہے اور ان اسباب کاتجزیہ کیا جا سکتا ہے جن کے باعث ان کو مقبولیت حاصل ہے۔ خواتین کے رسائل میں عام طو رپر ایسی کہانیاں لکھی جاتی ہیں جن کا تعلق معاشرے سے براہ راست نہیں بلکہ پہلے ایک خاندان سے ہے۔ خاندانی مسائل کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے اور خواتین کو جبری قناعت کا درس دیا جاتا ہے۔ خاندانی نظام سے جو خاتون باغیانہ روش اختیار کرتی ہے اس کا انجام بھیانک ہوتاہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے کا المیہ ہے کہ عورت سماج کے ساتھ منسلک نہیں بلکہ اسے محض خاندان کے ساتھ پیوست رکھا جاتا ہے۔ ان رسائل میں گھریلو زندگی کو پیش کیا جاتا ہے۔ گھریلو روز مرہ رنجشوں کے گرد کہانی کا تانا بانا بنا جاتاہے اسی لیے ہماری خواتین کو یہ رسائل ایک سہیلی کی طرح محسوس ہوتے ہیں جن سے وہ زندگی کے امور میں معاونت حاصل کرتی ہیں اور تزکیہ نفس کرتی ہیں۔
یہ حقیقت تلخ بھی ہے کہ گھریلو خواتین کی فکر محدود رہتی ہے چونکہ وہ فطری شعور کو بروئے کار نہیں لاتیں اس لیے زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ زندگی خاندانی مسائل اور روزمرہ ضروریات سے بہت آگے ہے۔ ان رسائل کے کلیے سے ہم زندگی کو نہیں سمجھ سکتے۔ خواتین کو وسعت نظر پیدا کرنی ہو گی تاکہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے جس میں خواتین رومان کے مرض میں مبتلا نہ ہوں اور ان میں زندگی کو پوری حقیقت سے دیکھنے کی صلاحیت ہو، یہ صلاحیت ان رسائل کی مرہون منت نہ ہو بلکہ شعوری کوشش سے بیدار ہو لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو آسیب زدہ خوابوں سے نکالا جائے؛ انھیں جنسی تفریق سے آزاد کیا جائے؛ رائے کی آزادی دی جائے۔ ان کو خاندان سے ضرور جوڑ کے رکھاجائے مگر انھیں معاشرے سے بھی دور نہیں کرنا چاہیے۔
اس سروے کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ ان رسائل کی مقبولیت گھٹتی جا رہی ہے اورخریداری میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ۔ ایک دکان دار کا کہنا تھا کہ اب مہینے میں ۸ سے ۱۰ رسائل بکتے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خواتین رسائل سے زیادہ ڈراموں کو ترجیح دیتی ہیں یا انٹرنیٹ نے ان رسائل کی مقبولیت میں کمی کی ہے۔ وقت کی قلت بھی اس کی اہم وجہ ہو سکتی ہے کیونکہ خواتین کی اکثریت گھریلو نہیں ہے، اب خواتین حصول معاش میں سر گرم عمل ہیں چنانچہ وہ فارغ وقت میں جسمانی آرام کی خواہش رکھتی ہیں۔ پہلے رسائل کو مقبول عام حاصل تھا تو اس کا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ عورت کو آزادی حاصل نہ تھی۔ وہ ان رسائل سے تفریح حاصل کرتی، اپنے مسائل کا تلاش کرتی اور دنیا کو رسائل کی آنکھ سے دیکھتی تھی۔ عورت جب سے روایتی ماحول سے آزاد ہوئی ہے اس کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ سامان تفریح کے لیے متعدد ذرائع اس کی نظر میں ہیں، اسی لیے خواتین رسائل سے دور ہو رہی ہیں۔ جب اس سروے کا آغاز کیا تو متعدد خواتین سے استفسار کیا گیا کہ کیا خواتین کے رسائل ان کے مطالعے سے گزرے ہیں؟ تو خواتین نے جواب دیا کہ روز گار اور گھریلو مصروفیات کے سبب وہ ان رسائل کو نہیں پڑھتیں لیکن کام کرنے والی خواتین میں اخبار بینی کی عادت موجود ہے چنانچہ ان خواتین کو اس سروے سے منہا کر دیا گیا۔
یہ امرخوش آئند ہے کہ کام کرنے والی خواتین میں اخبار بینی کی عادت ہے جس سے وہ عصری سماجی مسائل سے باخبر رہتی ہیں اور ایک پر اعتماد زندگی گزار رہی ہیں۔ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گھریلو خواتین کی نسبت مذکورہ خواتین کا طبقہ اپنی بات کہنے کا سلیقہ جانتا ہے۔ گھریلو خواتین میں اعتماد کی کمی ہے۔ گھریلو خواتین کے رسائل ان کی جائے پناہ ہیں کیونکہ ان میں ایسی دنیا ہے جو ان کی عینی اور آدرشی دنیا ہے۔ اسی لیے ان کی زندگی میں ان رسائل کی اہمیت زیادہ ہے۔
٭٭٭٭