رؤف کلاسرا
نصرت بھٹو،یہ کہانی آپ ہی لکھیں !
نصرت بھٹو کی کہانی آج ختم ہو گئی ہے تو پھر اسے نئے سرے سے لکھنے کے لیے کہاں سے شروع کیا جائے ۔ آپ یہ بھی تو پوچھ سکتے ہیں کہ اسے نئے سرے سے لکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ کیا فرق پڑتا ہے ایک ایسی خوبصورت ایرانی عورت کی کہانی لکھنے سے جس نے اپنے خاوند کی سیاست کے نام پر ایوب خان ، یحیٰی خان ، جنرل ضیاء تک سب آمروں سے ٹکر لی اور لڑتی رہی اور آخر جسے جنرل ضیاء کی جیلیں اور حکومت نہ مار سکی ، اسے اپنوں نے مار دیا ۔ قدیم یونان کے جنرل سیزر کی طرح ، اس ایرانی خون نے بھی اپنے ہاتھ میں موجود تلوار اس وقت گرا دی ، جب اس کی اپنی بیٹی کے دور حکومت میں ولی عہد مرتضٰٰی مارا گیا ۔ سیزر کی طرح تیر کھا کہ جو دیکھا تو اپنوں سے بھی ملاقات ہو گئی ۔ جیسے بروٹس کے ہاتھ میں خنجر دیکھ کر، سیزر نے مر جانا ہی بہتر سمجھا تھا ، ایسے ہی نصرت بھٹو نے بھی گھٹ گھٹ کر مرنے کو ترجیح دی ۔
روح تو پندرہ سال قبل ہی نکل گئی تھی ۔ ایک جسم کا رشتہ تھا جو آج نہ رہا ۔ تو پھر آپ بتائیں کہ پاکستانی سیاست کی خونخوار ، غلام گردشوں ، سازشوں ، اقتدار کے عروج و زوال ، وزیر اعظم بنتے ، جلا وطن ہوتے یا پھر پھانسی پر جھولتے وزیر اعظموں کی اس سنسنی خیز کہانی کا آغاز کہاں سے شروع کیا جائے ، جو نصرت بھٹوکی آنکھوں کے سامنے لکھی گئی تھی؟ آپ کا خیال ہے کہ آپ کو اس خوں خوار سیاسی ڈرامے کا سکرپٹ لکھنا پڑے تو آپ اس پاکستانی سیاست کے ایک بڑے کردار کی کہانی کہاں کہاں سے شروع کریں گے ۔ کیا کہا کہ آپ کو علم نہیں ہے کہ اسے کیسے لکھا جا سکتا ہے ؟
چلیں میں آپ کی مدد کرتا ہوں ۔ اگر آپ یہ کہانی پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر اسے لکھنا کیوں نہیں چاہتے ؟
آپ کو لکھنا نہیں آتا یا آپ لکھنا نہیں چاہتے ؟
چلیں میں زبردستی آپ کو یہ کہانی لکھوانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
ایک کہانی تو اس طرح لکھی جا سکتی ہے کہ جب ۱۹۵۰ء کی دہائی میں نصرت بھٹو آکسفورڈ کے گریجویٹ ایک خوبصورت سندھی فیوڈل کی دوسری بیوی بنیں جو آسمان کو چھونے کی خواہش لے کر وطن لوٹا تھا کہ اس کے ذہن پر یہ سوار تھا کہ اگر اس کا باپ سر شاہنواز متحدہ ہندوستان کی ریاست جونا گڑھ کا آخری وزیر اعظم بن سکتا تھا تو وہ نئے پاکستان کا کیوں نہیں ؟ کراچی کے سوشل حلقوں میں دراز قد خاتون کی خوبصورتی اور مسکراہٹ نے دھوم مچا دی تھی اور بھٹو جیسے خوبصورت نوجوان کے لیے ہر دروازہ کھل جا سم سم کی طرح کھلتا گیا ٰ !
