فروغ اردو کے لیے تمام پاکستانی زبانوں کے لسانی و ادبی تاریخوں کے ترجمے شائع کیے جائیں

ڈاکٹر سجاد حیدر پرویز سے گفتگو
س : مقتدرہ قومی زبان میں کیے جانے والے کام کو مزید کیسے بہتر اور مؤثر بنایا جاسکتا ہے ؟
ج )الف) مقتدرہ نے جو کام اصطلاحات سازی کے حوالے سے کیا ہے معذرت کے ساتھ یہ اصطلاحات زیادہ تر مروج نہیں ہوپائیں۔ آج بھی ہر پاکستانی شہری ، مریض، ڈاکٹر، میڈیکل سٹور کا سیلز مین تھرمامیٹر ہی بولتا ، لکھتا اور پڑھتا ہے۔ ’’ قِصیاس الحرارت‘‘ کوئی بھی نہیں کہتا۔ ضرورت یا تو زور زبردستی سے رائج کرنے کی ہوگی یا اصطلاح ایسی وضع کی جائے کہ وہ سب کو قابل قبول ہو۔ تمام پاکستانی زبانوں کی لسانی اور ادبی تاریخوں کے ساتھ ساتھ ان زبانوں کے ’’ ابتدائی قاعدے ‘‘ اُردو ترجمے کے ساتھ بھی چھاپے جائیں تو فروغ اُردو کے ساتھ استحکام پاکستان کا تقاضا بھی پورا ہوگا۔ اگلہ مرحلہ اُردو ، علاقائی /قومی زبانوں یا قومی زبانوں /اُردو لغات سازی کی اشاعت ہے۔ جس کی اہم ضرورت ہے۔ ہر زبان کے ایسے لکھنے والے جو ذواللسان شمار ہوتے ہیں وہ یا تو مرحوم ہوچکے ہیں یا عمر رسیدہ ہیں۔ ان پر یونیورسٹیوں میں کرائے تحقیقی وتنقیدی کام یا نئی تحقیق کراکر شائع کیا جانا چاہیے۔
)
ب)مقتدرہ کودستورِ پاکستان ۱۹۷۲ء کی روشنی میں دفاتر کی سطح پر مراسلت ، مقابلے کے امتحانات میں امیدواروں کو قومی زبان میں بھی جوابات تحریر کرنے کی اجازت(خواہ ان لوگوں کو قومی ضرورت کے اداروں میں تعینات کیا جائے)دلوانے کی کوشش کرانی چاہیے۔ بلکہ صدرنشین وزیر اعظم کی وساطت سے باقاعدہ مہم سازی کے ذریعے اسے کامیاب کرائیں۔
س : اخبارِ اُردو مقتدرہ قومی زبان کے ترجمان کی حیثیت سے ملک کے گوشے گوشے میں مقتدرہ کے پیغام کو پھیلا رہا ہے۔ اس پیغام رسانی کے عمل کو ہم کیسے مؤثر بنا سکتے ہیں ؟ نیز اخبار اُردو کے سالانہ چندے کی مہم کے لیے مزید کیا اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں؟
ج : اخبارِ اُردو کے سالانہ چندہ مہم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ۔ اُردو کے اساتذہ اور اُردو میں پوسٹ گریجویٹ سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی دو خصوصی قسمیں مشتہر کی جائیں۔ یونیورسٹیوں اور پوسٹ گریجویٹ کالجوں کے صدر شعبہ اُردو کو مطلع کیا جائے اور مناسب تشہیر کی جائے۔
س : مستقبل میں جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبے کے قیام کے پس منظر میں آپ اُردو زبان کے مستقبل کے بارے میں کیا پیش بینی کرتے ہیں ؟ کیا سرائیکی صوبے میں اُردو زبان کوئی واضح مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی؟
