کتاب میلہ

خطوط وخیوط ظفر علی خان از ڈاکٹرزاہد منیر عامر
?پنجاب یونیورسٹی ، لاہور۔ ۲۰۱۲ء
ڈاکٹر زاہدمنیر عامر ، پنجاب یونیورسٹی لاہور کی مسند ظفر علی خان پر فائز ہیں اور یہ امر خوش آئند اور لائق تقلید ہے کہ انھوں نے اپنی مسند کی مناسبت سے خطوط وخیوط ظفر علی خان جیسی علمی کتاب مرتب کی ہے ۔ تمہید میں انھوں نے لکھا :
'' مولانا ظفر علی خان (۱۸۷۳ء …… ۱۹۵۶ء ) کی زندگی اور خدمات کے حوالے سے متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن ان کی زندگی کے بعض احوال ہنوز پردۂ اخفا میں ہیں۔ آئندہ سطور میں ایک غیرمطبوعہ دستاویز پیش کی جارہی ہے جس سے ان کی زندگی کے بعض ایسے کوائف پہلی بار منظر عام پر آرہے ہیں جن سے عام قاری تو کیا ، ان کے سوانح نگار اور محققین بھی بے خبر رہے ہیں۔ یہ دستاویز مولانا ظفر علی خان کا ایک خط ہے جسے انھوں نے '' رسالہ '' قرار دیا ہے اور جو انھوں نے اپنے بے تکلف دوست بابائے اُردو مولوی عبدالحق کے نام لکھا تھا۔ ۹ مئی ۱۹۰۶ء کو لکھا جانے والا یہ خط مولانا ظفر علی خان ہی کی زندگی کے حوالے سے اہم نہیں ہے بلکہ یہ خط اُردو ادب کی دو اور ممتاز شخصیات مولوی عبدالحق(۱۸۷۰ء…… ۱۹۶۱ء ) اور مولوی محفوظ علی بدایونی (۱۸۷۰ء …… ۱۹۴۳ء ) کے سوانح پر بھی ایک بالکل نئے زاویے سے روشنی ڈالتا ہے۔ ''(ص۲۱)
اب کتاب کی بنیاد بننے والے مکتوب کے کچھ اقتباسات دیکھئے:
……میں کشتی سے اترا ہی تھا کہ دور سے ایک توند اور ایک داڑھی بھاگتی ہوئی نظر آئی ۔ اپنے رہبر اور اردلی کے ساتھ میں محفوظ کے مکان کی طرف جولبِ ساحل ہے، آیا۔ دروازہ پر کیا دیکھتا ہوں کہ وہی داڑھی اور وہی توند کھڑی ہوئی ناچ رہی ہے۔ یہ ناچ ایسا متعدی تھا کہ بے اختیار میں بھی ناچنے لگا۔ ……(ص ۴۰) ……خیر تو میں یہاں پہنچا ، محفوظ سے باتیں شروع ہوئیں جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اور جو بھٹیاریوں کی لڑائی کی طرح سوتے وقت کونڈے تلے ڈھک کر رکھ دی جاتی ہیں اور صبح ہوتے ہی پھر شروع ہوجاتی ہیں۔ (ص ۴۱) …… اس وقت سب سے زیادہ ضرورت جن چیزوں کی ہے ان میں کاغذ سب سے اہم ہے۔ اگر کاغذ کی ایک مل کسی مناسب مقام پر قائم کی جائے تو باوجود یکہ متعدد ملیں ہندوستان میں ہیں پھر بھی یہ نئی مل نہایت نفع والی ثابت ہوگی۔ اس وقت کم وبیش سو اخبار ایسے ہیں ، جومسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اگر ایسے کارخانہ کے قائم کرنے میں یہ اخبار حصہ لیں تو بڑی آسانی سے انڈین مسلم پریس کی ایک ذاتی مل ہوسکتی ہے جس سے کاغذ کی بہم رسانی میں سہولت کے علاوہ نفع حصہ داروں کو ہوگا (ص ۵۰)
کتاب کے دوسرے حصے میں ظفر علی خان کے خطوط ہیں ، جو انھوں نے اپنی بیگم برکت بیگم کو لکھے ( جو شادی سے پہلے حاکم بی بی کہلاتی تھیں مگر مولانا نے نام تبدیل کردیا ) برکت بی بی شادی کے وقت کم سن ظفر علی خان سے عمر میں ۶ سے ۸ سال بڑی تھیں یہ شادی ظفر علی خان کی گریجویشن تک چھپائی گئی ، یہ قصہ ناقابل یقین لگتا ہے کہ نکاح کے موقع پر بھی دولہا کے بزرگ وکیل، ایجاب وقبول کے مرحلے سے گزرے۔ ……ان کے علاوہ معاصر مدیروں کے نام ظفر علی خان کے خطوط بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر زاہدمنیر عامر اخلاقی اقدار میں اہل شرع کی پیروی کرتے ہیں اور شاید اس لیے انھوں نے متن میں سے بعض سطریں درد مندی یا بے دردی سے حذف کردی ہیں۔ جیسے حاشیے (۵۱۔ دو سطریں حذف کردی گئیں۔۵۲۔چار الفاظ حذف کیے گئے ۔ ۵۳۔ایک لفظ حذف کیا گیا۔۵۴۔مصرع ثانی حذف کیا گیا ۔ ۵۵۔ ایک سطر کے بقدر الفاظ حذف کردئیے گئے ۔ ۵۶۔سات الفاظ حذف کیے گئے ۔ ۵۷۔چھ الفاظ حذف کیے گئے ۔ ۵۸۔چھ الفاظ حذف کیے گئے ۔ ۵۹۔ بارہ سطریں حذف کی گئیں ۔ ۶۵۔ چھ الفاظ حذف کردیے گئے ۔ ۹۵۔چھ الفاظ حذف کیے گئے۔ ۹۶۔ایک لفظ حذف کردیا گیا ۔ ۹۷ ۔دوالفاظ حذف کردیے گئے )انھوں نے اصل عکس بھی شائع کیا ہے۔ تاہم اس میں سے بھی یہ سطریں حذف کردی گئی ہیں ۔ اس لیے متجسس قاری کو ادھر بھی دیدہ ریزی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
ان کے علاوہ کتاب میں' خانگی زندگی پر کچھ روشنی' ،' عہد شباب کے چند نقوش'، 'پاکستان کا درزی' ،' قومی کارنامے کس طرح انجام پاتے ہیں؟' ،' شہید گنج کا غم' ،' کیا مولانا ظفر علی خان واقعی خط نہیں لکھتے تھے ؟'،' محفلِ اناث میں ' جیسے دلچسپ ابواب بھی شامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں ایک مفید اشاریہ بھی ہے۔ کتاب کی علمی وقعت اس کے حوالے اور حواشی بڑھاتے ہیں۔
مبصر: انوار احمد
خطو ط ڈاکٹر نبی بخش بلو چ، مرتبہ: محمد راشد شیخ
ñ بین الاقوامی شہرت کے حامل دانشور،محقق، معلم ، مو رخ ، لغت نویس اور ہفت زبان عالم ڈاکٹر نبی بخش بلوچ گذشتہ سال ۶/اپریل ۲۰۱۱ء کو حیدر آبا د میں انتقال فرما گئے۔ایسی ہمہ جہت شخصیات تاریخ ادب میں شاذ ہی نظر آتی ہیں،اس لیے ڈاکٹر بلوچ کی خدمات کو سراہتے ہو ئے ا ن کے انتقال پر وزیر ثقافت ، حکو مت سندھ، محترمہ سسی پلیجو نے اعلان کیا کہ محکمہ ثقافت کی جانب سے ڈاکٹر بلوچ کی تحریروں کو مختلف کتب کی شکل میں اعلی پیمانے پر شائع کیا جائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر سال ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی۔
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کثیر التصانیف کے ساتھ ساتھ کثیر المکاتیب بھی تھے۔ان کے سندھی اور انگریزی خطوط کے مجموعے اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ خط لکھنے اور خط کا جواب دینے میں نہایت مستعد اور فعال تھے۔ ''خطو ط ڈاکٹر نبی بخش بلو چ''،ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے اُردو مکاتیب کا اولین مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں ایک سو تینتیس(۱۳۳) اُردو خطو ط شامل کیے گئے ہیں جو بہتّر(۷۲) شخصیات کو لکھے گئے ہیں۔دس(۱۰) خطو ط کی عکسی نقول بھی اس مجموعے کی زینت ہے۔ان مکا تیب کے مرتب جنا ب محمد راشد شیخ ہیں، جو اس سے قبل ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی اردو سوانح''ڈاکٹر بنی بخش بلو چ۔شخصیت و فن'' (۲۰۰۷ء )اور اردو مقالات کا مجموعہ ''گلشن ِ اردو''(۲۰۰۹ء)کے نام سے مرتب کر چکے ہیں۔ اول الذکر کتاب اکادمی ادبیات ، اسلام آباد اور موخر الذکر پاکستان سٹڈی سنٹر، سندھ یو نیو رسٹی، جام شورو سے شائع ہوئی۔مرتب کے نام چھبیس (۲۶) خطوط اس مجموعے میں شامل ہیں۔
مکا تیب کا شمار کسی بھی شخصیت کے علمی وادبی کارناموں میں تو نہیں ہو تالیکن یہ شخصیت کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی لیے مرتب کے بقول ان کی تجویز پرڈاکٹر بلوچ کے اُردو مکاتیب پر کام ان کی زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھا۔تین سال کی محنت شاقہ کے بعد مکاتیب کا مجموعہ شائع ہو سکا۔ ڈاکٹراین اے بلوچ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو خط کا جواب دینے کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے تھے۔ان کی دوسری تحریروں کی طرح خطوط بھی علمی اور تحقیقی رنگ غالب ہے۔اختصار ان کے خطوط کی نمایاں خصوصیت ہے۔تاہم یہ اختصار بھی جامعیت کا رنگ لیے ہوئے ہے۔اس کی خوبصورت مثال سید ضمیر جعفری کے نام ایک خط ہے جو دو سطروں پر مشتمل ہے، لکھتے ہیں:''آپ نے یاد فرمایا،ممنون ہوں۔ چھوٹی سی سوغات 'ضمیرِ ظرافت' اپنی معنوی ضخامت سے منسلک ہو کر پہنچی ۔''مافی الضمیر''کے بعد ''ماوراء الضمیر'' کی آمد کی توقع تھی۔بہر حال اب کے نہ تو بعد میں سہی''۔(ص۹۷)خطوط کی زبان بھی تکلّف اور تصنع سے پا ک ہے۔تاہم کہیں کہیں مو ضوع کی مناسبت سے عربی و فارسی اشعار ، اقوال، محاورات وغیرہ بھی تحریر کرتے ہیں۔علامہ عبد العزیز میمن (پروفیسر و صدر شعبہ عربی ،مسلم یو نیو رسٹی علی گڑھ)کو ۱۹۴۶ء میں لکھے جا نے والے خط میں لکھتے ہیں:''امریکہ کا سفر 'فن تعلیم'میں مہارت حاصل کرنے کے لیے اختیار کرنا پڑا۔فنی نقطہ نظر کے علاوہ ''سیرو وا فی الارض''کے اصول کے ماتحت ایک سیر و سفر کا جذبہ یہاں تک کھینچ کر لایااور پھر 'مفت ہاتھ میں آئے تو بُرا کیا ہے''اپنی جیب پر چنداں بوجھ نہیں...''(ص ۵۴)
اگر کوئی شخص علمی وتحقیقی کا م کر تا تو ڈاکٹر صاحب اس کی حوصلہ افزائی ضرور فرماتے ۔مکتوب بنام اظہر جاوید( مدیردوماہی تخلیق)میں لکھتے ہیں''مخزن تخلیق کا 'سندھی ادب و ثقافت نمبر' مو صول ہوا۔دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی۔ماشاء اﷲ آپ کا جذبہ اور محنت لائق تحسین ہے...میں ایسا جا ذب نظر ، دید ہ زیب، ادب و ثقافت کا انمول مرقع اور حسن ظاہری و باطنی کا حامل نمبر نکالنے پر آپ کو آپ کے جملہ احباب کو دلی مبارکبا د پیش کرتا ہو ں''(ص۹۰)اس طرح اور بھی کئی خطوط میں وہ علمی وادبی کام کرنے والوں کو نہایت اچھے انداز میں سراہتے ہیں۔
