خواب نگر کا مسافر
یہ مضمون مقتدرہ کے زیر اہتمام حمید اختر کی یاد میں تعزیتی اجلاس میں پڑھا گیا۔
اشفاق سلیم مرزا
حمید اختران آشفتہ سروں میں سے تھے . جو ساری زندگی ایسے پودے کی آبپاری کرتے رہے جن پر چند موافق موسموں میں چند کونپلیں تو پھوٹ پڑتیں لیکن پھرمرجھا جاتیں لیکن اس پودے پر ایک شاخ امید ہری رہی . وہ سمجھتے تھے کہ جب اس پر پھول کھلیں گے تو سارا چمن مہک اٹھے گا اور اس کی خوشبو سے سب سرشار ہونگے اور موسم بہار میں اس کے سرخ پھولوں سے چولا رنگا جائے گا .
بہت سے اور آشفتہ سروں کی طرح وہ دور کہیں مہکتے ہوئے دیسوں سے آنے والی ہوا کے جھونکوں میں مست رہتے اور اپنے پودے کو سینچتے رہتے پھر ان کے لیے :
گھر میں کیا تیرا غم جیسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم حسرت تعمیر سوہے
وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے روایتی عیش وآرام کوخیر باد کہا ایسی آسائش کی زندگی جس پر دوسرے پڑھے لکھے لوگ گامزن تھے . وہ اتنے باصلاحیت تو ضرور تھے کہ بطور سیکریڑی یا جنرل ریٹائر ہو سکتے تھے .تو وہ کسی سودے بازی اور ہیر پھیر سے پیسہ کما سکتے تھے. انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا . وہ کتنے سادہ لوح تھے انہوں نے اپنی جنوں خیزی میں سب کچھ ترک کردیا اور بے لذتی کے ساتھ چمٹے رہے. ساری ٹہنیوں کو سوکھتا ہوا دیکھ کر بھی شاخ امید پر نظر جمائے بیٹھے رہے .
جہاں سے شاخ ٹوٹی ہے وہیں سے شاخ پھوٹی ہے
نمو کی قوتیں ا س زخم کو بھر نے نہیں دیتیں
ہاں وہ رجائیت کی سرشاری میں مبتلا تھے۔ ان کے ساتھ ان کے اور بہت سے ساتھی جن کے ساتھ انھوں نے کام کیا تھا وہ بنے بھائی ہوں، یا سبدط حسن، فیض ہوں یا ابن انشا، ساحر ہوں یا کرشن چندر سبھی اپنے اپنے حوالے سے ایک ہی منزل کے متلاشی تھے۔ حمید اختر کے مطابق :
’’
یہ لوگ اپنے عہد کے فیض شناس تھے۔ اب ایسے لوگ کہاں پیدا ہوں گے۔ ان لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں زندگی اور فن کی آبیاری کی اور اپنا اپنا کام کر کے رخصت ہو گئے مگر ان کی یادیں ہمیشہ دلوں کو گرماتی رہیں گی۔ ‘‘
ایک سیاسی کارکن صحافی لکھاری اور کالم نویس ہونے کے ناتے ان کا قلم ایک نقطے پر مرکوز تھا تو وہ پاکستان اور اس کے لوگوں کو خوشحال دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ اس دھرتی پر بسنے والے مختلف اقوام کے افراد کے مابین محبت اور یگانگت چاہتے تھے۔ وہ صحیفوں میں لکھی گئی فردوس کو نیچے لانا چاہتے تھے لیکن کیا کیا جائے سوائے رجائیت اور شاخ امید کے ان لوگوں نے کچھ نہیں دیکھا ۔ اس کو سینے سے لگائے کچھ لوگ چلے گئے ہیں اور باقی جو چند رہ گئے ہیں تیار بیٹھے ہیں اور اسی گومگو اور سوالیہ نشان کے ساتھ اس بات کو ختم کرتا ہوں جو میرے لیے کبھی بھی حتمی بیانیہ نہیں رہا۔
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم
۲۰۱۲ء کو سعادت حسن منٹو کے سال کے طور پر منایا جائے
سال۲۰۱۱ء کو قومی سطح پر فیض احمد فیض کا سال قرار دیا گیا تھا۔ممتازترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی یاد کو تازہ کرنے اور ان کی مجموعی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے لیے اُردو دُنیا نے نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ یورپ، امریکہ، برطانیہ ، روس اور دُنیا کے دیگر کئی ممالک میں اپنے محبوب شاعر کو بھر پور خراجِ تحسین پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اُردو زبان کے بولنے اور لکھنے والے نہ صرف اپنے محسنین اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ ان کی تخلیقات کو دُنیا کی بڑی زبانوں کے ادب کے برابر رکھ کر یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اُردو ایک زندہ ، زرخیز اور وسیع زبان ہے ۔ اُردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ جس نے آغاز سے اب تک ایسی نابغۂ روزگار ادبی شخصیات کو جنم دیا، جنہوں نے اُردو زبان کے وقار و منزلت میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ اُردو زبان میں ایسا شعر و ادب تخلیق کیا جس پر آج بھی ہم سب نازاں و فرحاں ہیں۔ ۱۹۱۲ء میں امرتسر میں پیدا ہونے والے اُردو ادب کے منفرد و ممتاز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے جنم کو سو سال ہونے کو ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو اگر حکومت سال ۲۰۱۲ء کو منٹو کا سال قرار دے کر اُردو کے مایہ ناز افسانہ نگار کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جائے ۔ سعادت حسن منٹو وہ تخلیق کار تھا جس نے۴۳سال کے کم عرصۂ حیات میں شاعری کے علاوہ تقریباً تمام اصنافِ ادب میں اس قدر زیادہ اور معیاری تخلیقات دی ہیں جتنی شاید ہی کسی ادیب نے اتنے قلیل عرصے میں دی ہوں گی مگر اس کی کھری اور بے باک کہانیوں پر بننے والے بے بنیاد مقدمات نے اس کی زندگی کو جہنم زار بنائے رکھا ۔آج منٹو کی تخلیقات پرساری اُردو دُنیا فخر کرتی ہے ۔ سعادت حسن منٹو پاکستان بنتے ہی پاکستان چلا آیا تھا۔ آج اُردو افسانے کا یہ محسن میانی صاحب لاہور کے قبرستان میں ابدی نیند سو رہا ہے۔
اُردو زبان و ادب کو ثمر بار کرنے والے شاعروں و ادیبوں کی تحسین کے اسی سلسلے کے تحت مقتدرہ کے زیر اہتمام ’’سعادت حسن منٹو‘‘ پر کتاب حال ہی میں شائع ہو کر منظرِ عام پر آ چکی ہے جو منٹو کے سال۲۰۱۲ء کے آغاز میں یقیناًسب سے پہلی اور بھرپور کتاب ثابت ہو گی ۔
پروفیسر سجاّد شیخ پنجابی ، اُردو اورا نگریزی کے شاعر، نقاد ، مترجم اور اُستاد ہیں اور سعادت حسن منٹوکے حافظ و عاشق کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔جو ایک طویل عرصہ تک گورڈن کالج راولپنڈی میں انگریزی کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنے طلبہ میں علم و ادب کی روشنی منتقل کرتے رہے۔ منٹو کو پڑھ کر اس کے ایسے عاشق ہوئے کہ آج منٹو بجا طور پر ان کا اختصاص بن چکاہے۔ انہوں نے اپنے گھر کی بالائی منزل پر منٹو کی ابتدائی ناپید کتابوں ، قلمی نسخوں اور نوادرات کے ساتھ ساتھ منٹو پر اب تک اُردو و انگریزی میں ہونے والے تحقیقی و تنقیدی کام کو یکجا کر رکھا ہے۔ اس ریاضت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سعادت حسن منٹو کے اہلِ خانہ کی آڈیو کیسٹس پر انٹرویوز کر کے سنبھال رکھے ہیں۔ علاوہ ازیں منٹو اور اہلِ خانہ کی بہت سی نادر و نایاب تصاویر بھی جمع کر رکھی ہیں۔ پروفیسر سجاد شیخ نے منٹو سے عشق کے جنون میں اپنی صحت خراب کر لی ہے۔اس لحاظ سے اگر انہیں فنا فی المنٹو کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انہوں نے سب سے زیادہ نہ صرف منٹو پر تحقیقی کام کیا بلکہ منٹو کی بے شمار تخلیقات کا انگریزی میں ترجمہ بھی کر رکھا ہے ۔ منٹو پر ان کے تحقیقی مضامین کئی قومی انگریزی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔
پروفیسر سجاد شیخ کی یہ بد قسمتی ہے کہ منٹو کے حوالے سے ان کی ساری زندگی کی ریاضت سے آج بے شمار لوگ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے کر بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر مزے کر رہے ہیں مگر پروفیسر سجاد شیخ کو منٹو کے حوالے سے اب تک قومی یا نجی سطح پر وہ مقام و منزلت نہیں ملی جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔ سال بھر پہلے اُردو اور انگریزی میں شائع ہونے والے علمی ، ادبی و ثقافتی رسالہ تادیب انٹرنیشنل کی برطانیہ و پاکستان کی مجلسِ ادارت نے منٹو پر خصوصی شمارہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھااوریہ بھی کہ سعادت حسن منٹو کے ساتھ ساتھ ان کے حافظ و عاشق پروفیسر سجاد شیخ کی تحسین کے لیے تادیب انٹر نیشنل کے منٹو نمبر کے لیے انہیں مہمان مدیرمقرر کرتے ہوئے یہ خاص شمارہ پروفیسر سجاد شیخ کی معاونت اور راہ نمائی میں تیار کیا جائے ۔ اس خصوصی شمارے کی تیاری میں یہی کوشش کی گئی کہ منٹو کی اپنی اور منٹو پر انگریزی و اُردو میں زیادہ سے زیادہ تخلیقات شامل کرکے ایک نمائندہ شمارہ تیار کیا جائے۔ جس میں منٹو اور اہلِ خانہ کی بیس کے قریب نایاب تصاویر بھی شامل کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح اُردو ادب کے اور کہانی کے ادنیٰ سے طالب علم کی حیثیت سے میں نے اپنی کہانیوں کی دوسری کتاب ’’دوسرا آخری خط‘‘ عہد ساز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے نام معنون کیا ہے۔ نجی سطح پر یہ دو حقیر سی کوششیں اس امید پر کی جا رہی ہیں کہ موجودہ حکومت نہ صرف آنے والے سال۲۰۱۲ء کو باضابطہ طور پر منٹو کا سال قرار دے بلکہ اس دوران صدارتی اعزازات کے فیصلے کے وقت پروفیسر سجاد شیخ کی مجموعی علمی، ادبی، تحقیقی اور تدریسی کاوشوں کے اعتراف میں ان کے جیتے جی کسی قومی اعزاز سے ضرور نوازے تاکہ وہ اطمینان اور تشفی سے چند سال اور جی سکیں۔
۔۔۔حمید قیصر