پروفیسر ایم نذیر احمد تشنہ

نادراتِ اُردو

زیر نظر مضمون فاضل مصنف کی کتاب ''نادرات اُردو'' سے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب ''الفیصل'' اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے۔
زبان بنتے بنتے بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی زبان کے بننے کے بارے میں وقت معینہ کا تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اردو زبان کا مسئلہ تو اور بھی گھمبیر ہے۔ اس کی ابتدا ایک ایسے ملک سے ہوئی جو برعظیم(Sub. Continent)تھا۔ یہاں کی مذہبی زبان سنسکرت اور ہر علاقے کی اپنی اپنی پراکرتیں تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ برہمن سنسکرت زبان کو لے کر سماجی خول میں بند ہو گیا تھا اور پراکرتیں ہی سماجی تقاضے پورے کر رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر علاقے کی پراکرتوں کی قربت دیکھ کر اردو زبان کی ابتدا اور وطن کے بارے قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقا ر کہتے ہیں کہ ''زبان کی پیدائش کے بارے میں کوئی قطعی اور مسکبت بات کہنا اس لیے مشکل ہے کہ یہ کسی وقتِ معینہ پر پیدا نہیں ہوتی بلکہ سماجی ضرورت کے ایک طویل عمل سے وجود میں آتی ہے اور سماجی تقاضوں کے تحت اس میں تغیر و تبدل کا عمل شعوری اور غیر شعوری دونوں سطحوں پر جاری رہتا ہے۔ اس لیے محققین لسانیات کے نزدیک جب کسی خاص زمانے میں کسی خاص زبان کی شکل کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کامطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ اس زمانے میں زبان ارتقا کی کس منزل پر ہے۔''
برعظیم میں پہلا نامور فاتح محمد بن قاسم تھا جس کے لشکر کا ایک حصہ بلوچستان کے جس علاقے سے گزر کر دیبل پہنچا، اُس کی زبان براہوئی تھی۔ یہ لشکر خلیج فارس سے آنے والے اسلامی لشکر کے ساتھ ۷۱۲ء میں دیبل میں مل گیا اور پیش قدمی کرتا ہوا ملتان تک جا پہنچا۔ اس خطے میں سندھی زبان بولی جاتی تھی۔ اس طرح ایک طرف براہوئی زبان نے اور دوسری طرف سندھی زبان نے مسلم عرب فاتحین کی زبان عربی اور فارسی کو خوش آمدید کہا۔ سید سلیمان ندوی ''نقوش سلیمانی'' میں لکھتے ہیں کہ مسلمان سب سے پہلے سندھ میں پہنچے ۔ سندھ اس وقت بھکر اور ٹھٹھہ کے سواحل سے ملتان تک پھیلا ہوا تھا۔ یہیں ان کی زبان عربی اور پھر فارسی کا ہندی زبانوں سے ارتباط و اختلاط ہوا۔ لہٰذا یہ ایک واضح اور یقینی امر ہے کہ اردو کا اصلی مولد سندھ ہے اور اس کا ہیولیٰ اس وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا۔ سندھ سے محمد بن قاسم کی واپسی کے بعد قرامطیوں نے وادی سندھ کے وسط میں اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔ ان حکومتوں کے روابط ایران سے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے کی زبان فارسی سے زیادہ متاثر ہوئی اور اس کے نتیجے میں ''ملتانی'' ایک نئے لبادے میں ظاہر ہوئی۔
محمود غزنوی پہلی دفعہ ۱۰۰۱ء میں کوہ ہندوکش عبور کر کے برعظیم پر حملہ آور ہوا اور یہ شمال مغربی سرحدی علاقے کی زبان کو روندتا ہوا اٹک تک آ پہنچا۔ محمود غزنوی کے لشکر کے فارسی اور ترکی بولنے والے فاتحین نے سب سے پہلے اس خطے کی زبان کو متاثر کیا جسے پشتو کہا جاتا ہے۔ محمود غزنوی کے حملے جاری رہے اور پنجابی کو فاتحین کی زبان سے واسطہ پڑا۔ محمود غزنوی نے قرامطی حکومتوں کا خاتمہ کر کے پنجاب کو غزنی کا صوبہ قرار دے کر اپنے غلام ''ایاز'' کو یہاں کا گورنر مقرر کر دیا۔ اس طرح پنجاب اور غزنی کے درمیان گہرے روابط قائم ہو گئے۔ اسی دور میں داتا گنج بخش علی ہجویریؒ بھی محمود غزنوی کے ہمراہ پنجاب آئے اور لاہور کو اپنی سکونت کا شرف بخشا۔ ''ان گہرے روابط نے پنجابی، فارسی، ترکی اور پشتو کو باہم دگر کر دیا۔''