مقتدرہ قومی زبان کے سابق صدر نشین پروفیسر فتح محمد ملک کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:''مکرمی اسلام علیکم۔ آپ کا مراسلہ مورخہ ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء مو صو ل ہو ا معہ منسلکہ نو ٹیفکیشن جس میں مجھے مقتدرہ کا ممبر نامزد کیا گیا ہے۔میں ممنون ہوں۔ اس قومی ادارے کے مقاصد کی تکمیل کے لیے میرا آپ سے کلی طور پر تعاون رہے گا ۔ان شاء اﷲ۔''(ص۱۹۵)
حواشی و تعلیقات سے خطوط کا متن اور واضح اورروشن تر ہو جاتا ہے۔کہیں کہیں تو حواشی دینا ناگزیر ہو جا تا ہے۔مکاتیب کے اس مجموعے میں مرتب نے خطوط کے حواشی بھی تحریر کیے ہیں۔اورڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی شخصیت و فن پر ایک مفصّل اور عالمانہ مقدمہ بھی تحریر کیاہے۔جس میں ڈاکٹر بلوچ کی تمام تصانیف اور علمی و ادبی کارناموں کو بالعموم اور اُردو تصانیف و ادبی کا رناموں کو بالخصوص مو ضوع سخن بنایا گیا ہے۔مقدمے کے اختتام پرڈاکٹر بلوچ کے اُردو مکا تیب کی جلد دوم کی اشاعت کا مژدہ بھی سنایا گیاہے۔اپنے علمی و تحقیقی کارناموں اور خدمات کی بنا پر ڈاکٹر نبی بخش بلوچ اپنی زندگی ہی میں میں مینارہ علم وادب کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔ مکاتیب کایہ مجموعہ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ شناسی میں اہم سنگ ِ میل کا کام انجام دے گا۔
مبصر: سمیرا اکبر
اُڑان سے پہلے
ناول ''کبوتروں کی پرواز'' کا دیباچہ از ڈاکٹر آصف فرخی
® کبوتروں کی اس اُڑان کے پیچھے، کہیں دور جا کر زمین آسمان ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں کہ پتا نہیں چلتا ایک کہاں ختم ہوا اور دو سرا کہاں شروع……ان دونوں کے ملنے کا وہ مقام کہاں ہے، مجھے اسی کی تلاش ہے۔
ہر کتاب اپنے طور پر شاید اسی نقطے کی تلاش کرتی ہے۔
اس کتاب میں وہ نقطہ، جنگ ہے۔ جنگ جو جنون انگیز محبت کا سبب بھی بنتی ہے اور اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی۔ سیاسی شورش ، بدامنی ، بغاوت، مسلح لڑائی اور کھلی جنگ، یہ تمام حالتیں زندگی کی کہانی کے بیانیے کو روکنے اور کاٹنے والی ہیں…… پسِ داستاں کارفرما ہو کر محفلوں کو درہم برہم، جلسوں اور صحبتوں کو انجام تک پہنچنے سے پہلے ختم، سنگیوں ساتھیوں کو جدا جدا اور رہتے سہتے خاندانوں کو منتشر کر دینے، بچھی بساط اُلٹ دینے اور تسلسل کے دھاگوں کو بل دے کر توڑ دینے والی حالتیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور عین اس کے الٹ ، یہی حالات و واقعات تناظر بدل کر اور زاویے کو زبردستی ایک طرح کی وسعت دے کر نئے مواقع بھی تخلیق کرتے ہیں، واقعات بھی پلٹتے ہیں اور مقام بھی بدل جاتے ہیں، لوگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے اور آڑے ترچھے ہو کر راستے میں آتے ہیں، ورنہ شاید ان کی مڈھ بھیڑ ہی نہ ہوتی اور یوں یہ ''کہانی توڑ''حالات لوگوں کو نت نئے طریقوں سے جوڑنے اور ساتھ ملانے کے امکان کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ حالات کی ایسی ہی تبدیلی شمالی ہندوستان میں اس وقت پیش آئی جب میرٹھ کی چھاؤنی میں ہندوستانی سپاہیوں نے مئی ۱۸۵۷ء میں انگریز افسروں کی حکم عدولی کی اور نتیجے کے طور پر بدامنی اور بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی۔ یہ ڈرامائی واقعات زندگی کے بیانیے میں انقطاع اور پھر ایک نئی صورت میں ڈھلنے کا موقع بن کر سامنے آئے۔ یہ ہماری قومی تاریخ کے جاری و ساری عمل کا اہم مرحلہ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ، ہمارے اجتماعی حافظے میں اب تک ایک جذباتی تصادم کے طور پر موجود ہیں۔ اس تصادم یا اس تصادم کی یاد نے یہاں ایک عشقِ بلا خیز کا رنگ اختیار کر لیا اور شاید اسی لیے یہ قصہ ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتاہے …… یاد رہے کہ یہ ۱۸۵۷ء ہے، ''ثقافتوں کے تصادم'' کی ایجاد و تشکیل سے بہت پہلے کا زمانہ ، جب تصادم کو شورش اور عشق کے معاملے کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔ یہاں تاریخ انجام رسیدہ نہیں ہے بلکہ ایک جذباتی شورش کا پیش خیمہ بن کر سامنے آئی ہے، عشق جو شدید، ہیجان انگیز ، قرینِ قیاس مگر ناممکن اور اپنے ناگزیر انجام میں الم ناک ہے۔ دو مختلف ثقافتی دائروں سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور فوجی حریفوں کا تصادم ایک اور سطح پر مرد اور عورت کی صنفی کشاکش بھی بن کر سامنے آتاہے۔ مگر یہاں قدیم داستانوں سے لے کر آج کل کی سلسلہ وار 'کہانیوں'، ''سوپ آپراز'' تک (جن کو ہم پڑھتے نہیں ہیں بلکہ دیکھنے ہیں)ایک دلچسپ محور فراہم کرنے والے عشق کی اس داستان کو وسیلہ، موقع اور کشمکش کا بہانہ ۱۸۵۷ء کی جنگ نے ہی فراہم کیا ہے کہ اس کہانی میں کئی کہانیوں کو پڑھا جا سکتا ہے۔
مضافات کے کسی اخبار کی ایک صدی پرانی فائل میں یہ خبر خاک اور بوسیدہ اوراق میں دبی ہوئی ہے کہ کلکٹر کے دفتر میں کام کرنے والے صاحب گرجا گھر میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے اور ان کی بیٹی کے بارے میں پھر کوئی خبر نہ ملی۔ تاریخی واقعات کی وہ ضمنی تفصیلات ، جو تمام تر اصلی ہوتی ہیں مگر غیر اہم معلوم ہوتی ہیں، اور سُنی سنائی روایات کو بنیاد بنا کر رسکن بانڈ نے یہ ناول لکھا جس کا ترجمہ اب اس زبان میں پیش کیا جا رہاہے جو افرادِ قصہ ایک دوسرے سے بول چال اور واقعات کے بہاؤ کے دوران استعمال کرتے ہوں گے، اس لیے یوں بھی اس ترجمے کو پڑھنے کے دوران ''ذہنی منتقلی'' کے عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ اور زبان کی طرح، قصے کی بنیادی صورتِ حال ہمارے لیے نامانوس نہیں ہو گی۔ یہ تو عین ممکن ہے کہ دو مختلف نسلوں، ثقافتوں اور جغرافیائی خطّوں ، بلکہ ایک بالا دست (hegemonius)، جسے اب سے پہلے نو آباد کار (colonial)کہا جاتا تھا، اور دوسری محکوم قوم سے تعلق رکھنے والے مرد اور عورت کے باہمی ربط و ضبط اور عشق کے عروج و انجام کی کہانی، کسی سائبر کیفے سے شروع ہونے والی چیٹنگ سے بڑھ انٹرنیٹ کے ذریعے سے اس سائبر اسپیس میں وقوع پذیر ہو جو تاریخ و مقام کے حوالوں سے ماورا ہے۔ مگر تاریخی شواہد…… جن سے ہمیں فی الوقت مفر نہیں…… اس قسم کی کئی دستاویزات کے حامل ہیں جن میں نسلاً سفید فام اور عرفِ عام میں 'انگریز' یا فرنگی عورت سے نسلاًہندوستانی اور عرفِ عام میں ''دیسی'' مرد کے ملوث ہو جانے کی طرف اشارے ہیں اور ایک ذیلی صنف کے طور پر ان دستاویزات کو بھی الگ چھاٹنا جا سکتا ہے کہ جن میں دیسی/ہندوستانی مرد عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے، عشق یک طرفہ ہی رہتا ہے اور سرکا سودا بڑھتے بڑھتے جنون بن جاتاہے۔ اس نوع کی تحریروں کا تقابل اردو کے ان مقبول عام افسانوں اور نظموں سے کیجیے جن میں یہ دیسی مرد سفید فام عورتوں کی ''تسخیر'' سے خوش ہوتا ہے (عزیز احمد کے بعض افسانے اس امکان کے فارمولیشن کی نمایاں مثال ہیں) اور ن م راشد کی مشہورِ زمانہ نظم کے مطابق، اس عمل کو قومی محکومی کا ''انتقام'' سمجھ کر دل ''پشوری'' کر لیتا ہے۔ تاریخ کا دھارا دوسرے رخ سے بھی نمایاں رہا ہے۔ عجب خاں آفریدی کا واقعہ تو غدر کے افسانوں جتنی پرانی بات نہیں اور اس واقعے کے بیان میں بھی، اس ناول کی طرح، سیاسی اور فوجی تصادم عشق کے گرد ایک واضح چوکھٹا بنا دیتا ہے جسے ہم نمایاں طور پر پہچان سکتے ہیں حالانکہ تاریخی واقعات کی بہت سی تفصیلات عوامی روایات اور معتقدات میں شامل ہو کر اس سرمئی دھندلکے میں گم ہو گئیں جو زمین اور آسمان کے اتصال کی ظاہری شکل نظر آتا ہے۔
تاریخ سے دستاویز بن جانے والے اسی نوع کے encountersمیں موریگ مرے بھی شامل ہیں جنھوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں لندن میں ایک پٹھان نوجوان سے اپنی پسند کے مطابق شادی کر لی اور اپنے شوہر کے دیس میں رسنے بسنے کے احوال کو My Khyber Marriage نامی کتاب میں رقم کر دیا۔ ان کا احوال عشق کی بلاخیزی کا نہیں اور نہ اظہار عشق/شادی کی درخواست انتظار اور مخالفت کے ڈرامائی عمل کو برانگیخت کرتا ہے بلکہ وہ مختلف رسم و رواج پر تعجب کے اظہار اور پھر ایک ثقاقت کے پروردہ فرد کے دوسری ثقافت کے طور طریق میں ڈھل جانے کی تفصیل ہے جو بجائے خود دلچسپ ہے۔
