انجم نامہ از: ڈاکٹر وسیم انجم

مبصر:صفدر رشید
دنیا بھر میں خطوط نگاری کی ایک شاندار روایت موجود ہے۔ مشاہیر کے خطوط تو ادبی اور تاریخی شان کے حامل ہوتے تھے، اسی لیے ان کی اہمیت آج بھی موجود ہے۔ مکتوب جہاں انسانی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے وہاں اپنے دور کا بھی آئینہ ہوتا ہے۔ آج غالب اور اقبال کے خطوط کو ان کے ادوار سمجھنے کے لیے بھی دیکھا جا رہا ہے اور ان پر نئے زاویوں سے روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ برصغیر میں مکتوب نگاری کے حوالے سے زیادہ شہرت غالب، شبلی نعمانی، علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد کو حاصل ہوئی بلکہ مولانا آزاد کے فرضی خطوط ''غبارِ خاطر'' نے تو ادبی نثر میں مستقل مقام حاصل کر لیا۔
آج مکتوب کی محض تاریخی حیثیت باقی ہے۔ ای میل اور موبائل فون کے زمانے میں خطوط لکھے جانا اور پھر ان کا شائع ہونا کسی واقعہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر وسیم انجم کی کتاب ''انجم نامہ'' غالباً واحد کتاب ہے جو زمانہ حال میں لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کی یہی حیثیت اسے ممتاز کرنے کے لیے کافی ہے۔ کتاب میں علمی و ادبی دنیا سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو سو پچھتر (۲۷۵) خواتین و حضرات کو ڈاکٹر وسیم انجم کی طرف سے لکھے گئے خطوط اور ان کے جوابی خطوط شامل ہیں۔ بہت سے معروف ادیبوں کے خطوط کی بدولت اس مجموعے کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے، مثلاً اس مجموعے میں ڈاکٹر جمیل جالبی، جمیل الدین عالی، جمیل مرزا، ڈاکٹر انور سدید، افتخار عارف، سید قاسم محمود، سلطان رشک، سید نصیر الدین نصیر، فخر زمان، ڈاکٹر فہیم اعظمی، ڈاکٹر تحسین فراقی،وغیرہم کے خطوط شامل ہیں۔
خطوط کو مکاتیب الہیان کے ناموں سے الفبائی ترتیب سے شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس لحاظ سے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ہماری تہذیب اور روایت کی ایک مٹتی ہوئی نشانی کو محفوظ کر لیا ہے۔
ناشر:انجم پبلشرز، راولپنڈی
……o……