محمود شیرانی لکھتے ہیں کہ غزنیوں کے قبضے میں تمام پنجاب، سندھ اور ملتان تھا۔ ہانسی، سرستی اور میرٹھ تک ان کے قبضے میں تھے بلکہ یوں کہیے کہ دہلی کے قریب تک پھیلے ہوئے تھے۔ اتنے بڑے علاقے کے مالی و ملکی انتظام کے لیے عمال کو اس ملک کی زبان کو سیکھنا ضروری تھا۔ چونکہ لاہور ہند کا دارالسلطنت تھا۔ اس لیے ظاہر ہے کہ اس خطے کی زبان کو اس عہد کی حکومت اور مسلمانوں نے ترجیح دی ہو گی۔ ڈاکٹر انور سدید کے نزدیک حافظ محمود شیرانی کا استدلال بہت مضبوط ہے کہ شمال مغرب سے آنے والے مسلمانوں کی اولین فرودگاہ پنجاب تھا۔ ان کا زیادہ قیام بھی اسی خطے میں ہوا پھر یہیں سے وہ فاتحانہ حیثیت میں دہلی کی طرف بڑھے۔ چنانچہ زبانوں کا طویل اختلاط اسی خطے میں عمل میں آیا اور یہیں سے اس زبان نے وسطی اور جنوبی ہند کی طرف سفر کیا۔ حامد حسن قادری کے خیال میں دو سو برس کے قریب خاندانِ غزنوی نے پنجاب میں حکومت کی، لاہور دارالحکومت رہا۔ مختلف اقوام و ممالک کے مسلمان (عرب، ترک، مغل، ایرانی و افغانی) پنجاب میں مقیم رہے اور اہل ہند کے ساتھ تمدن و معاشرت ، لین دین ، شادی بیاہ ہر قسم کے تعلقات پیدا کیے۔ اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے مقامی الفاظ اپنی زبانوں میں ملانے شروع کیے اور اہل ہند نے عربی، فارسی، ترکی زبانوں کے الفاظ اپنی زبان میں شامل کیے۔
محمود غزنوی نے ۱۰۰۱ء سے ۱۰۳۰ء تک ہندوستان پر سترہ حملے کر کے ہندی ریاستوں کی چولیں ہلا دی تھیں تاہم شہاب الدین محمد غوری نے پنجاب سے آگے بڑھ کر شمالی ہندوستان پر کامیاب حملے کیے۔ وہ خود تو واپس غزنی جاتے ہوئے شہید کر دیے گئے تاہم ان کے سپہ سالار قطب الدین ایبک نے شمالی ہندوستان کی فتح مکمل کر کے دہلی کو اپنا پایہ تخت بنا لیا۔ محمود غزنوی کا پہلا دور پنجاب تک اور غوری خاندان کا دوسرا دور ۱۲۰۶ء سے ۱۳۸۹ء (خاندان غلاماں سے خلجی اور تغلق خاندان) تک جاری رہا۔ اس دور میں دہلی اور میرٹھ کے اطراف میں برج بھاشا اپنی ارتقائی منازل طے کر رہی تھی۔ مسلمانوں کی آمد سے مسلمانوں کی زبان (عربی، فارسی، ترکی) اور اب اس میں پشتو اور پنجابی بھی برج بھاشا کے ارتقائی مراحل میں شامل ہو گئی اور ایک نئی زبان کی طرح پڑ گئی جسے کسی نے ریختہ، کسی نے ہندوی اور کسی نے ہندوستانی کہا۔
علائوالدین خلجی نے ۱۲۹۷ء میں گجرات فتح کیا اور اس کے سالار ملک نائب نے ۱۳۱۰ء میں دکن اور مالوہ پر قبضہ کر کے انھیں سلطنت دہلی کا حصہ بنا دیا۔ محمد تغلق، تاریخ جسے دانا بینا بے وقوف کہتی ہے۔ اس نے ۱۳۲۷ء میں دہلی کے بجائے شمال و جنوب کے درمیان دولت آباد کو دارالحکومت بنایا اور دہلی کی ساری آبادی کو دولت آباد کوچ کرنے کا حکم دیا۔ دولت آباد کی آب و ہوا نے دہلی سے آئی ہوئی آبادی کو بری طرح متاثر کیا اور محمد تغلق کو اگلے ہی سال واپس دہلی لوٹ جانے کی اجازت دینا پڑی۔ تاہم انتقال آبادی نے دکن میں لسانی و تہذیبی عمل کو ایک نئی جہت پر ڈال دیا۔ ''شمال سے آنے والے مسلمان جو مخلوط زبان اپنے ساتھ لائے تھے، اس نے دکنی کو ایک نئی طرح دی اور دکھنی، شمال سے آنے والی زبان کا حسین امتزاج بن گئی۔ ''ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں کہ یہ لوگ تُرک نژاد ضرور تھے لیکن خود ان کو شمالی ہند میں شمال مغرب سے آ کردہلی میں آباد ہوئے صدیاں گزر چکی تھیں۔ یہ لوگ شمالی ہند سے اپنے ساتھ دکن میں وہ زبان لے کر آئے تھے جو بازار ہاٹ میں بولی جاتی تھی اور جس کے ذریعے سے یہ معاملات زندگی طے کرتے تھے… اس لیے انھوں نے اپنے ساتھ لائی زبان میں یہاں کی مقامی زبانوں کے الفاظ شامل کر کے اپنے مافی الضمیر کا اظہار کیا اور اس طرح اس زبان کو سیاسی و معاشرتی تقاضوں کے تحت نئے ماحول میں قابل قبول بنا دیا۔''