یا پھر آپ یہ کہانی وہاں سے شروع کریں گے کہ جب سکندر مرزا کچھ عرصے بعد ملک کے سیاہ سفید کے مالک بنے تو ان کی بیوی کا تعلق بھی نصرت کی طرح ایران سے تھا ۔ تو آپ یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ در اصل یہ وہ دو ایرانی عورتوں کی دوستی تھی ، جس نے بھٹو کے لیے ایوان اقتدار کی غلام گردشتوں میں داخل ہونا آسان کر دیا تھا کیونکہ اس طلسمی دروازے کی چابی انہوں نے ناہید مرزا کے ذریعے لگانی تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ایرانی نژاد خواتین نے سوچا ہو کہ آج اگر ایک پاکستان کی خاتون اول تھی تو کل دوسری اس کی جگہ لے لے ، لیکن میرا خیال ہے کہ میں غلط کہہ رہا ہوں کیونکہ خواتین چاہے دنیا کے کسی حصے کی ہوں ، وہ اس طرح نہیں سوچتیں کہ جس مقام پر وہ ہیں ، کل کو ان کی کوئی دوست وہاں پہنچ پائے ۔ تاہم نصرت کے ایرانی لنک نے بھٹو کا کام آسان ضرور کر دیا تھا ۔ باقی کام بھٹو جیسے ذہین شخص کے لیے مشکل نہیں تھا اور کچھ عرصے بعد وہ جنرل ایوب کی کابینہ میں ملک کے پٹرولیم کے وزیر بنے ، پھر وزیر خارجہ اور پھر چل سو چل۔
کچھ عرصے بعد جب سکندر مرزا جلا وطن ہوئے تو اسی ناہید مرزا سے ملنے والا بھی کوئی نہیں تھا کہ کہیں جنرل ایوب کو پتہ چل گیا کہ کراچی ائر پورٹ پر اسے الوداع کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے ، جو ایوان صدر کی پارٹیوں میں رات گئے شریک رہتے تھے تو شاید جو خواب انھوں نے دیکھے تھے ، وہ ٹوٹ جاتے ۔ یا پھر آپ یہ کہانی اس وقت سے لکھنا چاہیں گے جب نصرت اپنی بیٹی بے نظیر کے ساتھ اپنے خاوند سے موت کی کوٹھڑی میں آخری دفعہ مل کر نکلیں اور انھیں پتہ تھا کہ کہانی ختم ہو گئی تھی !
جس مرد کے لیے انھوں نے اپنا وطن چھوڑا تھا ، برسوں تک سیاسی کھیل کھیلے ، جنرل ایوب اور جنرل یحیٰی سے لڑائیاں لڑیں ، وہ آج رات تارا مسیح کے ہاتھوں ذبح ہو جائے گا ۔ چلیں مل کر سوچتے ہیں کہ اس وقت ایک ماں ، بیوی یا چند گھنٹوں کے بعد بیوہ ہونے والی اس عورت کے ذہن میں کیا چل رہا ہو گا کہ خاوند کی لاش تو چند گھنٹوں بعد مل ہی جائے گی لیکن جنرل ضیاء جیسے انتقامی جنرل کے ہاتھوں اپنی بیٹیوں اور جواں بچوں کو کیسے بچا پائے گی ؟
شاید ہر سمجھ دار عورت خاوند کی لاش پر رونے کی بجائے پیچھے بچ جانے والے زندہ بچوں کے بارے میں سوچ کر بین کر رہی ہوتی ہے اور گالوں پر گرتے آنسوؤں کے درمیان اپنے آپ کو یہ بھی سمجھا رہی ہوتی ہے کہ کیا مرنے والے کے ساتھ مر جانا ہے یا جو زندہ بچ گئے ہیں ، ان کا بھی کچھ سوچنا تھا ۔ تو آپ یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ کیا نصرت بھٹو ایک ماں کا فرض پورا نہ کر پائیں جب وہ اپنے دونوں نوجوان بچوں کو ایک سمجھ دار ماں کی طرح ، الذوالفقار بنانے سے نہ روک پائیں کہ یہ راستہ بھٹو کو تو کیا واپس لاتا ، الٹا ایک طرح سے ان کے بیٹوں نے بھی اپنے ڈیتھ وارنٹ پر خود دستخط کر دیئے تھے ۔ تو کیا نصرت بھٹو جواں مردوں کے سامنے ایسے بے بس ہو گئی تھیں جیسے جنرل ضیاء کے سامنے ہو گئی تھیں ۔ یا پھر آپ اس کہانی میں یہ ایک نیا ڈرامائی موڑ دینا چاہتے ہیں کہ در اصل ایک ایرانی عورت کے اندر موجود انتقام اتنا شدید تھا کہ وہ ایک قبائلی عورت کی طرح اپنے خاوندکے قاتل کے خلاف جاری اپنے بچوں کی اس جدوجہد کو ایک ایسا نیک فریضہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ اگر نوجوان اولاد بھی اپنے باپ کے قتل کا بدلہ نہ لے سکے ، تو پھر کس دن کے لیے بچے جنے تھے ؟
تو کیا آپ اس کہانی میں یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ سندھ اور ایران کی صدیوں پر پھیلی قدیم تہذیب کے ملاپ سے پیدا ہونے والے مرتضٰی اور شاہنواز نے اپنی ماں کی دی ہوئی قسم اور دودھ کو سچا ثابت کرنے کے لیے الذوالفقار بنائی تھی جس کا انجام نہ صرف ان دونوں کی موت کی شکل میں نکلا بلکہ بھٹو کے نام پر جان دینے والے ہزاروں جیالے بھی افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اپنی جوانیاں گم کر بیٹھے ؟یا آپ نصرت بھٹو کا پہلا باب یہاں سے شروع کریں گے کہ کیسے ایک ماں کو بتایا جاتا ہے کہ ان کا بیٹا شاہنواز پیرس میں پر اسرار حالات میں مارا گیا ہے ۔ یا آپ کے خیال میں اگر کہانی کو بڑے بیٹے مرتضٰی کے ڈرامائی قتل سے شروع کیا جائے تو اس میں زیادہ ڈرامائی اثر آئے گا اور شاید پڑھنے والے کی آنکھوں میں چند قطرے آنسو بھی گر پڑیں جو کسی بھی مصنف کے لیے بہت بڑا خراج تحسین ہوتا ہے ۔ جی ہاں ، مرتضٰی کے قتل سے کہانی شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نہ صرف وہ ان کا بڑا بیٹا تھا ، بلکہ وہ اس وقت خود اسلام آباد میں سینئر وزیر تھیں ، سندھ میں ان کی اپنی حکومت تھی اور سب سے بڑھ کر بیٹی وزیر اعظم ۔ اب تو یہ الزام جنرل ضیاء پر نہیں ڈالا جا سکتا تھا جیسے شاہنواز کے کیس میں کیا گیا تھا ۔
یا آپ کا خیال ہے کہ نہیں ، اس کہانی کو وہاں سے شروع کیا جائے جب بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا جاتا ہے اور اب نصرت بھٹو اس قابل بھی نہیں ہیں ، کہ انھیں بے نظیر کی موت کی خبر سنائی جا سکے ۔ اچھا آپ کے خیال میں اسی دن کے لیے خدا نے انھیں کومے میں ڈالا تھا کہ سنا ہے خدا ہر کسی کو اتنی تکلیف دیتا ہے جتنی وہ برداشت کر سکے ۔ مرتضٰی کے قتل کے بعد نصرت میں یہ برداشت نہیں رہی تھی لہٰذا کومہ ہی ایک واحد علاج تھا !!
