عوام، حکمرانوں۔ عدلیہ سے سوال !
مقتدرہ قومی زبان کا ترجمان اخبار اردو ہر ماہ پڑھنے کو ملتا رہتا ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ ہم بحیثیت قوم اردو زبان کو وہ مقام اور حیثیت کیوں نہیں دے سکے۔ یادے رہے جو دوسری ترقی یافتہ قوموں نے اپنی زبانوں کو دی ہے؟ اگر قائداعظم کے حوالے سے ہم دیکھیں تو ہم سب اردو کے نفاذ کے حامی ہی نہیں ہیں۔ ہم قائد کی بات کو نہیں مانتے تو نہ سہی کم از کم آئین پاکستان کو تو تسلیم کریں کہ جس کی رو سے کئی سال پہلے ہی اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ ہو جانا چاہیے تھا؟ اس ملک کے اکثریتی عوام کی زبان کو نافذ کون کرے گا؟ سیاسی و سماجی تنظیمیں کوئی مشترکہ مہم کیوں نہیں برپا کر سکیں اور حکمران طبقے کیوں اس اعزازسے اب تک محروم ہیں؟ کیا عدلیہ از خود نوٹس کے ذریعے قائد کے فرمان اورآئین پاکستان کی رو سے پاکستان کی سرکاری زبان اردو قرار دے کر فوری طور پر نافذ نہیں کروا سکتی؟ کیونکہ :
ؐ۱۔ پاکستانی عوام کی اکثریت حکمرانوں کی تقریریں اردو میں سننا چاہتی ہے۔ قومی ، صوبائی اور سینٹ کی کارروائی اردو میں دیکھنا چاہتی ہے۔
۲۔ سرکاری اداروں کی خط کتابت اردو میں ملاحظہ کرنا چاہتی ہے، ذریعۂ تعلیم اور سائنسی علوم اردو میں منتقل ہونے چاہیئیں اور ہماری نسل کو اردو میں پڑھائے جائیں جس سے ہم دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
۳۔ ملکی قوانین کی تشریح اور اشاعت ، عدلیہ کے فیصلے اردو میں تحریر کیے جائیں۔ کیا ایک عام شہری، دیہاتی ، کسان، مزدور، دکاندار، عدالت، پولیس، محکموں کی انگریزی خط کتابت خود پڑھ سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ سب کس کے لیے لکھے جاتے ہیں؟
اس سلسلے میں جمیل الدین عالی کا ۲ ؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے کالم کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں :
’’
قومی زبان کا معاملہ اب بھی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سرکارِ دربارمیں بمشکل پڑھ تو لی جاتی ہے مگر لازمی زبان کے طور پر نافذ نہیں ہوئی۔ مجھے ساری دنیا کا اچھی طرح پتہ نہیں ہے، مگر میرا تاثر یہ ہے کہ اب پاکستان دنیا بھر، جی ہاں دنیا بھر کے ملکوں میں واحد ملک ہے جہاں قومی زبان سرکاری زبان نہیں بنائی گئی۔ اسے بعض تیز بیان لوگ قوم کی بدبختی اور بعض لوگ ایک مخصوص طبقہ افسران کی بدمعاشی اور وطن فروشی کہتے ہیں۔ میں بھی کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہوں، مگر ۔۔۔ فی الحال کچھ نہیں کہتا۔ میں کچھ اور انتظار کرنا چاہتا ہوں۔ ہماری بیورو کریسی ایک سیاسی جماعت نہ ہو کر بھی ایک بہت مضبوط اور بااثر سیاسی جماعت جیسی بن چکی ہے۔ انگریزی میں کام کیے جانا اس کی مفاد پیوستہ ضرور ہے لیکن بہرحال پاکستان کی سرکاری زبان وہی ہونی چاہیے جو پاکستان کی قومی زبان ہے‘‘۔
کرنٹ کارپس بیسڈ اردو۔ انگریزی لغت
اخبار اردو کے شمارے بابت اگست ۲۰۱۱ء میں جناب عزیز الرحمن عاصم نے ایک مختصر شذرے میں راقم اور بھائی ذوالکفل مرحوم کی مرتبہ کرنٹ کارپس بیسڈ اردو۔ انگریزی لغت کے ابتدائی صفحات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کی دقت نظری اور مشقت کھینچنے پر ان کا شکر گزار ہوں۔ اس ضمن میں دو تین باتیں عرض ہیں :
