بجورنسٹرن بجورنسن/نےئر عباس زیدی  (عالمی ادب سے انتخاب (
افسانہ : بھاگوان

وہ شخص جس کی کہانی یہاں بیان کی جارہی ہے ، اپنے حلقے کا سب سے رئیس اور صاحب ثروت کسان تھا اور اس کا نام تھورڈ اووریس تھا۔ وہ سنجیدہ اور طویل القامت شخص ایک دن پادری کی خدمت میں حاضر ہوا۔
’’
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے ۔‘‘ وہ بولا ’’ اور میں اسے بپتسمے کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ‘‘
’’
اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ ‘‘
’’
فن ۔۔۔ میرے باپ کے نام پر ۔ ‘‘
ان کا حوالہ دیا گیا اور اس حلقے میں رہنے والے تھورڈ کے رشتہ داروں میں ، وہ لوگ سب سے معزز تھے۔
’’
کیا کوئی اور بات کرنی ہے ؟‘‘ پادری نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
وہ کسان ذرا جھجکا اور پھر بولا ’’ مجھے انتہائی خوش ہوگی اگر میں اپنے بیٹے کو خود بپتسمہ دوں ۔ ‘‘
’’
توپھر یہ اس ہفتے کے آخر میں نہ کرلیں۔ ‘‘
’’
اگلے سنیچر ، دن کے بارے بجے۔ ‘‘
’’
کچھ اور بھی کہنا ہے ؟ ‘‘
’’
نہیں ، کچھ نہیں ۔ ‘‘ اس کسان نے اپنی ٹوپی گھمائی جیسے وہ جانا چاہتا ہو۔
پادری کھڑا ہوا ’’ تاہم ایک بات ہے ‘‘ اور تھورڈ کی طرف بڑھا ، اس کا ہاتھ تھاما اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ’’ جو بچہ تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے ، یہ تمہارے لیے بھاگوان ثابت ہوگا۔ ‘‘
سولہ سال گزرنے کے بعد تھورڈ ایک دن پھر اسی پادری کے کمرے میں کھڑا تھا۔
’’
تھورڈ ! تم اس عمر میں بھی حیران کن حد تک اچھی صحت کے مالک ہو ۔ ‘‘ اس پادری نے کہا کیونکہ اسے تھورڈ کے اندر کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی ۔
’’
اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے مسائل کا سامنا نہیں ۔‘‘ تھورڈ نے جواب دیا ۔
اس پر پادری کچھ نہ بولا اور تھورڈ سے پوچھا ’’ آج کیا خوش خبری ہے ؟ ‘‘
’’
میں آج اس لیے آیا ہوں کہ کل میرے بیٹے کی چرچ سے کنفرمیشن (۱) ہے۔ ‘‘
’’
یہ ایک خوش قسمت نوجوان ہے ۔ ‘‘
’’
میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ کل چرچ میں (کنفرمیشن کی رسم کے لیے ) میرے بیٹے کا کون سا نمبر ہوگا۔ ‘‘
’’
اس کا نمبر پہلا ہی ہوگا۔ ‘‘
’’
شکریہ ! یہ رہے آپ کے لیے دس ڈالر ۔ ‘‘
’’
کیا میں آپ کی کوئی اور خدمت کرسکتا ہوں ۔ ‘‘ پادری نے اپنی نگاہیں تھورڈ پر جماتے ہوئے کہا۔
’’
نہیں اور کچھ نہیں ۔‘‘ تھورڈ درخصت ہوگیا۔
مزید آٹھ سال بیت گئے اور ایک دن پادری کے کمرے کے باہر شور سنائی دیا، بہت سے لوگ اس کمرے کی طرف آرہے تھے ، تھورڈ پیش پیش تھا، وہ سب سے پہلے کمرے میں داخل ہوا۔
پادری نے اوپر دیکھا اور اسے پہچان لیا ، ’’ آج تم خاصے لوگوں کو اپنے ساتھ لائے ہو ۔ ‘‘
پادری بولا ،
’’