یا آپ کو اگر نصرت بھٹو کے سیاسی رول سے کوئی غرض نہیں اور آپ کو سیاست پر پڑھنا اور لکھنا پسند نہیں ، تو پھر آپ اس کہانی کو ایک اور انداز میں بھی لکھ سکتے ہیں ۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ مشرقی خاوندوں کے ساتھ بہت کم مغربی یا غیر ملکی عورتیں وفا کر سکی ہیں ۔ وقتی طور پر مغربی لڑکیاں ایشیائی مردوں کی دولت ، نوابی ، حسن ، یا شان و شوکت سے متاثر ہوتی ہیں لیکن بہت جلد وہ بور ہو جاتی ہیں اور لندن کی چکنہ چور روشنی سے بھری زندگی انھیں واپس کھینچ کر لے جاتی ہے ۔ ایسی کئی ساری کہانیاں ہمارے اندر موجود ہیں ۔ جمائما خان کی کہانی تو بہت تازہ ہے جو سونیا گاندھی اور نصرت بھٹو کی طرح بھارت اور پاکستان کی خاتون اول کا خطاب ملنے کے لیے اتنے برس عمران خان کے وزیر اعظم بننے کا انتظار گھر بیٹھ کر نہیں کر سکی اور لوٹ گئی۔
سونیا اور نصرت میں اتنا فرق ضرور تھا کہ نصرت کی ساس اتنی سخت نہیں تھی جتنی سونیا کے حصے میں آئی تھی ، جو سونیا سے پہلے اپنی بیوہ بہو مونیکا گاندھی کو سنجے کے مرنے کے بعد اچھے خاصے سبق سکھا چکی تھی ۔ تاہم سونیا کی سیاست سے عدم دلچسپی کی وجہ سے اندرا کو سونیا پسند ہو ۔
یا آپ کا خیال ہے کہ نہیں یہ کہانی کچھ اس طرح بھی لکھی جا سکتی ہے کہ اس خاتون نے خاوند کے پھانسی لگنے پر روایتی انداز میں رونے دھونے یا واپس ایران لوٹنے کی بجائے ، ایک ایسی لمبی جنگ لڑی جو شاید بہت کم خواتین نے تاریخ لڑی ہو گی ۔ ہندوستانی بادشاہ شمس الدین التمش کی بیٹی جلال الدین رضیہ سلطانہ ( ۱۲۰۵۔۱۲۴۰ ) کے بارے میں ہم نے صرف سنا اور پٖڑھا ہے لہٰذا ہمیں نہیں پتہ کہ اس میں کتنا سچ اور جھوٹ ہے ۔ تا ہم نصرت کی تاریخ تو ہماری اپنی نظروں کے سامنے لکھی گئی کہ کیسے اور تو اور نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ بھی جنرل ضیاء کے دربار میں اپنی باری پر اپنے وزیروں کی تقریب حلف برداری دیکھنے کے لیے بندوق سے لیس دربان کی خوشامدیں کر رہے تھے ۔ یہ بھی اس خاتون کی سیاسی پختگی تھی یا آپ اسے چالاکی کہہ لیں کہ انہی نو ستاروں کے لیڈروں سے بھی ہاتھ ملانے میں ہرج نہیں سمجھی جنھوں نے جنرل ضیاء کے ہاتھ مضبوط کیے تھے کیونکہ اسے یہ بات سمجھ آتی تھی کہ اپنی ذاتی انا کو توڑے بغیر جنرل ضیاء رخصت نہیں ہوں گے ۔
جنرل ضیاء کے ساتھ جاری اس جنگ میں انھیں جنرل کے کھوٹے سکوں پر ہی اعتبار کرنا تھا ۔ اچھا کیا یا برا ، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ تاہم اس کہانی کو لکھتے ہوئے آپ یہ مت بھولیے گا کہ یہی نصرت لاہور سٹیڈیم میں پولیس کے ہاتھوں لاٹھی چارج کی وجہ سے شدید زخمی ہوئی تو پیپلز پارٹی بچ گئی تھی وگرنہ وہ موت کی کوٹھڑی میں قید بے بس بھٹو کے اس سوال پر کہ آیا اس کی پارٹی کے لیڈر اسے رہا کرانے کے لیے کوئی کوشش کر رہے تھے ، کیا تاریخی جواب دے آئی تھیں کہ آپ نے پیچھے کیا لیڈر شپ چھوڑ ی تھی کہ آج وہ کام آتی ۔
