سید ضمیر جعفری

قائداعظم کی خود اعتمادی

۱۹۴۷ء کے موسم بہار میں ایشیا کے نئے لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو نے نئی دہلی میں جو ایشیائی کانفرنس بلائی تھی اس میں جمہوری انڈونیشیا کے پہلے وزیر اعظم ڈاکٹر سلطان شہریار بھی شریک ہوئے تھے۔ واپسی پر جکارتہ جاتے ہوئے آپ ایک روز کے لیے سنگاپور گئے تو ہم نے صلاح کی کہ انہیں اپنے میس (Mess)میں لا کر چائے پلائی جائے ۔ راقم الحروف ان دنوں ہندوستان کی غیر منقسم فوج کے ساتھ جنوب مشرقی ایشائی کمان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ساتھ منسلک تھا۔ جس کا ہیڈ کوارٹر سنگا پور کی مشہور چودہ منزلہ عمارت ''کیتھے بلڈنگ ''میں تھا۔
جب پاکستان و ہند کی آزادی قطعی صورت پکڑنے لگی تھی ، ہمارا میس کسی ''فوجی میس' کے بجائے کوئی سفارتی ادارہ معلوم ہونے لگا۔ ہندوستان سے بھی زیادہ پاکستان ہی کا کیونکہ حسن اتفاق سے اب ہم سب کے سب مسلمان ہی رہ گئے تھے وہ بھی نہایت کٹر قسم کے پاکستانی۔ دو ایک اینگلوانڈین بھی تھے ، مگر مرشد نے ان کوبھی ڈنڈے کے زور سے پاکستانی بنا رکھا تھا۔ رہا انگریز حاکموں کا خوف تو وہ اپنی آزادی کے قرب نے ختم کر دیا تھا۔
۱۰ اپریل کو ڈاکٹر شہریار سنگارپور پہنچے تو ہم ملایا کے مشہور مسلمان قوم پرست لیڈرواتو جعفر بن عون کے دولت کدے پر جہاں وہ مقیم تھے ،ان سے ملے ، مگر ان کی مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ گویا تقریب کے ساتھ تقریب بندھی ہوئی تھی، جلسے ، جلوس پارٹیاں ، سپا سنامے ، ڈنر ، اکیلے شہر یار کو ایک دن میں جایوں ، ملائیوں ، ہندوستانیوں چینیوں ، سراوکیوں ،ویٹ نامیوں ، سیامیوں، فلپانیوںاور خدا جانے کن کن قوموں کی تقریبوں میں شامل ہونا تھا۔ پروگرام دیکھ کر ہماری تو ہمت نہ پڑتی تھی کہ اپنی مقابلتاً چھوٹی ، گھریلو سی چائے کاذکر بھی زبان پر لاتے ، لیکن شہر یار کے تپاک اور گرم جوشی کو دیکھ کر ہمت کر ہی دی اورجب اسی شام ہمارا معزز مہمان ہمارے دیہاتی میس کے دربانوں، ناریلوں اور بانسوں سے بنے ہوئے ''انٹی روم'' میں ہمارے درمیان بیٹھا تھا تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔
لیڈروں کو چائے پر بلایا جاتا تھا ، مگر انہیں چائے پینے کوئی نہیں دیتا تھا وہ ابھی مشکل سے بیٹھنے ہی پائے تھے کہ باتیں شروع ہو گئیں ۔ وقت کم تھا اور باتیں زیادہ۔ قدرتی طور پر پر ہم قائد اعظم کے متعلق کچھ جاننا چاہتے تھے۔
''آپ ہمارے قائداعظم سے بھی ملے ؟
ہم میںسے کسی نے فوراً سوال کیا۔
''ملے کیا معنی؟''
منحنا دھان پان سا شہر یار اچھل کر بولا۔
''مجھے ان سے ملنے کا ایک مدت سے اشتیاق تھا ، مجھے خوشی ہے کہ میری زندگی کی یہ تمنا پوری ہو گئی … مسٹر جناح بے حد پرکشش آدمی ہیں ، ایک مقناطیسی شخصیت… میری ملاقات اگرچہ مختصر تھی لیکن میں بہت ہی گہرے نقوش لے کر آیا ہوں۔''
''قائداعظم سے آپ کی کیا باتیں ہوئیں؟''
کسی نے بے تاب ہو کر سوال کیا۔
''میں اپنی گفتگو پر تو زیادہ روشنی نہیں ڈال سکتا ، کیونکہ'' مسٹر جناح نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ اتنا کہنا کافی ہوگا کہ ہم دونوں نے دل کھول کر باتیںکیں۔ انھوں نے میری ہر بات کو شفقت اور وابستگی کے گہرے احساس کے ساتھ سنا ، حالانکہ وہ مسلم لیگ کے نہایت ضروری مسائل میں الجھے ہوئے تھے اور بہت سے لیڈر مشوروں کے لیے باہر منتظر بیٹھے تھے۔''