اول یہ کہ یہ لغت ہمارے حتمی پروف کی اغلاط کو لگائے بغیر شائع ہوا ہے۔ ثانیاً یہ کہ اس لغت کا اختصاص ماحول سے لیے ہوئے الفاظ کی سمائی تھا لیکن ہوا یہ کہ لغت کے صفحات کو قاری کی قوتِ خرید کے اندر رکھنے کے لیے کم کیا گیا اور یہ کم کیے گئے صفحات۱۰۰ سے زیادہ تھے (فی الوقت صحیح تعداد یاد نہیں) چنانچہ جہاں سے جی چاہا، الفاظ و اندراجات کم کر دیے گئے۔ ہم نے لغت جب چھپا ہوا دیکھا تو شدید افسوس ہوا ۔ تاہم ایک جلد پر غلطیاں لگا کر حوالۂ پبلشر کیں۔ اللہ کرے کہ آئندہ ایڈیشن میں یہ درستیاں لگ سکیں۔
مندرجہ دونوں باتوں کی تفصیل میں جناب شمس الرحمن فاروقی اور دیگر اہم لوگوں کے علم میں لا چکا ہو اور اپنی افسردہ خاطری میں انھیں بھی شریک کر چکا ہوں۔
جنا ب محمد عزیزالرحمن عاصم کے باقی تحفظات زیادہ تر اندراجات کی ترتیب کے بارے میں ہیں جن میں سے کچھ کی نشان دہی درست ہے۔ زیادہ ان میں وہ ہیں جنھیں لغت نویسی کی جدید ترین ترتیب یعنی lexiconکے انداز میں رکھا گیاہے۔ لغت کے ابتدائیے’’معروض‘‘ میں یہ بات صراحت کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ براہ کرم اہل فن حضرات انٹرنیٹ پر اس تکنیک کے بارے مین پڑھ لیں۔
ہم نے کوشش کر کے اس لغت میں نئے معنی دیے ہیں۔ نئے کام میں ٹھوکر یں لگتی ہیں۔ ہمیں بھی لگی ہے۔ زندگی نے وفا کی تو یہ غلطیاں میں درست کر لوں گا ورنہ زمانہ کر دے گا۔ بھائی ذوالکفل کا نام شاید جلدی میں پڑھنے کی وجہ سے بالکل ہی غلط لکھا گیا ہے اور یہ سہومتذکرہ مضمون کی پہلی سطر ہی میں در آیا ہے۔ اس کا اعتذار شاید ضروری نہیں۔ البتہ ریکارڈ کی درستی کے لیے عرض کیا۔
ہمیں اس لغت پر کام ہمارے مانگنے پر نہیں بلکہ محض خوش گمانی کی وجہ سے دیا گیا۔ بھائی ذوالکفل یقیناً اس کے اہل تھے۔ میں تو نہ اہل تھا اور نہ ہوں۔ چاہیے کہ اہل لوگ آگے آئیں اور علمی نوعیت کے یہ کام کریں۔ محمد عزیز الرحمن عاصم کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انھوں نے لغت پر توجہ سے نظر ڈالی اور یہ علمی خدمت انجام دی۔
(حافظ صفوان محمد چوہان)
قومی انگریزی اردو لغت
مقتدرہ قومی زبان کی شائع کردہ قومی انگریزی اردو لغت بے شک بہت اہمیت کی حامل ہے بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ یہ لغت ڈاکٹر جمیل جالبی کی زیر نگرانی ہونے والے کاموں میں سے اہم اور شاہکار ہے لیکن لغت میں ایک خامی خاص ہے۔ وہ یہ کہ یہ ایک انگریزی لفط کا ترجمہ کوئی بیس پچیس مترادف الفاظ میں کرتی ہے جس سے کبھی کبھی الجھن بھی ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس لغت کو انگریزی ٹو انگریزی اور اردو ہونا چاہیے(بشیراحمد قریشی کی ترتیب دی ہوئی کتابستان ڈکشنری کی طرز پر)۔ پھر انگریزی لفط کے اردو معانی والے الفاظ کو کم کرنے سے ڈکشنری کے صفحات بھی نہ بڑھیں گے اور یہ زیادہ بہتر استعمال میں آ سکے گی۔ (اشفاق رشید، لاہور (
’’ای میل‘‘ کا ترجمہ ’’برقی پتا‘‘ کیا جائے
پہلی بار اخبار اردو پڑھنے کا موقع ملا۔ مضامین مجھے اچھے لگے۔ میں اردو کا طالب علم ہوں۔ اردو زبان سے محبت بھی ہے۔ آپ کے ادارے نے ’’ویب سائٹ ‘‘ کا ترجمہ ’’ویب گاہ‘‘ کیا ہے جو مجھے بہت اچھا لگا۔ میرے خیال میں اگر لفظ ’’ای میل‘‘ کا ترجمہ بھی ’’برقی پتا‘‘ کر دیا جائے تو مناسب رہے گا۔
(غیاث الدین، کراچی)