نصرت بھٹو کی ایک اور کہانی بھی لکھی جا سکتی ہے کہ بھلا کیوں کر ان کی اپنی ذات ، بیٹی اور داماد آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات لگے ۔ آخر کیوں ؟کیوں انھیں بھی پاکستان اور پاکستان سے باہر عدالتوں میں الزامات کا سامنا کرنا پڑا ۔ کیا انھوں نے اپنی بیٹی اور داماد کو بتانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ پانچ سال تک وزیر اعظم کی بیوی رہیں لیکن ان کے سخت ترین مخالف بھی نہ تو بھٹو پرکوئی کرپشن کا الزام لگا سکے اور نہ ہی خاتون اول پر ۔ تو کیا بدلتے برسوں میں بھٹو کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس میں گزارے ان پانچ سالوں کے آدرش اور اثرات اتنے کمزور پڑگئے تھے کہ وہ اپنی بیٹی اور داماد کے دلائل سن کر کمزور پڑ گئی تھیں کہ اگر نواز شریف اور ایجنسیوں کا سیاسی مقابلہ کرنا تھا تو پھر انہی کی طرح دولت کمانابھی ضروری تھا ۔دولت کمائے بغیر سیاست اور اقتدار ممکن نہیں تھا ۔ اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر بھی بیگم بھٹو نے ان دلائل کے آگے کیوں اتنی آسانی سے ہتھیار ڈال دیے اور یہ کیوں نہ کہا ، دلیل تو ایک قاتل کے پاس بھی ہوتی ہے جسے نہ کوئی عدالت مانتی ہے اور نہ ہی معاشرہ ۔ ایک کہانی اور بھی ہے جو شاید آپ اور میں نہیں لکھ سکتے ۔
اس کہانی کا اصل مصنف پختون قوم پرست محمود خان اچکزئی ہے ۔ یہ کہانی میں پوری جانتا ہوں اور پچھلے آٹھ سال سے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں ۔ کئی برس گزرتے ہیں کہ جنرل مشرف کی لائی ہوئی جمہوریت ابتدائی دنوں میں ایک غیرت مند پٹھان یہ کہانی سنا چکا تو فوراًکچھ خیال آیا ۔ بولا رؤف بھائی آپ کو قسم ہے ، اگر آپ نے اس کہانی کو لکھا کیونکہ سمجھا جائے گا کہ ایک پٹھان اپنا احسان جتلا رہا ہے ۔ اچکزئی کی قسم نے میرے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ اگر اچکزئی کبھی میرے ہاتھوں میں پڑی اپنی آٹھ سالہ پرانی ہتھکڑیاں کھول دیتا ، تو یہ ناقابل اشاعت کہانی بھی لکھی جاتی کہ کیسے ، جلا وطن مرتضٰی اور شاہنواز سے ایک بے قرار ماں نصرت بھٹو کو اپنے بچوں سے ملوانے کے لیے ، جنرل ضیاء کی پرواہ کیے بغیر ، اچکزئی کابل لے جانے کے انتظامات کر چکا تھا !!
یہ وہی اچکزئی تھا جسے بھٹو کے حکم پر دھاندلی کر کے کوئٹہ سے یحیٰی بختیار کو جتوایا گیا تھا ۔ جس دن فوج نے ٹیک اور کیا ، اس نے بھٹو کے خلاف اسی دن اپنی الیکشن پٹیشن واپس لے لی تھی کہ اسے دھاندلی ثابت کرنے کے لیے فوجی ، بھٹو کے خلاف استعمال نہ کر لیں !!
کاش نصرت بھٹو کی یہ ڈرامائی اور سنسنی خیز کہانی لکھی جا سکتی جو مجھے اوپر کی ان تمام کہانیوں سے زیادہ سنسنی خیز اور لہو کو گرمانے والی لگتی ہے ۔ اب ایک چٹان جیسے مضبوط اور ضدی پٹھان اچکزئی کو بھلا کون سمجھائے کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد سیاسی دھوکے ، فریب ، بے وفائی کے ان عذاب موسموں میں ، بہادری ، جرأت اور دلیری کی ایسی کلاسک کہانیاں قبر میں ساتھ لے جانے کے لیے نہیں ہوتیں ۔ ایسی داستانیں اداس نسلوں کو اسی جنم میں ہی سنائے جانے کے قابل ہوتی ہیں !!
(
بشکریہ: آن لائن۔ ٹاپ سٹوری )