صنف اور نسل،محکوم و آقا کی داستانِ محبت نو آبادیاتی نظام کے ساتھ ختم نہیں ہو گئی بلکہ اس نوع کو ایک نئی زندگی کی لکھی ہوئی حالیہ کتاب سے ملی ہے جو کلکتہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان بنگالی عورت کے ایک افغان نوجوان سے شادی کر کے اس کے دیس میں جا بسنے کی کہانی ہے جو عورتوں کو قانون کا پابند رکھنے والے ''طالبان'' کے ہاتھوں محکوم ہے۔ یہاں عشق دو طرفہ ہے مگر قاعدے قانون کی بندش ایک اور طرح کی کشمکش کو جنم دیتی ہے۔ یہ کشمکش بھی اپنی جگہ شدت کی حامل ہے، جب کہ دو مختلف یا متحارب ثقافتوں کے لیے فرنگن کی ضرورت ہی نہیں رہی، بنگلہ ناری یہ فریضہ سر انجام دے سکتی ہے کہ اب وہ مغرب کی نمائندہ اور غیر ملکی اقدار کی حامل بن گئی ہے اور اس کی محکومی میں غیر ملکی یا غیر مذہب کے ساتھ ساتھ عورت ہونا بھی شامل ہے۔ اب یہ داستان ہمارے دور کے تضادات سے عبارت ہوئی ہے اور یہ محض تعجب خیز اتفاق نہیں کہ اس آپ بیتی کے مرد کا تعلق بھی اس ناول کے جاوید خاں کی نسل سے ہے اور جیسے یہ سبھی اشخاص /کردار قطار بنا کر ایک ترتیب میں، اسد محمد خاں کے ''مئی دادا'' کی طرح ''ڈنڈم ڈنڈا اور تلوارم تلوارا'' کرتے پکارتے چلے جا رہے ہیں: ''بس مجھے پتا چل جائے کہ میرا تپنچا کس سالے کے کنے ہے۔ آنتیں نکال کے اس ازل گر پھتا بھان کے گھوڑے کے گلے میں پنا دوں گا……''
نسلی تفاخر اور، اسد محمد خاں کے الفاظ میں، اپنی زاد بوم سے دور ہو کر نسب کے تحفظ کی جنگ ہارتے ہوئے یہ جنگ جو سپاہی اگر مجبور ہوتے ہیں تو سیاسی استعمار کی برتر قوت کے سامنے نہیں بلکہ حسن اور عشق کے سامنے۔ اس طرح کی بہت سی کتابیں تو سراسر احوالِ واقعی ہیں اور رسکن بانڈنے ناول کو روتھ کی زبانی بیان کر کے اسی کیفیت کا احتمال کیا ہے اور ہم تمام واقعات کو، یہاں تک کہ جاوید خاں کو بھی روتھ کی نظروں سے ہی دیکھتے ہیں…… تیرہ سالہ روتھ جو جسمانی اور ذہنی طو رپر بچی ہی ہے بلکہ بیان کار کے طو رپر بھی وہ بچی ہی معلوم ہوتی ہے (رسوائے زمانہ ''لولیتا'' کا'دیسی' اور تاریخی روپ!) روایتی انداز کا قصہ بیان کرنے کے باوجود اس ناول کا مصنف یہاں دورِ جدید کے ان ناول نگاروں کے جوتوں میں پاؤں ڈال کر چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو ایک ایسا راوی شعوری طور پر تخلیق کرتے ہیں کہ پوری طرح قابلِ اعتبار نہ ہو، رابرٹ میوزل کے ''صفات سے عاری آدمی'' سے لے کر ''لولیتا'' والے نابوکوف کی کئی کتابوں تک یہ انداز جدید ناول کی ایک بیانیہ سہولت بن گیا ہے۔ مصنف کے قائم کردہ اس بیانیہ فریم کو روتھ اس کتاب کی آخری سطر میں یک لخت توڑ دیتی ہے جب وہ جاوید خاں کی خوبیوں کے لیے علی الاعلان پسندیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے بچی سے عورت بن جاتی ہے، حالانکہ اس سے پیشترپورے ناول میں وہ ایسی راوی کے طو رپر ابھرتی ہے جو حالات اور واقعات کو پوری طرح سمجھے بغیر اور ان کے مضمرات کو پوری طرح محسوس کیے بغیر …… ہنری جیمز کے What Maise Knewکی مرکزی کردار کی طرح بیان کیے چلی جاتی ہو۔ ایسی کسی بھی گہرائی میں اترنے سے یہ اس قدر گریز مجھے شک میں مبتلا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ مصنف کی اپنی صورتِ حال تو نہیں کہ اس کی ذہنی استعداد روتھ لیباڈور کے برابر ہے؟ لیکن نہیں، شاید میری یہ بات میزبانی کے آداب کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ اس ناول کا مصنف رسکن بانڈ، اس ناول کے بعض کرداروں کے برعکس، ہندوستان کی سر زمین کے سحر میں مبتلا ہو کر ۴۷ء میں انگریز حکومت کے قیام کے بعد بھی یہیں رہ پڑا اور ہندوستانی شہری بن کر اس نے کئی کتابیں لکھیں جن میں افسانے اور بچوں کے لیے قصے شامل ہیں۔ وہ ہندوستانی بن جانے والے انگریزوں کی زندہ مثال اور بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کشمکش کا ثقافتی کم اور سیاسی زیادہ، اندازہ اس بیانیے میں دبے دبے تناؤ سے بھی ہوتا ہے جو پوری طرح کھلتا نہیں۔ اس لیے توقع اور اندیشے کی ایک دلکش فضا عطا کر دیتا ہے جو اس ناول کی خصوصیت ہے۔
اس ناول کی خصوصیات میں ایک اور تہہ کا اضافہ حمرا خلیق نے اپنے اردو ترجمے کے ذریعے کر دیا ہے۔ ناول چونکہ انگریز لڑکی کی زبان سے بلکہ اس کے نقطۂ نظر سے لکھا گیا ہے، اس لیے اردو میں پڑھتے ہوئے کہیں فاصلہ محسوس ہوتاہے اور کہیں بیان میں ستم ظریفی(irony)کی آمیزش از خود در انداز کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے، کہ جیسے ہم روزنِ دیوار کے دوسری طرف سے جھانک رہے ہوں۔ رسکن بانڈ کے برطانوی ہند کی دو آزاد مملکتوں، پاکستان اور ہندوستان، میں تقسیم کے بارے میں ایک کہانی کا ترجمہ کرتے کرتے حمرا خلیق نے اپنا ذاتی احوال کے مضمون میں بیان کر ڈالا اور پھر اسی قلم سے ایک کے بعد ایک ''مائی خیبر میرج''، ''فلائٹ آف پجنز'' اور سُشمیتا بندو پادھیائے کی کتاب کو ترجمہ کر ڈالا کہ یہ تین مختلف کتابیں جو الگ الگ مزاج اور نقطۂ نظر کی حامل ہیں، سلسلہ وار معلوم ہوتی ہیں اور ان کو ساتھ رکھ کر دیکھنے میں بھی لطف آتا ہے، جیسے تین کبوتر اڑتے اڑتے ساتھ آ گئے ہوں۔
رسکن بانڈ کا ناول ۱۹۸۰ء میں شائع ہوا اور اس کے بعد متعدد بار شائع ہو چکا ہے۔ معروف ہدایت کار شیام بینیگل نے ''جنون'' کے نام سے اس ناول پر مبنی فلم بنائی جو عمدہ اداکاری اور چابک دست ہدایات کی وجہ سے یادگار ہے۔ ہندوستان کی ساہتیہ اکادمی نے بچوں کے لیے اس ناول کا اردو ترجمہ بھی شائع کیا، جس کے لیے سبیرا رائے نے خاکے بنائے۔
میری طرح اس ناول کے بہت سے شائقین مناسب اردو ترجمے کے انتظار میں تھے۔ میں حمرا خلیق کا شکر گزار ہوں جنھوں نے میری فرمائش پر اس ناول کو اردو میں ڈھالا اور پھر مجھے حکم دیا کہ نظرثانی بھی کروں۔ اس طرح یہ مسودہ ترجمے اور ترمیم کے عمل سے کئی بار گزرا۔ امید ہے کہ پڑھنے والے اسے پسند کریں گے۔
جستجو کیا ہے؟
J انتظار حسین اکثر بڑی اچھی کتابوں سے ہمیں متعارف کراتے ہیں۔ پچھلے دنوں انھوں نے ''طلسم ہوش ربا'' کی بازیافت کی ، تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ہم قارئین کو خود انتظار صاحب کی سوانح عمری ''جستجو کیا ہے؟'' سے متعارف کرا دیں۔ جو ہمیں پچھلے دنوں ویلکم بک پورٹ کے اصغر زیدی کی عنایت سے پڑھنے کو ملی۔ اصغر زیدی پر بھی اﷲ میاں کا بڑا کرم ہے کہ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے ماشاء اﷲ پہلے سے زیادہ چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔ یقیناً یہ کتابوں سے دوستی کا نتیجہ ہے، یعنی بقول شیخ سعدیؒ ''جمالِ ہم نشیں درمن اثر کرد'' کتابوں کا حسن اور اثران کی طبیعت میں نمایاں ہے۔
بہرحال ان کی عنایت کردہ کتاب جب پڑھنی شروع کی تو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انتظار صاحب کے قلم نے ہمیں اپنا اسیر کر لیا، بالکل اسی طرح جیسے اس سے پہلے ''فلک اور زمیں اور ''، ''شہر افسوس'' اور ''بستی'' نے اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔ انسان کی جڑیں اس کی مٹی سے جڑی ہوتی ہیں۔ مٹی کا ایک اپنا رشتہ ہوتا ہے جس کی مہک لحدتک ساتھ رہتی ہے۔ اسی مٹی کے رشتے میں اے حمید بھی بندھے تھے اور انتظار حسین بھی بندھے ہیں۔ وہ ماضی کو یاد کرتے ہیں تو لوگ انھیں ماضی پرست کہتے ہیں، کوئی نو سٹلجیا کا طعنہ مارتا ہے لیکن جو ہجرت کے کرب سے نہ گزر ا ہو وہ بھلا کیونکر اس دکھ کو محسوس کر سکتا ہے جو ان الم نصیبوں کے بھاگ میں لکھا تھا۔ جن میں سے کسی نے میرٹھ چھوڑا، کسی نے دلّی، کسی نے لکھنؤ، الہٰ آباد، ڈبائی اور حیدرآباد دکن چھوڑا۔ امرتسر، جالندھر، انبالہ اور لدھیانہ چھوڑا۔ یہ دکھ تو وہ بھی محسوس نہیں کر سکتے جو خوشاب، بیلی پور، کوہاٹ اور صادق آباد چھوڑ کر لاہور اور کراچی میں آباد ہو گئے۔ پھر بھی عید تہوار پر انھیں جب اپنے گاؤں ، دیہات اور قصبے یاد آتے ہیں تو اڑ کر وہا ں پہنچ جاتے ہیں کہ انھیں اپنی اپنی جنم بھومیوں میں جانے کے لیے کسی ویزا کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انتظار حسین تو ہندوستان اور پاکستان میں یکساں مقبول ہیں اور وقتاً فوقتاً ہندوستان جاتے رہتے ہیں، جہاں لوگ ان کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے بیٹھے رہتے ہیں اور یوں وہ اپنی جنم بھومی بھی دیکھ آئے۔ ممبئی، جے پور، میرٹھ، لکھنؤ، جیسلمیر، میسور، اورنگ آباد، حیدرآباد، بنارس، پٹنہ، بہار ، علی گڑھ، کولکتہ اور سدا سہاگن دلی کے درشن بھی کر لیے۔ ان بزرگوں کی قبروں پر بھی ہوآئے جو اب آسودۂ خاک ہیں۔ اپنا بچپن اور لڑکپن بھی یاد کر لیا۔ اپنے آبائی گھر کو بھی ڈھونڈ لیا۔ یادوں کی قندیلوں کو ساتھ لیے جب وہ لوٹے تو پھر ''جستجو کیا ہے'' وجود میں آئی۔ دلچسپی کا یہ عالم کہ پڑھتے جائیے اور وقت کا احساس نہ ہو۔ کوئی سطر، کوئی پیراگراف اگر غلطی سے چھوڑ جائے تو نگاہیں فوراً غلطی پکڑ لیتی ہیں۔ کیا کہنے ہیں انتظار صاحب کی نثر کے۔ کیا زبان لکھتے ہیں۔ بعض فقرے پڑھ کر مجھے اپنی والدہ اور خالائیں یاد آ گئیں اور مجھے احساس ہوا کہ بھلا جو فقرے انتظار صاحب لکھ رہے ہیں وہ تو ہماری روزمرہ گفتگو میں شامل تھے، لیکن یہ کیا ستم ہوا کہ خود میرے لیے وہ الفاظ اجنبی بن گئے۔خوش رہیے انتظار حسین کہ آپ کی وجہ سے کچھ لفظوں اور فقروں کی بازیافت ہو گئی۔ کچھ باتیں زندہ ہو گئیں، جیسے انتظار حسین کو ان کی والدہ ویران جگہوں اور اندھیرے میں جانے سے منع کرتی تھیں اور کہتی تھیں ''ادھر نہ جانا بیچا آجائے گی''۔ ارے یہ تو ہماری منجھلی خالہ سب کو ڈرایا کرتی تھیں کہ اگر کوئی مغرب کے بعد گھر سے نکلا تو بیچا آ جائے گی۔ بعض اوقات وہ خود منہ پر سیاہی مل کے لہسن کے جوّے دانتوں میں لگا کے اور آنکھوں کے نیچے سفیدی لگا کر خود بیچا بن جایا کرتی تھیں۔ اسی طرح ہماری دادی بھی رات کو سانپ کا نام لینے سے منع کرتی تھیں۔ کہتی تھیں ''اس موذی کا نام نہ لو، یا تو رسّی کہو یا زمین والا''۔ وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ سانپ کو مارنا نہیں چاہیے کیونکہ اکثر جنّات ان کے بھیس میں ہوتے ہیں۔ ہمارے نانا دلی میں جس گھر میں رہتے تھے، وہ ایک قدیم حویلی تھی اور کبھی کبھار وہاں موری کے ذریعے سانپ کو آتے جاتے دیکھا گیا تھا۔ تب ہماری نانی نے باقاعدگی سے اس جگہ کٹوری میں دودھ رکھوانا شروع کر دیا تھا۔ بڑے ماموں سید محمود علی بڑی خوشی خوشی یہ کام کرتے تھے۔ ذرا دیکھیے تو سہی انتظار حسین اس بارے میں کیا کہتے ہیں:
''زمین والا جو اس گھر کا پرانا باسی تھا۔ اس کوٹھری میں رہتا تھا۔ ہم میں سے کسی کو بھی کبھی نظر نہ آیا۔ ہاں کسی کسی دن گردآلود فرش پر ایک بل کھاتی لکیر دکھائی دیتی تھی۔ ہاں ایک دفعہ کینچلی بھی پڑی نظر آئی تھی ، کبھی کبھی رات کو کوٹھری کی طرف سے سرسراہٹ یا ہلکی پھنکار سنائی دیتی تو ہماری والدہ کہتیں، ''ارے یہ زمین والا کیاچاہتا ہے'' اور ایّا اماں کہتیں ''کٹوری میں نمک ملا دودھ بھر کے رکھ دو اسے چین آ جائے گا''۔ دودھ میں نمک کیوں؟ ایّا اماں کی منطق یہ تھی کہ زمین والا نمک کا بہت پاس کرتا ہے۔ واہ کیا زمانے تھے کہ سانپ بھی نمک کھا کر نقصان نہیں پہنچاتے تھے''۔ ایک اور دلچسپ بات آپ کو بتائیں کہ انتظار حسین نے انہی صفحات میں راجہ باسٹھ، برہمن بچہ اور اس کی پتنی کی وہ کہانی بھی لکھی ہے جو ہم سب بہن بھائیوں نے تھوڑے سے فرق کے ساتھ اپنی دادی سے سنی تھی لیکن اس کہانی کو پڑھنے کے لیے تو آپ کو کتاب پڑھنی پڑے گی۔ مختصر سے کالم میں تو نقل ممکن نہیں۔
یو پی اور دہلی میں ایک رواج اور تھا کہ نیا چاند خصوصاً عید تہوار کے چاند دیکھنے کے لیے خواتین چھتوں پر جاتی تھیں۔ یا تو کسی چہیتے بچے کو لے جاتی تھیں یا پھر دودھ کا کٹورا ساتھ ہوتا تھا۔ چاند دیکھ کر دعا مانگتی تھیں اور پھر یا تو دودھ کے کٹورے کو دیکھتی تھیں یاپھر بچے کے چہرے کو۔ ہماری والدہ جب تک حیات رہیں، وہ گھر کی دوسری منزل کی چھت پر جا کر چاند دیکھتی تھیں۔ ہمیشہ میرے بڑے بھائی کا چہرہ دیکھتی تھیں۔ وہ گھر پر نہ ہوتے تو وہی دودھ بھرا کٹورا ان کی نگاہوں کا مرکز ہوتا تھا۔ انتظار حسین ایک جگہ لکھتے ہیں۔
''نئے چاند کی دید تو ہر بار نیا تقاضا کرتی ہے، چاند کو دیکھ کر جو دعا پڑھی جاتی وہ تو ایک ہی تھی لیکن چاند آسمان پر دیکھنے کے بعد زمین پر کون سی شے پہلے دیکھی جائے۔ ہر مہینے کا چاند ایک نیا تقاضا لے کر آتا تھا، کبھی آئینہ دیکھنے کا تقاضا، کبھی سبز شے، کوئی درخت ، کوئی پودا، کبھی پانی دیکھنے کا تقاضا، کبھی چاندی کی انگوٹھی دیکھو، کبھی یہ تقاضا کہ چاند دیکھنے کے بعد کوئی معصوم صورت دیکھ لو۔ اس آخری تقاضے کی تکمیل کی خاطر مجھے بھی ان کے ہمراہ چھت پر جانا پڑتا تھا''۔
ایک جگہ میرٹھ کے مشہور کھدر پوش لیڈر قیصر زیدی کا ذکر نہایت دلچسپ انداز میں کیا ہے جو اپنے سامنے چائے کی بھری کیتلی رکھ کر اور بتیاں گل کر کے افسانہ سناتے تھے۔ سدا بہار کنوارے تھے، لیکن ایک دن اچانک شادی کر لی، بھلا کیسے؟ وہ انتظار صاحب کی زبانی سنیے۔
''پھر یاروں نے خبر دی کہ قیصر صاحب نے شادی کر لی۔ اچھا؟ واقعی، ہم سب حیران رہ گئے۔ یاروں نے ایک اور شگوفہ چھوڑا۔ کہا کہ ارے یار وہ دوست کی شادی میں براتی بن کر گئے تھے، وہاں عین نکاح کے ہنگام میں جھگڑا کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے ثالث بن کر سمجھوتہ کرانے کی بہت کوشش کی۔ جب دولہا والے اپنی ہٹ پر اڑے رہے تو انھوں نے انھیں پیچھے دھکیلا اور متبادل دولہا کے طور پر اپنے آپ کو پیش کیا، چٹ منگنی پٹ بیاہ، لیجیے شادی ہو گئی''۔
ایک نامی گرامی تراقی پسند ادیب ظ۔انصاری (پورا نام ظلّ حسنین) کا تذکرہ بھی بڑے بھرپور انداز میں کیا ہے، جن سے انتظار حسین کی صرف ایک ملاقات ہوئی تھی۔
''ظ صاحب بمبئی سے آئے تھے، واپس بمبئی چلے گئے، میرے ہوتے ہوئے وہ پھر میرٹھ نہیں آئے۔ ظ صاحب کا ایک امتیاز یہ بھی تو تھا کہ وہ اب بمبئی کے باسی تھے۔ بمبئی کا بھی ایک زمانے میں عجب گلیمر تھا۔ پری چہرہ نسیم ہی نہیں سب پری چہرہ لوگ وہیں رہتے تھے، جو چہرے غروب ہو گئے جیسے سلوچنا، مادھوری اور جواب چمک دمک رہے تھے، ونمابا لابی اے، بی ٹی۔ لیلا چٹنس بی اے اور جے شری''۔
اپریل ۲۰۱۲ع کے مہینے میں اسلام آباد میں ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں احمد عقیل روبی، مسعود اشعر، اصغر ندیم سید اور ایرج مبارک کی موجودگی میں انتظار صاحب نے ایک واقعہ سنایا تھا کہ دلّی کے اشوکا ہوٹل کی لفٹ میں مادھوری ڈکشٹ تین منٹ ان کی ہم سفر رہی تھی اور انھیں اس کا اس وقت پتہ چلا جب ریسیپشنسٹ نے انھیں بتایا کہ مادھوری ڈکشٹ ان کی ہم سفر تھی۔ یہ واقعہ ہم ان کی زبانی دلی کے اشوک ہوٹل کے حوالے سے سن چکے ہیں لیکن کتاب میں یہ واقعہ دو جگہ درج ہے۔ ایک دلی کے حوالے سے دوسرا حیدر آباد دکن کے حوالے سے۔ دکن والا خوش گوار ساتھ بعد میں ہوا۔ شاید دلی میں جب انتظار صاحب کو بعد میں پتہ چلا کہ وہ قتالۂ عالم کون تھی؟ وہی جو ایم ایف حسین کی تصویروں میں رنگ بھرا کرتی تھی اور ''گج گامنی'' کے روپ میں ان کے تصور سے نکل کر فلم کی اسکرین پر آگئی تھی۔ تو یقیناً انتظار صاحب نے دعا کی ہو گی کہ ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی تمنا ہے''۔ سو یہ خواہش حیدر آباد دکن میں پوری ہوئی اور وہاں بھی حسینہ لفٹ میں ان کے ساتھ رہی لیکن بدقسمتی سے وہاں بھی انھیں کب پتہ چلا؟
''ایک آفت کی پرکالہ لپک جھپک آئی اور ہمارے بیچ آ کھڑی ہوئی۔ بس جیسے کوئی بجلی کوندکے ہمارے بیچ ٹھٹک گئی ہو۔ ہم دم بخود ادھر وہ ہوش ربا ارد گرد سے بے پروا۔ گراؤنڈ فلور پہ جا کر جیسے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا وہ تڑپ کر باہر نکلی۔ دم کے دم میں یہ جا وہ جا۔ اور کاؤنٹر پہ کھڑے ریسپشنسٹ کو دیکھو ہمیں دیکھ کر مسکرا رہاہے۔ کاؤنٹر پہ پہنچے تو بولا ''آپ لوگ خوش قسمت ہیں لفٹ میں یہ چھوٹا سا سفر آپ نے مادھوری ڈکشٹ کی سنگت میں کیا ہے''۔ میں چونکا۔ ارے یہ مادھوری ڈکشٹ تھی؟فوراً گیٹ کی طرف نظر دوڑائی مگر وہ اب کہاں۔ جھونکا ہوا کا تھا ادھر آیا ادھر گیا ، بجلی کوندی اور دم کے دم میں غائب ہو گئی''۔
اب ذرا حیدرآباد دکن کی سیر کر لیجیے، جسے ''دکھن سا نہیں ٹھارستار میں'' کے عنوان سے لکھا گیا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے بھی اپنا ایک رپورتاژ اسی عنوان سے لکھا ہے۔ حیدر آباد دکن کا ذکر ہوا اور ابوالحسن تانا شاہ اور والیٔ گولکنڈہ قلی قطب شاہ کو فراموش کر دیا جائے، یہ تو انتظار حسین کر ہی نہیں سکتے تھے۔ تانا شاہ کے لیے کہتے ہیں۔
''کیا آن بان تھی، کیا رکھ رکھاؤ تھا، کتنا شائستہ اور ٹھسا ایسا کہ ناک پہ مکھی نہ بیٹھنے دیتا تھا۔ سچ مچ کا تانا شاہ۔ کھانا تناول کرنے کے لیے دسترخوان پہ بیٹھا ہی تھا کہ اطلاع ملی، کسی موذی نے دغا کی۔ قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔ اورنگ زیب کا لشکر قلعہ میں گھس آیا۔ خبر سنی کیا مجال کہ چہرہ پریشانی کی چغلی کھائے۔ کہا، آنے دو۔ اطمینان سے ماحضر تناول کیا، جب اورنگ زیب سر پر آن پہنچا تو کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ پھر قیدی کی صورت فاتح لشکر کے ساتھ روانگی۔ رستے میں پیاس لگی، ایک پنہارن نے پانی پلایا۔ تانا شاہ نے انگلی سے انگوٹھی کہ ہیرا جڑی تھی اتاری، پنہارن کو دیتے ہوئے کہا۔ اے نیک بخت اس وقت تو ہمارے پاس دینے کے لیے بس یہی ایک انگوٹھی ہے''۔