''مسٹر جناح کی جس چیز نے مجھے سب زیادہ متاثر کیا۔ ''انھوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا:''وہ ان کی خود اعتمادی اور صاف گوئی ہے۔''
انھوں نے مجھ سے کہا: شہر یار مجھے صاف صاف بتادو کہ انڈونیشیا کے مسلمان نیم براعظم ہند کے مسلمانوں سے کیا کیا توقعات رکھتے ہیں۔ ہم ہر ممکن امداد کے لیے تیار ہیں اور ان کی آواز میں صداقت اور خلوص کی ایک ایسی قوت کانپ رہی تھی جو میں نے بہت کم زعما میں دیکھی ہے۔ بہت ہی کم ۔ پھر وہ کچھ دیر مطالبہ پاکستان کی وضاحت کرتے رہے اور ان کے لہجے میں میں نے پھر وہی عظمتِ خود اعتمادی محسوس کی۔
میں عصرحاضر کے بیشترقابل ذکرلوگوں سے مل چکا ہوں لیکن اظہار مافی الضمیر پر اتنی کاملانہ گرفت میں نے اورکسی میں نہیں دیکھی۔ وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں بس اتنا کہتے ہیں، صحت و صفائی کے ساتھ کہتے ہیں اور اپنے مدعا کے مکمل و مؤثر اظہار پر ساحرانہ قدرت رکھتے ہیں اور میں نے چند منٹ کی گفتگو میں محسوس کر لیا کہ اختلافی مسائل پر ان سے بحث چھیڑنا آسان نہیں۔ وہ پر وفیسر بیل (اس وقت نیدر لینڈ کا وزیراعظم) کی طرح اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہیں مارتے… ''یہ کہتے ہوئے شہر یار کھلکھلا کر ہنس پڑے اوران کے ساتھ ساری کی ساری محفل کشت زعفران بن گئی۔
ٹونی جو ایک زمانے میں پنڈت نہرو کا اندھا دھند عقیدت مند تھا اوراب تک جس کا تحت الشعور پوری طرح پاک نہ ہواتھا ۔ اس موقع پر پنڈت نہرو اور شہریار کی ذاتی دوستی سے فائدہ اٹھانے کی نیت سے بولا ۔
معاف کیجیے گا میں بھی آپ سے ایک صاف اور سیدھے سوال کا صاف اور سیدھا جواب چاہتا ہوںاوروہ یہ کہ آپ ہندوستان کے کس لیڈر سے سب سے زیادہ متاثرہوئے؟
''یہ بہت ہی مشکل سوال ہے۔''
شہر یار نے کچھ سوچتے ہوئے چائے کا پیالہ چھوڑ کر ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا:'' میں سمجھتا ہوںمجھے ایسے سوالوں کا جواب نہیں دیناچاہیے ۔ سچ تو یہ ہے میں نے ابھی تک اس پر غور ہی نہیں کیا۔ اتنی مہلت ہی کہاں؟…(ذرا مسکرا کر) اور میری ذاتی رائے صرف ذاتی رائے ہو گی جو پروفیسر بیل کے نزدیک اکثر غلط ہوتی ہے۔''
''جی ہاں !جی ہاں!میں آپ کی ذاتی رائے ہی جاننا چاہتا ہوں۔'' ٹونی نے اصرار جاری رکھا ۔ ''خیر میںاس سوال کا براہ راست جواب تو نہیں دے سکتا ۔'' وہ الفاظ کو جیسے تول تول کر اور ڈھونڈ ڈھونڈ کرلارہے تھے۔ ''مگر آپ لوگ یقینابہت خوش قسمت ہیں۔ آپ کے ملک میں دو تین آدمی یقینا اتنے بڑے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے لیڈروں سے بلندہیں۔ ان کی عظمت، ایک دوسرے سے ان کی برتری کا موازنہ کرنا میرا یاکسی بھی شخص کا منصب نہیں، اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ میں تو صرف جانتا ہوں کہ دراصل ایشیا کو آج ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو تاریخ کے دھارے کو پلٹ سکیں'' اور یہ کہہ کر انھوں نے سوال کا رخ پلٹتے ہوئے فرمایا!