دکن میں تین بڑی ریاستیں گجرات، گولکنڈہ اور بیجا پور قابل ذکر تھیں۔ ''دکن میں تین بڑی زبانیں تلنگی، کنٹری اور مرہٹی بولی جاتی تھیں ان کے علاوہ چھوٹی چھوٹی اور بہت سی زبانیں رائج تھیں لیکن کوئی بھی مشترک زبان ایسی نہیں تھی جو مختلف طبقوں اور علاقوں کے درمیان معاملات، معاشرت اور میل جول کا ذریعہ بن سکے۔ مسلمان جس زبان کو شمال سے اپنے ساتھ لائے تھے اور جس کے خون میں قوت عمل اور فکری توانائی شامل تھی، نے مقامی زبانوں سے اتحاد کا ایک نیا سبق دیا۔ دکن میں اردو زبان کے اسی وسیع تر اتحاد کے نتیجے میں پھیلی اور ضرورت کی زبان بن کر کوٹھوں چڑھی۔''
نصیر الدین ہاشمی نے ''دکن میں اردو'' میں یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ ۷۰۰ھ میں دکن میں اردو یا دکنی مروج تھی۔ غرض اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دکنی یا اردو کا آغاز شاہ جہان آباد کے دور کی یادگار نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے اس کی ابتدا ہو چکی تھی لیکن ڈاکٹر ذوالفقار حسین ذوالفقار اس نظریے کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دکن میں اردو شمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں مسلمان سلاطین کی سر پرستی میں اس میں شعر وادب بھی تخلیق ہوا۔
۱۳۴۷ء میں دکن کے امیران صدہ نے محمد تغلق کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے اپنے ایک امیر علاؤ الدین کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا جو بہمنی کے نام سے پہچانا جاتاتھا۔ ۱۴۰۱ء میں گجرات کے صوبے دار نے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ بہمنی حکم رانوں نے شمال کی سرکاری و دفتری زبان فارسی کے مقابلے میں دکنی کو رواج دینے کی شعوری کوشش کی۔بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد آنے والے عاد ل شاہیوں اور قطب شاہیوں نے بھی اس روایت کو برقرار رکھا۔ شمال میں سرکاری اور ادبی زبان فارسی تھی۔ جنوب والوں کر دہلی والوں سے سیاسی پَرخاش تھی، بدیں وجہ اس کے برعکس بہمنی حکومت نے دکنی اردو کی سرپرستی کی جو قطب شاہی دور میں علمی و ادبی وظیفہ سر انجام دینے کے لائق ہو گئی۔ تاہم اسے دکن میں مقبول عام بنانے میں مبلّغِ دین صوفیا، سیاحوں اور تجارت پیشہ لوگوں کا بڑا ہاتھ ہے۔
بہمنی دور (۱۳۴۷ئ۔ ۱۵۲۵ئ) کی سب سے پہلی تصنیف ''نظامی'' کی ''کدم رائو پدم رائو'' مثنوی ہے۔ یہ مثنوی بہمنی خاندان کے نویں بادشاہ سلطان احمد شاہ والی بہمنی (۱۴۲۱ئ۔ ۱۴۳۴ئ) کے دو رمیں لکھی گئی۔ اس مثنوی کی دریافت کا سہرا ڈاکٹر جمیل جالبی کے سر ہے۔
کنگن ہتّ کیا دیکھناں آر سی
ہے راج توں دیکھ کیوں ہارسی
جو کُچ کال کرنا سو تو آج کر
نہ گھال آج کا کام تو کال پر
بھلے کوں بھلائی کرے کچ نہ ہوئے
بُرے کوں بھلائی کرے ہوئے توئے
بہمنی دور میں ۱۴۹۰ء میں عادل خان نے بیجا پور کی آزادی کا اعلان کر کے عادل شاہی سلطنت کی بنیاد رکھی اور ۱۴۹۰ء سے ۱۶۸۵ء تک عادل شاہی خاندان بیجا پور برسرِ اقتدار رہا۔ اس دور میں مثنوی کی روایت پختہ ہوئی اور قصیدے اور مرثیے کو بھی رواج ملا۔ قصیدہ اور ہجو کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہجو کی روایت بھی اسی دور میں سامنے آتی ہے۔ یہ ہجو کہیں تو غزل کے شعر میں اور کہیں باقاعدہ موضوع کی شکل میں ملتی ہے۔
