سعادت حسن اور مِنٹو تحقیق و تالیف: ابدال احمد جعفری

مبصر:ڈاکٹر مرزا حامد بیگ
سعادت حسن منٹو(پ:۱۱مئی ۱۹۱۲ء پیروڈی، تحصیل سمرالہ، ضلع لُدھانہ۔م:۱۸ جنوری ۱۹۵۵ء لاہور) کے صد سالہ جشنِ ولادت کے موقع پر اردو دنیا نے کھلے دل سے منٹو کی عظمت کا اعتراف کیاہے۔ حکومت پاکستان نے (۱۴ اگست ۲۰۱۲ئ) سعادت حسن منٹو کو پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز: 'نشانِ امتیاز' سے نوازا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین، لاہور ؛ عالمی اردو ٹرسٹ، دہلی (بہ اشتراک: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی) ؛مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ اور ساہتیہ اکیڈمی، دہلی نے منٹو سیمینار کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر خالد اشرف، دہلی (بھارت) نے ''فسانے منٹو کے اور پھر بیاں اپنا'' کے عنوان سے ایک شاندار انتھالوجی مرتب کی، جو دہلی کے علاوہ لاہور سے بھی شائع کی گئی۔ ڈاکٹر شمس الحق عثمانی (بھارت) نے منٹو کے اپنی نگرانی میں تیار کردہ مجموعوں کو سامنے رکھ کر مستند کلیاتِ منٹو شائع کروائی۔ ہمارے ہاں طاہرہ اقبال کی ضخیم کتاب 'منٹو کا اسلوب 'آئی۔ بھارت اور پاکستان کے مختلف ادبی جرائد نے 'منٹو نمبر' شائع کیے۔ عالمی اردو ٹرسٹ، دہلی اور مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے سیمیناروں میں پڑھے جانے والے مقالات پریس میں ہیں۔ بطور خاص ، شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ریسرچ جنرل: 'تنقید' آیا چاہتا ہے۔ چندی گڑھ، بھارت کی شکتی سِدھُو کی تیار کردہ ٹیلی فلم: 'ٹوبہ ٹیک سنگھ' اور پاکستان کے ایوب خاور کی ٹیلی فلم 'بادشاہت کا خاتمہ' کااجراء ہوا۔ نیشنل سکول آف ڈرامہ(NSD)، دہلی نے منٹو کے افسانچوں مشمولہ:'سیاہ حاشیے' سے اخذ کردہ ڈرامہ: 'دفعہ۲۹۲، اسٹیج کیا، جو مرحلہ وار پورے ہندوستان میں اسٹیج کیا جا رہا ہے۔ اردو اکادمی، دہلی کی اسٹیج پر منٹو کے کئی افسانوں پر مشتمل ڈراموں کاسلسلہ اور شاہد محمود ندیم کا منٹو سے متعلق اسٹیج ڈرامہ:'کون ہے یہ گستاخ' (۲۰۱۳ئ) اس سے علاوہ ہیں۔
ابدال احمد جعفری کی مرتب کردہ یہ انتھالوجی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں سعادت حسن بطور شخص اور منٹو بطور قلم کار زیرِ بحث لایا گیاہے۔
انتھالوجی:'سعادت حسن اور منٹو کا آغاز سعادت حسن منٹو کی شخصیت اور فن سے متعلق گوشے''ناخن کا قرض'' سے ہوتاہے۔ پہلا مضمون قرۃ العین حیدر کا ہے۔ سعادت حسن منٹو سے سترہ برس چھوٹی قرۃ العین حیدر (پ:۲۰ جنوری ۱۹۲۷ئ۔ م:۲۱ اگست ۲۰۰۷ئ) دور ہونے کے سبب سعادت حسن سے واقف نہ تھیں۔ وہ افسانہ نگار منٹو تک اس کی تحریروں کی معرفت پہنچیں۔ لہٰذا اُن کی مختصر تحریر میں منٹو اور سارنگی نواز استاد بندوخان تخلیقی سطح پر دو متحرک استعارے ہیں۔ عینی حیران ہے کہ وہ اور اُن جیسے نابغہ روز گار فنکار اس معاشرے میں کس طور جینے کا جتن کرتے ہیں۔ نیز یہ کہ اُن کی بے کسی کی موت، چشم کشا کیوں نہیں بن پاتی۔