انتظار حسین نے اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر قلی قطب شاہ اور اس کی محبوبہ بھاگ متی کا ذکربھی بڑے پیار سے کیا ہے کہ کس طرح شہزادہ ندی میں تیر کر بھاگ متی سے ملنے کے لیے جاتا تھا، تب باپ جو بادشاہ تھا، پہلے تو اس نے بیٹے کو تنبیہہ کی کہ اے سپوت عشق سے باز آجا۔ جب وہ نہ مانا توندی پرپل بنوا دیا کہ بیٹا عشق میں گلے گلے ڈوبا تھا۔ بعد میں جب قلی قطب شاہ بادشاہ بنا تو بھاگ متی سے نکاح کر کے اسے حیدر محل کا خطاب دیا۔ اس نیک بخت کے بھاگ کھلے تو دل سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئی۔ بعد میں اسی کے نام پر قلی قطب شاہ نے ایک نیا شہر حیدر آباد، آباد کیا جو دراصل پہلے بھاگ نگر کہلایا، بعد میں رانی حیدر محل کی مناسبت سے اسے حیدر آباد کا نام ملا۔ شہر کے وسط میں کھڑا چار مینار بھی قلی قطب شاہ نے ہی بنوایا تھا۔
اب ایک بار پھر دلّی چلتے ہیں جہاں ڈاکٹر ذاکر حسین کالج میں انتظار حسین کا ایک توسیعی خطبہ تھا۔ وہاں کئی لوگوں سے ملاقاتیں رہیں اور اب ذرا راجستھان کی سیر ہو جائے، جہاں وہ کسی ش کاف صاحب کے ساتھ جیسلمیرکی سیر کر رہے تھے۔
''جیسلمیر کیا شاد آباد بستی ہے۔ مگر اس سے نکل کر جب اگلی بستی میں قدم رکھا تو اسے ویران پایا۔ مکان موجود مکین غائب …… درو دیوار سلامت ہیں مگر چھتیں غائب ہیں۔ گلیاں سنسان ، کوچے ویران ، ساری بستی خالی ڈھنڈار…… میں نے پوچھا ش کاف صاحب یہ کیا ماجرا ہے، یہ بستی خرابہ کیسے بنی، باسی کدھر کوچ کر گئے''……تب انھوں نے بتایا۔ ''اب سے ساڑھے تین سو برس پہلے یہ ایک بھری پڑی بستی تھی۔ علاقے کے راجہ نے اس بستی کی ایک سند رکنیا کو تاڑا اور اسے اٹھوا لیا۔ بستی کے باسیوں نے عجب رنگ سے احتجاج کیا کہ راتوں رات وہ بستی سے نکل کر جانے کدھر نکل گئے۔ چلتے وقت بددعا دی کہ اب یہ بستی کبھی آباد نہ ہو۔ تب سے یہ بستی اس بددعا کے اثر میں ہے۔ خالی ڈھنڈار پڑی ہے اور ہونق کرتی ہے''۔
''ہائے گل ہائے دل'' و الے باب میں شاہد احمد دہلوی اور میر باقر علی داستان گوکا ذکر قاری کو صرف اداس ہی نہیں کرتا بلکہ رلاتا بھی ہے۔ ۱۸۵۷ء کی دلّی اور پھر اس کی یادیں۔ میلے ٹھیلے، عید تہوار ہولی دیوالی کا ذکر اور شاہد صاحب۔ واقعی جب آزاد مرد تھا…… کس شان سے دلی سے ساقی نکالا اور پھر کس خانماں بربادی نے کراچی کے ایک محلے پیر الہٰی بخش کالونی پہنچوا دیا۔ اتنے بڑے خانوادے کا آدمی لیکن پاکستان میں ان کے لیے کوئی نوکری نہ تھی۔ روزی کمائی تو موسیقی سے جسے شوقیہ سیکھا تھا۔ برباد جہاں آباد کے نوحے لکھے اور اسی کی یاد میں پیوندِ خاک ہوئے۔
دوسرے تھے میر باقر علی داستان گوجو داستانیں سنانے کے لیے نوابوں کے درباروں اور رجواڑوں میں بلائے جاتے تھے۔ پھر جب دلی اجڑی تو میر صاحب کی داستانیں سننے والا بھی کوئی نہ رہا۔ آخر عمر میں بقول انتظار صاحب۔ ''داستانیں طاق میں رکھیں اور چھالیہ کترکتر کے بیچنے لگے۔ پہلے ان کی زبان چلتی تھی اب ان کا سروطہ چلتا تھا۔ کیا گول گول چھالیہ کترتے تھے''۔
اب ذرا یہ اقتباس دیکھیے۔
''۱۹۴۷ء میں شاید ۱۵؍اگست کے آس پاس دلّی کے استادانِ فن موسیقی جمع ہوئے۔ یہ ان کا اس نگر میں آخری اجتماع تھا۔ استاد بندو خاں نے اعلان کیا کہ آج میں اپنی سارنگی پہ دیپک راگ سناؤں گا۔ استاد چاند خاں نے بہت منت کی کہ یہ رات نہ سنائیے اس سے خالی چراغ نہیں جلتے، اس سے آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ مگر استاد بندو نے ایک نہ سنی۔ وہ راگ سنا کر دم لیا۔ مگر وہ دیپک راگ تو سچ مچ اس مٹتی ہوئی تہذیب کے لیے سوان سونگ یا ہنس راگ بن گیا''۔
چلتے چلتے آخر میں ایک اور ٹکڑا جو یقیناً آپ کی آنکھیں نم کر دے گا۔
''دراصل میں اور منیر نیازی جنت سے ایک ہی وقت میں نکالے گئے تھے، ہم نے ایک دوسرے کو اسی حیثیت میں پہنچانا ہے۔ منیر نیازی سنانے لگتا ہے اس کی بستی میں آموں کے کیسے گھنے پیڑ تھے۔ میں بیان کرنے لگتا ہوں۔ اپنی بستی میں شام کیسے پڑتی تھی اور مورکس رنگ سے بولتا تھا۔ ہم اپنی گمشدہ جنت اپنے دھیان میں بسائے پھرتے ہیں۔ ہمارا حافظہ ہمارا دشمن بن گیا ہے۔ حافظے نے بی بی حوّا کو بھی بہت ستایا تھا۔ جنت سے نکلنے کے بعد جنت انھیں ایک عمر تک یاد آتی رہی۔ انھوں نے جنت کو بہت یاد کیا، بہت روئیں۔ جنت کی یاد میں بہنے والے آنسو جو زمین پر گرے ان سے مہندی کے پیڑ اگے۔ قصص الانبیاء میں لکھا ہے کہ روئے ارض پر جتنے مہندی کے پیڑ ہیں وہ سب بی بی حوا کے آنسوؤں کا فیض ہیں''۔
''مجھے مہندی کے پیڑ اور منیر نیازی کے شعر اچھے لگتے ہیں، شاید اس لیے کہ ان میں تھوڑی میری آنکھوں کی نمی بھی شامل ہے۔ جب منیر اپنے خان پور کو پکارتا ہے تو میرا بھی ایک بستی کو پکارنے کو جی چاہتا ہے، جب وہ اپنے باغوں اور اپنے جنگل کا ذکر کرتا ہے تو میں اسے اسی عالم میں چھوڑ کر اپنے جنگل کی طرف نکل جاتا ہوں۔ ہماری بستی کا جنگل کچھ بہت گھنا نہیں تھا مگر میری یادوں نے اسے گھنا بنا دیا ہے''۔
ہجرت کے تجربے کو انتظار حسین، منیر نیازی اور اے حمید نے جس طرح برتا ہے وہ انھیں دوسروں سے یکسر الگ کرتا ہے ، لیکن ''جستجو کیا ہے'' میں جو زندگی سانس لے رہی ہے وہ ہزاروں دلوں کی دھڑکن ہے، جو اپنے اپنے طریقے سے ہر دل میں ایک نیا نگر دریافت کر لیتی ہے۔ اس کتاب کے ہر لفظ اور ہر سطر میں ایک کھوئی ہوئی اور موجود دنیا آباد ہے، جس کی جستجو انتظار حسین نے خوب کی ہے۔ پڑھتے جائیے اور سرشار ہوتے جائیے۔
مبصر: رئیس فاطمہ
ارتکاز از: پروفیسر رئیس فاطمہ
یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں تحقیقی اور تنقیدی مضامین اور شخصیت نگاری کو خوبصورت انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں خود مصنفہ پر مختلف اہل قلم کی آراء کو شامل کیا گیا ہے۔ پہلے حصے کے ابتدائی تین مضامین یعنی پریم دیونی میرا بائی، کلامِ غالب اور تلمیحات، کہاوتیں، محاورے اور تلمیحات خالص ادبی تحقیقی مضامین ہیں جو خاصی محنت سے لکھے گئے ہیں۔ حسرت کی غزل، فیض کا ادبی شعور، اردو فکشن میں نسائی تصور اور مولوی صاحب سے ایک مکالمہ تنقیدی مضامین ہیں جبکہ شعلہ جوالہ رشید جہاں، ایک عہد کا خاتمہ، ہجرت پر مامور تھے ہم، جناب عالی، مشفق خواجہ ایک ہمہ جہت شخصیت، شعلہ مستعجل حسن ظہیر اور اے حمید ایک منفرد افسانہ نگار شخصیت نگاری کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان میں سے بعض مضامین شخصیت نگاری کے ساتھ ادبی تنقید کا بھی حصہ ہیں، جیسے اے حمید ایک منفرد افسانہ نگار وغیرہ۔
اس کتاب کا پہلا مضمون پریم دیوانی میرا بائی ایک ادبی تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں سولہویں صدی کی عظیم بھگتی شاعرہ میرا بائی کی شخصیت اور ان کی شاعری کا انتہائی خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔ میرا بائی کے فن اور شخصیت پر مختلف اہل قلم نے خیال آرائی کی ہے۔ کچھ نے انہیں دیومالائی کردار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تو کچھ نے اس کی شاعرانہ حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ لیکن رئیس فاطمہ نے ہندی اور اردو ادب کے عمیق مطالعے کے بعد میرا بائی پر جو تحقیقی مضمون رقم کیا ہے وہ اس لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے کہ انہوں نے میرابائی کی شخصیت اور اس کی شاعری کا عالمانہ انداز میں ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہندی ادب سے انتخاب کو شجر ممنوع قرار دے کر ان گنت علمی اور ادبی شہ پاروں تک قاری کی رسائی کو مسدود کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان بھگت کبیر اور میرابائی جیسے سچے، کھرے اور صوفیانہ تنوع رکھنے والے شاعروں کا کلام تو دور کی بات ان کے نام تک سے واقف نہیں ہے۔
کلام غالب میں تلمیحات اور کہاوتیں، محاورے اور تلمیحات کے عنوان سے لکھے گئے دو مضامین نثرنگاری میں گراں قدر تحقیقی اضافہ ہیں۔ متذکرہ بالا مضمون میں انہوں نے کہاوتوں، محاوروں اور تلمیحات کا فرق ایک لائق معلم کی طرح سمجھایا ہے جبکہ کلام غالب میں تلمیحات خالصتاً ایک تحقیقی مضمون ہے جس میں غالب کے ان اشعار کا انتخاب پیش کیا گیا ہے جن میں تلمیحات استعمال ہوئی ہیں۔
حسرت کی غزل اور دیار شوق میں ماتم بپا ہے مرگ حسرتِ کا' دو اور فکرانگیز مضامین ہیں۔ جن میں پہلا مضمون خالصتاً حسرت کی شاعری کا ناقدانہ جائزہ ہے جبکہ دوسرے مضمون کا مرکزی خیال گو کہ حسرت کی برسی پر ذرائع ابلاغ کی بے حسی ہے مگر اس میں بھی انہوں نے حسرت کی شخصیت اور ان کی سیاسی اور ادبی حیثیت پر تحقیقی مقالہ تحریر کر دیا ہے۔