بہمنی خاندان کا آخری چشم و چراغ محمود شاہ بہمنی کا چراغ زندگی ۱۵۱۸ء میں گُل ہو گیا۔ تو سلطان قلی نے قطب شاہی خاندان کی سلطنت (۱۵۱۸ئ۔ ۱۶۸۶ئ) قائم کی۔ محمد علی قطب شاہ کے ہم عصر شعرا میں ملا وجہی کانام سر فہرست ہے۔ قلی قطب شاہ کے دربار کا یہ ملک الشعرا اپنی رندی و شاہد بازی کے حوالے سے مشہور ہوا۔ ملا وجہی، کی وجہ شہرت ''سب رس'' ۱۶۳۵ء ہے جو عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر لکھی گئی۔ اس کے علاوہ فارسی دیوان ''دیوان وجیہ'' ہے مگر اردو زبان و ادب میں خاصے کی چیز، اردو میں ''قطب مشتری'' ۱۶۰۹ء ہے جس میں محمد علی قطب شاہ کامشتری (بھاگ متی) سے عشق کا قصہ رمزیہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے نزدیک مثنوی سے بھی خوب اس کا ''دیباچہ'' ہے جس کی حیثیت ''مسدس حالی'' کے ساتھ اس دیباچے کے ''مقدمہ شعر و شاعری'' کی ہے۔ وجہی نے دیباچے میں فنِ شاعری پر بڑی دلچسپ بحث کی ہے۔
جو عاقل ہے یو بات مانے وہی
قدر اس ادا کی پچھانے وہی
عجب تحفے قدرت کے آنے لگے
کہ دیکھ اس مَلک رشک کھانے لگے
عجب ایک اس وقت پر مرد تھا
ہنر وند عاقل جہاں گرد تھا
دکن میں مغلیہ دور بیجا پور پر قبضہ (۱۶۸۵ئ) اور فتح گولکنڈا(۱۶۸۶ئ) بعہد اورنگ زیب عالمگیر شروع ہوا ۔ اورنگ زیب عالمگیر مغل بادشاہ نے جنوب کی ان ریاستوں پر قبضہ کر کے تقریباً ساڑھے تین سو سال بعد شمال و جنوب میں گھر آنگن کی صورت دے دی۔ اس طرح شمال و جنوب کے فاصلے سمٹ گئے اور ہر دو خطوں کی تہذیب نے بانہوں میں بانہیں ڈال لیں۔ دکنی زبان جو بہمنی دور سے شمال دشمنی کی بنا پر اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے تھی، زبان ریختہ سے اثر پذیر ہونے لگی۔ دوسری طرف شمال کے شعرا کو دکن میں ہونے والے اردو زبان کے ارتقا اور اردو میں ہونے والے تخلیقی کام کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ انھیں معلوم ہوا کہ جس زبان میں وہ محض تفنن طبع کے طور پر طبع آزمائی کرتے ہیں، وہ تو تخلیقی اظہار کی بے بہا صلاحیت سے مالا مال ہے۔
ولی دکنی نے ۱۷۰۰ء میں اپنے دوست شاہ ابو المعالی کے ساتھ دہلی کا سفر کیا۔ اس طرح شمالی ہند کے کئی شعرا اردو کی طرف ملتفت ہوئے۔ ۱۷۲۰ء میں ولی کا دیوان جب دلی پہنچا تو ولی کے تتبع میں اردو غزل کہنے کا رواج ہوا جس نے بڑھتے بڑھتے ایک شعری تحریک کی صورت اختیار کر لی۔
پیو کے بیراگ کی اداسی سو
دل یو بیراگی و اداسی ہے (ولیؔ)
ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں کہ بلاشبہ دلی میں ولی کے دیوان کی آمد سے اردو شاعری میں ایک نیا چشمہ پھوٹ نکلا تھا لیکن اس کے خلاف منفی لہر بھی دلی ہی سے اٹھی۔ مشاعروں اور ادبی محفلوں میں بعض فارسی شعرا نے ریختہ گو شاعروں کو نشانہ تمسخر بناناشروع کر دیا لیکن اس منفی رویے کانتیجہ نہ صرف مثبت تھا بلکہ یہ اردو زبان کے لیے بہت مفید بھی ثابت ہوا۔ خان آرزو نے فارسی شعرا کی صفوں سے نکل کر ریختہ کے مشاعرے کرانے شروع کر دیے۔ اس طرح ایہام گوئی کی تحریک وجود میں آئی۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں کہ ہر اس فقرے کو ہندوی کا نام دیا جانے لگا جس میں دوسری زبانوں کے الفاظ ملا جلا کر بولے جا رہے تھے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کے خیال میں ریختہ کے متعدد معنی ہیں مثلاً بنانا، ایجاد کرنا، اختراع کرنا، نئے سانچے میں ڈھالنا اور موزوں کرنا وغیرہ لیکن ہندوستانی ادب میں ریختہ کی اصطلاح کا بالکل نیا مفہوم قرار پایا یعنی ہندی اور فارسی راگوں کو ملا کر ہندوستانی موسیقی میں جو اختراع عالم وجود میں آئی، اس کو ریختہ کہاگیا۔ تاہم بعد میں ایسی شاعری کو بھی ریختہ کہا جانے لگا جس میں فارسی اور ہندی زبانوں کی آمیزش کی گئی ہو۔ اس تعریف پر امیر خسرو پورے اترتے نظر آتے ہیں۔