دوسری طرف سعادت حسن منٹو سے سات برس بڑے ممتاز مفتی (پ:۱۱ ستمبر ۱۹۰۵ئ۔ م:۲۷؍اکتوبر۱۹۹۵ئ) ہیں، جنھوں نے سعادت حسن کو منٹو میں ڈھلتے دیکھا۔ ان کا تحریر کردہ منٹو کا مختصر خاکہ قدرے علامتی رنگ لیے ہوئے ہے، جس میں سعادت حسن کی نفسی الجھنیں، محکمہ اطلاعات، پنجاب میں بیٹھے بزعمِ خود ''اقبال کے شاہین'' اور عہدے کے لحاظ سے پیپر کنٹرولر چوہدری محمد حسین کا منٹو سے اللہ واسطے کا بَیر، منٹو کے تخلیقی تجربے کا تجزیہ اور زندگی سے ہارے ہوئے منٹو کا بوتل کے سہارے از سرِ نو اُٹھ کھڑے ہونے کا جتن۔ غرضیکہ بہت کچھ ہے۔ لیکن اس کتاب میں شامل زیادہ مزیدار چیز ( بہ زبانِ انگریزی) فیض احمد فیضؔ کی ایک تحریر ہے، ایلس کے نام جیل سے لکھے گئے ایک خط کی صورت میں۔ یہ مکتوب ۱۸ جنوری، ۱۹۵۵ء کو چار بجے سہ پہر، ریڈیو پاکستان، لاہور سے منٹو کی وفات کی خبر نشر ہونے کے بعد تحریر کیا گیا۔ فیض صاحب نے خدا جانے کیوں خود سے صرف ایک سال، دو ماہ اور اٹھائیس دن چھوٹے سعادت حسن منٹو کو محض ایک ذہین شاگرد کہا۔ یہ بتاتا چلوں کہ فیض صاحب ابھی حیات تھے اور اتفاق سے اُن دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے، جب میں نے 'یلدرم، منٹو اور فیض' کے عنوان سے 'اوراق' ، لاہور: نومبر، دسمبر ۱۹۸۴ء میں پہلی بار اس نفسی الجھن کی نشاندہی کی تھی ، تب یہ مکتوب میرے سامنے نہیں تھا۔ اُس وقت فیض صاحب کے دو بیانات میرے سامنے تھے، جو مجلہ: 'سوویت لٹریچر'، ماسکو، کے 'چیخوف نمبر'(۱۹۸۳ئ) اور 'ہم کہ ٹھہرے اجنبی' (فیض احمد فیض کی آپ بیتی) مؤلفہ: ڈاکٹر ایوب مرزا میرے سامنے تھے۔ دونوں جگہ فیض صاحب نے منٹو کو اپنا شاگرد قرار دیا۔ سوویت لٹریچر میں چیخوف کے اولین اردو تراجم پر بات کرتے وقت انھوں نے وہی کچھ کہنے کی گنجائش نکالی تھی، جو قدرے تفصیل کے ساتھ ڈاکٹر ایوب مرزا کو اپنی آپ بیتی قلم بند کرواتے وقت بتایا۔ فیض صاحب کا بیان ہے:
''بھئی، منٹو اپنا شاگرد تھا، ایم اے او کالج، امر تسر میں وہ میری کلاس میں تھا۔ پڑھتا وڑھتا نہیں تھا… بس شرارتی تھا… تھا ذہین… بس میری عزت کرتاتھا اور مجھے استاد مانتا تھا۔ میں نے اسے گور کی کے افسانوں کا ترجمہ کرنے کو دیا، اس کے بعد اور ترجمے دیئے، وہ لیکھک بن گیا۔''(ہم کہ ٹھہرے اجنبی، ص:۱۳۰ )
ابدال احمد جعفری کی مرتب کردہ کتاب میں شامل ایلس کے نام خط میں فیض صاحب منٹو کی ناوقت موت پر بھی ایلس کو یہی بتا رہے ہیں۔ فیض صاحب لکھتے ہیں:
''مجھے فخر ہے کہ وہ امر تسر میں میرا شاگرد تھا، کلاس میں کبھی کبھار آتا، مجھے گھر پر آ کر ملتا اور موپاساں، چیخوف، فرائڈ اور خدا جانے کِن کِن لوگوں کے بارے میں بحث کرتا… منٹو بڑا فنکارنہ تھا لیکن وہ ایماندار ، صلاحیتوں کا مالک اور لگی لپٹی نہ رکھنے والا تھا۔''
ایم اے او کالج، امرتسر کے ریکارڈ کے مطابق فیض صاحب کا تقرر بطور لیکچرر (انگریزی) وسط ۱۹۳۵ء میں ہوا۔ اس سے بہت پہلے ایف اے کے امتحان میں فیل ہو جانے کے سبب منٹو ایم اے او کالج، امرتسر چھوڑ چکے تھے۔ یاد رہے کہ ایف اے کے نتائج۸ جون ۱۹۳۴ء کو نکلے اور سعادت حسن منٹو مئی ۱۹۳۵ء کی ابتدائی تاریخوں میں علی گڑھ پہنچ چکے تھے، جہاں سے اگست ۱۹۳۵ء میں ٹی بی مرض کا شکار قرار دیئے جانے پر واپس امرتسر آگئے۔ بغرضِ علاج دہلی کے چکر لگے، امرتسر میں بے کار پھرے، اب وہ ایم اے او کالج، امرتسر کے طالب علم نہ تھے۔ تبدیلی آب و ہوا کے لیے بٹوت، کشمیر میں اُن کا قیام بھی ثابت ہے۔ پھر وہ امرتسر چھوڑ کر دہلی اور اس کے بعد بمبئی چلے گئے۔ ایسا نہیں کہ امر تسر میں منٹو کی فیض صاحب سے ملاقات نہ ہوئی ہو۔ ضرور ہوئی ہو گی لیکن گورکی کو تو وہ بہت پہلے ترجمہ کر چکے تھے۔ ملاحظہ ہو: چھبیس مزدور اور ایک دوشیزہ، مطبوعہ:'ہمایوں' لاہور، بابت: اگست ۱۹۳۴ء ۔ نیز یہ کہ فیض صاحب کے امرتسر پہنچنے سے قبل فروری ۱۹۳۵ء تک منٹو ڈیڑھ درجن تراجم کر چکے تھے جو رسالہ 'ہمایوں'، لاہور ، جیسے اہم جرائد میں شائع ہوئے۔ وکٹر ہیوگو کی کتاب Last days of the Condemnedکا ترجمہ، بعنوان: 'سرگزشتِ اسیر' مطبوعہ۱۹۳۳ء ، آسکر وائلڈ کے ڈرامہ : 'ویرا' کا ترجمہ ( بہ اشتراک: حسن عباس و ابو سعید قریشی )، مطبوعہ ۱۹۳۴ء اور روسی افسانوں کے تراجم پر مبنی کتاب: 'روسی افسانے' مطبوعہ ۱۹۳۴ء شائع ہو چکے تھے۔ در حقیقت اوائل جوانی میں ہی منٹو کی بے پناہ شہرت فیض صاحب کے لیے ایک مسئلہ بن گئی تھی اور فیض صاحب کے منٹو سے متعلق یہ بیانات ان کی معصوم سی خواہشات کی خیالی تکمیل سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ فیض احمد فیض ہمارے سرکردہ شعراء میں سے ایک ہیں۔
سعادت حسن منٹو سے پانچ برس چھوٹے قدرت اللہ شہاب (پ:۲۶ فروری ۱۹۱۷ئ۔م:۲۴جولائی ۱۹۸۶ئ) کی مختصر تحریر سے پتاچلتا ہے کہ وہ پہلی بار، مشہور رپورتاژ'کشمیر اداس ہے' کے مصنف ، محمود ہاشمی کے ہمراہ منٹو کے فلیٹ پر گئے۔ دونوں کشمیری تھے اور تیسرے کشمیری سے ملنے جا رہے تھے۔ جب منٹو کے فلیٹ پر پہنچتے تو آیوڈو فارم میں ڈوبے منٹو سے ملاقات ہوئی۔ اس مختصر تحریر میں قدرت اللہ شہاب نے منٹو کی جنس نگاری ، نجی زندگی، محرومیوں اور موت کے بعد منٹو کے تعینِ قدر کے حوالے سے تو بات کی ہی ہے، اس تحریر میں ایک اہم اشارہ یہ ملتا ہے کہ جب منٹو نے پاکستان آ کر ٹھوکر یں کھائیں اور اپنی بیوی صفیہ اور تین بیٹیوں: نگہت، نزہت اور نصرت کی خاطر شراب چھوڑ دینے کے جتن کے ساتھ اپنی ہی کتب کی ازسرِ نو اشاعت کے ذریعے سنبھلنے کی کوشش کی، تو بنا کسی کلیم کے، کسی چھاپہ خانے کی اَلاٹ منٹ کی خاطر یقیناً تاج کمپنی ، لاہور سے ملحقہ ڈاک خانے سے دو ایک درخواستیں حکومت پنجاب کے سیکریٹری صنعت، محکمہ بحالیات، لاہور اور اس دور کے ڈائریکٹر صنعت، پنجاب، قدرت اللہ شہاب ، آئی سی ایس کو بھی بھجوائیں، جن کا جواب قدرت اللہ شہاب گول کر گئے۔ از آں بعد مہاجرین کی الاٹمنٹوں کی تجدید کے موقع پر شہاب صاحب کے دیے اشارے پر سعادت حسن منٹو کو محکمہ بحالیات کی طرف سے ایک برف خانہ میں حصہ داری کے لیے ضرور آمادہ کیا گیا، جو سعادت حسن منٹو کو منظور نہ تھا۔ وہ تو اپنا اشاعتی ادارہ قائم کرنے کے لیے چھاپہ خانہ چاہتے تھے جس کے لیے انھوں نے لیٹر پیڈ بھی چھپوا لیے تھے۔ منٹو صاحب خود چل کر قدرت اللہ شہاب کے دفتر گئے اور برف خانہ میں ملنے والا حصہ لینے سے انکار کردیا۔
منٹو صاحب سے چودہ برس چھوٹی افسانہ نگار، ناقدہ اور مدیرہ: ''نیا دور'، بنگلور، ممتاز شیریں (پ: ۱۲ ستمبر ۱۹۲۴ئ۔م:۱۱ مارچ ۱۹۷۳ئ) کی تحریر منٹو سے متعلق ان کی تنقیدی کتاب:'منٹو: نوری نہ ناری' سے منتخب کردہ ہے لیکن اس تحریر میں وہ اپنے ہی قائم کردہ ناقدانہ معیار کے حصول میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ اس مضمون کا اہم حصہ وہی ہے جہاں ممتاز شیریں، منٹو پر فحاشی کے الزام کے حوالے سے عصمت چغتائی کی ڈھکی چھپی لذیز اکساہٹ اور عزیز احمد کے کراہت آمیز جنسی تلذّذ کے مقابلے میں منٹو کی جنس نگاری کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے آدرشک حقیقت نگاری قرار دیا ہے۔
اب آئیے منٹو سے تیرہ برس چھوٹے اشفاق احمد (پ: ۲۲ اگست؍۱۹۲۵ئ۔ م:ستمبر ۲۰۰۴ئ) کی منٹو سے متعلق چودہ سطور کی جانب، جنھیں 'بابا صاحبا' س چن لیا گیا ہے۔ یہ مختصر تحریر پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ اس دور میں منٹو کو سیاہ حاشیے (مطبوعہ: ۱۹۴۸ئ) میں شامل فسادات سے متعلق افسانچوں نے بڑی شہرت اور نیک نامی بخشی۔ گو اس شہرت اور نیک نامی میں کچھ حصہ یقیناً محمد حسن عسکری کا بھی تھا، جنھوںنے 'سیاہ حاشیے' کا دیباچہ جم کر لکھا تھا اور منٹو صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ عسکری حد درجہ بور شخصیت کا حامل تھا۔ میرے سامنے چپ بیٹھا رہتا تھا، میں نے اسے دیباچہ لکھنے کو دے دیا۔ منٹو صاحب کو اس بات کا افسوس تھا کہ انھوں نے 'سیاہ حاشیے' کا دیباچہ عسکری سے کیوں لکھوایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منٹو نے اس کتاب کے اگلے ایڈیشن میں سے وہ دیباچہ خارج کروا دیا۔ ان دنوں میں بھی منٹو کی کڑوی صداقت اور آزاد مشربی اشفاق احمد کی فکر سے متحارب رہی ، جب کہ بقول اشفاق احمد، منٹو کی شخصیت اور ان کی محفل آرائی قلم کاروں کی نئی پود کے لیے توجہ کا مرکز تھی۔