ان کے مضامین شعلہ جوالہ: ڈاکٹر رشید جہاں، شعلہ مستعجل: حسن ظہیر، ہجرت پر مامور تھے ہم اور جناب عالی، شخصیت نگاری کا منفرد نمونہ ہیں۔ ان چاروں مضامین میں انہوں نے زیر مطالعہ شخصیات کی ادبی، سماجی اور ثقافتی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں انتہائی خوبصورت انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر رشید جہاں کے بارے میں مضمون صرف ان کی شخصیت اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں ہی کا احاطہ نہیں کرتا بلکہ ان کی ادبی خدمات کا بھی ناقدانہ جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس مضمون کے اختتامی پیراگراف میں لکھتی ہیں ''ڈاکٹر رشید جہاں جیسی ہستیاں روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ انہوں نے عورتوں کے حوالے سے اپنی تحریروں کے ذریعے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ ہم نے انہیں جلد بُھلا دیا۔ فیض میلے میں بھی ان کا کوئی ذکر کسی نے نہیں کیا جبکہ فیض صاحب کی زندگی میں ڈاکٹر رشید جہاں ایک اتالیق کا درجہ رکھتی تھیں۔ کم از کم اکادمی ادبیات پاکستان، مقتدرہ قومی زبان، آرٹس کونسل، کراچی یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے اداروں میں کم از کم ایک ہال ان کے نام سے منسوب کر دیں۔'' غرض اس کتا ب میں ہر مضمون انگوٹھی میں نگینے کی طرح ہے جو طالبانِ علم و ادب کی پیاس بجھانے اور ان کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا سبب ہے۔
مبصر: مقتدا منصور

یاددہانی از قمر رضا شہزاد
N سنگِ میل پبلی کیشنز ، لاہور ۔ ۲۰۱۲ء
قمرر ضاشہزاد ؔنئی نسل کے نمائندہ شعرا میں سے ہے' یاددہانی ' ان کا تیسرا مجموعہ کلام ہے ، جسے سنگِ میل لاہور نے شائع کیا ہے ، وحید احمد نے ' روشن غزلیں' کے نام سے اس کا دیباچہ لکھا ہے جس کے چند اقتباسات دیکھیے:
…… میں قمر رضا شہزادؔ کو داغؔ کے قبیلے کا فرد سمجھتا ہوں ۔ اس کی شاعری میں وہی رنگ ہے جسے داغؔ نے تعلیم کیا ۔ یعنی تیور کی دلکشی ، الفاظ کی نشست اور تکلف وتصنع سے پرہیز۔ قمر رضا شہزاد ؔ کا اُردو ،داغؔ کا اُردو ہے۔ دھلا ، نکھرا ، اجلا، پاک اور چمکتا ہوا اُردو جس کے بہاؤ میں فارسی اور عربی کے الفاظ یوں شامل ہوتے ہیں جیسے پہاڑی برساتی نالے رودِ رواں میں شامل ہو کر اپنا رنگ کھو دیتے ہیں……قمر رضا شہزاد ؔ کی شاعرانہ سچائی کا قتیل ہوں ۔ بلا تصرف ، بلا فصل ، بلا وسواس، بلا واسطہ یعنی براہِ راست زندگی اور خیال سے رابطہ اس کی شاعری کا طرۂ امتیاز ہے۔ جو زندگی سے براہِ راست منسلک ہے ۔ یہاں تک کہ اسے اپنا وجود بھی گراں گزرتا ہے ……یہ شاعربت شکن ہے۔ Iconoclast ہے۔ اپنے اور سچائی کی راہ میں حائل ہر واسطے اور میڈیم کو مسمار کردیتا ہے…… قمر رضا شہزاد ؔچراغ سے پہلے دھواں بنانے کا اہل ہے ۔ اور وہ اپنی ان تاویلوں سے اس منظر کشی کو صحیح قرار دیتا ہے جو اس کی شاعری میں جا بجا ملتی ہیں۔ وہ بعض اوقات مبالغے کی شمشیر برہنہ سے اسپِ دوراں کی کونچیں کاٹتا ہے جو روشنی کی رفتار سے دوڑ رہا ہے اور ساری سماجی قدریں اپنے سموں تلے پامال کر رہا ہے …… قمر رضا شہزاد ؔکی شاعری میں اکثر روشنی کے حوالے ملتے ہیں۔ وہ جگمگاتی سوچ کا شاعر ہے۔ جہاں اسے روشنی نظر آتی ہے ۔ تعاقب کرتا ہے ۔ وہ روشنی جو انبیاء اور آئمہ کا مرکز ومحور تھی ۔ وہ روشنی جو سقراط اور جون آف آرک کے گردہیولا کرتی تھی۔ وہ روشنی جو اساتذہ کے دواوین میں رواں ہے اور وہ روشنی جو خود قمر رضا شہزاد ؔکے چقماق کے خمیر میں ہے۔ وہ کبھی روشنی کا جشن مناتا ہے تو کبھی تاریکی کی عزاداری کرتا ہے جب اس کے چراغ کی لَو کو تلوار کے وار سے بجھایا جاتا ہے۔ کبھی چاندنی کشید کرتا ہے تو کبھی شبِ دیجور کا گریہ اٹھاتا ہے''۔
رضی الدین رضی نے حسب معمول اپنے کٹیلے اسلوب میں اپنے مشترک ماضی کو یوں یاد کیا ہے :
……وہ ہمارے کالج کا زمانہ تھا۔ میں اور شاکر سول لائنز کالج میں فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے اور قمر رضا شہزاد ؔلاء کالج ملتان میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اگرچہ عدلیہ اس وقت بھٹو صاحب کو تختہ دار کی زینت بنا چکی تھی لیکن اس کے باوجود ابھی وکالت کی تعلیم کو اعلیٰ تعلیم اور اس پیشے کو قابل تعظیم سمجھا جاتا تھا ……۱۹۸۱ء کی وہ شام جب قمر رضا شہزاد ؔ سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی آج بھی میرے دامن میں موجود ہے۔ وہ شام میرے پورے جیون پر محیط ہوچکی ہے ۔ اس شام تو میں نے اور قمر رضا شہزاد نے سرسری انداز میں ایک دوسرے کی خیریت معلوم کی تھی اب ہم جب بھی ملتے ہیں ہمیں ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ ہم کوسوں دور بھی بیٹھے ہوں تو کسی اظہار کے بغیر ایک دوجے کے دکھوں اور خوشیوں سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ اب ہمیں ایک دوسرے کو یاد کرنے کے لیے کسی یاددہانی کی ضرورت نہیں رہتی ''۔
اُردو شاعری کے مستقبل کے امکانات کی ایک جھلک ان اشعار میں دیکھیے:
کھڑی ہے خلق سرِرہگزار! شاہ سوار
اسے ہے کب سے تِرا انتظار! شاہ سوار

جہانِ غیب کے اسرار کُھلتے جاتے ہیں
تِرا جمال بھی ہو آشکار! شاہ سوار

میں جگمگاتا ہوا روشنی لُٹاتا ہوا
تِرے چراغ کی لَو پر نثار! شاہ سوار

یہاں جو آئینہ خانہ بنایا جائے گا
اُسی کو پہلا نشانہ بنایا جائے گا

بنائی جائے گی اس خاک سے نئی دنیا
پھر ایک اور زمانہ بنایا جائے گا

اور پھر ماں کے خدوخال میں اے رب کریم
اس زمیں پر تری جنت بھی اٹھا لایا میں

دل کس طرف گیا ہے صدا کیجیے جناب
اس آخری دیے کا پتا کیجیے جناب

یہ عشق ہے زیادہ جگہ گھیرتا نہیں
تھوڑا سا اپنے دل کو بڑا کیجیے جناب
مبصر:ڈاکٹرارشد خانم
خرد افروزی اور روشن خیالی
از:ڈاکٹر رفعت اقبال خان
B مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد۔
رواں برس ڈاکٹر رفعت اقبال خان کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ'خرد افروزی اور روشن خیالی' کے عنوان سے مقتدرہ قومی زبان پاکستان سے کتابی صور ت میں شائع ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے عظیم فکر و دانش کی وہ روایت جو عراق و مصر و یونان سے لے کر عصرِ حاضر کے روشن فکر دانشوروں تک آتی ہے ، کو ایک تحریک کی صورت میں پیش کیا ہے۔اس کتاب کے آغاز میں ہی اُن کا یہ خیال کہ ''روشن خیالی ماضی سے اکتساب کرتی ہے، حال کو بہتر بناتی ہے اور مستقبل کی طرف قدم بڑھاتی ہے''(ص۲۰)ایک طرح سے وہ مفروضہ سمجھا جا سکتا ہے جس کے گرد اس پورے مقالے کے مباحث گھومتے ہیں۔
خرد افروزی اور روشن خیالی' پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے با ب میں رفعت اقبال نے خرد افروزی اور روشن خیالی کے مبادیاتی مباحث اور اس کی روایت کو مجتمع کر دیا ہے، انھوں نے وادیٔ دجلہ و فرات اور وادیٔ نیل سے لے کر قدیم یونان اور رومن عہد سے ہوتے ہوئے عہدِ جدید کے مغرب میں اس کے آثار سے عالمانہ انداز میں بحث کی ہے۔ باب دوم میں قدیم برصغیر (رگ وید، اپنشد اور مہاتمابدھ کے عہد) میں موجود خرد افروز اور روشن خیال فکر و دانش کی روایت کو اس خطے میں انگریز اور دیگر نو آبادکاروں کی آمد تک اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ قدیم ہندوستان کی تہذیب سے جدید ہندوستان تک فکر و اذہان پر تقلید اور جمود کی جو کیفیات مختلف زمانوں میں طاری رہیں اُ ن کے اسباب کا احاطہ بھی ہو گیا اور اس جمود کو توڑنے والے عناصر اور رجعت پسند فکر کے روشن خیال فکر میں تبدیل ہونے کے محرکات بھی سامنے آ گئے۔باب سوم میں اٹھارہ سو ستاون سے لے کر تقسیمِ ہند تک اُن مختلف علمی، ادبی اور فکری تحریکات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا خرد افروز دانش کی ترویج میں اپنی اپنی سطح پر نہایت اہم حصہ ہے۔ اس باب میں نہ صرف تحریکات بلکہ اُن رجحانات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جو خواہ کسی باقاعدہ تحریک سے نمودار ہوئے یا پھر کسی ایک شخصیت کے علمی و فکری کارناموں کی صورت میں یوں نمایاں ہیں کہ گویا ایک مکمل رجحان کی صورت دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر رفعت اقبال نے بوجوہ اُردو کے ادبی سرمائے کو سامنے رکھتے ہوئے روشن خیالی اور خرد افروزی کے نمایاں آثار کا احاطہ بھی کیا، اس کی واضح مثال اس باب کی فصل چہارم ہے جس میں اسلامی ادب، پاکستانی ادب، جدیدیت اور مابعد جدیدیت ایسے رجحانات(جن میں سے کچھ فقط نعرے تھے)سے علمی انداز میں بحث کی گئی ہے۔