زحالِ مسکیں مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاناں، نہ لہیو کا ہے لگائے چھتیاں

شبانِ ہجراں در از چوں زلف ور وزِ وصلش چو عمر کوتاہ
سکھی پیاں کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکا یک از دل دو چشم جادو بہ صد فریبم بہ برد تسکیں
کسے پڑی ہے جو سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں زمہر آں مہ بہ گشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

بحق روزِ وصالِ دلبر کہ داد مارا فریب خسروؔ
پیست من کے درائے راکھوں جو جائے پائوں پیا کی کھتیاں
ڈاکٹر انور سدید نے پنجاب کے ایک شاعر، مراد شاہ لاہوری کا ایک شعر''اردو ادب کی مختصر تاریخ'' میں درج کیا ہے جو ''نالۂ مراد'' میں ۱۷۸۸ء میں لکھا گیا۔
وہ اردو کیا ہے، یہ ہندی زباں ہے
کہ جس کا قائل اب سارا جہاں ہے
ڈاکٹر انورسدید لکھتے ہیں، نثر میں میر محمد عطا حسین خان تحسین نے ''نو طرزِ مرصع'' میں ''اردو'' کو زبان کے معنی میں لیا ہے۔ ڈاکٹر گل کرسٹ کی ''قواعد زبان ہندوستانی'' (۱۷۹۵ئ) مولوی امانت اللہ ''صرفِ اردو'' (۱۸۰۵ء )، میر قدرت اللہ قاسم کے ''تذکرے'' اور انشا اللہ خان انشا کی ''دریائے لطافت'' میں اس کے معنی زبان کے لیے گئے ہیں۔ اس رواج عام کے بعد اردو زبان کے لیے جو پرانے نام ریختہ اور ہندوی وغیرہ مستعمل تھے، آہستہ آہستہ متروک ہو گئے۔
سراج الدین خان آرزو نے بھی ہندوستان کی زبان کو ہندی کا نام دیا ہے۔ حتیٰ کہ غالبؔ نے اپنے خطوط کا نام ''عودِ ہندی'' تجویز کیا۔ میر اثرؔ نے اپنی مثنوی ''خواب و خیال'' کی زبان کو ''ہندوی'' قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں کہ ابتدا میں ہندوی ، خط نسخ میں لکھی جاتی تھی اور یہ سلسلہ شاہ جہاں کے وقت تک جاری رہا مگر شاہ جہاں کی فنکارانہ اپج اور نفاست پسندی نے یہاں بھی رنگ دکھایا اور اس نے نسخ کی جگہ نستعلیق کو رواج دیا۔ ولی سے میرؔ و غالبؔ تک شمالی ہند میں ریختہ شاعری کی ایک قسم کے لیے استعمال ہونے لگا اور ساتھ ہی ساتھ دکنی کی ترقی یافتہ زبان کے لیے برتا جانے لگا۔
قائم: قائم مَیں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
اک بات لچر سی بہ زبانِ دکنی تھی
میر:ؔ خوگر نہیں کچھ یوں ہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا، باشندہ دکن کا تھا
غالبؔ: ریختہ کے تمھیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
غالبؔ ، اردو زبان کے لیے ''اردو معلی'' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کے خیال میں شعرا میں مصحفیؔ کے ہاں اول اول سے زبان کے نام کے لیے استعمال کیا گیا۔
خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میر و مرزا کی
کہیں کس منہ سے اے مصحفیؔ اردو ہماری ہے
دبستان دہلی کی بنیاد میر و سودا جیسے کاملین فن کے ہاتھوں پڑی۔ لکھنؤ میں میر صاحب نے ایک دفعہ فرمایا کہ خاقانی، سعدی، حافظ کا کلام سمجھنے کے لیے فارسی کی فرہنگیں درکار ہیں لیکن میرا کلام سمجھنے کے لیے اس محاورے اور زبان کا جاننا ضروری ہے جو دہلی میں جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بولی جاتی ہے۔ میر صاحب ہی پر منحصر نہیں بلکہ اس دور کے بیشتر شعرا کہتے تھے۔ اس دبستان کو غالب، ظفر، ذوق اور مومن نے باہم عروج تک پہنچایا۔
