۲۵ دسمبر کے تناظرمیں
قائد وطن کے نام

اے بہارِ سر زمینِ پاک اے عالیٰ مقام
تو وقارِ مُلک و ملت تو سیاست کا امام

تیرہ کاشانوں میں آئی ہے اُجالوں کی بہار
تجھ سے صحرائے وطن ہے جلوہ گاہ لالہ زار

تیرے دم سے ضوفشاں شام سعادت ہو گئی
یک بہ یک روشن ہماری تیرہ قسمت ہو گئی

تو اندھیروں کو سحر کے راز سمجھاتا رہا
نغمۂ آزادی صبح وطن گاتا رہا

کہکشائوں پر کمندیں ڈال کر کس نے کہا
دیدنی ہے دیدنی ہے نقشہ پاکستان کا

شب کدوں کو ساغرِ مہتاب سے روشن کیا
ساگرِ ظلمات میں ہر سو اجالا بھر دیا

یاد ہے اب تک گلوں کو تیرا انداز خرام
ہر کلی ہر خار کے دل میں ہے تیرا احترام

آج کے دن خاک کے ذرے ہوئے انجم فشاں
زر فشاں لفظوں نے لکھی ہے ہماری داستاں
پروفیسر شاہ محمد سبطین شاہجہانی
…O…
غزل
بکھرے بکھرے کاغذ میرے ، بکھرے خواب خیال
اُکھڑا اُکھڑا لہجہ میرا ، اُلجھے اُلجھے بال

گُم صُم راہیں، آنکھیں نم نم ، تاریکی، تنہائی
کیا بتلائوں تیرے بِن یہ کیسے گزرے سال

تپتا صحرا ، دھوپ کڑی ہے ، زخمی زخمی پائوں
سایہ سایہ کر دیتی ہے تیری یاد کی شال
تنہا تنہا جیون کاٹا ، تنہا عمر بِتا دی
تیرے بارے کب رکھا ہے دل میں رنج ملال

سُونا سُونا رہتا ہے یہ دن بھر آنگن دل کا
شام ڈھلے تو سج جاتی ہے یادوں کی چوپال

قریہ قریہ غربت دیکھی نگری نگری بھوک
آس ، امید کے دیپ جلا کر رہتے ہیں خوشحال

عشق میں روٹھا یار منانا کب آسان ہوا ہے
دھڑکن دھڑکن تھاپ کے اوپر ڈالی ہجر دھمال
شمیم ظفر رانا
…O…
غزل
طلسم ِ ماہِ منوّر بلا رہا ہے مجھے
قدم قدم کوئی منظر بلا رہا ہے مجھے

وہاں پہ جاؤں تو شاید نہ مل سکے گا وہاں
صدائیں دے کے جہاں پر بلا رہا ہے مجھے

کہیں نہیں جہاں دیوار میں کوئی در بھی
وہیں پہ کوئی کھُلا دَر بلا رہا ہے مجھے

مری صفوں میں تو میری جگہ نہیں ہے کوئی
مگر غنیم کا لشکر بلا رہا ہے مجھے

مَیں اپنی ذات کے صحرا میں چھپ رہا ہوں مگر
جمالِ سرو و صنوبر بلا رہا ہے مجھے

کسی کے ہاتھ میں دیکھا نہیں ہے گلدستہ
ہر اِک کے ہاتھ کا پتھر بلا رہا ہے مجھے

ُوہ تتلی روز جسے دیکھتا تھا پھولوں پر
اُسی کا ٹوٹا ہؤا پَر بلا رہا ہے مجھے

شکار امن پسندوں کا ہو گیا جو نسیمؔ
وہ زخم زخم کبوتر بلا رہا ہے مجھے
نسیمِ سحر
…O…
اب کے برس بھی آ کے دسمبر گزر گیا

کیا کیا نہ گُل کھلا کے دسمبر گزر گیا
گلشن کو خوں رُلا کے دسمبر گزر گیا

برفاب رُت میں جلتے رہے سوختہ نصیب
جلتے دیے بُجھا کے دسمبر گزر گیا

کون آتشیںِ کفن میں کہاں دفن ہو گیا
سارے نشاں مٹا کے دسمبر گزر گیا

اپنوں نے اپنے خون کے چھینٹے اُڑائے ہیں
اپنوں کا خون بہا کے دسمبر گزر گیا

بھولے گا کیسے سولہ دسمبر کا سانحہ
آدھا وطن گنوا کے دسمبر گزر گیا

کِس کِس کا رونا روئیں محرّم نصیب لوگ
غم دے کے کربلا کے دسمبر گزر گیا

اگلے برس کی خیر ہو تنویرؔ قادری
اب کے برس بھی آ کے دسمبر گزر گیا
…O…
میڈیا آزاد ہے
وقوعے کی خبر
سارے ہی چینلز نے جائے وقوعہ سے براہ راست ٹیلی کاسٹ کی تھی
اور اخباروں نے
تصویروں کے ساتھ اس کو جلی شہ سرخیوں کی شکل میں شائع کیا تھا
لیکن اگلے روز اک تازہ خبر آئی
کہ ''سرکاری ذرائع کے مطابق:
وقوعہ ہو نہیںپایا''
چنانچہ اب
ہر اک چینل کادعویٰ ہے
کہ:
اس نے سب سے آخر میں وقوعے کی خبر دی تھی