نکیل
فرح ندیم
’’ایدے نال لڑیں گا۔۔۔‘‘’’لڑاں گا۔۔۔‘‘
’’جمورے‘۔۔۔‘’’واہ واہ‘۔۔۔!!‘
’’گھوم جا۔۔۔‘‘’’ گھوم گیا۔۔۔‘‘
’’جھوم جا۔۔۔‘‘’’جھوم گیا۔۔۔‘‘
’’ بھیڑ بڑی لیلا۔۔۔‘‘’’لیلا۔۔۔‘‘
’’ساس بڑی نہو۔۔۔؟‘‘            ’’نہو۔۔۔!‘‘
’’جمورے۔۔۔؟‘‘’’ واہ واہ‘۔۔۔‘
ـ’’اُلٹا جمیا۔۔۔؟؟‘‘’’نئیں۔۔۔!!‘‘
’’فیر۔۔۔؟‘‘’’اُلٹا ہوکے ویکھنا۔۔۔‘‘
’’کـی ویکھیا۔۔۔؟ا‘‘’’نہ پچھ۔۔۔!!!‘‘
’’فیر وی۔۔۔؟‘‘’’پہلے زندگی دی ضمانت‘‘
جیون نے دونوں ہاتھ باندھ لیے۔ ڈمبرو کو بغل میں دبایا، ریچھ کو ایک طرف پتھر سے باندھا اور سانپ کو ہوا میں لہرا کر بولا
’’مل گئی ضمانت‘‘’’تے دال روٹی۔۔۔؟‘‘
’’او وی ملے گی۔۔۔سائیاں دے سایے چہ، تو بھکا نئیں مردا‘‘’’پانچ دس روپے۔۔۔؟؟‘‘
’’سائیاں دے مال دی زکواۃ تے بالاں دے سر دا صدقہ‘‘’’ملے گا۔۔۔؟‘‘’’برابر۔۔۔‘‘
مداری نے بانسری لبوں سے لگائی اور بغل سے ڈمبرو نکال کر تغ تغ تغ تغ تغردڑ تغردڑ کرنے لگا۔ جمورا مداری کی چادروں اور تھیلوں پہ بیٹھا تماشائی نظروں کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ دائرے کاچکر کاٹتے ہوئے مداری نے ریچھ کی نکیل کواس طرح جھٹکا دیا کہ ریچھ کی بھر پور بھڑک سے مداری سمیت تماشائی چھلانگیں لگاتے ایک دوسرے پر گرتے پیچھے ہٹنے لگے۔ مداری کا یہ عمل جمورے کو ہمیشہ سے اچھا لگتا تھا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے تالیاں بجا کر بھالو کو داد دی پھر’’جمورے‘‘ کی گونجتی آواز نے سب کی گردنیں مداری کی طرف موڑ لیں۔
’’واہ واہ‘‘ جمورے نے آواز سن کر کہا۔
’’بول تم نے کیا دیکھا‘‘
’’بندہ سانپ بن دا ویکھیا‘‘
’’یا اﷲ توبہ میری‘‘
’’ڈنگ مار دا ویکھیا‘‘
’’یا اﷲ توبہ میری‘‘
’’یا اﷲ توبہ میری‘‘
’’اﷲ دی مخلوق‘‘
’’سوہنے سائیں دی مخلوق‘‘
’’کاری ہوندیاں ویکھی‘‘
’’ہرررررررر‘‘
تماشائیوں کے درمیان کھسر پسر ہونے لگی۔ لوگ اِدھر اُدھر دیکھنے لگے ۔ایسا لگتا تھاجیسے لوگ کسی کو ڈھونڈ رہے ہوں یا اس فکر میں ہوں کہ کہیں جمورے کی آواز کسی نے سن تو نہیں لی۔ اس بے چینی کو مداری نے بھانپتے ہوئے کڑک دار آواز میں جمورے کو مخاطب کیا۔
’’جمورے‘‘            ’’واہ واہ‘‘
’’گھوم جا‘‘ ’’ گھوم گیا‘‘
’’جھوم جا‘‘ ’’جھوم گیا‘‘
’’اس ریچھ سے لڑو گے۔۔۔؟‘‘’’لڑوں گا‘‘
’’سانپ سے لڑو گے۔۔۔؟‘‘’’لڑوں گا‘‘
’’ایہہ جانور تُوانسان۔۔۔‘‘’’میں فیر وی لڑوں گا‘‘
’’جمورے ۔۔۔‘‘’’واہ واہ‘‘
’’میں بڑا کہ تو۔۔۔؟‘‘’’میں۔۔۔‘‘
جمورے کی اس بات پہ کچھ لوگ ہنستے اور تالیاں بجاتے ہیں۔
’’وہ کیسے‘‘’’تو ریچھ سے ڈر دا‘‘
’’آخو‘‘’’تو سانپ سے ڈر دا‘‘
’’آخو‘‘’’تو بندے سے ڈردا‘‘
’’ہاں بچہ میں بندے سے ڈرتا ، اس کے ڈنگ سے ڈرتا ، اس کے پنجوں سے ڈرتا، اس کے جبڑوں سے ڈرتا‘‘
باپ اور بیٹے کے اس انوکھے ڈائیلاگ پہ لوگ اور بھی بے چین ہوجاتے ہیں۔ مداری کبھی اس قسم کی باتیں نہیں کرتے ۔ ان کو کیامعلوم کہ مداری جیون کے بھی یہی جذبات تھے۔ بیٹا کیوں ایسا بول رہا تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ اسی لئے وہ بھی ڈرامائی تکرار کے دوران جمورے کو اپنے جذبات سے آگاہ کر رہا تھا کہ وہ رٹے رٹائے بولوں کے علاوہ کچھ نہ کہے۔ لوگوں کی توجہ ہٹانے کو اس نے پھرڈگدگی بغل سے نکالی اورتغ تغ تغردڑ تغردڑ کرنے لگا پھر جمورے کے سامنے کھڑا ہو کر بولا۔
’’جمورے‘‘            ’’واہ واہ‘‘
’’اس سانپ سے لڑے گا۔۔۔؟‘‘’’ہاں لڑوں گا‘‘
’’ایہہ زہر نال بھریا۔۔۔؟‘‘
’’کوئی بات نہیں بندہ وی زہر نال بھریا۔۔۔!!‘‘
’’نہیں جمورے ۔۔۔ نہیں بندہ بندے دا دارو تے سانپ سانپ دا ویری‘‘
’’نہیں مداری نہیں۔ ایتھے سانپ سانپ دا دارو تے بندہ بندے دا ویری‘‘
’’جمورے۔۔۔؟‘‘’’واہ واہ۔۔۔‘‘
’’گھوم جا‘‘’’ گھوم گیا‘‘
’’جھوم جا‘‘ ’’جھوم گیا‘‘
’’دیکھ کے بتا وہ کون سا سانپ ہے جو سانپ کا دارو ہے‘‘
’’وڈیاں کھوواں تے ڈونگیاں کھائیاں دے سانپ،بڑی مونچھوں والے سانپ ، وڈے پیٹ والے سانپ،اُچے شملے والے سانپ ، چٹے ہتھاں والے تے کالے کرتوتاں والے سانپ،وڈیاں سپنیاں دے وڈے سانپ، سانپ سائیں سانپ، کارو کاری والے سانپ۔کی دساں مداری ہر پاسے سانپ۔۔۔تیرے آسے پاسے سانپ۔‘‘
کاروکاری کا نام سنتے ہی ہجوم میں ایک بار پھر بے چینی پھیلی مگر جلد ہی مداری جیون بھانپ گیا کہ معاملہ گڑ بڑ ہے۔ زور سے ہررررررررر کرنے کے بعد وہ جمورے کی طرف پلٹا اور سانپ ہوا میں لہرا کر بولا۔
’’تو بہت باتیں کرتا ہے، جمورے۔پر یاد رکھ۔سپاں نال ویر نہئیں رکھدے۔جنگل میں رہ کے شیر سے دشمنی
!!!یا اﷲ توبہ میری!!! اس سانپ کی طرف دیکھ ۔اسکے زہر سے ڈر ۔اسکے ڈنگ سے پناہ مانگ بچہ!!!
 پھر وہ تماشائیوں کی طرف پلٹا اور سانپ کو گلے میں لٹکا کر دائرے میں چکر کاٹنا شروع ہوگیا۔ بانسری ہوا میں لہرائی اور کہنے لگا۔
’’اس بانسری کی قسم جس میں میرا رزق ہے۔ میرا ایک ہی پتر ہے۔ میرے گھر تے میرے فن کا وارث ، اج اس زہریلے سانپ کے ڈنگ سے مر جائے تو کون والی وارث ہے!!!۔‘‘
اُسے سب کچھ یاد آرہا تھا ۔ ابھی چند دن پہلے کی تو بات تھی ۔ نجی جیل کی ایک کال کوٹھڑی میں ایک ہفتے سے بند تھا۔ مستقبل کس کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔ اسے کچھ علم نہ تھا۔ اس لئے تو سوائے ماضی کے اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ اسے یاد آرہا تھا کہ پھر اس کا اور سانپ کا آمنا سامنا ہوا۔ لوگوں کی تفریح کے لیے اسے جوگی بن کے کو برے کے گرد الٹا سیدھا رقص کرنا پڑا ۔ سانپ کو پٹاری میں ڈال کر وہ باپ کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا اور بولنے لگا۔
’’اب بتا میں بڑا یا یہ سانپ ‘‘
’’باباتو بڑا ۔آخرتو پتر کس کا ہے ‘‘
اس بات پر مداری پہ قہقہے برستے ہیں۔
’’چل اب اس جنگل کے بادشاہ کو ہرا کر دکھا، پر یاد رکھ کہ کسی بھی جنگل کے بادشاہ سے سوچ کر ٹکر لینا۔ جان کھینچ لیتے ہیں جسم سے اگر یہ بدلے پہ آئیں۔!‘‘
’’یہ میری طاقت نہیں جانتا‘‘
’’تو رستم ہو ، سہراب ہو، انوکی ہو، جھارا ہویاگوگاپہلوان ہو۔؟‘‘
’’ایہہ سارے مل جان تے میں اک بن نا ‘‘
’’ائی شاباش ہرررررر۔ تغ تغ تغ تغ تغردڑ تغردڑ ‘‘
’’آگے بڑھو جمورے‘‘
اور اس طرح ہمیشہ کی طرح اُس نے اپنے بھالو سے لڑائی کی۔ اُس کے بال پکڑے اوراُن میں گد گدی کی۔ جواب میں بھالو نے بھی اُچھل اُچھل کر اس کا ساتھ دیا ۔ جب بھی بھالو گرجتا ہوا اُس پہ چھلانگ لگانے کی کوشش کرتا تو مداری اُس کی نکیل کھینچ لیتا۔ بھالو اس تکلیف سے دھاڑتا ، اُچھل اُچھل کے غصے کا اظہار کرتا مگر لوگوں کو تو تماشا چاہئے تھا۔ اپنی روایتوں کے مطابق وہ ہرقسم کے کھیل تماشے دیکھنے کے عادی تھے۔ پتہ نہیں کتنی عورتوں کو کاری ہوتے دیکھ چکے تھے۔تماشے دیکھنے کے بعد یہ لوگ اپنے کام میں ایسے جٹ جاتے جیسے کولہو کے بیل یا جوتے ہوئے بے بس جانور ہوں ۔ ان کے لئے تو وہ دن بھی بڑا تماشے دار تھا جب اسے نکیل ڈال کر بھٹے سے اس نجی جیل میں گھسیٹتے ہوے لایا گیا۔ اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ باہر چاند ستارے آزادی سے گھوم رہے تھے ۔ قطاروں پرندے پر پھیلائے گھونسلوں کو اُڑ چکے تھے ۔چھوٹے بڑے چرند پرند سبھی گھروں کی آغوش میں سکون بھرے سانس لے رہے تھے ۔ اس نے بائیں ہاتھ سے اپنی نکیل پکڑی اور دائیں ہاتھ سے کھڑکی میں لگے لوہے کے زنگ آلود سریے ۔ اُس نے کھڑے ہوکرکھڑکی سے باہر دیکھا ۔ یہ رات اُسے بہت سیاہ لگی۔ شاید اس رات سے بھی جب اس نے کسی کو کاری ہوتے دیکھا۔ تڑاخ تڑاخ تڑاخ اور کسی کا بڑی چادر میں لپٹا جسم مٹی پہ ڈھیر بن گیا۔ اس دن ان کا پہلا دن تھا اس علاقے میں پڑاؤ کا ۔وہ پکھی واس تھے یا بنجارے یا جوگی ۔۔۔اسے کچھ نہیں معلوم ۔ اسے پتا تھا کہ باپ اسے کچھ نہ بتائے گا۔اسے بس اتنا پتا تھا کہ وہ مداری تھے۔وہ اس علاقے میں نہیں آ نا چھاہتا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ شاہ عنایت کے دربار کے پاس ڈیرے ڈا لے جائیں۔ہر بار کی طرح اس بار بھی اسے یہی سننے کو ملا کہ بڑوں کی روایتیں انسانوں سے بھی بڑی ہوتی ہیں۔ اور ایک دن وہ اس علاقے میں ٓآ گئے۔ یہ شام ڈوبنے کا وقت تھا۔ پورے تیرہ سالوں میں پہلی دفعہ اس نے کچھ ایسا دیکھا۔ پوری شدت سے واقعہ اس کے اعصاب کو جکڑ چکا تھا۔ کھانا پینا ختم۔ سونے جاگنے کا ہوش ختم۔ کام کاج کا شعور ختم۔ تماشے کے بول گد مڈ ہوجاتے۔ اس نے بڑی کوشش کی کہ اب سب جھگیوں کے بچوں کو اُٹھا کر اونچی آواز میں سب کچھ بتا دے مگر وہ انجام جانتا تھا ۔ بار بار اسکا جی چاہتا کہ وہ لوگ یہاں سے بہت دور ۔۔۔ بہت دور چلے جائیں۔وہ جگیوں کے گرد چیخ چیخ کے بھاگنا چاہتا تھا۔ اسے پتا تھا کہ وہ سخت تکلیف میں ہے مگر باپ کی مار پیٹ سے لے کرمقدس روایتوں کا بھرم سب کچھ وہ جانتا تھا۔ وہ مسلسل کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔ چند قیدی اور تھے اسی بڑے ہال نما کمرے میں انگریز کے دور کی یہ جیل کئی ناکوں میں نکیل ڈلتے دیکھ چکی تھی۔ اس رات اس بری حالت میں وہ ہی تھا کیونکہ اس کا جرم بہت بڑا تھا۔ اسے یاد آرہا تھا کہ اس دن تماشے کے دوران وہ جذبات پہ قابو نہ رکھ سکاتھا۔
یا اﷲ توبہ میری توبہ
یا اﷲ توبہ میری توبہ
اﷲ دی مخلوق
سوہنے سائیں دی مخلوق
کاری ہوندیاں ویکھی
اس کے علاوہ اور بھی کئی جگہوں پر وہ روایت سے ہٹ کر بولتا چلا گیاتھا۔ پر کیا کرتا ۔ ان میں سے کچھ لوگ اس تماشے کو دیکھنے بھی سب سے آگے بیٹھے تھے۔ تماشا ختم ہوا۔ اس نے بھالو کی رسی کھولی اور باپ کے پیچھے پیچھے چل پڑا تھا۔جیون مداری سارے راستے میں چپ رہا حالانکہ اسے امید تھی اور وہ چلتے چلتے انتظار بھی کر رہاتھا کہ باپ اس کو ڈانٹے گا، سمجھائے گا، کہے گا، اپنے کام سے کام رکھو۔کہے گا تمہاری روٹی روزی کا مسئلہ ہے ، رٹا رٹایا کیوں بھو ل جاتے ہو؟ اپنا کام ہے تو اپنا کماتے کھاتے ہیں مگر ایسا نہ ہوا ۔وہ چلتے چلتے ایک درخت کی جڑوں پہ بیٹھ گیا ، سستانے کو۔۔۔یا کچھ سمجھانے کو۔ سر سے پٹکا اُتارا ۔ پسینہ خشک کیا ، پوچھنے لگا۔
’’شاہ عنایت کے مزار پہ ہم کب گئے تھے۔؟‘‘
’’پچھلے مہینے کی تیرا تاریخ کو!‘‘
’’بڑا سکون ملتا ہے وہاں۔‘‘
’’اور بڑی ہمت بھی حوصلہ بھی جوش بھی!‘‘
’’سنا ہے بڑی گہری بات بڑی آسانی سے دلوں میں اُتار دیتا‘‘
’’پر کیسے سنگ دل تماشبین تھے یہ لوگ۔ یہ تو کوفیوں والی بات ہوئی کہ دل تمہارے ساتھ ہیں پر تلواریں تمہارے خلاف ‘‘
’’ہائے دنیا ۔ کیسے کیسے لوگوں کے طواف کرواتی ہے‘‘۔
’’اور کیسے کیسے انسانوں کی قربانی ۔۔۔۔!!!‘‘
رات تیسرے پہر میں داخل ہو رہی تھی ۔ چچافقیروابھی بھی جاگ رہا تھا ۔ اس نے بھی بھٹے میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بھوکا رہ رہ کر وہ بھی ہڈیوں کا پنجرہ بن چکا تھا۔ اس کے دوستوں نے اسے بہت سمجھایا کہ قسمت کی روزی روٹی کو مت ٹھکراؤپر اس کی ایک ہی ضد تھی ’’ یہ بھیک میری قسمت نائیں‘‘ وہ سب مزدوروں کی زندگیوں سے واقف تھا، ہمدرد تھا، سیانا تھا ، راہنما تھا۔پر منشی کا قتل اسے بھی اس جیل میں لے آیا۔وہ بدستور وہیں کھڑے اپنی نکیل ہاتھ میں پکڑے سوچوں میں غرق تھا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ مدھم سی لالٹین کی روشنی میں چچا فقیرو چادر کے دونوں کونوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پہ باندھ کے اس طرح آپس میں ٹکرا رہا تھا کہ اس کے عکس سے کبھی جانور اور کبھی انسان دیوار پر لڑتے نظر آتے۔اس نے غور کیا تو ایسا لگا جیسے اس کا بھالو کچھ جانوروں سے لڑ رہا ہو۔
وہ پھر کھڑکی کی طرف مڑا۔ اسے یاد آیا کہ وہ باپ بیٹا جب درخت کی جڑوں سے اُٹھے تو فائر کی آواز آئی ’’تڑاخ‘‘ یکدم پرندوں کا ایک ڈار ایسے اُڑا جیسے یہ خطہ حرام یا پالید ہو گیا ہو ۔ یہ ’’تڑاخ‘‘ اسے بھی اُس وحشت بھری رات کی طرف لے گئی تھی۔ وہ چیخ ۔اور پھر وہ تڑاخ۔اسے یاد تھا کس طرح وہ ہانپتا ہوا جھگیوں کے پاس پہنچا تھا۔ وہ رونا چاہتا تھا۔اُس رونے کو روکتے روکتے اندھیری رات ہو گئی۔ اسے بھوک نہیں تھی وہ اپنی روٹی بھی بھالو کے پاس لے گیامگر اس کی نکیل دیکھ کر اسے اپنی ناک میں کھجلی ہونے لگی ۔ پانچ سال سے بھالو ان کے پاس تھا ۔انہی جھگیوں میں اس کے ساتھ کھیلتے بھالو جوان ہورہا تھا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا ۔ بھالو کوبھی غور سے دیکھا پھر اس کے بالوں پہ ہاتھ پھیرا۔ جواب میں بھالو بھی اس کے ساتھ گردن رگڑ کے محبت کا جواب دینے لگا۔ اس نے اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ جب بھالو اسے پیار سے چاٹنے لگا تو اس نے اسی کی گرہ کھول کے اس کی نکیل کھول دی۔ ایک دم بھالونے گردن نیچے کی اور اس کے پاؤں چاٹنے لگا۔ اس نے بھالو کا منہ ہاتھوں میں لیا اور اپنی گردن پہ رکھ کے سسکیاں بھرنے لگا پھر رونے لگا۔وہ ایسا رویا کہ بھالو کا گلا بھی بھرا گیا۔ پھر وہ زاروقتار رونے لگا۔ آس پاس کی جھگیوں کے لوگ اس نئے تماشے کو دیکھنے جمع ہونا شروع ہوئے ۔ باپ بھی لالٹین اُٹھائے وہاں پہنچ گیا۔ باپ نے جلدی سے بھالوکو اس کی جگہ پہ باندھا اور اس کو کھینچتا ہوا اپنی جھگی میں لے گیا ۔ جھگی کے پیچھے تین آدمیوں کو رات کے وقت دیکھ کر باپ بیٹے کے قدم رک گئے ۔
آواز آئی، ’’جیون‘‘۔۔۔؟
’’ہاں میں جیون۔۔۔پر تم لوگ کون ہو اور اس وقت اِدھر کیا لینے آئے ہو‘‘
’’تمہارے چھوکرے کو‘‘
’’مطلب ‘‘
’’ادھربھٹے میں کام کرے گا ۔۔۔منشی جی بھی ساتھ ہیں ‘‘۔
’’ہاں ہاں بڑے سائیں نے ہم تینوں کو بھیجا ہے۔ تمہارا پتر کل سے بھٹے میں کام کرے گا۔‘‘
’’مگر ہم تو اپنا کام کرتے ہیں۔ فن کا ر لوگ ہیں‘‘۔آپ سخیوں کے سِر کا صدقہ جو ملتا ہے شکر ادا کرتے ہیں۔منشی جی ان کے چہروں پہ بیٹری مارتے ہوئے آگے بڑھے اور اس کی آنکھوں میں تیز روشنی پھنکتے ہوئے بولے۔
’’یہی ہے ناں وہ جس نے کچھ دیکھا تھا‘‘۔
منشی کے دوسرے ساتھی نے جلدی سے اس کے بازو مروڑ کے پیٹھ پہ لات ماری اور کہنے لگا۔
’’کسی گگڑی رن کے بچے تماشے تماشے میں ہم لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔‘
تیسرے نے اس کے بال کھینچتے ہوئے کہا، ’’دیکھا نہیں سالے یہاں تو کتے بھی ہمیں پوچھ کے بھونکتے ہیں‘‘ پھر وہ اسے اس کے باپ پہ پھینکتے ہوئے بولے ’’ کاٹ کے رکھ دیں گے اس کواگر زبان کھولی اس نے تو۔ کل اگر یہ نہ آیا تو جس طرح ہم لے کے جائیں گے سارے جھگیوں والے دیکھیں گے‘‘۔
’’سائیں معافی۔ معافی سائیں، دو ہاتھ ،منشی جی میرے دو ہاتھ، ہاتھ باندھ کر معافی مانگتا ہوں ‘‘۔
باپ کے ہاتھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے وہ اپنے قدموں پہ کھڑا ہوا اور دو ٹوک الفاظ میں بولنے لگا۔۔۔’’کل ساتھ والے گاؤں میں میلہ ہے اور میں بھالوکو لے کر تماشا کرنے جاؤں گا۔۔۔‘‘
’’تو بھٹے پہ آئے گا۔ زندہ یا مردہ‘‘ ۔دوسرے نے پھر اسکو دبوچتے ہوے کہا۔
’’میں میلے جاؤں گا‘‘
’’چل ۔۔۔چل میلے ۔ تیرے بھالو کی ماں کی بھوسڑی۔‘‘
پھردوسرے نے ایک دم کرتا ہٹا کے پستول نکالی اسکی نال اسکی گردن میں ٹھونس دی ۔ وہ تینوں اس کو اور اس کے باپ کو دھکے دیتے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے جہاں بھالو بندھا تھا۔ منشی موبائل پہ کچھ کہتا جا رہا تھا۔ اسی اثنا میں تڑاخ کی آواز آئی اور بھالو گالیوں کے شور میں وہیں ڈھیر ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں لینڈ کروزر آئی اور وہ اسے بھالو ہی کی رسی میں باندھ کر گاڑی میں زبردستی بٹھانے لگے۔اورکچھ لمحے تو اسے اپنی انکھوں پہ یقین نہ آیا۔ اپنے آپ کو ان کے شکنجے سے آزاد کرا کر وہ اپنے بھالوپہ گر گیا ۔اسکی دکھ بھری چیخوں نے جگھیوں کی نیندیں اڑا دیں۔لاتوں اور مکوں کی بارش میں اسے بھالو سے علیحدہ کر کے گاڑی کی طرف لے جایا گیا تھا۔ باپ کے بعد ماں نے بھی منت سماجت کی ۔ بہت گڑگڑائے مگرحالات کو کچھ اور ہی منظورتھا۔
اُسے سب کچھ یاد آرہا تھا اور وہ ابھی تک وہیں کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔ فقیرو چاچے کی آواز نے اُسے چونکا دیا۔ بغیر کوئی بات کیے اُس نے پانی کا گلاس پکڑا اور منہ سے لگا لیا۔ باہر گھپ اندھیرا تھا کیونکہ بادلوں نے چاند ستاروں کی روشنی کو ایسے ڈھک لیا تھا جیسے روشنی کا کبھی وجود ہی نہ رہا ہو۔ وہ بدستور وہیں کھڑا تھا۔ اپنی ننگی پسلیوں کوتانے وہ وقت کی عدالت میں سزا کا منتظر تھا ۔اُسے فیصلے کا وقت قریب آنے کا احساس ہوا ۔ وہ اپنے جواب پہ مطمئن تھا۔چچا فقیرو نے جو کیا ٹھیک کیا۔اُس نے اپنے جسم پہ ہاتھ پھیرا۔ننگی کمر پہ جگہ جگہ جمے ہوئے خون کے نشانات تھے۔ ایک ایک زخم کے اندر معتوب جھگیوں کی غربت ، نفرت کے پھوڑے اُگا رہی تھی۔ اسے ان کی نفرت انگیز ٹھوکریں یاد آئیں۔اسکی پسلیوں ، جبڑوں کا نشانہ لے لے کر مارا گیا تھا۔بھا لو کی رسی اس وقت اسکے گلے میں تھی جسکا دوسرا سرا ن ہاتھوں میں تھا جن میں اس علاقے کی تقدیر تھی ۔ اس کے ماں باپ چند جھگیوں والوں کے ساتھ اُسے چھڑانے بڑے برآمدے والی حویلی آئے تھے۔ ماں تو اسے دیکھتے ہی اس پر گر گئی پرتماشائیوں کی آنکھیں اس کے ناک منہ سے خون نکلتا دیکھنا چاہتی تھیں ، سو اُنہوں نے دیکھ لیا ۔ جھگیوں والوں کی منت سماجت کے بعد پھر وہی فیصلہ ہوا کہ وہ بھٹے پہ کام کرے گا۔ اب بھی اس کے منہ سے ’’نہیں‘‘نکلا۔وڈیری چال نے اپنا کمال دکھایا ۔ ’’ماں باپ کی زندگی چاہتے ہو تو بھٹے میں کام شروع کر دو‘‘۔ علیحدگی میں اس کے والدین کو کہلا دیا گیا کہ چھوکرے کی زندگی چاہتے ہو توحویلی سے بیس کوس دُور جھگیاں لے جاؤ۔زہر کے گھونٹ پیتا وہ بھٹے پہ کام کرنے چلا گیا ۔ ہر وقت اس پہ نظر رکھی جاتی منشی ماں بہن کی ننگی گالیاں اس طرح دیتا جیسے مزدوری کے ساتھ گالیاں مفت ہوں۔ چچا فقیروسے یہیں اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بھی شاہ عنایت کا مرید تھا۔ حسب عادت اُس دن بھی منشی اس کو گالیاں بکتا چنی ہوئی اینٹوں کے ڈھیر پہ کھڑا ہوگیا ۔ پیچھے فقیرو چچا کھڑا تھا۔ منشی نے زور سے کہا ،’’ لو جی سنو یہ مداری دا بچہ کم نئیں کرے گا۔اس کو بولو ایہہ وڈیرے دا بھٹہ اے، ایدی ماں دی جھگی نئیں‘‘۔ابھی منشی نے یہی کہا تھا کہ ادھیڑ عمر فقیرو چچا کی زور دار اور نفرت بھری ٹکر منشی کی پسلیاں توڑتی ہوئی اور پہلے ساڑ اینٹوں پھر گہری کھائی میں گراتی چلی گئی۔یہاں بھی نیچے کھنگر اینٹیں پڑی ہوئی تھیں۔منشی سر کے بل ہی گرا تھا۔ تبھی تو لوگوں کے آنے سے پہلے وہ بھٹہ تو کیا دنیا بھی چھوڑ چکا تھا۔ اس نے بھی کھائی میں چھلانگ لگائی اور چچا فقیرو کو سنبھالتے ہوئے باہر نکل آیا۔مالک بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ سارا الزام اسی پہ دھر دیا گیا۔وہ یہ کہ ’’ سارے فساد کی جڑ یہی ایک وجود ہے ۔ یہی ایک مچھلی ہے جو سارے تالاب کو گندہ کر رہی ہے ‘‘۔ پھر وہی بھالو والی رسی جو پہلے ہی اس کی گردن میں لٹکی تھی۔ اس کی ناک میں ڈال دی گئی ۔ ایسے ہی جیسے کسی جانورکو گراکر ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈالی جاتی ہے ۔ بس ایک فرق تھا جانور کو نکیل ڈالتے وقت سُوا آگ میں گرم کیا جاتا ہے۔ یہ رسی پتلی بھی نہیں تھی۔ اس کی روح چھلنی کرکے گزرتی چلی گئی ۔ چچا فقیرو کو اس جیل بھیج دیا گیا اور اسے نکیل ڈال کر سارا گاؤں پھرا یا گیا۔ راستے میں کچھ مذہبی لوگ کمروں میں بستر باندھے بھی ملے ۔ اﷲ کی یاد میں غرق، استغفراﷲ پڑھتے آگے گرزتے گئے۔اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ، چچا فقیرو اب بھی انگلیوں سے جانور لڑا رہا تھا ۔ بڑا دروازہ کھلا ۔ اس کے منہ پہ روشنی پھینکتے ہوے کچھ لوگ آگے بڑھتے جارہے تھے ۔ اس کی نکیل اس طرح کھینچی گئی کہ اُسے کمر کو جھکانا پڑا۔ وہ تقریبا کبڑوں کی طرح ان کے پیچھے پیچھے پگڈنڈیوں پہ چل رہا تھا ۔جب بھی وہ لڑکھڑاتا منشی کے بھائی بھتیجے گالیوں کے چابک مارتے۔ درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس ایک نالہ ہے اُس کو چو یا سُوا بھی کہتے ہیں۔اس کو وہیں لے جایا گیا۔
سامنے چوڑے پہیوں والی لینڈ کروزر کھڑی تھی۔دروازہ کھلا اور اسے زور سے دھکا دے کراگلے دروازوں میں تلّے دارجوتوں والے قدموں پر گرا دیا گیا۔ان میں سے ایک گرج دارا ٓواز میں بولا ،
’’ماں خصم بول ۔توہم سے لڑے گا۔!!‘‘
دوسرا بولا،’’ او نئیں اس طرح نئیں مداری کر کے ایسے۔ جمورے، سائیں سرکارسے لڑے گا ؟‘‘
وہ چپ تھاجیسے اُس نے تو کچھ سنا ہی نہیں تھا۔
سامنے فصلوں میں اس کا بھالو اس کو کھیلنے کے لئے بلا رہا تھا ۔وہ بھی قہقہے لگاتا بھاگتا جارہا تھا۔بھالو کبھی نرم نرم جھاڑیوں میں چھپ جاتا کبھی اسکے قدموں میں گر کر پاؤں چاٹتا۔پرگال پہ پڑنے والے زناٹے دار تھپڑ نے اس کے قدم روک دیے۔ اس نے سب کے چہروں کی طرف غورسے دیکھا ۔ جیسے پوچھ رہا ہو کہ وہ یہاں کیسے آیا ۔ اب کی بار اسکی نکیل اس طرح کھینچی گئی کہ اس نے سر کو گاڑی سے ٹکراتے ہوے محسوس کیا۔ ’’مداری کے بچے ۔ہمیں سانپ کہتا ہے۔؟۔ بول بز دل۔ بولتا کیوں نہیں گیدڑ۔منشی کو مار کے تو سمجھتا ہے لیڈر بن جائے گا!!!تیرا باپ ہی نہیں سب جھگیوں والے ہمارے بھٹوں پہ کام کریں گے۔پھرایک زوردار دھکے سے اسے نیچے گرا دیا گیا۔سرکار سائیں سے لڑے گا؟؟؟ منشی کے بھائی نے اکڑتے ہوے پوچھا‘‘
 ’’لڑوں گا‘‘ساری طاقت لگا کے اتنی زور سے وہ بولا کہ روایتوں کا تقدس لڑکھڑانے لگا۔
’’تڑاخ‘‘
اور اب کی بار پرندے ایسے اُڑے جیسے اُن کا کوئی ساتھی حلال ہو گیا ہو۔