اٹھارویں صدی عیسوی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھرنا شروع ہوا تو اس سلطنت کے بڑے بڑے صوبے دار خود مختار ہو گئے۔ ان صوبوں میں اہم ترین اَوَدھ تھا۔ اودھ کی حکمرانی کا خواب، نواب سعادت خان نے دیکھا تھا مگر تعبیر نواب شجاع الدولہ کے ہاتھوں ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد نواب آصف الدولہ اودھ کے والی مقرر ہوئے تو ان کے عہد میں دارالسلطنت فیض آباد سے لکھنؤ منتقل ہوا اور اس شہر کو وہ اوج و کمال نصیب ہوا کہ اس کے سامنے دلی کی روشنیاں بھی ماند پڑ گئیں … اٹھارویں صدی کے ربع آخر میں جب لکھنؤ کو تہذیبی، ثقافتی اور ادبی دبستان کی حیثیت حاصل ہو گئی تو دلی کے ٹوٹے ہوئے ستارے اس دبستان کے ماہتاب و آفتاب بن گئے اور ان کی کرنوں سے انیسویں صدی مطلع عالم تاب بن گئی۔
دبستان لکھنؤ کے دو بڑے نام خواجہ آتش اور شیخ ناسخ ہیں لیکن دبستان لکھنؤ کے نمائندہ شاعر کے طو رپر اگر کسی کا نام لیا جا سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف آتشؔ ہی ہیں۔ کلیم الدین احمد لکھتے ہیں کہ خواجہ آتش شاعر تھے اور ناسخ شاعری کے لیے تخلیق نہیں کیے گئے تھے لیکن محمد حسین آزاد کا کہنا ہے کہ معاصرانہ چشمک کے باوجود خواجہ آتش اپنے حریف شیخ ناسخ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے اور ان کو شاعری میں استاذ شاعر کے درجے پر سمجھتے تھے۔ شیخ ناسخ کا جب انتقال ہوا تو خواجہ صاحب نے ان کی تاریخِ وفات کہی اور اس دن سے شعر کہنا چھوڑ دیا۔ فرماتے تھے کہ شعر کہنے کا لطف محض شعر کہنے میں نہیں، سننے اور سنانے سے بھی ہے۔ جس شخص کو سنانے کا لطف تھا جب وہ نہ رہا تو اب شعر کہنا نہیں، بکواس ہے۔
میر تقیؔ میر ؔ ناسازگاریٔ حالات سے تنگ آکر لکھنؤ پہنچے اور ایک مشاعرے میں اہلِ لکھنؤ سے یوں مخاطب ہوئے۔
کیا بودوباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روز گار کے
اس کو فلک نے لوٹ کر برباد کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
ریاست جموں و کشمیر میں اردو کا ارتقا بڑا دلچسپ موضوع ہے۔ ڈاکٹر افتخار مغل مظفر آباد اور ڈاکٹر محمد عالم چودھری کوٹلی کشمیر میں اردو کی داغ بیل پڑنے اور فروغ پانے پر تحقیقی مقالے لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے چکے ہیں۔ حبیب کیفوی کی کتاب ''کشمیر میں اردو'' ریاست جموں و کشمیر میں اردو کے بارے میں بڑی معلوماتی کتاب ہے۔ ریاست میں تقسیم سے قبل سری نگر اور جموں دو بڑے مراکز تھے۔ جموں کو ''پنجاب میں اردو'' اور ''دبستان دہلی'' کا تسلسل سمجھنا چاہیے۔ حبیب کیفوی ''کشمیر میں اردو'' ص۲۱ پر لکھتے ہیں۔ ''صوبہ جموں کے شہرمیر پور میں ۱۷۱۷ء میں میاں غلام محی الدین میر پوری نے ''گلزار فقیر'' کے نام سے ۵۰۲ اشعار کی چالیس صفحات میں اردو مثنوی لکھی۔ اس طرح میرپور کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے کہ اردو کی پہلی تاریخ کا مصنف میاں غلام محی الدین میر پور کا رہنے والا تھا۔ ۱۸۵۸ء میں جموں شہر میں''احمدی پریس'' قائم ہوا اور یہاں نشر و اشاعت کی سہولت میسر آئی۔ ۱۸۶۸ء میں عیسائی مشنری جموں آئے اور ایک انگریز پادری ینگسن نے جموں میں کلیسا کی بنیاد رکھی۔ ینگسن یورپین ہونے کے باوجود عمدگی سے اردو بولتا تھا۔ انگریز پادری مشن سکولوں اور گرجائوں میں اردو میں انجیل کے واعظ سناتے اور لوگوں سے اردو میں ہی گفتگو کرتے تھے۔
