پروفیسر فتح محمد ملک

اقبال کی حکمت اور حکمتِ عملی

اقبال ابدی صداقتوں کے پیامبر بھی ہیں اور بدلتی ہوئی حقیقتوں کے ترجمان بھی۔ اقبال کے نزدیک زندگی کا کارواں مسلسل آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ کائنات اور قافلۂ حیات کے مسلسل تغیر آشنا رہنے کا ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ انسان بھی مسلسل خوب سے خوب تر کی تلاش میں سر گرداں رہے۔ کسی مقام پر بھی تھم کر اور جم کر نہ رہ جائے۔ ''یہ کاروانِ ہستی ہے تیز گام ایسا /قومیں کچل گئی ہیں اس کی رواروی میں''۔ فرانسیسی مفکر برگساں زندگی کی اس حرکت پسندی کو تکرارِ مسلسل سے تعبیر کرتا ہے۔ اقبال اس نقطۂ نظر کو حرکت پسندی کی حد تک تو تسلیم کرتے ہیں مگر اسے تکرارِ مسلسل (Eternal Recurrence)کی بجائے تجدیدِ مسلسل(Perpetual Becoming)قرار دیتے ہیں:
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرۂ کائنات
ٹھہرتا نہیں کاروانِ وجود
کہ ہر لحظہ ہے تازہ شانِ وجود
اقبال کے نزدیک تجدید اور ترقی کا سفر ہر لحظہ جاری رہنا چاہیے جو فرد اور جو قوم تجدید و ترقی کا یہ سفر ختم کر دیتی ہے زندگی کا تیز گام کارواں اسے کچل کر رکھ دیتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ کائنات خالق اکبر کی تخلیق ہے۔ اس کائنات کا خالق سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ تخلیقِ مسلسل میں مصروف ہے۔ چنانچہ کائنات میں ہر نیا تخلیقی نقش پہلے سے زیادہ نکھرا اور سنورا ہوا ہوتا ہے۔ انسان کو بھی اپنے خالق اکبر کی پیروی میں خوب تر اور مکمل تر کی تلاش ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔
زندگی کے بارے میں اس ارتقائی نقطۂ نظر کو اقبال دوامی اور وقتی ہر دو زاویوں سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن حکیم کی ابدی تعلیمات تو اٹل ہیں۔ ان میں کبھی کوئی تبدیلی ممکن نہیں مگر ان بنیادی تعلیمات پر قائم رہتے ہوئے انھیں بدلتی ہوئی زندگی کے تقاضوں اور نئے علوم کی روشنی میں ہمیشہ از سر نو تفسیر کرنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ اپنے فلسفیانہ خطبات میں انھوں نے اس عمل کو بڑے بلیغ انداز میں (Perpetual change in permanance)سے تعبیر کیا ہے۔ اقبال کے خیال میں ہر نئی نسل کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے عہد کے علمی آفاق کی سیاحی اور اپنے زمانے کے مخصوص مطالبات کی روشنی میں ان ابدی تعلیمات پر از سر نو غور کرے۔ دائمی حکمت سے تو ضرور وابستہ رہے مگر عارضی حکمت عملی ہر آن بدلتی ہوئی زندگی کی ضروریات کے مطابق مسلسل بدلتی رہے۔
ہمارے ہاں تقلید کی روش عام ہے۔ اجتہاد بڑی حد تک شجر ممنوعہ بن کر رہ گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہم پاکستان کی نظریاتی اساس کے باب میں بھی بنیادی اور اٹل حکمت اور تغیر آشنا حکمت عملی میں فرق کرنابھول بیٹھے ہیں۔ حکمت دائمی ہے مگر حکمت عملی صورت حال کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ ابدی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے حکمت عملی صورت حال کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ ابدی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے حکمت عملی کو وقت کے تقاضوں کے مطابق بدلنا زندگی کا بنیادی تقاضا ہے۔ (۱)
۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے ، برٹش انڈیا میں اسلامیان ہند کی منزل قیام پاکستان تھی۔ اس منزل پر پہنچنے یعنی حصول پاکستان کی خاطر برطانوی ہند میں جو حکمت عملی وضع کی گئی تھی قیام پاکستان کے بعد وہ حکمت عملی کام نہیں دے سکتی۔ اس حکمت عملی کے بنیادی عناصر دو تھے جداگانہ انتخابات اور زیادہ سے زیادہ صوبائی خودمختاری۔ جداگانہ مسلمان قومیت کی تشکیل و تعمیر کے لیے جداگانہ انتخابات بھی ناگزیر تھے اور زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری کا مطالبہ بھی مرکزی حکومت کو ناکام بنا دینے کا ایک مؤثر حربہ تھا۔
بات یہ ہے کہ جب تک ہندوستان تقسیم نہ ہوتا اس وقت تک جداگانہ مسلمان مملکتیں وجود میں نہ آ سکتی تھیں۔ دوامی حقیقت قیام پاکستان تھا۔جداگانہ انتخابات ہندوستان کو تقسیم کرنے کی ایک وقتی اور عارضی حکمت عملی تھی۔ یہ عارضی حکمت عملی برٹش انڈیا کے لیے مخصوص تھی۔ اس حکمت عملی نے برٹش انڈیا کو عملاً مسلم انڈیا اور ہندو انڈیا میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔ ۱۹۴۶ء کے انتخابات کے نتائج نے اس تقسیم پر صداقت کی مہر ثبت کر دی۔ انتخابات کے بعد برطانوی حکومت اور انڈین نیشنل کانگریس اپنی متحدہ حکمت عملی سے بھی اس تقسیم کو منسوخ کرنے میں ناکام رہیں۔ یوں ایک عوامی جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان قائم ہو گیا۔ جداگانہ مسلمان قومیت کی حکمت اور جداگانہ انتخابات کی حکمت عملی قیام پاکستان تک لازم و ملزوم تھی۔ جب پاکستان قائم ہو گیا تو جداگانہ مسلمان قومیت کا تصور خود بخود متحدہ پاکستانی قومیت کی شکل اختیار کر گیا۔ حکمت وہی رہی جو کل فقط ایک تصور تھی اور آج پاکستان کے جغرافیائی وجود کی شکل میں تصور پاکستان کی تجسیم سے عبارت ہے۔ کل ہم قیام پاکستان کی جدوجہد میں مصروف تھے اور آج ہمیں استحکام پاکستان کا چیلنج درپیش ہے۔ آج دو قومی نظریے کی ابدی حکمت تو جوں کی توں ہے مگر جداگانہ طرز انتخاب کی حکمت عملی غیر ضروری ہو کر رہ گئی ہے۔ آج کی صورت حال میں وہ پرانی حکمت عملی نہ صرف غیر ضروری بلکہ نقصان دہ بن گئی ہے۔
تحریک پاکستان کے زمانے میں ہم برطانوی ہند کو توڑنا چاہتے تھے۔ جداگانہ طریق انتخاب توڑنے کی حکمت عملی تھی، جوڑنے کا ، استحکام بخشنے کا نسخۂ شفا ہرگز نہ تھا۔ آج اگر ہم برطانوی ہند میں اپنائی گئی حکمت عملی کو پاکستان کے اندر اپنائیں گے تو لا محالہ پاکستانی قوم تقسیم ہو گی، پاکستان ٹوٹے گا جبکہ یہ ہمارا مقصد ہر گز نہیں۔ ہم پاکستان کو متحد اور مستحکم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے آج ہمیں مخلوط طرز انتخاب کی حکمت عملی کو اپنانا ہوگا۔ اس لیے کہ مخلوط انتخابات متحدہ پاکستانی قوم کو اور زیادہ متحد اور مستحکم بنانے کی حکمت عملی ہے۔جو لوگ آزاد اور خود مختار پاکستان کے اندر غلام ہندوستان میں مسلمانوں کی آزادی اور خود مختاری کی خاطر اپنائی گئی اس حکمت عملی کو صرف اس وجہ سے اپنائے رہنا چاہتے ہیں کہ انھیں بانیانِ پاکستان کی کورانہ تقلید پر ناز ہے۔ انھیں یہ سوچنا چاہیے کہ قیام پاکستان کے بعد اگر خود اقبال زندہ ہوتے تو وہ حسبِ دستور اجتہاد کی راہ اپناتے ہوئے جداگانہ کی بجائے مخلوط انتخابات کی حکمت عملی اپنا لیتے۔
خطبۂ الہ آباد کے دوران اقبال نے یہ اشارہ دے رکھا ہے کہ جداگانہ انتخابات پر اصرار ایک عارضی حکمت عملی ہے جو برطانوی ہند میں مسلمانوں کے اقلیت میں ہونے کی مخصوص صورت حال میں وضع کی گئی ہے۔ اقبال جداگانہ انتخابات کے خلاف برطانوی وزیراعظم کے نقطۂ نظر کو رد کرتے وقت بتاتے ہیں کہ ایک ایسی سلطنت میں جہاں کئی قومیں آبادہوں وہاں ہر قوم کے لیے جداگانہ انتخابات کا انعقاد لازمی ہو کر رہ جاتا ہے۔ گویا برطانوی ہند میں مسلمان جداگانہ طرزِ انتخاب پر اس لیے اصرار کر رہے تھے کہ اپنے جداگانہ قومی دائرے میں وہ ایک جداگانہ جمہوری نظام کے قیام کاحق رکھتے تھے:
"The Prime Minister of England apparently refuses to see that the problem of India is international and not national. He is reported to have said that this Government would find it difficult to submit to Parliament proposals for the maintenance of separate electorates, since joint electorates were much more in accordance with British democratic sentiments. Obviously he does not see that the model of British democracy cannot be of any use in a land of many nations; and that a system of separate electorates is only a poor substitute for a territorial solution of the problems."(2)
اوپر دیے گئے اقتباس سے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آگئی ہے کہ برطانوی ہند میں چونکہ کئی قومیں آبا دتھیں اس لیے مسلمان قیادت نے مسلمان قوم کے لیے جداگانہ طرز انتخاب کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ اسی سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اب جبکہ مسلمان قوم نے اپنا ایک قومی وطن قائم کر لیا ہے تو اس وطن کے جمہوری نظام میں جداگانہ طرزِ انتخاب کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب اس وطن کے اتحاد کی خاطر مخلوط انتخابات کا طریق اپنانا ضروری ہو کر رہ گیا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی خطبۂ الہٰ آباد میں یہ حقیقت واضح کر دی تھی کہ اُن مسلمان ممالک میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں جداگانہ مسلمان قومیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جداگانہ مسلمان قومیت اور جداگانہ طرزِ انتخابات کا سوال صرف ان ممالک میں پیدا ہوتا ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں۔ اسی بات کو انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے مضامین (مطبوعہ ماڈرن ریویو، کلکتہ) میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں بھی بہ اندازِ دگر لکھ رکھا ہے:
"Nationalism in the sense of love of one's country and even readiness to die for its honour is a part of the Muslim's faith: it comes into conflict with Islam only when it begins to play the role of a political concept and claims to be a principle of human solidarity demanding that Islam should recede to the background of a mere private opinion and cease to be a living factor in the national life. In Turkey, Iran, Egypt and other Muslim countries it will never become a problem. In these countries Mulsims constitute an overwhelming majority and their minorities, i.e., Jews, Christians and Zoroastrians, according to the law of Islam, are either "People of the Book" or "like the People of the Book" with whom the law of Islam allows free social relations including matrimonial alliances. It becomes of problem for Muslims only in countries where they happen to be in a minority, and nationalism demands their complete self-effacement. In majority countries Islam accomodates nationalism; for there Islam and nationalism are practically identical; in minority countries it is justified in seeking self-determination as a cultural unit. In either case, it is thoroughly consistent with itself."(3)