روشن خیالی کی روایت کا مطالعہ کرتے ہوئے ان رجحانات کو زیرِ بحث لانا غالباًاس لیے بھی ضروری تھا کہ یہ دراصل ردِعمل تھا اُس روشن فکر کا جو اٹھارہ سو ستاون کے بعد سر سید احمد خاں سے شروع ہو کر ترقی پسند تحریک تک پھیلی ہوئی ہے اور سرحد کھینچی جانے کے بعد اِس طرف پاکستان کو سیکولر ریاست بننے سے روکنے ، اشتراکیت کے عدم پھیلاؤ اور نام نہاد اخلاقیات کو مذہب کی توانائی سے پروان چڑھانے کے لیے ادب کو بھی اسلامی و غیر اسلامی بنانے کے نعرے بلند کیے گئے ۔ڈاکٹر رفعت اقبال خان نے درست طور پر یہ نشاندہی کی ہے کہ محمد حسن عسکری ایسا پڑھا لکھا آدمی اُس وقت پاکستانی ادب اور اسلامی ادب کو مترادف اصطلاحات کے طور پر استعمال کر رہا تھا (ص۲۵۹)، 'خرد افروزی اور روشن خیالی' کایہ باب سوشل سائنسز کے ساتھ ساتھ ادب کے طالب علموں کے لیے بالخصوص اہم ہے۔باب چہارم میں پاکستان کے خرد افروز اور روشن خیال مفکرین کے خیالات کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے ۔اس ضمن میں جن مفکرین کے خیالات کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے اُن میں علامہ نیازفتح پوری، سید علی عباس جلالپوری، سید سبط ِ حسن، ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر منظور احمداور ضمیر نیازی کے علاوہ ترقی پسند ناقدین کی ایک کھیپ شامل ہے۔آخری باب میں مقالہ نگار نے پاکستان میں جاگیردارانہ اقدار ، کثیر الجہت کلچرل اقدار، جمہوریت اور سیاسی مسائل کی روشنی میں روشن خیال فکر کو درپیش چند مسائل اور اُن امکانات کی نشاندہی کی ہے جو ہمارے عہد کے عام آدمی کی توجہ کا مرکز ہیں۔
فاضل محقق نے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ نہ صرف وسعت ِ مطالعہ کا متقاضی تھا بلکہ اس سے انصاف کے لیے روشن خیال فکر کے ساتھ ایک لگن بھی درکار تھی اور ڈاکٹر رفعت اقبال خان اس امتحان میں کامران ٹھہرے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ'خر د افروزی اور روشن خیالی' کا مطالعہ کرتے وقت کسی بھی قاری کے لیے علمی مباحث سے قطع نظرجو چیز بطورِ خاص مسحور کن ہوگی وہ اس کتاب کا اسلوب ہے۔
مبصر: خاور نوازش
کتاب : برِصغیر میں مطالعۂ قرآن
(بعض علماء کی تفسیری کاوشوں کا جائزہ)
از: محمد رضی الاسلام ندوی
=ناشر: مکتبہ قاسم العلوم، لاہور
قرآن مجید ایک ایسا ترازو اور پیمانۂ عمل ہے جس کی بنیاد پر حق و باطل کی تمیز کی جاسکتی ہے، یہ کتاب مسلمانوں کے لیے بالفعل براہِ راست، اور پوری انسانیت کے لیے بالقوہ ایک نظامِ ہدایت ہے۔ لیکن اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو سمجھنے اور منطبق کرنے میں ان اصولوں اور ضوابط کی سختی سے پابندی کی جائے جو آپؐ کے زمانے سے اس کی تفسیر، تشریح کے لیے برتے جارہے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے اجتماعی طرزِ عمل اور ملت اسلامیہ کے تعامل سے قرآن کی تفسیر کے ایسے مضبوط اور مفصل اْصول اور قواعد تشکیل دیے جاچکے ہیں کہ جن کی پیروی ا?ج تک کی جارہی ہے۔ زیر نظر کتاب درحقیقت "محمد رضی الاسلام ندوی" کے چند مقالات کا مجموعہ ہے جن میں تفسیر اور قرآن فہمی کے میدان میں ماضی قریب کے ہندوستان اور پاکستان کے بعض مشہور مفسرِ قرآن کی کاوشوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ جائزہ چند ایک تفاسیر کا تو مختصر لیکن جامع اور کچھ کا بالکل جزوی سا ہے جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان مقالات کے لکھے جانے کے وقت مؤلف کے ذہن میں باقاعدہ کتاب کا مرتب کیا جانا نہیں تھا۔ ان مقالات میں سب سے جامع اور جاندار جائزہ سرسید احمد خاں کی "تفسیر القران" کا ہے۔ اس کے علاوہ "مولانا امین احسن اصلاحی" کی "تدبر القران" پر مصنف کا مقالہ تفاسیر پر اْن کے وسیع اور گہرے مطالعے پر دال ہے۔ قرآن پاک کے حروفِ مقطعات پر اس کتاب میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر مستقبل میں محترم مصنف "مولانا ابو اعلیٰ مودودیؒؒ کی "تفہیم القران"، "مولانا ابوالکلام آزاد" کی "ترجمان القران" اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی "تفسیر عثمانی"جیسی اہم تفاسیر پر بھی قلم اْٹھائیں تا کہ اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھے اور اسے حوالے کی کتاب کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے۔
مبصر: وصی اللّٰہ کھوکھر
اْردو کہاوتیں اور ان کے سماجی و لسانی پہلو
از: ڈاکٹر یونس اگاسکر
( ناشر: نشریات، لاہور
کہاوتیں یا ضرب الامثال کسی بھی زبان کے لسانی سرمایے میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ کہاوتوں کی جڑیں عوام کے اندر ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اصطلاحات کی طرح کہاوتیں بنائی یا گھڑی نہیں جاسکتیں اور نہ ہی کوئی ادارہ ان کو بنانے یا عوامی رنگ میں ڈھالنے پر مامور کیا جاسکتا ہے۔ کہاوتیں معاشرے کے سالہا سال کے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہوتی ہیں جو اْسی معاشرے کے رہن سہن، رسم و رواج، تہذیبی لین دین وغیرہ کی روشن عکاس ہوتی ہیں۔ زیر نظر کتاب دراصل "ڈاکٹر یونس اگاسکر" کا تحقیقی مقالہ ہے جس میں انھوں نے اْردو کہاوتوں کے سماجی اور لسانی پہلوؤں کا انتہائی محنت اور عرق ریزی سے جائزہ لے کر موضوع کا حق ادا کر دیا ہے۔ اْردو لسانیات کی معروف شخصیت "پروفیسر گوپی چند نارنگ" کا اس مقالے کے بارے اظہار کچھ اس طرح سے ہے کہ ڈاکٹر یونس اگاسکر نے نہ صرف تمام مآخذ کو پوری دل جمعی سے کھنگالا ہے بلکہ تمام و کمال سعی و جستجو سے کام لیا ہے اور موضوع کے تمام گوشوں پر بھر پور روشنی ڈالی ہے۔۔۔۔ یہ اپنے موضوع پر پہلی جامع تصنیف ہے" اْردو لسانیات اور خصوصاً لغت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔
کتاب: ایک بھاشا دو لکھاوٹ، دو ادب
از: گیان چند جین
4 ناشر: فکشن ہاؤس ، لاہور
اْردو دنیا میں ڈاکٹر جین کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ "عام لسانیات" ہو "لسانی جائزے" ہو یا "لسانی رشتے" ڈاکٹر جین کی ہر کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے مستند اور جامع ہے۔ ڈاکٹر جین نے اپنی زندگی کے ا?خری ایام بہت بیماری کی حالات میں (امریکہ میں) گزارے۔ اور انھی انتہائی نامساعد حالات میں ڈاکٹر جین نے یہ کتاب لکھی جو اْردو زبان کے چاہنے والوں میں بہت ناپسند کی گئی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر جین کی طرف سے اْردو بولنے والوں پر جو الزامات لگائے گئے یا اعتراضات کیے گئے اعتراضات اور اْردو زبان کے بارے میں جو مختلف دعوے کیے گئے اْن کے مدلل اور مسکت جوابات بھی دیے گئے، ڈاکٹر جین کا رد کرنے والوں میں شمس الرحمٰن فاروقی اور مرزا خلیل احمد بیگ جیسے معتبر نام شامل ہیں۔ بہرحال کسی کتاب کا متنازعہ ہونا اْس کی اہمیت میں کمی نہیں کرتا۔ اور مخالفت میں کی گئی بات کو سننا ، پڑھنا اور تخلاف کا معقول جواب دینا بھی علم و ادب ہی کا حصہ ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ڈاکٹر جین کا اْسلوب اچھا یا درست نہ ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ اْنھوں کے حقائق کے برعکس بات کی ہو لیکن ان سب باتوں کو جاننے کے لیے اْن کی اِس کتاب کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔
مبصر: وصی اللّٰہ کھوکھر
ماڈرن پاکستانی ادبیات
از: کرنل(ریٹائرڈ)مسعُود اختر شیخ
 کرنل مسعُوداختر شیخ کی یہ ۲۴ویں کتاب ترکی زبان میں اُن کی پہلی کِتاب ہے۔
کِتاب کا مقصد ترکی کے ادبی حلقوں کو جدید پاکستانی ادب سے رُوشناس کروانا ہے۔گزشتہچالیس سال کے دوران کرنل مسعُودکی اُردُوسے ترکی میں ترجمہ کی گئی بعض کہانیاں اور نظمیں ترکی کے بعض (مختلف )رسالوں میں شائع ہوتی رہی ہیں لیکن ان سے ترکی کے ادبی حلقوں کی تسلّی نہیں ہو سکی تھی۔اِن حلقوں کے اِسرار پر کرنل مسعودنے نہ صرف اُردو سے بلکہ سندھی،بلوچی،پشتو اورپنجابی سے چیدہ چیدہ کہانیاں اور نظمیں ترکی میں ترجمہ کر کے اِنہیں کتابی شکل دی ہے۔کِتاب کا پہلا حصّہ حِکایات پر مبنی ہے۔اِس میں احمد ندیم قاسمی،سعادت حسن منٹو،مِرزا ادیب،اِنتظارحُسین،محمد منشا یاد،رشید امجد،احمد جاوید،اعجاز راہی،جمال الدین ابرو،زیتون بانو، قلندر مومنداور نعمت اﷲ گِچکی کی کہانیاں شامل ہیں۔اِن کے علاوہ سسّی پُنّوں، سوہنی مہینوال اور چینیشہزادی جیسی عوامی(لوک) کہانیوں کو بھی جگہ دی ہے۔جمال الدین ابرو کی کہانی سِندھی سے،زیتون بانو اور قلندر مومند کی کہانیاں پشتو سے،اور نعمت اﷲ گِچکی کی کہانی بلوچی زبان سے لی گئی ہیں۔
