پروین شاکر
شب زاد سے اضطراب تک کا سفر
پروین شاکر کی یہ آخری تحریر ہے جو انھوں نے شبنم شکیل کی کتاب کے لیے ۱۸؍نومبر ۱۹۹۴ء کو لکھی
شب زاد سے اضطراب تک کا سفر ایک خوشگوار سفر ہے۔ ایک رستے میں جتنے شہر آتے ہیں، ان کی آب و ہوا مختلف ہے۔ اس دنیا سے بھی جو ہم نے اس شاعرہ کی آنکھوں سے پہلے پہل دیکھی تھی اور اس دنیا سے بھی جو ہمیں اس عہد کے دوسرے حرف سازوں کے یہاں نظر آتی ہے اس بار سورج کی کرن شبنم سے گلے مل رہی ہے !
سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ اب شبنم نے اپنی شاعری سے مصلحت کا pancakeاتار دیا ہے اور دیکھیے تو اندر سے کیا دھلا دھلایا شفاف چہرہ نکل آیا اس چہرے کا کتنا ہی ٹائپ کلوز اپ لیں۔ اٹ ول ری مین اے فوٹو گرافرز ڈیلائٹ۔
شبنم کے مستقل قاری جانتے ہیں کہ اس چہرے میں روشنی کہاں سے آئی ہے یہ شبنم کے اندر کی روشنی ہے جس نے اپنے باہر سے کمپرومائز کرنے سے بالآخر انکار کر دیا ہے۔ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن ایک بار جب شبنم نے یہ فیصلہ کر لیا تو اس کی شاعری کا ایک بالکل نیا باب شروع ہو گیا۔ اضطراب ہم پر یہی باب وا کرتاہے !
شبنم سے میری شناسائی پندرہ برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ کوئٹہ کی وہ سرد اور اداس شام میں کبھی نہیں بھول سکتی جب شبنم مشاعرے کے لیے اپنی غزل کا انتخاب کرنا چا ہ رہی تھی اور کر نہیں پا رہی تھی۔ یہ تذبذب بارہ برس کی اس خاموشی کانتیجہ تھا جس کے عوض اس نے خوشیاں مول لی تھیں۔ یہ سناٹا لکھنے والی ہر عورت کی زندگی میں ایک بار ضرور آتا ہے۔ ٹھہر گیا، تو اندر کا تخلیق کار ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ گزر گیا، تو بھی اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے گیا اور خدا نہ کرے یہ وزٹ فارمیٹو ایئرز میں ہو۔ جس میں ابھی اپنا لہجہ بھی پورے طو رپر بن نہیں پاتا۔ ایسا ہو جائے تو نقصان کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا!
شبنم کے شب و روز اس طرح تقسیم تھے کہ وہ فرصت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ شب زاد انہی دنوں کی کہانی ہے۔
لیکن اضطراب، چہرے دیگر است۔ یہ شاعری کی وہ منزل ہے جب شبنم کے ہاتھ میں ان کہی کا ہنر آ گیاہے وہ آدھی ریت سے باہر ہے اور آدھی ریت میں گڑی ہوئی ہے اور دونوں دنیاؤں کا حال بین السطور کہہ رہی ہے۔ اب وہ ایک ماہر کوزہ گر کی طرح لفظ تخلیق کرتی ہے اور لہو سے املا کرتی ہے !
اب اس کے یہاں وہ بلند آہنگی ملتی ہے جس کی امید ہم نے عابد علی عابد کی بیٹی سے باندھی تھی ؂
کر کے دکھائی ہم نے اسے بے وفائی بھی
اس کے حصول کے لیے کیا کیا نہیں کیا
زندگی چھپ کر ہنسا کرتی ہے ہم پر اور ہم
اس کی پرچھائیں کو تصویر کیے جاتے ہیں
یہ خیرو شر کی بات نہیں ہے یہاں تو بس
ٹکراؤ ہو گیا ہے ان کا ان کے ساتھ
اور اس کے بالکل متوازی ایک نرم آب جو
تن کی بگیا مہک اٹھی ساری
موتیا بن کے کھل رہا ہے کوئی
ادھورا تھا ہر اک سپنا ہمارا
کبھی جھولے کبھی ساون نہیں ہے
یہاں سفاک حقیقتوں کا بیان تو ملتا ہے لیکن اس میں خود ترسی نہیں ؂
بے مہر موسموں نے کیا اس کو سخت جاں
رہنا تھا پیڑ کو اسی آب و ہوا کے ساتھ
ضطراب میں شبنم کے تخلیقی سیلف کاایک اور پہلو سامنے آتا ہے اور وہ اس کی نظمیں ہیں ’’ایک دفعہ کا ذکر ہے ‘‘ ایک ایسی نظم ہے جسے لکھنے کے لیے بڑا حوصلہ چاہیے۔ مجھے خوشی ہے کہ شبنم نے یہاں نہ حوصلہ ہارا نہ سلیقے کو ہاتھ سے جانے دیا۔ شائستگی اظہار پر کہیں آنچ نہ آنے دی !
شبنم چونکہ فیمینسٹ نہیں ہے اس لیے نہ اپنے عورت ہونے پر شرمندہ ہے نہ ہی رشتوں سے بیزار ہے۔ اس کی نظم’’ورثہ‘‘ کی آخری لائن تک پہنچتے پہنچتے اس کے قاری کے گلے میں آنسو اٹکنے لگتے ہیں!یہ ایک نہایت پاور فل نظم ہے اور اس میں شاعر کا خلوص، کمال فن سے پوری طرح آمیز ہے!یہ کمال فن شبنم کی دوسری نظموں سے ذرا دور ہے اور اس کی وجہ سے شبنم نے اس طرف توجہ ہی ابھی دی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگلے پڑاؤ تک اس کی نظموں میں بھی وہی با نکپن جھلکنے لگے گا جو اس کی غزلوں کا بنیادی وصف ہے!َ
کوئی  دکھائی نہ دیتا ۔ کمیٹی چوک میں بھی ہم دیر تک کھڑے باتیں کرتے رہتے۔
منشا یاد جتنے اچھے افسانہ نگار تھے اس سے کہیں زیادہ اچھے انسان بھی تھے۔
نفاست رکھ رکھاؤ اور ملنساری ان کے مزاج کا حصہ تھی۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے ہمارے درمیان کچھ اختلافات بھی تھے کہ منشا اپنی طرز کے لکھنے والے تھے اور میرا اپنا ایک انداز تھا ۔ لیکن ہم نے اسے کبھی اختلافی مسئلہ نہیں بنایا ۔آگے پیچھے کے لکھنے والوں کے حوالے سے کبھی ان کا افسانہ پہلے اور کبھی میرا افسانہ پہلے چھپ جاتا تو دوسرے بہت سے لکھنے والوں کی طرح ہم اسے موضوع نہ بناتے ۔ ہمارے درمیان ایک خاموش معاہدہ تھا کہ ایک دوسرے کی غیر حاضری میں زمانے کے دستور کے مطابق ہم ایک دوسرے کے بارے میں اختلافی گفتگو کر لیتے لیکن جب ملتے تو جان لینے کے باوجود اس کا ذکر نہ کرتے ۔ مجھے نہیں یاد کہ ان پچاس سالوں میں میرے اور ان کے درمیان کبھی تلخی ہوئی ہو۔ جب بھی ملتے اسی خلوص او ر محبت کے ساتھ ۔