''آپ کے لیڈر اصل میں ہماری جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایشیا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ایشیا کی روندی مسلی ہوئی انسانیت جناح کی طرف دیکھ رہی ہے۔اگر آپ آزاد ہو گئے تو ہم غلام نہیں رہ سکتے۔''
ٹونی کو پنڈت نہرو سے جتنی عقیدت تھی ، ماشو کواتنی ہی نفرت تھی ، یا کم ازکم چڑ کہنا چاہیے ۔ اس نے شہر یار سے پوچھنے کے لیے مدت سے ایک ہی سوال سوچ رکھا تھا اور ہم سب کے روکتے روکتے پوچھ ہی لیا۔
'' ایشیائی کانفرنس کے متعلق آپ کو ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کے جذبات و احساسات سے تو یقینا آگاہی ہو گی…''
''میں آپ کا سوال سمجھ گیا۔''
ڈاکٹر شہر یار ذرا سنبھل کر بیٹھ گئے ۔'' میں آپ سے صرف اس قد ر کہنا چاہتا ہو ں کہ آپ ہمارے نقطۂ نگاہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ میں نے مسٹر جناح پر بھی… حالانکہ ان کے سامنے ایک ڈرے ہوئے طالب علم کی طرح بیٹھا رہا ، اپنا نقطۂ نگاہ پوری طرح واضح کر دیا تھا اور مجھے خوشی ہے کہ وہ اس سے مطمئن معلوم ہوتے تھے۔''
مگر اس سوال پر انڈونیشیا کا جواں سال سوشلسٹ وزیراعظم خاصا پریشان ہو گیا اور گھبراہٹ کو شہر یار کے چہرے کی پر کشش دلآویزی اور ان کی پرکشش آنکھوں میں سیلا نگور کی طلسمی جھیل میں تیرتے ہوئے سات رنگوں کی طرح پھیلتی ہوئی مسکراہٹ بھی نہ چھپا سکی ۔
''ہاں دیکھیے! ''ڈاکٹر شہر یار نے اپنے کاغذات کے تھیلے میں سے سرخ رنگ کی ایک آٹو گراف نکال کر اس کے ایک ورق پر انگلی رکھتے ہوئے کہا : یہ دیکھیے آپ کے قائد اعظم کے دستخط ،یہ میں نے اسی ملاقات میں حاصل کیے تھے۔ اور واقعی آٹو گراف کے سفید ورق پر ہمیں قائداعظم کے مانوس و محبوب دستخط ثبت نظر آئے دستخط کے اوپر بحروف انگریزی یہ الفاظ تحریر تھے:Live and let Liveقائداعظم کے دستخط کے نیچے کسی انگریزی نظم کے دو بند تھے اور پھر مسز سروجنی نائیڈو کے دستخط۔ وطن سے ہزارو ں فرسنگ اور پردیس میں بیٹھے ہوئے قائداعظم کے مبارک ہاتھ کی تحریر دیکھتے ہی جوش و حرارت کے نہ جانے کتنے ہی حیات افروز سوتے یک لخت ہمارے دل میں پھوٹ نکلے …اور ہم سب … آداب و قواعد اور فرق و مراتب کی تمام حدود توڑ تاڑ کریکبار گی آٹو گراف پر ٹوٹ پڑے۔ جیسے اچانک کوئی آسمانی نعمت ہمارے سامنے آگئی ہو۔ ماشو کا تو یہ حال تھا کہ نعرہ تکبیر بلند کرنے کے ولوے پر بڑی مشکل سے قابو پاسکا۔
شہریار اس منظر سے بہت متاثر ہوئے۔ تاثر میں ڈوبی ہوئی تقریبا ًگلو گیر آواز میں پاس بیٹھے واتو جعفر بن عنوان سے کہنے لگے۔ '' جناح بہت بڑی قوت ہے۔''
اور ان سے پرے ملایا کے گورنر جنرل مسٹر میلکم میکڈانلڈ کو جو دیر سے جو ہور کے ولی عہد تنکو مہاکوٹا سے نہ جانے کیا گپ شپ کر رہے تھے، میں نے یہ کہتے ہوئے سنا:''مسٹر جناح کی نخوت کا راز مجھ پر آج کھلا ،اس کی پشت پر پوری قوم ہے۔''
بشکریہ :شاہکار کتاب نمبر۳۳ (نقوش قائداعظم ) از سید قاسم محمود
٭٭٭٭