میں آج یہاں اس لیے آیا ہوں کہ میرے بیٹے کی مجوزہ شادی کا اعلان کردیا جائے۔ وہ کیرن سٹور لنڈن نامی لڑکی سے شادی کر رہا ہے اور لڑکی کا والد مسٹر گُڈِ مِنڈ بھی میرے ساتھ ہے ۔ ‘‘
’’
اوہ ! یہ تو ہمارے حلقے کی سب سے مالدار لڑکی ہے۔ ‘‘
’’
جی ! ایسا ہی ہے ۔‘‘ کسان نے اپنے ہاتھ سے اپنے بال درست کرتے ہوئے کہا۔
وہ پادری کچھ دیر کے لیے گہری سوچ میں گم ہوگیا ، پھر اس نے رجسٹر میں نام درج کیے اور لوگوں نے نیچے دستخط کردئیے ۔ تھورڈ نے پادری کی میز پر تین ڈالر رکھ دئیے۔
’’
صرف ایک ڈالر ہی کافی ہے۔ ‘‘ پادری بولا ۔
’’
مجھے معلوم ہے لیکن یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے اور میں یہ کام خوش اسلوبی سے کرنا چاہتا ہوں ۔ ‘‘
پادری نے وہ رقم اٹھالی۔
’’
یہ تیسرا موقع ہے تھورڈ! جب تم اپنے بیٹے کے معاملے میں یہاں آئے ہو ۔ ‘‘
’’
لیکن اب میں اپنے بیٹے کی طرف سے بے فکر ہوگیا ہوں۔‘‘ تھورڈ نے کہا اور اپنی چھوٹی ڈائری بند کرتے ہوئے پادری سے رخصت ہوا ۔ تمام لوگ اس کے ساتھ باہر چلے گئے ۔
دو ہفتے گزرے تھے کہ اایک دن، انتہائی خوشگوار موسم میں ، وہ باپ بیٹا، شادی کی تیاریوں کی غرض سے ، سٹور لنڈن کے گھر کشتی میں بیٹھ کر جھیل کے اس پار جارہے تھے ۔
بیٹے نے کشتی کھیتے ہوئے اچانک کہا ’’ جس سیٹ پر میں بیٹھا ہوں وہ غیر محفوظ لگ رہی ہے ۔‘‘یہ کہہ کر وہ کھڑا ہوگیا اور اپنی سیٹ درست کرنے لگا۔
اسی لمحہ وہ تختہ ، جس پر وہ کھڑا تھا ، ٹوٹ گیا اور وہ پانی میں گر گیا ۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا اور چلاّرہا تھا۔
’’
اس چپو کو پکڑ لو ۔‘‘ باپ نے چپو اس کی طرف کرتے ہوئے چیخ کر کہا۔ انتہائی کوشش کرنے کے بعد بیٹے کا جسم اکڑ گیا۔
’’
ذرا ٹھہرو!‘‘ اس کا باپ دوبارہ چیخا اور اپنے بیٹے کی سمت کشتی کھینی شروع کردی ۔ بیٹے کے ہاتھ پاؤں جواب دے گئے ، اس نے اپنے باپ کے چہرے پر ایک آخری نظر ڈالی اور وہ ڈوب گیا۔
تھورڈ ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ اس نے کشی روک لی اور اس جگہ نظریں جمادیں جہاں اسی کا بیٹا ڈوبا تھا جیسے اسے دوبارہ سطح آب پر واپس آنا چاہیے۔ اس جگہ کچھ بلبلے اٹھے ، ذرا سی دیر بعد کچھ اور آخر میں بڑا بلبلہ، کوئی چیز اندر پھٹی ہو ۔ اس کے بعد جھیل کی سطح شیشے کی مثل ہموار اور چمکدار ہوگئی۔
لوگوں نے دیکھا کہ تھورڈ مسلسل تین دن اور تین راتیں بغیر سوئے اور بغیر کھائے پیئے اسی جگہ کشتی گھماتا رہا جہاں اس کا بیٹا ڈوبا تھا ۔ وہ اپنے بیٹے کی لاش کے لیے جھیل کو چھان مارنا چاہتا تھا۔ تیسرے دن علی الصبح اسے اپنے بیٹے کی لاش مل گئی۔ اس نے وہ لاش اپنے ہاتھوں میں اٹھائی اور اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