مہاراجا رنبیر سنگھ (۱۸۵۷ئ۔ ۱۸۸۵ئ) نے چودھری شیر سنگھ رام پوری (راجوری) کو تجارتی اور سیاسی روابط کے لیے بخارا بھیجا۔ اس نے ۱۸۶۵ء میں تجارتی و سیاسی تعلقات کا جائزہ ۱۵۰ صفحات میں اردو میں مہاراجا کو پیش کیا۔ مہاراجا پرتاب سنگھ (۱۸۸۵ئ۔ ۱۹۲۵ئ) نے فارسی کی جگہ اردو کو فارسی زبان بنایا اور ۱۹۲۴ء میں سرکاری سر پرستی میں جموں سے پہلا اخبار ''رنبیر'' جاری ہوا۔
ریاست میں دوسرا بڑا مرکز سری نگر تھا۔ وادی کشمیر کا قدیم تعلق ایران سے رہا ہے۔ اس تعلق کو میر سید علی ہمدانیؒ اور ان کے ہمراہ آنے والے سات سو سادات اور مریدین نے مزید مستحکم کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ عربی، فارسی اور مقامی زبانوں کے باہمی اختلاط سے اردو زبان کا خمیر تیار ہوتا تھا تو یہاں بھی عربی، فارسی اور کشمیری کے ملاپ سے ایک نئی زبان اردووجود میں آئی جو بعد ازاں پنجاب سے تعلقات کی وجہ سے اردو سے قریب ہوتی چلی گئی یا اردو کو اپنے ہاں کھینچ لائی۔
اردوکی بنیاد موہنجو دوڑو اور ہڑپہ کے کھنڈروں میں تلاش کرنا یا اس کے ہیولے کی دریافت کے لیے ویدوں کی سنسکرت زبان کی راکھ کو کریدنا سعی لا حاصل ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی آمد برعظیم کے جس جس خطے میں ہوئی ، وہ اپنے ساتھ عربی، فارسی اور ترکی کی زبانیں لائے اور مقامی پراکرنوں سے مل کر ایک ہیولیٰ بنتا گیا اور پھیلتا گیا تا آں کہ مسلمانوں کے دارالحکومت دہلی جا پہنچا اور یہ دبستان دہلی کی بنیاد پڑی۔ دہلی کئی بار اجڑی اور بسی، اس سے سلاطین کے اقتدار کو نقصان بہت پہنچا تاہم ادب کو اس سے فائدہ ضرور ہوا کہ دبستان دہلی کے برگ وبار سے ایک دبستان ''دبستان لکھنؤ'' وجود میں آیا۔ دہلی والوں کی مخالفت ہی نے دکن میں ادب کی جوت جگائی۔
قیام پاکستان سے قبل ہی یہ خطہ اردو کو رابطے کی زبان مان چکا تھا۔ احراری علما اردو میں ہی اپنی جولانیٔ طبع کا جادو جگا رہے تھے۔ تحریک پاکستان میں تحریک کو عوام کے دلوں کی دھڑکن بنانے میں دو قومی نظریے کو منزل سے ہم کنار کرنے کا سہرہ اردو زبان کے سر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ذہنی بیداری اور دلوں میں جذبہ حریت کے بیج بونے والا خودی کا پیام بر علامہ محمد اقبالؒ کا تعلق اسی پاک سر زمین سے تھا۔ ''اقبال نے نظم میں اپنا سکہ منوایا تو اختر شیرانی نے غزل میں اپنا لوہا منوایا۔'' علم و ادب کے فروغ کے لیے ''انجمن پنجاب'' کی خدمات سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ انجمن کے تین بڑے اہم مقاصد: مضامین پر مباحثے، لیکچرز اور مشاعرے تھے۔ انجمن کے ابتدائی جلسوں میں مضامین پیش کرنے والوں میں مولوی محمد حسین آزاد، پنڈت من پھول، ڈاکٹر لائٹز، بابو نوبین چند رائے، بابو شاماچرن، مولوی عبدالعزیزالدین، بابو چندر ناتھ اور پروفیسر علم دار حسین شامل تھے۔ ان میں سے اکثر مضامین انجمن کے رسالے میں شائع کر دیے گئے۔ آزاد کے مضامین نے سب سے زیادہ اہمیت حاصل کی جس کے بعد ڈاکٹر لائٹز نے انھیں انجمن کے لیے مستقل لیکچرر مقرر کرنے کی تجویز منظور کروائی۔ آزاد کے مقالات میں سے اردو کی نشوونما اور اصلیت قابل ذکر ہیں۔ اوریٔنٹل کالج کی تجویز اور اس کا قیام انجمن کا اہم کارنامہ ہے۔
انجمن کی مقبولیت میں موضوعی مشاعروں کا بڑا اہم کردار ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں کہ ادبی اہمیت کے حامل مشاعروں کی وجہ سے انجمن پنجاب کو خصوصی شہر ت حاصل ہو گئی۔ انجمن کے ان مشاعروں میں آزادؔ اور حالیؔ دو بڑے اہم نام ہیں اور اردو کی قدیم نظم میں انقلاب لانے اور شاعری کو فطرت و صداقت سے ہم آہنگ کرنے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انجمن کی کاوشوں سے دبستان لاہور بنا اُس نے دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ کو بھی متاثر کیا۔ ڈاکٹر انور سدید کہتے ہیں کہ ''حفیظ جالندھری کی شاعری کے پس منظر میں تین بڑے شعراء حالیؔ، اقبالؔ اور ٹیگوردکھائی دیتے ہیں۔ تاثیرؔ کی شاعری میں اقبال کا آہنگ اور حفیظ کی موسیقی توجہ کھینچتی ہے، احسان دانش کی رومانیت میں ماضی کی یادوں اور فطرت پرستی کا بڑا دخل ہے اور ترقی پسند تحریک میں سجاد ظہیر کانام اساسی حیثیت رکھتا ہے۔''