آج، بحمدللہ، پاکستان میں ہم مسلمان بھاری اکثریت میں ہیں اور اس مملکت خدا داد میں ہمارے دین، ہماری تہذیب اور ہمارے تصور کائنات کو کسی دوسرے دینی یا تہذیبی گروہ سے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ پاکستان میں بڑی اقلیتوں کا تعلق بھی اہل کتاب سے ہے۔ نہ ہم پاکستانی قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیںاور نہ ہی پاکستان کو۔ ہم تو پاکستان کو متحد اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے آج آزاد پاکستان میں ہمیں دور غلامی کی حکمت عملی کو ترک کر دینا پڑے گا اور اس کی جگہ دور آزادی کی حکمت عملی اپنانا پڑے گی۔ آج ہماری زندگی دور غلامی کو بہت پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہماری سیاسی زندگی بالکل بدل کر رہ گئی ہے اس لیے ہمیں اپنی سیاسی حکمت عملی کو بھی دور آزادی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ طریق انتخاب کی حد تک اب ہمیں جداگانہ کی بجائے مخلوط طریق انتخاب کی حکمت عملی اپنانا پڑے گی۔
برطانوی ہند کے برعکس آج ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو کئی قوموں کا نہیں بلکہ فقط ایک پاکستانی قوم کا مسکن ہے۔ اس لیے اب ہمیں مسلمان اکثریت کے ممالک کی حکمت عملی اپنانا پڑے گی کیونکہ بقول اقبال ان ممالک میں اسلام اور نیشنلزم ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مخلوط طرزِ انتخاب کی یہی حکمت عملی آج ہمارے قومی اتحاد اور استحکام کی ضامن بن سکتی ہے۔ نئی حکمت عملی وضع کرتے وقت یہ بات ہر گز فراموش نہ ہو کہ ہم دو قومی نظریہ کی بنیادی اور ابدی حکمت پر قائم ہیں۔ کل اس حکمت نے ہمیں پاکستان دیا تھا۔ آج یہی بنیادی حکمت ہمارے پاکستان کی فکری بنیاد کے دوام کا سر چشمہ ہے۔ ابدی حقیقت پاکستان ہے۔ بدلتے ہوئے حقائق میں سے ایک حقیقت طریق انتخاب ہے۔ اسے پاکستان کی ابدی حقیقت کو سنوارنے ، نکھارنے اور سرسبز و شاداب رکھنے کی خاطر ہر نئے موسم میں بدلتے رہنا چاہیے۔ اجتہاد کی یہی وہ شاہراہ ہے جس پر ہمیں مفکر پاکستان علامہ اقبال نے چلنا سکھایا تھا۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ ہم اقبال کی اس وارننگ کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں:
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی!
حواشی
(۱) اسلام میں دینی تفکر کی نئی تشکیل کے موضوع پر اپنے مشہور خطبات "The Reconstruction of Religious Thought in Islam" میں اقبال مسلمان معاشروں میں اجتہاد کی مرکزی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
"The ultimate spiritual basis of all life, as conceived by Islam, is eternal and reveals itself in variety and change. A society based on such a conception of Reality must reconcile, in its life, the categories of permanence and change. It must possess eternal principles to regulate its collective life, for the eternal gives us a foothold in the world of perpetual change. But eternal principles when they are understood to exclude all possibilities of change which, according to the Qur'an, is one of the greatest 'signs' of God, tend to immobilize what is essentially mobile in its nature. The failure of the Europe in political and social sciences illustrates the former principles, the immobility of Islam during the last five hundred years illustrates the later. What then is the principle of movement in the structure of Islam? This is known as Ijtihad." (Edition: 1996, Lahore. P.117)
(۲) سید عبدالواحد، "Thoughts and Reflections of Iqbal"، ۱۹۶۴ء ص: ۱۸۸۔
(۳) ایضاً، ص: ۲۸۸۔۲۸۷۔
٭٭٭٭