اس سانحے کو ایک سال بیت گیا۔ خزاں کی ایک رات ، اسی پادری نے اپنے کمرے کے باہر ایک آواز سنی ، کوئی شخص دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ پادری اٹھا اور دروازہ کھول دیا۔ ایک دراز قد، دبلا پتلا شخص اندر داخل ہوا۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی اور بال سفید تھے۔ پادری نے اسے غور سے دیکھا اور پہچان لیا۔ وہ تھورڈ تھا۔
’’
تم اتنی رات گئے یہاں ؟ ‘‘ پادری نے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا۔
’’
ہاں ! بہت دیر ہوگئی ۔ ‘‘ تھورڈ نے جواب دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔
پادر ی بھی بیٹھ گیا اور اس کی طرف ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ تھورڈ کا منتظر ہو۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ بآلاخر تھورڈ نے کہا ’’ میرے پاس کچھ رقم ہے جو میں غریبوں کے لیے مختص کرنا چاہتا ہوں اور اس کارِ خیر کو اپنے بیٹے کے نام سے منسوب کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘
وہ کھڑا ہوا ، میز پر رقم رکھی اور بیٹھ گیا۔ پادری نے اس رقم کو گنا۔
’’
یہ تو ایک خطیر رقم ہے۔‘‘ پادری بولا
’’
آج میں نے اپنی جائیداد بیچ ڈالی یہ رقم اس کی مالیت کا نصف حصہ ہے۔ ‘‘
پادری خاصی دیر خاموش بیٹھا رہا ، پھر نہایت شستہ لہجے میں پوچھا’’تھورڈ ! اب تم نے کیا کرنے کا ارادا کیا ہے؟ ‘‘
’’
کوئی بھی بہتر کام ۔ ‘‘
وہ دونوں دوبارہ خاموش ہوگئے ۔ تھورڈ نظریں جھکائے بیٹھا رہا اور پادری کی نگاہیں تھورڈ پر جمی رہیں ۔ پادری بڑے نرم اور شگفتہ انداز میں بولا ’’ میں نہ کہتا تھا تمہارا بیٹا بھاگوان ہے ، آخر وہ تمہارے لیے ابدی خوش قسمتی کا باعث بنا۔ ‘‘
’’
ہاں ! میرا بھی یہی خیال ہے۔‘‘ تھورڈ نے نگاہیں اوپر کرتے ہوئے کہا اور دو آنسو اس کی آنکھوں سے ٹپک پڑے۔
حوالہ جات :
۱۔ بپتسمہ دئیے ہوئے شخص کو عیسائی مذہب کا مصدقہ رکن بنانے کی رسم ، خصوصاً بالغ ہونے پر۔
افسانہ نگار کا مختصر تعارف :
ناروے کے جدید ادب میں بجور نسٹرن بجورنسن (Bjornsterne Bjornoson) کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ وہ ۱۸۳۲ء میں ناروے کے شمالی پہاڑی علاقے میں پیدا ہوا۔ یونیورسٹی آف کرسٹینا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جلد ہی ایک بہترین ڈرامہ نگار ، تنقید نگار، شاعر ،ناول نگار اور سیاست دان کی حیثیتوں سے شہرت پائی ۔ وہ دنیا کا تیسرا شخص تھا جسے ۱۹۰۳ء میں ادب کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ بجو نسٹرن نے اپنے قاری کے لیے ناروے کو دہقان کی زندگی کا عکس پیش کیا ہے جسے وہ اپنی قوم کا حقیقی نمائندہ سمجھتا ہے۔ اس کا اسلوب سادہ ہے اور اس کے افسانے فطرت کی سادگی کو بیان کرتے ہیں اور اس اصول پسند زندگی کے امین ہیں جس پر اس کی دھرتی کا دہقان کار بند ہے۔ بجونسٹرن چند الفاظ ہی میں شدتِ جذبات کو پیش کرنے میں مہارت رکھتا ہے اور اس کا یہ افسانہ بھی اس کے اس خاص وصف کو ظاہر کرتا ہے۔