ج : جس طرح موجودہ صوبوں میں اُردو زبان کو اپنایا گیا ہے۔ مستقبل کے سرائیکی صوبے کے قیام سے اس کو تو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا۔ ’الٹا حافظ محمود شیرانی کی ’’ پنجاب میں اُردو ‘‘ کے تناظر میں جو حوالہ جات دیے گئے وہ سرائیکی شعری ادب سے ہیں۔ تیسرے سرائیکی بولنے والوں کے علاقے میں نوے فی صد ادیب شاعر بیک وقت سرائیکی اور اُردو میں لکھ رہے ہیں۔ یہ ذواللسانیت کسی اور زبان اور صوبے میں اس تناسب میں نہیں ملے گی۔ یہ میرا دعویٰ ہے ۔ صاف ظاہر ہے ایسی صورت میں سرائیکی صوبہ میں ملک بھر کے دیگر صوبوں کے مقابل میں اُردو بہتر انداز میں فروغ پائے گی اور اپنائی جائے گی۔ اس کا ایک ثبوت سرائیکی زبان کے حروف ابجد کا ہے۔ جس میں ۴۲ میں ۳۷ حروف وہی ہیں جو اُردو زبان کے ہیں۔ جہاں تک رسم الخط ہے وہ بھی وہی ہے جو اُردو زبان کے لیے مروج ہے۔
***
زاہدہ حنا
گڈوانی سٹریٹ کے بچے
ہندوستان کی تقسیم نے زمین وآسمان منقلب کردیے۔ انقلاب زمانہ کی لہروں کے تھپیڑے کھاتے ہوئے اَن گنت خاندان کراچی پہنچے۔ اسی شہر کے ایک متوسط محلے میں جوبلی سینما اور رٹز تھیٹر کی ہمسائیگی میں خواب دیکھتی اور خواب دکھاتی ہوئی ’’گڈوانی سٹریٹ ‘‘ تھی۔ عامل سندھیوں کی آبادکی ہوئی۔ اسی کے برابر میں ’’ ایڈوانی سٹریٹ ‘‘ جسے شاید کراچی کے جدی پشتی باسی لال کرشن ایڈوانی کے کسی رشتے دار یا قرابت دار نے آباد کیاہوگا۔ گڈوانی سٹریٹ میں ایک چار منزلہ عمارت تھی ،تقسیم سے پہلے تعمیر ہونے والی اس عمارت میں کھوٹ اور کمیشن کا شائبہ نہ تھا۔ اگست۴۷ء کے بعد بھان متی نے کھنہ مینشن میں بھی کنبہ جوڑا۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، نہٹور ، بجوڑکے زیدی سادات جن کی سید سجاد حیدریلدرم اور قراۃ العین حیدر سے قرابت داری تھی ۔ میمنی ، ماڑ واڑی اور گجراتی ، کوکنی اور پنجابی ، اُردو اورسندھی بولنے والے سنی ، شیعہ اور عیسائی کھنہ مینشن میں رہتے تھے ، بعد میں افغانستان کے سابق وزیر تعلیم اور پشتو کے بے مثال شاعر اور مصنف عبدالحئی حبیبی اور ان کا خاندان جوشاہ افغانستان کے عتاب کا شکارتھا ،اسی کھنہ مینشن میں پناہ گزیں ہوا تھا اور اسی میں سیکرٹری تعلیمات ڈاکٹر عارف شاہ گیلانی رہتے تھے ۔ میری سوختہ دل ماں اور دن میں خواب دیکھنے والے باپ بھی اسی کھنہ مینشن کے باسی تھے ۔
آج گڈوانی سٹریٹ اور وہاں رہنے والوں کی یاد دل میں خنجر بن کر اتری۔ یہ گلی جو بعد میں مشرف بہ اسلام ہو کر شامی شہید سٹریٹ ہوئی اور کھنہ مینشن تو بار بار اسلام قبول کرتی رہی۔ یہ گلی، اس میں ہوش سنبھالنے والے اور اس میں کھیلنے والے بچے ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حوالے سے یاد آتے رہے ، گڈوانی سٹریٹ کے بچے کہاں کہاں پہنچے انھوں نے شہرت کمائی ، درد کا دوشالہ اوڑھا ۔ اس دو شالے پر نیو یارک کے جلتے ہوئے جڑواں مینارکڑھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح جیسے کا بل کے کوچہ مرغا میں ایک افغان قالین باف اپنا مخملیں قالین پھیلائے کھڑا ہے جس میں نیویارک کے ان دونوں گرتے ہوئے میناروں کو ، ان سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کو نازک انگلیوں نے اون کی لچھیوں میں گرہیں لگا کر نقش کیا ہے۔
بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس