پروفیسر محمد طارق ایم

پروفیسر ڈاکٹر سید شبیہ الحسن

۱۹ مئی ۲۰۱۲ء کی ایک اداس صبح تھی۔ جب میرے دوست آصف وٹو نے فون پر یہ اطلاع دی کہ ڈاکٹر سید شبیہ الحسن انتقال فرما گئے ہیں۔ (انا ﷲ و انا الیہ راجعون)۔
سیاسی یتیمی کے بارے میں تو اکثر لوگوں سے سنتے آئے تھے لیکن علمی یتیمی کیا ہوتی ہے، اب جانا۔ ڈاکٹر صاحب کے جنازے پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہر شخص ڈاکٹر صاحب کے احسانات کے بوجھ تلے دبا نظر آتا تھا۔ ہر ایک کے پاس ان کی شفقت پدری ، محبت ، الفت، ہنسی مزاح، اُنس، شگفتگی اور تعلق خاطر کی ایک نہ ختم ہونے والی مہربانی کی ایک داستان تھی جو وہ موقع ملنے پر دوسروں کو سنانے کی کوشش کرتا تھا کہ شاید اس سے اس کے بے قرار دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے اور بوجھل دل کو کسی طور قرار آ جائے۔ شاہد احمد دہلوی نے پروفیسر مرزا محمد سعید کی وفات پر لکھا کہ عالِم کی موت عالم ہوتی ہے اور ڈاکٹر صاحب کیسے عالِم تھے کہ جب کسی تقریب میں طلبہ سے خطاب کرتے تھے تو تمام طلبہ اور اساتذہ ڈاکٹر صاحب کے لیکچر کو سننا اپنی خوش بختی سمجھتے تھے۔ کچھ دور نہیں کہ ۳ مارچ ۲۰۱۲ء کو گورنمنٹ اسلامیہ کالج، قصور میں پروفیسر سید اظہر کاظمی کے تعزیتی ریفرنس میں ڈاکٹر صاحب کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس تقریب میں حیران کن بات یہ ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب نے سٹیج سیکریٹری کو پیغام بھیجا کہ میری تقریر جلد کراؤ حالانکہ آپ سینئر مقررین میں سے تھے۔ ان کے ساتھ مقررین میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طارق زیدی بھی شامل تھے۔ اس تقریب میں ڈاکٹر صاحب کے جوش خطابت کا یہ عالم تھا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مائیک اکثر بند ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا مائیک کے بغیر ہی طلبہ سے خطاب فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب کو طلبہ سے بڑی محبت تھی۔ طلبہ سے خطاب کے دوران ڈاکٹر صاحب کے جوش و جذبہ دیدنی ہوتا تھا۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا کہ جب ڈاکٹر صاحب نے مجھے سٹیج پر بلایا اور میرے کان میں سرگوشی کی کہ طلبہ کو اس ہال میں بھیجو۔ طالب علم کم تھے کیوں کہ سیشن آف ہورہا تھا اور طلبہ کے داخلے جا رہے تھے۔ اس لیے بہت سے طلبہ مصروفیت اور کچھ اپنے داخلوں کے باعث ہال میں کم اور کلرکوں کی کھڑکی پر فارم وصول کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور ویسے بھی تعزیتی ریفرنس میں طلبہ کی دلچسپی عام طور پر کم ہی ہوتی ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کی تقریر آتے آتے ہال طلبہ سے کھچا کھچ بھر گیا۔ دو مقررین کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مائیک سنبھالا اور عمر خیام کی ایک رباعی سے آغاز کیا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ڈاکٹر صاحب رومی اور عمر خیام کو کافی پڑھ رہے تھے۔ عمر خیام کی رُباعی علم کی افادیت اور استاد کی عظمت اور صاحب کتاب کی اہمیت کے گرد گھومتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے زورِ خطابت کا یہ عالم تھا کہ ہال میں سکوت طاری ہو گیا اور پھر پورا ہال بڑی دیر محوِ سماعت رہا۔
تقریر کے بعد ڈاکٹر صاحب میرے ساتھ ہی تھوڑی دیر کے لیے ہال سے باہر آئے تو کہنے لگے کہ میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں تقریب کے آغاز سے کچھ دیر بعد ہی اپنی تقریر کروں کیونکہ اس وقت سب لوگ متوجہ ہوتے ہیں اور تازہ دم ہونے کے ساتھ ساتھ پُرجوش بھی ہوتے ہیں اور یہ کہ تقریر موقع محل کی مناسبت سے کرنا چاہیے۔ اس سے مجھے پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کیوں طلبہ سے خطاب کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب خطاب مختصر کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ سٹیج کو اس وقت چھوڑ دو جب عروج پر ہو، لوگ تالیاں بجا رہے ہوں اور آپ کو سننا چاہتے ہوں۔ اس کے برعکس وہ مقرر بڑا بد قسمت ہوتا ہے جس کی طویل اور بور تقریر سن کر لوگ اس کے جانے کی تمنا کریں۔ سامعین و ناظرین کو اپنے ساتھ ساتھ چلانے کا فن ڈاکٹر صاحب کو خوب آتا تھا۔ مجال ہے جو کوئی اکتاہٹ کا شکار ہو۔ بھر میلے کو چھوڑ کر جانے کی وجہ بھی شاید ڈاکٹر صاحب کی اسی خواہش کا اظہار تھا۔ اتوار کے روز ان کے پرانے گھر کے ڈرائنگ روم میں ایم اے ، پی ایم ایس ، ایم فل، پی ایچ ڈی سکالرز اور لیکچرار اور پروفیسرز کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ یہ سب کسی نہ کسی حوالے سے ان سے اکتسابِ فیض اور ملاقات کے لیے آتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کے مزاج اور طرزِ معاشرت میں سادگی تھی۔ اس روز بے تکلفانہ لباس، بے تکلفانہ گفتگو، بے تکلفانہ ہنسی مزاح اور بے تکلفانہ چائے کے ساتھ بسکٹ سے ہر آنے والے مہمان کی تواضع کی جاتی تھی۔ اعلیٰ مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ سب حاضرین کے لیے چائے خود بناتے۔ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، اپنے ہاتھ سے چائے پیش کرتے، اگر کوئی طالب علم مٹھائی لے کر آتا تو وہیں ڈبا کھول کر سب کی خدمت مین پیش کرتے ، خود بھی میٹھے کے شوقین تھے۔ ایک مرتبہ کہنے لگے، دنیا میں آج تک کوئی بھی انسان صرف شوگر کی وجہ سے نہیں مرا۔
کبھی کبھی دوران گفتگو کوئی اہم مسئلہ پیش آ جاتا تو انتہائی دقیق سے دقیق مسائل بڑی آسانی سے حل فرما دیتے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو مشکل سے مشکل موضوع پر بھی پریشان نہیں دیکھا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں اس خوبی سے نوازا تھا کہ ہر مشکل امر ان کے پاس آ کر آسان لگتا تھا۔ بہت سے مسائل فون پر ہی حال کر دیتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم پڑتا کہ میری ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات کب ہوئی تھی لیکن ان سے ملنے کے بعد مجھے ایسا لگتا تھا کہ ہم برسوں کے شناسا ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مجھ سے ہی کیا بلکہ ان سے جو بھی ایک بار مل لیتا تھا ، دوبارہ ملنے کا اشتیاق لیے وہاں سے اٹھتا تھا۔
مجھے آج بھی وہ سفر یاد ہے جب ڈاکٹر صاحب کو ہمارے کالج ، قصور سے دعوت نامہ ملا تو ڈاکٹر صاحب کا مجھے فون آیا، فوراً بولے، میرے چندا، ڈاکٹر صاحب کا یہ انداز اپنے بے تکلف دوستوں یا عزیز شاگردوں کے لیے ہوتا تھا۔ خلوص سے بھری ہوئی آواز میں مجھے حکم ہوا کہ تم مجھے قصور لے کر چلو گے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی اس آفر کو غنیمت جانا اور فوراً انھیں قصور لے جانے کی حامی بھر لی۔ ڈاکٹر صاحب جیسی علمی شخصیت کی ہمراہی میرے لیے کسی سعادت سے کم نہیں تھی۔ مقررہ وقت پر میں ان کے گھر کے باہر ان کو پِک کرنے کے لیے گاڑی لے کر پہنچا تو اندر سے بلاوا آیا کہ ناشتہ اکٹھے ہی کریں گے۔ میں نے لاکھ کہا کہ میں چائے پی کر آیا ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب نے اپنے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کرایا۔ جو خود کھایا، وہی میرے سامنے بھی حاضر تھا۔ پراٹھا اور ساگ ، دہی اور پھر چائے، کیا ناشتہ تھا، خلوص سے بھرا ہوا۔ باہر نکلتے ہی مجھے نثار آرٹ پریس کا نیا کیلنڈر دیا۔ کہنے لگے دس کیلنڈروں میں سے ایک تمہارے لیے رکھا تھا۔ رکھ لو، کیا یاد کرو گے، تم مجھے ہر سال ڈائری دیتے ہو، میں نے تمہیں کیلنڈر دے دیا۔ مختلف موسموں کے پھلوں کی تصاویر سے مزین عمدہ قسم کے آرٹ پیپر پر بنا ہوا یہ کیلنڈر آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کیلنڈر کے ساتھ آپ کی یاد جڑی ہوئی ہے۔ ٹھیک نو بجے ہم عازمِ سفر ہوئے۔ سارے راستے مجھ سے مستقبل کی پلاننگ اور علمی و معاشرتی موضوع پر گفتگو فرماتے رہے۔ جب ہم قصور کے قریب پہنچے تو کہنے لگے، کمال ہے، سفر تو بہت جلدی کٹ گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی محفل ہو، سفر کیسے کٹا، پتہ ہی نہ چلا اور پھر واپسی پر اپنے والد اور عزیز و اقربا کی قبور پر فاتحہ پڑھنا نہ بھولے۔ میں پانی کاڈول بھر کر لاتا اور وہ اپنے والد کی، اپنی بہن اور سسر کی قبر کو اپنے ہاتھوں سے دھو کر سیراب کرتے رہے۔ اس وقت کوٹ پینٹ اور ٹائی میں ملبوس شحص کو دیکھ کر میرے دل میں عجیب طمانیت کا احساس ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کسی اور ہی دنیا کے آدمی ہیں۔ جب میں نے انھیں مغرب کے وقت گھر کے باہر اُتارا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی ایسا لمحہ یا پل گزرا جا رہا ہے جو شاید زندگی میں دوبارہ مجھے میسر نہ آ سکے اور واپسی پر میری زبان سے یہ شعر جاری ہوا۔
وہ میرا ہم سفر رہا کچھ ہی دیر
اس کے جانے کے بعد لگا، برسوں کا یا را نہ تھا
ڈاکٹر صاحب کا چہرہ ہر وقت ہشاش بشاش رہتا تھا۔ چہرہ گول ، بھرا ہوا، رنگ سفید، مونچھیں درمیانی اور تراش خراش عمدہ ہوتی تھی، بھنویں گھنی تھیں، آنکھیں چمکتی ہوئی جو عینک کے پیچھے سے بھی روشن تھیں، ناک تیکھی چہرے پر سجتی تھی، ڈاڑھی نہیں تھی، اکثر شیو کر کے رکھتے تھے، کبھی کبھی شیو نہ کرتے تو ہلکے ہلکے سفید بال چہرے پر آ جاتے تھے جو بہت بھلے معلوم ہوتے تھے، قلمیں چھوٹی اور بال کانوں سے چھوٹے اور درمیان میں تھوڑے سے گھنے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کبھی مانگ نکال لیتے تھے اور کبھی ان بالوں کو سیدھا ہی رہنے دیتے تھے۔ کچھ عرصے سے تھوڑی سی توند نکل آئی تھی لیکن سوٹ پیس میں قطعی احساس نہیں ہوتا تھا۔ آپ پینٹ کوٹ کے ساتھ شرٹ اور ٹائی میچنگ پہنتے تھے تو آپ کی شخصیت او ربھی زیادہ جاذبِ نظر ہو جاتی تھی۔ آپ کا لباس نفاست کا عمدہ ترین نمونہ ہوتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب دوستوں کے خوشی کے لمحات میں کبھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔ اس معاملے میں وہ سب سے آگے ہوتے تھے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن سے میری اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے فون کیا اور اپنے مزاح سے بھرپور شگفتہ لہجے میں کہنے لگے۔ انہونی ہو گئی، انہونی ہو گئی۔ میں نے عرض کیا کیوں سر؟ کہنے لگے کہ تمہارا ڈائریکٹ اٹھارویں سکیل میں منتخب ہونا ایک انہونی نہیں تو کیا ہے۔ پھر فرمانے لگے ، تم پر اﷲ کا بڑا کرم ہے۔ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اﷲ نے تم پر کتنا کرم کیا ہے اور میں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
ملازمت ملنے کی خوشی میں ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر کہ جشن کا اہتما م کرو۔ میں نے ایک ہوٹل میں اپنے دوست آصف وٹو اور ڈاکٹر صاحب کو مدعو کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے آتے ہی ویٹر کو بلایا اور اپنے اسی پُر مزاح سٹائل میں کہنے لگے۔ آرڈر بتاؤ۔ ویٹر نے کہا کہ آرڈر ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے آصف وٹو کے ذمے آرڈر دینا اور میرے ذمے اس کی ادائیگی شامل تھی۔ کہنے لگے دفع مار اس آرڈر کو۔ جو میں کہہ رہا ہوں اس کو سنو اور پھر انتہائی متوازن اور مختصر کھانا منگوایا گیا۔ اس طرح ڈاکٹر صاحب کا مقصد میری کفایت تھا۔ میں ڈاکٹر صاحب کی محبت میں گھر سے ایک سفاری سوٹ پیک کر کے ان کو تحفے میں دینے کے لیے لے کر گیا تھا۔ میرا مقصد ان کو عزت دینا تھا ورنہ ڈاکٹر صاحب کے پاس سوٹوں کی کوئی کمی نہ تھی لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ڈاکٹر صاحب نے آتے ہی مجھے ایک پھولوں کا گلدستہ اور ایک خوبصورت شرٹ گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی پکڑائی اور کہا یہ تمہارے لیے ہے۔ ڈاکٹر صاحب تحفے تحائف دینے میں انتہائی کشادہ دل تھے۔ کوئی بھی تقریب ہوتی، ڈاکٹر صاحب تحفے کو اچھی طرح پیکنگ کے بعد پیش کرتے۔ شاید کسی کا احسان رکھنا ڈاکٹر صاحب کی فطرت ہی نہ تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے تقریبات میں شرکت کی حامی بھرنا مشکل ہوتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب کسی نہ کسی طرح اس کو ایڈجسٹ کر لیتے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو ہر وقت جلدی میں ہی دیکھا۔ ہر کام میں جلدی، شاید انھیں بھی معلوم تھا کہ کام کتنا زیادہ ہے اور وقت کتنا کم۔ وہ تھوڑے وقت میں بہت زیادہ کام کر لینا چاہتے تھے۔۔ ایسے لگتا تھا کہ انھیں اس دنیا کے کام جلد نمٹانے کے بعد جانے کی جلدی ہے کیونکہ وہ اس دنیا کے لیے بنے ہی نہیں تھے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی ان کی اسی خوبی کی بنا پر انھیں اکثر چن کہہ کر پکارتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کی علمیت کے سبھی معترف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کسے بھی ، کیسا ہی، کوئی بھی دقیق علمی مسئلہ درپیش ہوتا، اتوار کے روز ڈاکٹر صاحب کی بیٹھک میں بلا روک ٹوک چلا آتا تھا۔ اس ڈرائنگ روم کو میں اکثر علمی بیٹھک ہی کہتا تھا۔ اس علمی بیٹھک میں ہر کسی کے مسئلے کا حل نکل آتا تھا۔ ایک جمِ غفیر اس جگہ سے فیض یاب ہوا۔ ہم سب پر اس بیٹھک کا قرض ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ہر طالب علم کو بہت محبت تھی۔ کہ:
بندش الفاظ میں اُلفت سما سکتی نہیں
یہ تو پہنائے دو عالم میں بھی آسکتی نہیں
ڈاکٹر صاحب کی ایک اور نیک خصلت یہ بھی تھی کہ وہ دوسروں کو بہت بڑھاوا یعنی عزت دیتے تھے۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد ان کے کالج کا ایک طالب علم جو مجھ سے بھی تلمذ رکھتا تھا۔ اس کے بقول کہ ایک دن اس نے کالج میں دوران ملاقات ڈاکٹر صاحب کے سامنے میرا ذکر کیا تو ڈاکٹر صاحب نے اس طالب علم سے ایک جملہ کہا کہ ''طارق بڑادانا استاد ہے ''لیکن میں اس جملے سے اختلاف کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے حضور عرض گزار ہوں کہ ڈاکٹر صاحب ہم نادان ہیں تو اپنی وجہ سے اور اگر دانا ہیں تو صرف اور صرف ڈاکٹر صاحب آپ کی وجہ سے ہیں۔ سب کی خبر رکھنے والے ڈاکٹر صاحب کے بارے میں ہم اتنے بے خبر کیسے ہو گئے کہ وہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جانے کیوں مجھے آج بھی ایسے لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کسی طرف سے آ کر یہ کہیں گے۔ شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں

ڈاکٹر صاحب کی مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے تقریبات میں شرکت کی حامی بھرنا مشکل ہوتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب کسی نہ کسی طرح اس کو ایڈجسٹ
کر لیتے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو ہر وقت جلدی میں ہی دیکھا
7میں نے ڈاکٹر صاحب کو مشکل سے مشکل موضوع پر بھی پریشان نہیں دیکھا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں اس خوبی سے نوازا تھا کہ ہر مشکل امر ان کے پاس آ کر آسان لگتا تھا