لاہور کے ایک پبلشر معین الدین حزیں کاشمیری کا ایک یکسر فراموش کردہ خاکہ ، منٹو کی ابتدائی قلم کاری سے متعلق رہتے ہوئے منٹو کی مبینہ فحش نگاری کے بار ے میں قائم کردہ مقدمات اور ان کی اڑائی ہوئی گرد کے پس منظر میں منٹو کے آخری ایام کی مالی پریشانیوں اور ان کی انا پیشگی کا عکاس ہے۔ یہ خاکہ ابدال احمد جعفری کے تیار کردہ اس گوشے کا توشۂ خاص سمجھا جائے اور یہی صورت مظفر علی سید کے تحریر کردہ خاکے کی بھی ہے۔
منٹو صاحب سے سترہ برس چھوٹے مظفر علی سید (پ: ۶ دسمبر ۱۹۲۹ئ۔م:۲۸ جنوری ۲۰۰۰ئ) بھی منٹو صاحب کی طرح 'امر تسریے' تھے۔ منٹو کے اس خاکے میں سعادت حسن سے خالی امرتسر کی یادیں بھی ہیں اور فروری ۱۹۴۸ء تا جنوری۱۹۵۵ء کے لاہور کی جھلک بھی، جب منٹو سے مظفر علی سید کی ملاقاتیں رہیں۔ خاص طو رپر منٹوکی شراب نوشی اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں سے متعلق حصہ لا جواب ہے اور منٹو کے معمولات کا بیان تو بے پناہ ہے۔ خاکے کی سطح پر منٹو سے متعلق اس سے اچھی تحریر کم از کم میری نظر سے نہیں گزری۔
منٹو کے قریبی معاصر اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے سُرخیل علی سردار علی جعفری(پ: ۲۹نومبر۱۹۱۳ئ۔م:یکم اگست ۲۰۰۰ئ) کی تحریر کو منٹو کی وفات پر انجمن ترقی پسند مصنفین، بھارت کی جانب سے تعزیتی اعلامیہ کہنا چاہیے۔ اس لیے کہ علی سردار جعفری منٹو کے ان افسانوں ('بو' اور 'ہتک') کی نِندا کی ہے ، جن کی اشاعت انجمن ترقی پسند مصنفین سے منٹو کے اخراج کا باعث بنی۔ علی سردار جعفری اس پر بھی معترض ہیں کہ منٹو نے 'سرکنڈوں کے پیچھے' طرز کے تجریدی افسانے کیوں لکھے۔ انھوں نے اُن افسانوں کو مہمل قرار دیا ہے۔
اس سے اگلی تحریر بھی ایک ترقی پسند افسانہ نگار اور مزاج نگار کی ہے، یعنی ابراہیم جلیس (پ:۲۲دسمبر ۱۹۲۳ئ۔م:۲۶؍اکتوبر ۱۹۷۷ئ) جو منٹو سے عمر میں گیارہ برس چھوٹے تھے لیکن یہ فرق محض گیارہ برس نہ تھا، اس لیے کہ منٹو تو ۱۹۳۵ء تک اوائل جوانی میں ہی بطور قلمکار پہچانے گئے تھے اور اُن دنوں ابراہیم جلیس محض بارہ برس کے تھے۔ اس لحاظ سے ابراہیم جلیس کا بیان ایک جونیئر لکھنے والے کے لیے اس دکھ کا اظہار ہے جسے بدنام زمانہ منٹو سے بے تکلفی میسر آئی اور منٹو چل بسا۔
'ناخُن کا قرض' میں شامل بے ضرر سی دو تحریریں اور بھی ہیں جنھیں ابدال احمد جعفری کی ذاتی پسند کہا جا سکتا ہے۔