قیام پاکستان کے بعد بھارت سے پاکستان منتقل ہونے والوں میں اردو اہل زبان کی اکثریت نے کراچی کو اپنا مستقر بنایا۔ دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ سے کئی اہل قلم کراچی پہنچے۔ ''قیام پاکستان کے بعد انتقال آبادی کی صورت حال میں پاکستان ہجرت کرنے والے لوگ اس تہذیبی و ثقافتی فضا کو یادوں کی صورت میں اپنے ہمراہ لائے جس سے یہاں کی مقامی تہذیبی فضا سے امتزاج کا عمل شروع ہوا۔ اردو شعروادب مجموعی طو رپر جن لوگوں سے اس دور میں متاثر رہا، ان میں اکثریت انہی اہل زبان شعراء و ادبا کی تھی جو ہجرت کر کے آئے تھے اور ان ہی کے دم قدم سے دبستان کراچی وجود میں آیا۔''
کراچی سے دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوا تو دبستان کراچی کی خوش بو اسلام آباد میں بھی پھیل گئی۔ تاہم اس دوران میں دبستان لاہور ایک مستقل حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ دبستان لاہور کے بارے میں ڈاکٹر علی محمد خان کا کہنا ہے۔ ''مجھے استاد محترم پروفیسر سجاد باقر رضوی اور کچھ دوسرے معروف ادباء کی حمایت حاصل ہے۔ یہ کہ کسی علاقے کا ادب جو زندگی کے کسی خاص ڈھب، معاشرت کے امتیازی خصائص، زبان و بیاں کی کسی خاص روش اور اسلوب سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ ایک دبستان سے موسوم ہوتا ہے۔ دبستان دلی اور دبستانِ لکھنؤ کی خصوصیات کا ذکر بہت ہو چکا۔ ان دونوں مراکز کی طرح لاہورکو بھی مدتِ مدید سے ایک سیاسی، معاشرتی اور ادبی مرکزیت حاصل ہے۔ جس طرح دلی کے دبستانِ شعر کی معاشرتی اساس، نزاکت اور لطافت ہے، اسی طرح لاہور کے دبستانِ شعر کی بنیادی خصوصیت خیال و اسلوب کی توانائی جدّت اور جدت کے قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ بات شعر و ادب کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں بھی جاری و ساری ہے۔ دلی اور لکھنؤ میں جو شعر و ادب پروان چڑھا تو اس کے سوتے ہندو مسلم تہذیب و روایت کے دریا سے پھوٹے بلکہ لاہور کی ادبی روایات میں انگریز حکمرانوں کے ایما اور ان کی توجہ کے اثرات بھی شامل ہیں۔ آپ کو خطہ پنجاب میں جس کامرکز بے شائبہ و بلا مبالغہ لاہور ہے، کئی ایک مذہبی و نیم مذہبی، اصلاحی ، سیاسی اور ادبی تحریکیں اپنی پوری قوت و توانائی اور جدت پسندی کے جذبات کے ساتھ پیدا ہوتی ، بڑھتی اور پھلتی پھولتی نظر آتی ہیں جن سے زندگی کا تحرک بھی ظاہر ہوتا ہے۔''
اردو زبان برعظیم سے نکل کر چین، روس اور وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں اپنا مقام پیدا کرنے کے بعد یورپ کے علمی و ادبی حلقوں تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا، برطانیہ کے علاوہ کئی یورپین ممالک سے اردو نشریات باقاعدگی سے ہو رہی ہیں اور آج اردو زبان کا علاقہ دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اور دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو کا نام تیسرے نمبر پر آ چکا ہے۔ یہ زبان اس وقت تک پھیلتی پھولتی رہے گی جب تک اس کانام ''اردو'' اور اس کا رسم الخط ''نستعلیق'' ہے۔
٭٭٭٭