پاکستان میں غذائی تحفظ کی صورت حال --- مسائل،
اقدامات ا ور امکانات کا تجزیاتی جائزہ

محمد اسلم الوری * ڈاکٹر اکرام سعید**

This is a review paper. It discusses about the prevailing and emerging food security issues, problems, threats and opportunities. Specifically this paper highlight the conceptual development, current situation and growing concerns of the world regarding the global phenomena of food insecurity resulted from poverty, population growth, climate changes, disasters, wars & conflicts, rapid deterioration of natural resource base mainly water and energy,etc. It is, indeed, the prime responsibility of a state to manage economically affordable, physically available and socio - religiously acceptable safe, sufficient, healthy and nutritious food to her citizens at all times also in UN Charter of Human Rights, international covenants and in land laws and constitutional provisions of individual state. The information collected for this review paper comprised of number of secondary and authors' personal sources including world statistics, country profile, public policies and various studies conducted by different professionals and organizations in the recent past. The degree of hunger evidenced from many national and global studies, whereon, in the Pakistan's condition is not different rather the severity has grown more rapidly over the last decade. Experts believe that the growing rates of crimes, suicides, child& mother malnutrition and hunger situations have further aggravated the miseries of already poverty stricken people since 2009. The current situation has emerged mainly due to the reasons discussed earlier in addition to rapid price increases, consistent double digit inflationary trend since 2011, corruption, floods, earth quakes, internal conflicts, bad governance, growing unemployment rates and poor governance. According to the recent State Bank of Pakistan report (April 2012) 37 percent of the urban population and countrywide, 48.6 percent of the population was food insecure including 22.4 percent "extremely" food insecure. The impact assessment reports generally reflect the macro picture and do not depict the real impact of public policies and interventions on individual's life and household level. In reality, the situation is more pathetic. Government policies and interventions including the Benazir Income Support Program (BISP) may have made some difference to a few people but leaving millions vulnerable still unattended. The hunger situation in Pakistan remains 'alarming' and calls for immediate strategic measures to address from the severe hunger-like situation. This paper also includes details of suggested policy options, strategies and way forward compiled from different policy studies. However authors stress to have proper institutional arrangements for criticaly analyzing the practicability and efficacy of various recommendations to reach the best possible options.Paper also presents some new suggestions including creation of a National Food Security Fund and other institutional and policy framework to address the current and upcoming issues of food security and mitigate poverty in rural Pakistan wherein most vulnerables dwell. Nevertheless, it is the state's responsibility to ensure food security, physical, social and economic access to all the people at all the times to sufficient, quantity, safe and nutritious food that meets their dietary needs and food preferences for living active and healthy life.


اس وقت دنیا کی کل آبادی ۷ارب ۷کروڑ۸ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں ہر لمحہ اضافہ ہورہا ہے۔تین ارب سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل کے بیان کے مطابق بر اعظم افریقہ میں ۱۳ ملین افراد فاقہ کشی سے دوچار ہیں۔غربت کے عالمی معیارات کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ غریب، تنگ دست اور نادار افراد جنوبی ایشیائی ممالک ، بشمول بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش، میں بستے ہیں۔ عالمی سطح پر تخفیف غربت کی متعدد اور مسلسل مساعی کے باوجود اب تک غربت میں کمی کے کوئی ٹھوس شواہد نظر نہیں آتے اور بھوک و افلاس نے مزید کئی ریاستوں اور ان کے شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں روزانہ ہزاروں بچے بھوک،بیماری اور غذائی کمی کے باعث موت کا شکار ہورہے ہیں۔ خشک سالی , بارشوں میں بے قاعدگی اور سیلابوں اور خانہ جنگیوں کے باعث خوراک کے عالمی ذخائر میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے جس سے اقوام متحدہ کی جانب سے تخفیف غربت کے اہداف اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔۔اگرغربت میں کمی سے متعلق میلینئیم ترقیاتی اہداف پر مدت معینہ (۲۰۱۵ئ) میں پوری طرح عمل ہو بھی جائے تب بھی دنیا کے باقی ۸۰ کروڑ غریب اورنان جویں سے محروم ۶۰ کروڑ بھوکے لوگوں کے لیے نئے سرے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ غذائی اجناس کی پیداوار میں کمی امن عالم کو درہم برہم کرسکتی ہے۔ شدید غربت کا شکار افراد کو موسمی تبدیلی، اشیائے خوراک کی ہوشربا قیمتوں صحتی مسائل، پینے کے صاف پانی اور حفظان صحت کی سہولتوں سے محرومی اور ثقافتی تبدیلیوں کے نتیجے میں برادریوں اور مشترکہ خاندانی نظام کے حفاظتی ڈھانچے کی شکست و ریخت کے نتیجے میں نئے مصائب کا سامنا ہے۔ غذائی بحران دنیا بھر میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جارہاہے۔ تیزی سے پھیلتی معاشی عدم مساوات شدید بے چینی کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں مہنگائی اور غربت سے بری طرح تنگ عوام خونریز ہنگاموں پر اتر آئے ہیں اورمعاشرہ میں چوری و راہزنی، لوٹ مار،رشوت ستانی ،قتل و غارت ، اغوا برائے تاوان اور دیگر بھیانک جرائم جنم لے رہے ہیں۔ بایں وجہ اکیسویں صدی عیسوی کے پہلے عشرہ کے اواخر سے تحفظ خوراک کا مسئلہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔
یوں تو اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر دنیا بھر کی نظریں اس طرف لگی ہوئی ہیں اور دنیا کی ہر زبان میں مقامی اور علاقائی صورتحال کے مطابق اس پر تحقیق کا عمل جاری ہے ۔ یہ تحقیقی کام مقالات، مضامین، سفارشات ، کتب و جرائد، انٹر نیٹ پر موجود مواد اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی طرف سے انگریزی یا دیگر غیر ملکی زبانوں میں مرتب کردہ جائزہ رپورٹوں اور تجزیوں کی شکل میں مختلف جگہوں پر بکھرا پڑاہے مگر اس تک عام قاری کی رسائی بہت کم ہے۔ زیر نظر مقالہ میں خوراک کے تحفظ سے متعلق پاکستان کے تناظر میں اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔اردو قارئین کو اس بات کی آگاہی فراہم کرنے کے لیے کہ تحفظ خوراک سے کیا مراد ہے قومی سلامتی کے حوالے سے اس کی کیا اہمیت ہے،اس وقت پاکستان میں قومی سطح پر غذائی تحفظ کی کیا کیفیت ہے ، اس کی راہ میں کون سے اسباب وعوامل حائل ہیں۔ سرکاری سطح پر اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے کیا حکمت عملیاں ،پالیسیاں اوراقدامات کیے گئے ہیں اور ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں اور تحفظ خوراک کی راہ میں حائل مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نبٹنے کے لیے کیا اقدامات اور حکمت عملیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقالہ کو مختلف حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔اس کی تیاری میں جہاں مدون اور تحریری شکل میں موجود مواد اور دستاویزات سے کام لیا گیا ہے، وہاں دستیاب معلومات کی روشنی میں اس مسئلہ کا مختلف پہلوؤں سے تجزیہ کرتے ہوئے قابل عمل اور ٹھوس پالیسی اور حکمت عملی اقدامات بھی تجویز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
۱۔ تحفظ خوراک سے کیا مراد ہے؟
تحفظ خوراک کے حوالے سے بہت کم ترقی پذیر ممالک اس کی کوئی واضح تعریف بیان کرنے کارحجان رکھتے ہیں جس سے اس اہم مسئلہ پر ان کی سوچ اور نقطہ نظر کا پتا چل سکے۔تحفظ خوراک کے مسئلہ نے ستر کی دہائی میں خوراک کے مسئلہ پر بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث اقوام عالم کی توجہ اپنی جانب مرکوز کروائی۔ابتدا میں تحفظ خوراک سے فقط قومی اور بین الاقوامی سطح پر خوراک کی فراہمی اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں استحکام مراد لیا گیا لیکن رفتہ رفتہ اس مسئلہ کی سنگینی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔۱۹۷۴ء میں خوراک کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کے بعد تحفظ خوراک کے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی انتظامات اور پالیسی سازی کا عمل شروع ہوا۔بعد ازاں بعض ممالک میں بھوک اور قحط کی صورت حال نے اقوام عالم میں یہ احساس شدت سے اجاگر کردیا کہ زراعت کے شعبہ میں سبز انقلاب کے باوجود دنیا کی کثیر آبادی غربت و افلاس اور شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ ۱۹۷۴ ء کی عالمی خوراک کانفرنس نے قراردیا کہ تحفظ خوراک سے عالمی سطح پر خوراک کی بتدریج بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور اس کی پیداوار اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر قابو پانے کے لیے بنیادی اشیائے خوراک کی ہروقت مناسب مقدار میں فراہمی مراد ہے۔۱۹۸۳ ء میں عا لمی ادارہ خوراک و زراعت نے تحفظ خوراک کو یقینی بنانے کی وضاحت کی کہ دنیا کے جملہ افراد تمام اوقات میں اپنی بنیادی ضرورت کے مطابق خوراک کے ذخائر تک طبیعی اور معاشی دسترس رکھتے ہیں۔۱۹۸۶ ء میں غربت وبھوک سے متعلق عالمی بینک کی رپورٹ میں قدرتی آفات، معاشی بحران اور جنگوں سے پیدا شدہ خوراک کے انسانی مسائل کے پیش نظر بیان کیا گیا کہ تحفظ خوراک سے ایک فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ہمہ وقت درکار مناسب خوراک تک تمام افراد کی رسائی مقصود ہے۔۱۹۹۶ ء میں اس تصور نے مزید وسعت اختیار کی اور عالمی خوراک کانفرنس نے قرار دیا کہ فرد، خاندان،قومی، علاقائی اور عالمی سطحوں پر خوراک کے تحفظ کو اسی وقت یقینی بنایا جاسکتا ہے جب تمام افراد ایک فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اپنی غذائی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق درکار ، مناسب، محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک ہمہ وقت طبیعی اور معاشی دسترس رکھتے ہوں۔ ۲۰۰۱ ء میں اس مسئلہ کے سماجی پہلوؤں کے پیش نظر تحفظ خوراک کی تعریف میں مزید جامعیت پیدا کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ اس سے مراد ایسی صورت حال ہے جس میں تمام افراد ہمہ وقت ایک فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اپنی غذائی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق درکار ، مناسب، محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک ہمہ وقت طبیعی،سماجی اور معاشی دسترس رکھتے ہوں۔
کسی مخصوص قوم و ملک یا علاقہ میں تحفظ خوراک کی کیفیت و صلاحیت کو منضبط کرنے والے عوامل یعنی دستیابی، دسترس، تسلسل ، غذائی نوعیت اور سماجی اقدار کے مطابق ترجیحی خوراک وغیرہ سیاسی و معاشی صورت حال ، سماجی طبقات اور خاندانوں کی سطح پر بدلتے حالات سے متاثر ہوتے ہیں اور قدرتی آفات اور خانہ جنگی جیسے عوامل سے اکثر ان عوامل میں عدم استحکام کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ خوراک کی دستیابی سے ملک کے ہر شہری کے لیے وافر مقدار میں معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی مراد ہے۔ دسترس سے مراد ہے کہ ہر خاندان اور فرداپنی ضرورت کے لیے مناسب، صحت بخش اورغذائیت سے بھرپور خوراک پیدا کرنے ، خریدنے اور حاصل کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔تسلسل سے قومی سطح پر غذائیت سے بھرپور خوراک کی بلا روک فراہمی اور خوراک تک ہر گھر اور ہر فرد کی بلارکاوٹ رسائی مقصود ہے۔غذائیت کا مطلب ہے کہ ایک فعال، صحت مند اور متحرک زندگی گزارنے کے لیے مطلوبہ خوراک صحت بخش اور تغذیاتی اجزاء سے معمور ہو اوراس کے غذائی اجزاء جزو بدن بن جائیں۔ خوراک کی تیاری کا عمل اور انسانی صحت جن عوامل سے متاثر ہوتے ہیں ان میں نکاسی آب کا نظام ، پینے کا صاف پانی اور افراد خانہ کی خوراک محفوظ کرنے اور اہم غذائی اجزا ء کے متعلق بنیادی معلومات شامل ہیں۔ خوراک کے بارے میں ترجیحات کا تعلق سماجی ومذہبی اقدار سے ہے۔ خوراک کے ذخائر تک یکساں رسائی رکھنے والے افراد سماجی و مذہبی اقدار اور ذائقے کی بنیاد پراپنی پسندیدہ خوراک کا چناؤ کرتے ہیں۔ اس طرح ان میں خوراک کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں فرق پایا جا سکتا ہے۔مختلف مذاہب،معاشروں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں حلال و حرام اور پسند ناپسند کے پیمانے بھی مختلف ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دستیاب خوراک سماجی،معاشی اور ثقافتی حوالے سے بھی قابل قبول اور دینی و اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔
۲۔ غذائی تحفظ کیوں ضروری ہے؟
خوراک ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے۔مناسب ، متوازن، صحت بخش اور معیاری خوراک ہر عمر کے افراد کی صحت مند نشوونما اور بیماریوں سے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔معیاری غذاانسان میں عزم و حوصلہ ، قوت و توانائی اورحرکت و امنگ پیدا کرتی ہے۔ ناقص ، غیر متوازن اور غذائیت سے عاری خوراک سے انسان مختلف قسم کی بیماریوں ، ذہنی و جسمانی معذوریوں اور ناامیدی و مایوسیوں کا شکار ہوسکتاہے۔ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل اور پیداواری سرگرمیوں کے لیے صحت مند اور توانا افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ صرف معیاری و متوازن خوراک کے ذریعے پوری کرسکتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں مناسب ، متوازن، غذائیت سے بھرپور اور معیاری خوراک سے کسی معاشرہ کی افرادی قوت اور مجموعی قوت کار میں اضافہ ہوتا ہے جو پیداواری مقاصد اور سرگرمیوں کے لیے ناگزیر ہے۔معیاری افرادی قوت میں کمی مجموعی استعداد کار اور قومی قوت عمل کو مضمحل کردیتی ہے جس کے نتیجے میں پیداواری سرگرمیاں ماند پڑجاتی ہیں۔پیدواری سرگرمیاں ماند پڑنے سے مجموعی قومی پیداوار متاثر ہوتی ہے جس سے قومی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ معاشی ابتری آگے چل کر پیداواری وسائل کی کمی ، غربت ، بے روزگاری ، مہنگائی،افراط زر اور اس کے نتیجے میں جہالت، باہمی کشمکش ،خانہ جنگی اور بد امنی کو جنم دیتی ہے۔ معاشی ابتری اور سماجی بد امنی مل کر سیاسی عدم استحکام پیداکرتے ہیں اور یوں گوناں گوں مسائل کا شکار قوم مایوسی ، ناامیدی،فکری انتشار اور داخلی عدم استحکام کا شکار ہوکر قومی بقاء و سلامتی کے سنگین مسائل سے دوچار ہوجاتی ہے۔ معاشی ترقی اور تحفظ خوراک ترقیاتی عمل میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔اس طرح قومی تحفظ خوراک کا مسئلہ دراصل قومی سلامتی کا معاملہ قرار پاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق عالمی اعلامیہ مجریہ ۱۹۴۸ء کے آرٹیکل ۲۵میں ہر فرد کے لیے خوراک کو معیار زندگی کے ایک اہم عنصر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی طرح حق خوراک کی ضمانت فراہم کرنے والیعالمی معاہدات بشمول معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن ، خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمہ کا کنونشن اور حقوق اطفال کنونشن سمیت قومی سطح پر ایسے متعدد آئینی، دیوانی اور رواجی قوانین موجود ہیں جو مقامی سطح پر انسانی حقوق کے معیارات کا تعین کرتے ہیں۔۲۰۰۰ء میں نئے ہزارئیے کے آغاز پر اقوام متحدہ کے رکن ۱۸۹ ممالک نے میلینئیم ترقیاتی اہداف طے کرتے ہوئے اس بات کا عہد کیا تھا کہ بنیادی تعلیم،زچہ و بچہ کی صحت ،صنفی مساوات اور دیگر شعبوں میں بہتری کے لیے تجویز کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ ۲۰۱۵ ء تک غربت کی شرح کو نصف کردیا جائے گا -آئین پاکستان کی دفعہ ۳۸ ڈی ریاست کے ہر شہری کو خوراک سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کویقینی بنانے کی غرض سے تقاضا کرتی ہے کہ:
"ریاست بلا امتیاز جنس، ذات ،عقیدہ، یا نسل ہر شہری بشمول ان افراد کے جو کسی معذوری، بیماری یا بے روزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طورپر اپنی روزی کمانے سے قاصر ہیں، کو روٹی ، کپڑا ، مکان ، تعلیم اورطبی سہولیات سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرے گی۔"
قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ " زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ نہ لیا ہو۔" اسی طرح قرآن حکیم نے بھوکوں کو کھانا کھلانے کی بار بار تاکید کی ہے۔ پیغمبر اسلام نے بھی دوسروں کو کھانا کھلانے اوردیگربنیادی ضروریات سے زیادہ ضرورت مندوں میں خوراک تقسیم کر نے کا حکم دیا ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ میں واضح طور پر ایسی روشن مثالیں دستیاب ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تحفظ خوراک کو یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسلام میں زکوٰۃ ، صدقات ، خیرات ، کفارہ ، فطرانہ وغیرہ کے ذریعے ضرورت مندوں میں اشیائے خوراک کی تقسیم کا مثالی نظام موجود ہے۔ان بین الاقوامی معاہدات ، ریاستی قوانین اور دینی تعلیمات کی روشنی میں تحفظ خوراک کی ضمانت دینا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ پیداواری خطوں سے کم پیداواری علاقوں کی طرف خوراک کے ذخائر کی منتقلی کے ذریعے ریاست کے ہر باشندے کے لیے مناسب خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے اس دور میں قومی سطح پر تحفظ خوراک کا انتظام نہایت مشکل معاملہ ہے۔ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی اور مقامی حکومتوں کے مابین قریبی روابط ' اور اوپر سے لے کر نیچے تک مضبوط روابط کی ضرورت ہے۔ آئین پاکستان میں اٹھارھویں ترمیم کے نتیجے میں وزارت خوراک و زراعت کے خاتمہ کے بعد غیر ملکی امداد دینے والے اداروں اور پالیسی ساز حلقوں میں ملکی خوراک کی پیداوار اور تقسیم سے متعلق کافی حد تک تشویش پائی جاتی تھی۔ مختلف صوبوں میںتکنیکی اور انتظامی استعداد کی کمی ہے۔ عالمی سطح پر تعاون و رابطہ ' درآمدی و برآمدی پالیسیوں کی تشکیل ،معاہدات اور عمدگی و معیارات جیسے امورومسائل پر قابو پانے کے لیے۲۰۱۱ء میںوفاقی سطح پر ''وزارت تحفظ خوراک و تحقیق'' کے نام سے ایک نئی وزارت کاقیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ وفاقی سطح پر قومی تحفظ خوراک کونسل کے نام سے ایک الگ ادارے کیقیام کی تجویز زیر غور ہے۔
۳۔ تحفظ خوراک اور داخلی صورت حال
آبادی کا دباؤ
تیزی سے دنیا کی بڑھتی آبادی ۲۰۳۰ء میں ۷ارب سے بڑھ کر ۲ء ۸ارب ہو جائے گی۔ اسی طرح پاکستان کی آبادی جواس وقت تک انیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے،۲۰۳۰ء تک ۲۶کروڑہوجائے گی۔پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک قرار پائے گا ۔ پاکستان قیمتی قدرتی وسائل کی دستیابی ، شاندار نہری نظام، زر خیز زمین اور موسمی آب و ہوا کے اعتبار سے دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔زرعی سائنسدانوں کی تحقیقی کاوشوں کی بدولت ملک بیسویں صدی عیسوی کی اسی کی دہائی کے شروع ہی میں خوردنی اجناس میں خود کفالت کی منزل حاصل کرچکا تھا لیکن بعد ازاں آبادی میں مسلسل اضافے، غیر قانونی تارکین وطن کی آمداور اشیائے خوراک خاص طور پر آٹے، گڑ اور مویشیوں کی ہمسایہ ممالک کو غیرقانونی اسمگلنگ کے باعث اندرون ملک خوراک کی طلب بھی لگاتار بڑھ رہی ہے۔
زرعی معیشت
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جس کی مجموعی قومی پیداوار کا۲۱ فی صد زرعی شعبہ سے حاصل ہوتا ہے اور ۴۵ فی صد افرادی قوت کو روزگار کے بامعنی مواقع اسی شعبہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ملک کی ۶۸ فی صد آبادی آج بھی دیہات سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے ۶۰ فی صد افراد اپنی روزی اور بنیادی ضروریات کی کفالت کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ملک میں زیاد تر اشیائے پیداوار اسی شعبہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ملک میں ۵۸ فی صد کاشت کار ۵ ایکڑ یا اس سے کم زیر کاشت اراضی (۱۸ فی صد)کے مالک ہیں، ۵ سے ساڑھے بارہ ایکڑ اراضی(۳۰ فی صد) کے مالک کسانوں کی تعداد ۲۸ فی صد ہے۔ یوں چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاشت کاروں کی تعداد ۸۶ فی صد ہے جو زیر کاشت زرعی رقبہ کے صرف ۴۸ فی صد حصہ کے مالک ہیں جب کہ باقی ۵۲ فی صد زیر کاشت اراضی پر صرف ۱۴ فی صد بڑے جاگیر دار کاشت کاری کررہا ہے۔
صارفین کی قوت خرید میں کمی
افغان جنگ ، توانائی کا طویل بحران، بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ، ، سیلابوں سے زرعی فصلات اور نجی و سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات نے زرعی و صنعتی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے، سرکاری محصولات ، پیداواری لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے ضروری اشیا ء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، بے روزگاری اور عوام کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے۔اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے زیادہ ترشہری اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والا غریب اورمزدور پیشہ طبقہ متاثر ہواہے کیونکہ ان کی روزانہ اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے کم اضافہ ہواہے۔۱۹۸۸ء تا۱۹۹۰ء میں ایک مزدور اپنی ایک دن کی اجرت میں ۲۵ کلوگرام گندم خرید سکتا تھا لیکن آج ایک دن کی مزدوری سے وہ صرف ۱۶ کلوگرام گندم خرید سکتا ہے۔

صارفین کی ترجیحات میں تبدیلیاں
مہنگائی اور قوت خرید میں مسلسل کمی کے باعث صارفین کی صرفی ترجیحات میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ صحت ، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور حفظان صحت پر انفرادی اور حکومتی سطح پر اصلی اخراجات مسلسل کم ہوتے جارہے ہیں۔آمدن اور قیمتوں کے مابین بڑھتے ہوئے فرق کی وجہ سے عوام کا سستی مگر ناقص اور غیر معیاری خوراک کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے۔علاج معالجہ کی سہولیات تک عام آدمی کی رسائی مشکل ہوتی جارہی ہے اور لوگ با امرمجبوری بروقت علاج کرانے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس سے ملکی معیشت میں توانا و صحت مند افرادی قوت کے ذخائر اور پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
غربت ، مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ
غربت خوراک کے عدم تحفظ کی ایک اہم وجہ ہے۔پاکستان شماریات بیورو کے مطابق اشیائے صرف کی قیمتوں کے اشاریہ (Index) میں جولائی ۲۰۱۲ ء میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ۶تا۹ فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی سال ۲۰۱۱ ء سے افراط زر میں مسلسل اضافہ کی نشاندہی کی ہے۔ مالی سال ۲۰۱۲ ء کے دوران بھی عمومی گرانی بلحاظ اشاریہ صارف قیمت دو ہندسوں میں ہے اور اشیا ء کے مختلف گروپوں میں گرانی کا نفوز بڑھا ہے۔اس سے مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے اورمزید کروڑوں افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔
غذائی قلت
سال ۲۰۱۱ء میں غذائیت سے متعلق قومی سطح پر لیے گئے ایک جائزے کے مطابق ۵۸ فی صد گھرانے خاص طور پر بچے اور مائیں غذائی قلت کا شکار پائے گئے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۱ء میں پاکستان کے شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے ۵۶ ملین افراد میں سے ۲۱ ملین افراد کو غذائی قلت کا سامنا تھا۔ روزانہ صرف ۱۷۰۰ کیلوری فی کس یعنی غذائیت کے عالمی معیارات سے بہت کم خوراک کے حامل افراد کی تعداد گزشتہ چند برسوں میں ۳۵ ملین سے بڑھ کر ۴۵ ملین ہوچکی ہے۔
مخدوش معاشی صورت حال
تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی معیشت اس وقت سخت دباؤ کا شکار ہے۔غیر ملکی قرضوں کا حجم ۲۰۰۷ ء میں ۳۷ ارب ڈالر تھا جو اب ۶۴ ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ اندرونی قرضوں کی مالیت بھی ۸۰کھرب کی تشویش ناک حد کو پہنچ گئی ہے جس سے ملکی معیشت پر نہایت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ مالی سال ۲۰۱۲ ء کے دوران معاشی نمو ۷ء ۳ فی صد ریکارڈ کی گئی۔ ترسیلات زر اور مجموعی محاصل توقع سے کم رہے ہیں اور بلند مالیاتی خسارہ معیشت کے لیے بدستور بڑا خطرہ ہے۔بڑھتی ہوئی ملکی مالکاری کا متقاضی مالیاتی دباؤ، معاشی اور سماجی بوجھ کا باعث بننے والی توانائی کی قلت، کم سرمایہ کاری ، امن و امان کے مسائل اور ہمسایہ ملک افغانستان میں جاری جنگ مستقبل کی ترقی کی جڑیں کاٹ رہی ہے۔
شدید غربت کے علاقائی شواہد
خوراک کی دستیابی کے حوالے سے مختلف اضلاع کو انتہائی غیر محفوظ، غیر محفوظ،قدرے محفوظ اور تسلی بخش حد تک محفوظ خطوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں خوراک کے عدم تحفظ سے متعلق ایس ڈی پی آئی کی مطالعاتی رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۰۳ء کے بعد حالات زیادہ ابتر ہوگئے ہیں۔زیر مطالعہ ۱۳۱ میں سے ۸۰ اضلاع غذآئی قلت کا شکار پائے گئے۔ شرح خواندگی خصوصاً خواتین کی تعلیم، صاف پانی اور حفظان صحت کی سہولیات کی دستیابی کا تحفظ خوراک کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔مذکورہ سہولیات سے محروم اضلاع خوراک کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔خوراک میں خود کفالت بلکہ خوراک کے فاضل ذخائر کے باوجودپنجاب میں غربت و افلاس میں ۳۰۰۳ ء کے مقابلے میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اب صوبہ پنجاب کے۵۳ فی صد اضلاع غربت سے متاثر ہیں۔سندھ میں ۲۰۰۳ ء کی نسبت مزید ۲ فی صد اضلاع غربت کا شکار ہوئے ہیں جب کہ جنوبی سندھ اور اس سے ملحقہ ساحلی پٹی پر بسنے والے افراد شدید غربت کا شکار پائے گئے ہیں۔فاٹا کے تمام اور صوبہ خیبرپختون خوا کے ۸۳ فی صد اضلاع شدید غربت کا شکار ہیں۔طویل بد امنی، لاقانونیت ،خانہ جنگی، مسلح کشمکش، غیر ملکی مداخلت اور قدرتی آفات اس کی بڑی وجوہ ہیں۔کشمیر و بلتستان میں میر پور ضلع کے سوا پورا علاقہ سنگین مفلسی کا شکار ہے۔
بلوچستان میں ۹۰ فی صد اضلاع انتہائی کم محفوظ ، ۱۰ فی صد قدرے محفوظ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں جب کہ پورے صوبے میں خوراک کے حوالے سے ایک ضلع کی حالت بھی تسلی بخش قرار نہیں دی جاسکتی۔ڈیرہ بگتی، کوہلو، لورالائی،ژوب، بارکھان اور موسٰی خیل کا شمار سب سے زیادہ افلاس زدہ اور غذائی عدم تحفظ کے شکار اضلاع میں ہوتا ہے۔یہاں ۹۸ فی صد خواتین ناخواندہ،۹۶ فی صد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم اور ۸۰ فی صد گھرانے بیت الخلاکے تصور سے نا آشنا ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں پنجگور، دالبندین، نوشکی، لورالائی اور مچھ کے اضلاع میں بڑی تیزی سے غربت میں اضافہ ہوا ہے۔
خوراک میں فولاد،کیلشیم اور حیاتین کی کمی
پاکستان میں لحمیات اور توانائی کے حامل اہم غذائی اجزاء کا استعمال تو کسی حد تک تسلی بخش ہے جب کہ خورد تغذیاتی اجزاء مثلاً فولاد' کیلشیم اور حیاتین اے کی سطح نہایت پست ہے۔ مثال کے طور پر فولاد کی فی کس کھپت مطلوبہ غذائی معیار سے ۲۴ فی صد کم ہے۔ حیاتین اے کی کمی پاکستان میں ۸۵ فی صد اور آزادکشمیر میں ۷۷فی صد پائی گئی جب کہ فصل کے پیداواری خطوں کے مابین بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔حیاتین سے بھرپور خوراک کافی مہنگی ہونے کے باعث عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے۔ پاکستان میں خوردنی فولادکی سطح ۲۴ فی صدکم اور آزادکشمیر میں( ۲۵ فی صد) تھی۔ پاکستان اور آزادکشمیر کے تمام گھروں میں فولاد بخش خوراک کی کمی پائی گئی۔
۴۔ تحفظ خوراک اور اہم چیلنج
تحفظ خوراک کے حوالے سے بطور قوم ہمیں جن سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے، اس کی ایک جھلک درج ذیل ہے:
۱۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے زراعت بے حد اہم ہے اور اس کی یہ اہمیت آئندہ پندرہ بیس سال تک یونہی برقرار رہے گی۔ اس لیے زرعی ترقی کی طرف زیادہ توجہ درکار ہوگی۔آئندہ پاکستان کی زراعت کو بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے فاضل مقدار میں صحت بخش خوراک کا انتظام اپنے ذرائع سے کرنا ہو گا تاکہ فالتو خوراک کی برآمد سے زرمبادلہ کمایا جا سکے۔
۲۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد اور بیرون ملک سے غیر قانونی اسمگلنگ نے خوراک کے دستیاب ذخائر پر دباؤ میں اور بھی اضافہ کردیاہے۔ شہروں کے پھیلاؤ، آبی ذخائر میں کمی، توانائی کے بحران اورناموافق موسمی تغیرات بشمول سیلاب اور خشک سالی کے باعث غذائی پیداوار میں اضافہ کی شرح برقرار رکھنا دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔
۳۔ مستقبل میں خوراک کی طلب کی نوعیت آج سے مختلف ہو گی۔ اس کی وجہ عمر رسیدہ افراد کا بڑھتا ہوا تناسب، شہروں کا پھیلاؤ ، بڑے شہروں کا ظہور، خاندان کی نوعیت اور ساخت میں تبدیلی، تیار کھانوں کی عام دستیابی کے باعث کھانا کھانے کی عادات و اطوار میں تبدیلیاں ،ملٹی نیشنل فوڈ کمپنیوں، پیزاہٹ اور چائنیز ریسٹورنٹ کی توسیع، ہیپاٹائٹس ، ذیابیطس اور دل کے مریضوں کے لیے مخصوص اقسام کی اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی ضرورت وغیرہ ہیں۔
۴۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اپریل ۲۰۱۲ ء میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق شہری آبادی میں غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد ۳۷ فی صد سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس سے آئندہ چل کر سنگین خطرات جنم لے سکتے ہیں۔اگرچہ مشترکہ خاندان، مساجد، محلے اور قومی سطح کی فلاحی تنظیموں جیسے معاشرتی ادارے سماجی و اقتصادی بہبود کے مستحکم اور پائیدار ذرائع ہیں لیکن سرکاری مربوط حفاظتی اقدامات (سیفٹی نیٹس) سے آگے ریاست کا کردار ختم نہیں کیا جاسکتا۔
۵۔ ملک کے ۵۸فی صد کے قریب کاشتکار، ۵ ایکڑ سے بھی کم اراضی کے مالک ہیں اور یہی وہ کاشتکار ہیں جو بری طرح خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ مستقبل میں شہروں کے پھیلاؤ کے باعث شہری آبادی کو تحفظ خوراک کے سنگین مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا زرعی شعبہ کی ایسی اہم ذمہ داری ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ پاکستان میں اشیائے خوراک کی تجارت کا توازن پہلے ہی خسارے کا شکار ہے کیونکہ ہم دالوں , خشک دودھ ، چائیاور روغنی بیجوں کی پیداوار میں بہت پیچھے ہیں۔
۶۔ آج کل ۷۰ فی صد سے زائد زیر کاشت رقبہ پر ربیع کے موسم میں گندم کی اکلوتی فصل کاشت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر اس تناسب میں مزید اضافہ متوقع ہے جس کا مطلب ہے کہ دالوں، روغنی بیجوں اور دیگر ربیع فصلوں کے لیے بہت کم رقبہ دستیاب ہو گا۔ اس قسم کی دیگر فصلوں کی کاشت ممکن بنانے کے لیے ہمیں نئی ٹیکنالوجیوں اور بہتر دیکھ بھال کے ذریعے پیداواری عمل میں پائی جانے والی تکنیکی خامیوں کو دور کر کے گندم کی فی ایکڑ پیداواری صلاحیت میں کافی اضافہ کرنا ہو گا اور گندم کی نئی زیادہ پیداواری اقسام کی دریافت کے باعث اب اس کی گنجائش موجود ہے۔
۷۔ علاوہ ازیں دالوں،خوردنی تیل دارفصلات اور ادویاتی اہمیت و افادیت کے حامل پودوں کی کاشت کو فروغ دے کر قیمتی زر مبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔
۸۔ قومی وسائل اور ذرائع پیداوار پرقابض مٹھی بھر افراد نے کثیر القومی تجارتی کمپنیوں ،اشتہاری اداروں اور مقتدر حلقوں کے ساتھ مل کر پوری قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اشیائے خوراک و پیداوار کی ذخیرہ اندوزی،ملاوٹ،چور بازاری،جعل سازی،ناجائز منافع خوری، کھانے پینے میں مرغن ،چٹ پٹے ،مسالا دار پکوان ، ڈبوں میں بند کیمیائی دودھ اور ڈیری مصنوعات ،مصنوعی غذاؤں اور غیرمعیاری مشروبات کااستعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں معدہ ، جگر ، سانس اور دل کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
۹۔ سماجی و معاشی پالیسیوں کی تشکیل کے سلسلہ میں آج ہم ایک حیرت انگیز تضاد کا شکار ہیں۔ یوں تو پاکستان خوراک کی پیداوا میں خود کفالت حاصل کر چکا ہے لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق ۲۶ فی صد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ملک میں غلہ کے وافر ذخائر کی موجودگی کے باوجود بے روزگاری اور شدید غربت و بیماری کے باعث قومی اور گھریلو سطح پر ملک کی چالیس فی صد سے زائد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ دریں حالات قومی سطح پر خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانا ایک اہم چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
۵۔ تحفظ خوراک اورتخفیف غربت سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ
حکومت اورمتعلقہ ادارے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے عام طور پر جن رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں ،اسے پالیسی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تحفظ خوراک کے معاملہ میں زیادہ تر چار قسم کے پالیسی ذرائع (انسٹرومنٹس) استعمال کیے جاتے ہیں۔اول، اقتصادی نوعیت کے اقدامات جن کے ذریعے اشیا ء و خدمات کی قیمتوں کوبراہ راست کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے زر اعانت یا رعایتوں کا اعلا ن، ٹیکسوں میں چھوٹ، جمع شدہ رقوم کی واپسی، قابل انتقال تجارتی اجازت نامے وغیرہ۔ دوم، سرکاری سطح پر راست اخراجات اور مخصوص حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کے لیے سرکاری بجٹ میں مختص رقوم میں کمی بیشی تاکہ اس طرح صارفین اور پیداکاروں کے رویوں پر اثر انداز ہوا جا سکے، ان میں سرکاری طور پر اجناس کی خریداری، تحقیق و ترقی کے لیے رقوم کی فراہمی اور اختراعات کی حوصلہ افزائی شامل ہیں۔ سوم، حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمدکی راہ میں حائل قانونی رخنوں کو دور کرنے اور طریق کارکو سہل اور مؤثربنانے کے لیے قانون سازی اور قواعد و ضوابط کی تشکیل۔ چہارم، ادارہ جاتی اقدامات تاکہ سرکاری اداروں اور حکومتی اہل کاروں کی روزمرہ کارکردگی کی سطح بلند ہوسکے۔ ملک کے مخصوص سیاسی و معاشی تناظر میں کسی بھی مسئلہ کے حل کے لیے مؤثر اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں کا چناؤ اور ان پرکامیابی سے عمل درآمد ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ اس کے لیے نفس مسئلہ سے گہری واقفیت،عصری مسائل کا شعور، تکنیکی مہارت اور پختہ سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں خوراک کے تحفظ اور سرکاری سرمایہ کاری پالیسیوں' مالیاتی اور قرضہ جاتی پالیسیوں' زرعی مداخل (Inputs)کی قیمتوں اور رسد کی پالیسیوں' خوراک کی قیمتوں اور مارکیٹنگ پالیسیوں' ٹیکنالوجی کے فروغ کی پالیسیوں اور زرمبادلہ و تجارتی پالیسیوں وغیرہ کے مابین روابط سے متعلق معلومات کی کمی پائی جاتی ہے۔پاکستان میں حکومتی سطح پر کیے جانے والے پالیسی اقدامات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول، رسد مائل اوردوم طلب مائل پالیسیاں۔اس ضمن میں سرکاری سطح پر کیے گئے اہم پالیسی اقدامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
کھادوں پر زر اعانت اور گندم کی امدادی قیمت پر خریداری
غذائی تحفظ کی پالیسیاں بناتے ہوئے حکومتوں کا رحجان زیادہ تر گندم کی سرکاری قیمت خرید میں اضافہ اور رعایتی نرخوں پر کھادوں کی فراہمی جیسے رسد مائل اقدامات کی طرف رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں خوراکی فصلوں کی پیداواری استعداد میں نمایا ں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں کھاد خاص طور پر یوریا کھاد پر دیا جانے والا زر اعانت اور کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ دینے اور گھریلو اور قومی سطح پر گندم کی دستیابی کو ممکن بنا نے کی غرض سے موسم کاشت سے قبل گندم کی امدادی قیمتوں کا اعلان شامل ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے یوریا کی درآمد پر ۴ ارب روپے خرچ کیے جب کہ فوجی فرٹیلائزر اور بن قاسم لمیٹڈ کو ۱۸ئ۵ کروڑ روپے زر اعانت دی گئی۔
گندم کی خریداری کی ذمہ داری خوراک کے صوبائی محکموں اور پاسکو پر عائد ہوتی ہے۔حکومت کی طرف سے گندم کی امدادی قیمتوں پر خریداری کی پالیسی سے اندرون ملک گندم کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ماہرین کے مطابق امدادی قیمت میں ایک روپیہ فی من اضافہ سے گندم کی پیداوار میں ۹۰ ہزار ٹن (۶ فی صد )اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔البتہ اس پالیسی سے بھی زیادہ تر بڑے زمینداروں یعنی اپنی ضرورت سے زائد فاضل اناج پیدا کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچتا ہے جو سرکاری حلقوں میں سیاسی اثرو رسوخ کے ذریعے محکمہ خوراک اور پاسکو سے باردانہ لے کر امدادی قیمتوں پر اپنی گندم فروخت کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں چھوٹے کسانوں سے امدادی قیمت سے کم نرخوں پر سستا اناج خرید کر مہنگے داموں حکومت کو فروخت کرکے ناجائز منافع کماتے ہیں۔ دوسری جانب اجناس کی قیمتوں میں اضافہ سے تمام اشیائے ضرورت اور خدمات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ واقع ہوتا ہے۔ اس طرح شہروں میں رہنے والیبے زمین صارفین (۴۵فی صد)اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم ۳۰ فی صد غریب کاشتکار محدود مالی وسائل کے باعث مہنگے داموں بازار سے اشیائے خوراک خریدنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یوں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
درایں حالات امدادی قیمتوں کی صورت میں کاشتکاروں کو دی جانے والی مالی ترغیبات بھی اندرون ملک اناج کی مجموعی پیداوار میں تو قدرے اضافہ کا باعث بنتی ہیں لیکن اس پالیسی سے بھی تخفیف غربت کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔
اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی
یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن نے اپنے ۵۷۰۰، مراکز کے ذریعے، جن میں سے ۳۰۴۷پنجاب، ۹۲۸ سندھ، ۱۲۱۰ خیبر پختونخوا ، ۳۴۹ بلوچستان، ۹۲ آزاد جموں وکشمیر اور ۷۴ شمالی علاقہ جات میں واقع ہیں، شہریوں کو اشیائے خوردونوش بازار سے کم قیمت پر فراہم کرنے کا بند وبست کیا ہے تاکہ غریب عوام کوشدید مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔حکومت نے دوردراز علاقوں میں مزید ۵۰۰۰ نئے اسٹورکھولنے کا اعلان کیا ہے۔ مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے اشیائے خوراک نسبتا ارزاں نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں لیکن ان کا معیار غیر تسلی بخش بتایا جاتا ہے۔
نقد رقوم کی تقسیم
زیادہ تر ادوار میں حکومتوں نے زکٰوۃ فنڈ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اسی نوعیت کے دیگر منصوبوں کے تحت نقد رقوم کی تقسیم کے ذریعے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے انتہائی افلاس کا شکار افراد کی قوت خرید میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔ امدادی رقوم کی غیر شفاف طریقے سے تقسیم، غیر مستحق افراد کی مستحق افراد کے طور پر شمولیت اور طلب کے مقابلے میں وسائل کی کمیابی کے باعث اس قسم کی اسکیمیں قومی خزانے پر بھاری اخراجات کے باوجود نچلی سطح پرانتہائی غربت اور غذائی عدم تحفظ کے شکار افراد کی زندگی میں کوئی قابل ذکر تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہیں۔
خصوصی منصوبہ برائے تحفظ خوراک
نقد رقوم کی تقسیم کے علاوہ حکومت پاکستان کی جانب سے پنجاب کے دو اور خیبر پختونخوا میں ایک مقام پر خصوصی منصوبہ برائے تحفظ خوراک کا اجرا، کا مقصد خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا اور زرعی اجناس خاص کر گندم، چاول، مکئی اور خوردنی تیل کی پیداوار کو پائیدار بنیاد پر مستحکم کرنا تھا۔ اس کے کامیاب تجربہ کی روشنی میں بعد ازاں وفاقی حکومت کے تحت ۱۰۹ دیہات میں فصلوں کی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کا پروگرام شروع کیا گیاہے۔
تقسیم زکٰوۃ کا نظام
تقسیم زکٰوۃ کے نظام سے متعلق تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ مستحق فرد کی کوئی جامع و مانع تعریف نہ ہونے،سیاسی مداخلت، محدود وسائل،اقربا پروری اور کرپشن کے باعث صرف۲ فی صد مستحق افراد ہی تمام سرکاری ذرائع سے دی جانے والی زکٰوۃ وصول کرتے ہیں جب کہ اس نظام میں پائے جانے والے نقائص کا فائدہ اٹھا کرغیر مستحق افراد ناجائز طور پر زکٰوۃ کی رقوم خرد برد کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔انتہائی غربت کے شکار،سفید پوش اور دور افتادہ مقامات پر بسنے والے افراد اس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ اگر زکٰوۃ کی جمع شدہ تمام رقوم بھی شفاف طریقے سے مستحقین میں تقسیم کردی جائیں تو بھی فقط دس فی صد مستحق گھرانے ہی اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
وسیلۂ تعلیم پروگرام
اس وقت دنیا کی تین کروڑ بیس لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں اور ان میں سے ۵۰ لاکھ بچیوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔وفاقی حکومت نے وسیلۂ تعلیم پروگرام کے تحت چار برسوں میں تیس لاکھ بچوں کوپرائمری تعلیم کے لیے تعلیمی وظائف دینے کا اعلان کیا ہے۔
نقد رقوم کی تقسیم کے علاوہ اصلاح احوال کے لیے کیے گئے دیگر اقدامات میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ،دستکاری اسکول،اسکول فیڈنگ،محفوظ مامتا اوربچوں کا غذائی پروگرام،صوبوں میں عالمی ادارہ خوراک ،عالمی ادارہ صحت ، یونیسیف اور یونیسکو کی مدد سے تخفیف غربت کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔
قومی سطح پر تحفظ خوراک کو منضبط کرنے والے عوامل اور ان کی فعالیت گھرانے اور فرد کی سطح پر کارفرما عوامل اور ان کی فعالیت سے یکسر مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس لیے قومی سطح پر جمع کیے گئے اعدادو شمار کی بنیاد پر تحفظ خوراک کی پالیسیوں اور اقدامات کے نتائج و اثرات کا جائزہ لینے کی کوششوں سے نچلی سطح پر شدید غربت و افلاس کا شکار افراد و گھرانوں کی زندگیوں پران سرکاری اقدامات اور پالیسیوں سے مرتب ہونے والے اثرات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
یوں تو ترقی پذیر ممالک کے ہاں پالیسی متبادلات کی گنجائش ویسے ہی بہت کم پائی جاتی ہے لیکن سرکاری پالیسی پر عمل درآمد میں ناگزیر سستی و تساہل کے باعث بہترین پالیسیاں بھی مطلوبہ نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری اور حکومتی مشینری پر اٹھنے والے بھاری اخراجات کے باوجود تحفظ خوراک کے حوالے سے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہت کم بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ کرپشن، اقربا پروری، غیر دانشمندانہ مالیاتی پالیسیاں، اندرونی و بیرونی قرضوں کا بوجھ،پالیسیوں میں عدم تسلسل اس ناکامی کی چند وجوہ قرار دی جاسکتی ہیں۔
۶۔ زرعی ترقی اور تحفظ خوراک کے امکانات
درج ذیل نکات پاکستان میں زرعی ترقی اور تحفظ خوراک سے متعلق تحقیقی و ترقیاتی اداروں کے اقدامات کو کامیاب بنا سکتے ہیں:
خوراک کے متبادل ذرائع کی تلاش
قومی سطح پر خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اشیائے خوراک کے پورے پیداواری عمل اور اناج کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کرنا ضروری ہے۔پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ محض گندم کی پیداوار میں خود کفالت سے تحفظ خوراک کے جامع تصور کو حقیقت کا روپ نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں خوراک کے متبادل ذرائع؛ مثلاً ثانوی اجناس جیسے چاول' مکئی' باجرہ اور جوار پر توجہ دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ ہمیں بنجر و بے آباد اور دورافتادہ اراضی کو قابل کاشت بنا کر غذائی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر گندم کے ضمن میں یوجی ۹۹پر تحقیق و ترقی کے ذریعے ہم اس خطے میں اگلی دہائی کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں فوری طور پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
مخصوص پیداواری خطوں کا چناؤ
غذائی تحفظ کی غرض سے زرعی مقاصد کے لیے مخصوص خطوں کے چناؤ کی پالیسی کو فروغ دیا جائے۔مثال کے طور پر بلوچستان کے ضلع چاغی اور خاران میں جہاں زیر زمین پانی خاصا قریب ہے ، ۱۵لاکھ ہیکٹر ایسی اراضی دستیاب ہے جس پر گندم اور دیگر ثانوی فصلیں کاشت کی جا سکتی ہیں۔ دور افتادہ او کم زرخیز زمینوں کو مکئی ' باجرہ اور جوار کی پیداوار کے لیے کام میں لایا جا سکتا ہے کیوں کہ ان کے لیے کم پانی کی ضرورت پڑتی ہے (مکئی۳۲۵ ملی میٹر' جوار ۲۸۸ ملی میٹر اور باجرہ کے لیے ۲۷۵ ملی میٹر) جب کہ چاول کے لیے ۵۵۰ ملی میٹر اور گندم کے لیے ۳۸۵ملی میٹر پانی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح بلوچستان کی ساحلی پٹی پر پام آئل اور مقامی آب و ہوا سے موافق دیگرپودوں کی کاشت سے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
پیداوار کی محفوظ ذخیرہ کاری
تیس فی صد ترشاوہ پھل مختلف مرحلوں پہ ضائع ہو جاتا ہے۔ نقصانات کی شرح سب پھلوں ، منڈی اور خردہ فروشوں کی سطح پر زیادہ ہے۔آموں کے لیے نقصان کی شرح سب مرحلوں پر تقریباً ۳۷فی صدہے۔ تازہ اور خشک کھجوروں کے لیے نقصانات کا اندازہ چنائی سے قبل اور بعد ۲۶فی صد اور ۳۶ فی صد لگایا گیا ہے۔گھریلو ،مقامی، علاقائی اور قومی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر زرعی پیداوار کی محفوظ اور دیرپا ذخیرہ کاری کی سہولت و استعداد میں اضافہ کرکے نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
غذائیت سے بھرپور خوراک
متوازن ، صحت مند اور کیمیائی زہروں سے پاک خوراک کی فراہمی کے لیے مطلوبہ غذائی معیار (RDA) کو سامنے رکھتے ہوئے خوراک میں خرُد غذائی اجزاء کی کمی کو دور کرنے کے لیے تحقیقی منصوبے تشکیل دیے جائیں۔
اہم سماجی و معاشی امور، جن پر مستقبل میں تحقیق کی ضرورت ہے، میں پیداواری صلاحیت میں بہتری کے عوامل،پالیسی اقدامات،کسانوں کو وسائل اورمعیاری زرعی مداخل ( Inputs) کی بروقت فراہمی،جدید ٹیکنالوجیوں کی تیاری کے لیے تحقیقی و ترقیاتی منصوبے،ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے توسیعی اقدامات،مؤثر بازارکاری (مارکیٹنگ)اور منڈیوں کی اصلاح و تعمیرشامل ہیں۔
زرعی تحقیق و ترقی اور تحفظ خوراک کے ذمہ دار ادارے
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مختلف فصلوں سے مصنوعات کی طرف توجہ مبذول کریں۔ اس کے لیے ہمیں ملک کے مختلف خطوں میں مقامی ضروریات اور حالات سے ہم آہنگ تحقیقی سرگرمیوں کو رواج دینا ہوگا۔پاکستان میں زراعت کے فروغ کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان کی فہرست قدرے طویل ہے لیکن فوری طور پر جن امور و مسائل کی تحقیق پر توجہ دینا ضروری ہے ان میں حیاتیاتی انجنیئرنگ (بائیو ٹیکنالوجی)،امراضِ نباتات خاص طور پر پودوں میں وائرس سے پھیلنے والے امراض کا مطالعہ ،بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت کے حامل بیجوں کی تیاری ،فروٹ فلائی کا انسداد، فصلوں میں بیماریوں کی حساسیت کی جانچکاری،زرعی مصنوعات میں تنوع/قدرافزائی،فصل کٹائی کے بعد نقصانات پر قابو پانا، بی ٹی کپاس کی پیداوار اور چاول ' گندم' کپاس' مکئی' جوار ' چارا' پھل' سبزیات اور پھولوں کے دوغلے بیجوں کی تیاری، شمسی توانائی اور گوبر گیس جیسے توانائی کے متبادل ذرائع کا استعمال ، زرعی پمپوںکی اصلاح،کیڑے مار ادویات کے زہریلے مادوں اور نامیاتی کھادوں کا تجزیہ، خوراک کی سرد خانوں کے ذریعے ترسیل کا فروغ،فصلوں کو چوہوں ،سؤروں اور دیگر نقصان دہ جانوروں سے بچاؤ کے طریقوں پر تحقیق اور بے موسمی سبزیوں کی پیداوار میں نقصان دہ حشرات پر قابو پانے کے لیے مددگار کیڑوں کا استعمال شامل ہیں۔ اسی طرح ہم اندرون ملک لائیو سٹاک،مرغبانی اور مچھلی کی پیداواری استعداد، معیار اور بازار کاری (مارکیٹنگ)کے شعبہ کو فروغ دے کر بیرون ملک مسلم دنیا کے لیے حلال گوشت کی برآمد سے کثیر زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔
آبی و زمینی وسائل کا تحفظ
اسی طرح آبی و زمینی وسائل کے تحفظ اور زرعی مقاصد کے لیے ان کے مؤثر استعمال کی غرض سے لیزر کی مدد سے زمینی سطح ہموار کرنا؛گندم ' چاول سسٹم میں صفر درجہ کاشت کاری ہل(زیروٹیلج ڈرل) کا استعمال؛گندم' مکئی اور چاول میں کھیت بوائی(بیڈ پلانٹنگ)،گنے میں آبپاشی کے لیے سیاڑ اور متبادل سیاڑ کا طریقہ ؛قیمتی فصلوں میں قطرہ قطرہ آبپاشی کا طریقہ؛چارے کی فصلوں کے لیے فوارہ آبپاشی طریقہ اپنانا ضروری ہے۔ماحولیاتی تحفظ اور کیمیائی زہروں سے پاک محفوظ خوراک کی تیاری کی غرض سے نامیاتی کیڑے مار ادویات اورنامیاتی کھادوں کی تیاری اورمختلف فصلوں اور پھل دار پودوں کے لیے انضباط حشرات کے مربوط طریقوں (آئی پی ایم۔ ماڈل )کو فارمرز فیلڈ اسکولوں کے تجربات کی روشنی میں رواج دیا جانا چاہیے۔ اسی طرح حیاتیاتی ایندھن' جٹروفا وغیرہ جیسے توانائی کے متبادل ذرائع اور سبز کھادوں کی حامل فصلات کی موزونیت جیسے امور کو موضوع تحقیق بنایا جائے۔
دیہی غربت کا خاتمہ
دیہی سطح پر خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیوں کو تیزی سے رواج دینا ہوگا؛ متحرک اور فعال ادارے قائم کرنا ہوں گے؛ منڈیوں میں بنیادی سہولتوں میں بہتری لانا ہوگی اور سب سے بڑھ کر مؤثر اور مناسب پالیسیاں تشکیل دے کر ان پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہوگا۔ یہ سب کچھ کرنے کے لیے ہمیں ہماری قومی ضروریات سے ہم آہنگ ایسے ترقیاتی منصوبے تشکیل دینا ہوں گے جن کو تیزی کے ساتھ مکمل کیا جا سکے۔دوسری جانب خوراک تک ہر آدمی کی رسائی ممکن بنانے کے لیے مناسب سرمایہ کاری کے ذریعے دیہی سہولیات میں اضافہ اور زرعی کاروبار اور فروخت کاری کے نظام کو مؤثر بنانا ہوگا۔ خوراک کے تحفظ اور غذائی پالیسی کو باہم مربوط کرکے ہی ہم دیہی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔دیہی غربت کے خاتمہ کے لیے ہمیں خاص طور پر اپنے کاشتکاروں کے ساتھ مل کر درج ذیل تدابیر اختیار کرنا ہوں گی:
I. برسرِ کھیت زرعی مصنوعات کی تیاری اورکسانوں کی تربیت کے لیے فارمرفیلڈ اسکولوں کا قیام؛پیداوار میں اضافہ کے لیے مثالی گاؤں((ماڈل ویلیج) کی تعمیر؛ زیادہ پیداواری استعداد کے حامل معیاری بیجوں کی پیداوار اور انتظام؛اجناس کے معیار کی جانچکاری اور تصدیقی اسناد کا اجرائ؛ترشاوہ پھلوں ' چیری' انگور' انار اور دیگر پھولوں کی افزائش کے لیے جدید باغبانی (فروٹ آرچرڈ) کا انتظام۔
II. زرعی پالیسیاں بناتے ہوئے کاشتکاروں کو اعتماد میں لینا چاہیے اور اس کے لیے ہمیں تحقیقی منصوبوں کی تیاری کے عمل میں انھیں شریک کرنا ہوگا۔ آئندہ زرعی تحقیق کی منصوبہ بندی کی غرض سے منعقدہ اجلاسوں میں ترقی پسند کاشتکاروں کی حقیقی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے تجربات و مشاہدات اور تجاویز و آرائ