اس کتاب میں شامل ''تیری باتیں ہی سنانے آئے'' کے عنوان کے تحت منظوم خراج عقیدت، منٹو کے قریبی معاصرین از قسم:
امر تاپریتم، مجید امجد، عبدالحمید عدمؔ، راجا مہدی علی خاں، حفیظ ہوشیار پوری اور منٹو کے ہم نوالہ و ہم پیالہ شاد امرتسری کے علاوہ خاطر غزنوی، نور بجنوری، مصطفی زیدی، حبیب جالب، قتیل شفائی، حمایت علی شاعر اور دیگر بشمول گلزارؔ کے اشعار لائق مطالعہ ہیں۔
دیکھئے! جواں مرگ مصطفی زیدی ایک جواں مرگ افسانہ نگار سے متعلق کہتے ہیں:
موت یہ صرف سعادت کی ہے منٹو کی نہیں
یہ شب و روز ترے ہیں، یہ صدی تیری ہے
کتاب میں 'نقشِ قلم' کے عنوان کے تحت انتخاب کردہ تحریروں میں منٹو کے وہ پانچ افسانے بھی دیکھنے کو ملیں گے جو پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے نصاب برائے ایم اے (اردو) میں شامل ہیں بقیہ تحریریں مؤلف کی پسند ہیں۔
ابدال احمد جعفری نے 'Trivia"کے عنوان کے تحت ایک لا جواب گوشہ قائم کر کے تین طرح کی چیزیں یکجا کر دی ہیں:
۱۔ منٹوکے شوخ و شنگ لڑکپن سے بسترِ مرگ تک کے کچھ حیران کن واقعات ، سعادت حسن کی عرفیت، ابتدائی قلمی نام، تکیہ کلام ، پسندیدہ سگریٹ، پسندیدہ مشروب، اندازِ تخاطب اور منٹو کی آخری خواہشات۔
۲۔ منٹو صاحب کی مطبوعہ کتب سے متعلق ادبی جرائد میں نکلنے والے اشتہارات اور 'من ٹُو تھری' کے عنوان کے تحت منٹو ہی سے مخصوص منطق کے تحت خود منٹو کی زندگی کے اہم حقائق۔
۳۔ ''تلاخ، حُرش شیریں'' کے عنوان کے تحت منٹو صاحب کی زندگی کے چندحیران کن پہلو، منٹو کی بذلہ سنجی کے نمونے۔ افسانہ:'بابوگوپی ناتھ' کے کردار سینڈو اور 'ٹوبہ ٹیک سنگھ' کی کرداری جھلک ، جسے وِمٹو صاحب (منٹو صاحب کے ایک لا زوال کردار 'ممّد بھائی' کے دیے ہوئے نام) کے ''ہپ ٹُلے'' کہا گیا ہے۔
ابدال احمد جعفری کی مرتب کردہ ''کتابیاتِ منٹو'' زمانی اعتبار سے مطبوعہ کتب کے مشمولات کی توضیحی فہرست بھی فراہم کر دیتی ہے۔ اس نو ع کا کام اس سے قبل کسی نے نہیں کیا۔ نیز محمد سعید صاحب کی مرتب کردہ 'نوادراتِ منٹو' سے متعلق اشارے اور منٹو کی کتب کے جعلی ایڈیشنز کی نشاندہی قابل تحسین کام ہے۔
کتاب کا آخری گوشہ منٹو صاحب اور فلم نگری سے متعلق ہے۔ جس میں منٹو فلم کے کہانی کار، منظر نامہ نگار اور مکالمہ نویس کے طو رپر ہی نہیں، فلم: 'آٹھ دن' (۱۹۴۶ئ) کے ایک ایکسٹرا اداکار کے طو ربھی دکھائی دیں گے۔ دنیا کے اس رنگ منچ پر سعادت حسن ایک ایکسٹرا اداکار ہی توتھا۔
یوں ابدال احمد جعفری نے سعادت حسن منٹو کے صد سالہ جشنِ ولادت کے موقع پر منٹو شناسی کے تعلق سے وہ کام کر دکھایا جسے تادیر یاد رکھا جائے گا۔
برائے رابطہ:نگارشات پبلشرز، ۲۴۔مزنگ روڈ، لاہور
……o……