کِتاب کا دوسرا حصّہ شعروشاعری پر مبنی ہے۔اِس میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی،احمد فراز،تصدق حُسین خالد،میرا جی، پروین شاکر،منیر نیازی، ن م راشد،ضیاء جالندھری، افتخار عارف،جمیل ملک، احمد ظفر،آفتاب اقبال شمیم، کشور ناہید،فہمیدہ ریاض،اعجاز رحیم،وزیر آغا،مجید امجد اور راجہ چنگیز سلطان کی شاعری سے چیدہ چیدہ نظمیں شامل کی گئی ہیں۔جہاں تک صوبائی شاعری کا تعلق ہے اِس کے لیئے کِتاب کا تیسرا حصّہ مُختص کر دیا گیا ہے۔اِس حصّے میں سِندھ، پنجاب، سرحد،بلوچستان اور کشمیرکے نامور شُعراء کا کلام دیا گیا ہے۔اِس حصّے کی قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پنجاب کے شُعراء میں بُلہے شاہ،سلطان باہُو، خواجہ غلام فرید اور میاں محمد بخش کا کلام شامل کیا گیا ہے۔اگرچہ یہ سارے حضرات جدید شُعراء میں شامل نہیں ہوتے لیکن اِن کا کلام آج بھی اُتنا ہی ہردل عزیز ہے جتنا اُن کی زندگی میں اور پھرسالہا سال سے شُہرت کے تخت پر براجمان ہے۔
کرنل مسعُوداختر شیخ نے گزشتہ چالیس سال سے زیادہ عرصے میں پاکستان کے ادبی حلقوں کو ترکی ادب سے رُوشناس کرانے میں اَ ن تھک کوشش کی ہے۔اُنہوں نے کہانیوں،ناولوں ، ڈراموں اور شاعری کی بیس کتابوں کے ترکی سے اردُو اور انگریزی میں ترجمے شائع کروائے ہیں۔(انہوں نے ترکی کہانیوں،ناولوں،ڈراموں اور شاعری کے بے شمار فن پاروں کو اروواور انگریزی کے قالب میں ڈھالا اور بیس کتابوں کی شکل میں شائع کروایا ہے۔)ترکی کے ادبی حلقوں کو پاکستانی ادب کے مختلف پہلوؤں سے رُوشناس کرانے میں یہ اُن کا پہلاقدم ہے۔اﷲ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
مبصر: عابدہ صوفیہ محمود
نہیں۔۔یں۔۔یں (افسانے) از: منزہ سلیم
ì اُردو ادب میں بہت سے ایسے نام بھی ہیں جن کا ادبی اور تخلیقی کام انتہائی عمدہ اور کئی ہم عصر ادیبوں اور شاعروں سے ممتاز رہا۔ منزہ سلیم کا شمار بھی ایسے ہی ادیبوں میں ہوتاہے جن کی صلاحیتیں صرف اور صرف کسی بامقصد تخلیق کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ہیں ، شہرت ان کے مطمح نظر کبھی نہیں رہی ہے چونکہ کسی زبان کی عزت و توقیر اس زبان میں لکھی گئی کتابوں سے ہوتی ہے۔منزہ سلیم کے افسانوں پر مشتمل ''نہیں۔۔۔یں۔۔۔یں'' کا شمار بھی ان کتابوں میں کیا جاسکتا ہے جنہوں نے زبان و قلم کی حرمت کو مقدم رکھااور معاشرے کے ایسے پہلوؤں اور کرداروں پر طبع آزمائی کی ہے جو آج کے ماڈرن معاشرے میں جنم لے رہے ہیں۔ منزہ سلیم کا افسانوی مجموعہ اردو ادب کا شاہکار ہے اور اتنا دلچسپ ہے کہ جو کوئی اسے پڑھنا شروع کرے ، اسے ختم کئے بغیر دم چین نہیں لے سکتا۔ ان کے موضوعات معاشرے کے روزمرہ معاملات اور رشتوں کا احاطہ کرتے ہیں ۔ واقعات کی عمومیت ان کے بے ساختگی کی آئینہ دار ہے۔ ان کے افسانوں میں جدائی کا غم ، موت کی بے رحمی اور زندگی کی دیگر حقیقتوں کا بے لاگ تبصرہ نظر آتاہے۔ زبان وبیان اور اسلوب کی خوبیاں جن میں سادگی کا پہلو نمایاں ہے، قاری کو بے حد متاثر کرتی ہیں۔ واقعات کو اس طرح قلمبند کیاگیاہے کہ روزمرہ زندگی کا جیتا جاگتا عکس بن کر مجسم شکل میں پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ فرمائش ، تھرسٹی کرو، میری ڈولی شوہ دریا، ٹرنک ، زیرومیٹر اور ''نہیں ۔۔۔ یں۔۔۔یں'' میں نہایت سلیس زبان اور روز مرہ کی گفتگو جیسی ہے۔ اردو اور پنجابی محاورے سے مزین اور باموقع اشعار کے استعمال نے اسے مزید خوبصورت بنا دیا ہے۔ یاد رہے مصنفہ منزلہ سلیم کو ناول''ادھوری عورت'' پر ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور تعلیمی بورڈ سے اول انعام کی حق دار ٹھہری۔ افسانوں کا یہ مجموعہ ۲۵۰صفحات پر مشتمل ہے جس کی قیمت ۱۴۰روپے ہے۔ مثال پبلشرز، فیصل آباد نے اسے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔
مبصر: اظہر حسین
رسائل پر تبصرہ
کتابی سلسلہ 'حرف' ، شمارہ نمبر ۴
مدیر : سید نوید حیدر ہاشمی
ž کوئٹہ سے شائع ہونے والے علمی و ادبی عالمی کتابی سلسلہ'حرف' کا شمارہ نمبر ۴ منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ بلوچستان میں ملکی ریاستی اداروں اور قبائلی سوچ کے درمیان کشمکش کی حالیہ فضا میں بھی وہاں علم وادب کی ترویج کے لیے کچھ ادارے یا شخصیات نہایت متحرک ہیں۔ ان میں سے ہی ایک قابلِ قدر نام جناب شاہ محمد مری کا ہے جو ماہتاک'سنگت' باقاعدگی سے نکال رہے ہیں اور یہ بلوچی زبان کے ادب کے ساتھ ساتھ اُردو زبان میں بھی بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند دانشوروں اور ادیبوں کی تحاریر پر مشتمل گلدستہ ہوتا ہے۔اسی طرح نوجوان مدیر سید نوید حیدر ہاشمی کی ادارت میں حکومتی سرپرستی میں شائع ہونے والا کتابی سلسلہ 'حرف ' ہے جو اُس خطے میں علم و ادب کی شمع روشن ہونے کی نوید سناتا ہے۔
'حرف' شمارہ نمبر ۴ میں حرفِ دانش کے عنوان سے مختلف تنقیدی مضامین کا ایک حصہ ہے جس میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی، جناب ظفر اقبال اور ڈاکٹر رشید امجدایسے نامور لکھاریوں کی تحاریر شامل ہیں، حرفِ خیال کے عنوان سے افسانوں کے حصے میں سمیع آہوجا، عذرا اصغر، خالد فتح محمداور سیما غزل کے علاوہ مختلف علاقوں کے دیگر افسانہ نگاروں کی کہانیاں شامل ہیں۔ حرفِ نا آشنا کے عنوان سے تراجم کے حصے میں بلوچی، سندھی، براہوی، پشتو، پنجابی کے ساتھ ساتھ فارسی، انگریزی اور فرانسیسی زبان کے ادب سے انتخاب کے تراجم شامل کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ دیگر نثری تحاریر جن میں انشائیے،طنزو مزاح، کالمز اوررپورتاژ شامل ہیں ، بھی حرف کے اس شمارے کا حصہ ہیں۔نثر کے ساتھ ساتھ شاعری کوبھی خاطرخواہ جگہ دی گئی ہے اور ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نئے اور پرانے شعراء کی غزلیات اور نظموں کو شاملِ حرف کیا گیا ہے۔
کوئٹہ رائیٹرز فورم جس کے زیرِ اہتمام کتابی سلسلہ 'حرف' شائع ہو رہا ہے ،قومی اور بین الاقوامی سطح کی کئی علمی و ادبی کانفرنسوں کا انعقاد بھی کرچکا ہے اور اُمید کی جا سکتی ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔
مبصر: محمد خاور نوازش
نزول سہ ماہی ادبی مجلہ ـ: نزول
d پاکستان میں یو ں تو سینکڑوں کی تعداد میں رسائل وجرائد شائع ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جو اعلی ٰ معیار پر پورا اترتے ہیں۔ ان میں سے بھی زیادہ تر سیاست کے گرد گھومتے ہیں ۔ اردو ادب کے حوالے سے تو یہ تعداد مزید کم ہو جاتی ہے ۔ آج کے جدید دور میں جہاں انٹرنیٹ اور موبائل فون نے کتاب پر فوقیت حاصل کررکھی ہے، اور ان حالات میں جب قارئین کی تعدا دانتہائی مختصر ہو ، خالصتاََ علمی وادبی پرچے کو منظر عام پرلانے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ ان حالات میں ''نزول'' جیسے ادبی پرچے کا بڑے اہتمام سے شائع ہونا اس تاریکی میں روشنی کی ایک کرن
ہے جو ادیبوں اور ادبی ذوق رکھنے والے احباب کو ادبی آکسیجن فراہم کرنے میں نمایا ں کردار ادا کررہا ہے ۔
گوجرہ سے شائع ہونے والے اس معیاری ادبی وعلمی پرچے کی ادارت کے فرائض جناب سید اذلان شاہ بڑی خوبی ومہارت سے انجام دے رہے ہیں ۔ جن ادباء اور شعرا کرام نے ''نزول'' میں اپنا ادبی حصہ ڈالا ہے وہ بھی ادب کے حوالے سے انتہائی معتبر نام ہیں ۔
''نزول'' کا موجودہ شمارہ ''سلطان جمیل نسیم '' نمبر ہے اور اس شمارے میں ان کے فن پر لکھے ہوئے ان کے معاصر اور سنیئر ز کے مقالوں کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ افسانے بھی شامل اشاعت ہیں ۔ سلطان جمیل نسیم کے افسانوں کا ایک زمانہ معترف ہے ۔ ان کے قلم کی سچائی اور بے باکی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ حقیقت پسندی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ اس کے علاوہ نزول کے اس شمارے میں گو شۂ تخلیق میں ڈاکٹر انور سدید، علی حیدر ملک ،رئیس فاطمہ ' اور حجاب عباسی نے اپنے مخصوص انداز میں مختلف ادبی موضوعات پر بحث کی ہے، افسانوں ، غزلوں اور نظموں کا یہ مرقع اردو ادب کے طالب علموں، تنقید نگاروں اور قارئین کے لیے کسی قیمتی اثاثے سے کم نہیں۔
نزول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے ہر نئے لکھنے والوں کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ شاعر،صحافی ،نثر نگار اور تنقیدی اور تخلیقی بصارت رکھنے والے ادیبوں اور دانشوروں کے اظہار کا ذریعہ ہے ۔اور واقعی یہ پرچہ فن کی جمالیاتی قدروقیمت اور وجدانی دلائل کا حاصل معلوم ہوتا ہے۔ نزول کی اشاعت پر پوری ٹیم داد وتحسین کے لائق ہے ۔
مبصر: اظہرحسین