سمیرا امین
مثبت روی

انسان کی زندگی کامیابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہے ۔سب سے بڑی کامیابی انسان تب حاصل کرتا ہے جب وہ پنگھوڑے سے نکل کر خود اپنے پاؤں پر چلنے اور قدم بڑھانے لگتا ہے اور یہ ہی پہلا اٹھتا ہوا قدم، پہلی کامیابی بچے کو اعتماد فراہم کرتی ہے ،آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کا حوصلہ دیتی ہے یہ بات اس ننھے بچے کے لاشعور میں اس کے ذہن کی پرتوں پر نقش ہو جاتی ہے اور گزرتے ماہ و سال کے ریلے کے ساتھ یہ چھوٹی سی کامیابی بڑی فتوحات کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
اصل وجہ انسان کے افکار و خیالات ہیں جو اس کو اِس کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے کا موجب بنتے ہیں۔ مثبت خیالات، مثبت سوچ کی جانب راہنمائی کرتے جبکہ منفی خیالات بگاڑ اور شکست و ریخت کا باعث ہوتے ہیں۔ ایک مثبت سوچ کا حامل انسان معاشرے کی عمارت میں موجود ایک ایسا ستون ہے جو اس عمارت کو سہارا دے کر کھڑا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ منفی سوچ کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہر معاشرہ مختلف قسم کے لوگوں سے مل کر بنتا ہے۔ فرد معاشرے کی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور بہت سی اکائیاں مل کر ایک مکمل جزو بناتی ہیں اب یہ ان اکائیوں پر ہے کہ وہ اس جزو کو کیا شکل دیتے ہیں۔
آج تک بہت سے شاہکار تخلیق کے عمل سے گزر کر منظرِ عام پرآئے ہیں اور جو اپنے خالق کیلئے بقائے دوام کا موجب بنے ہیں وہ تمام مثبت روی کا ہی نتیجہ ہیں۔ مثبت سوچ کامیابی کی جانب لے جانے والی وہ سڑک ہے جس پر چلنے والا اپنی منزل کو پالیتا ہے۔
کہتے ہیں انسان کی تقدیر اس کے اعمال اور افعال کے تابع ہوتی ہے تو اعمال اور افعال کے سرزد ہونے کی توجیع کیا ہے؟ یا کون سے اعمال کس چیز کے پیرو کار ہیں؟ کون سی چیز اِن کو اپنی مرضی سے وقوع پذیر کرواتی ہے؟ ہماری تمام حرکات ہماری سوچ کے زیر اثر ہوتی ہیں۔ گویا ہماری سوچ ہے جو ہم سے عوامل سرزد کرواتی ہے۔ اب اس عمل کے اچھے یا برے ہونے کا تمام تر دارومدار انسان کی سوچ کے بل بوتے پر ہے۔ اچھے سے زیادہ سوچ کا مثبت ہونا ضروری ہے، مثبت سوچ درحقیقت اچھی سوچ ہے ۔ایک مثبت سوچ کا حامل انسان یقیناً مثبت خیالات اور تخلیقات کو ہی منظرِ عام پر لائے گا۔
لیکن مثبت سوچ کو اپنایا کیسے جائے؟ انسان ہمیشہ جیتنا ہی چاہتا ہے اسے تمام تر خواہشات دسترس میں چاہئیں اور اگر کبھی حاصل کی جدوجہد لاحاصل میں بدل جائے تو غصّے کی شدید لہر پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور غم و غصے کی اس لہر پر اگر صبر کاپانی نہ ڈالا جائے تو منفی سوچ کیلئے رستہ بنا لینا مشکل نہیں رہتا۔۔۔ جیت اور کامیابی کا جشن تو بہت بار منایا جاتا ہے لیکن ہار کا خیر مقدم کرنا مشکل مرحلہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم نے ہارنا سیکھا ہی نہیں۔جیت سے ملنے والی خوشی کا حقیقی اندازہ تب تک نہیں لگایا جا سکتا جب تک لاحاصل کی کڑواہٹ کو مٹھاس میں بدلتے دیر نہیں لگتی کیونکہ ناکامی کو تسلیم کر لینے کے بعد نئے سرے سے جب جدوجہد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس بار سعی ٔ پیہم اور مثبت سوچ کی وجہ سے جیت کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ انسان کے لیے قابلِ قدر اقدام یہ ہے کہ جب وہ خود کا ،اپنی ذات کا محاسبہ کرنے لگے تو کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کو بھی یاد رکھے اور اپنی گزشتہ لغزشوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت میں بد ل دے۔
خیالات کا زاویہ سوچ اور عمل کی شکل کو بدل کر رکھ دیتا ہے ۔برستی بارش کے قطرے سیپ اور سانپ کے منہ دونوں پر گرتے ہیں لیکن سیپ اس قطرے کو موتی اور سانپ زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی معاملہ مثبت اور منفی سوچ کا ہے۔ خیالات توانائی کی نرم ترین قسم ہیں۔ بالکل گرم لوہے کی طرح جس کو اپنی مرضی کے رخ پر موڑا جا سکتا ہے، اسی طرح خیالات کو بھی جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں، ڈھل جاتے ہیں۔ اب یہ انسان کی اپنی مرضی و منشا پر منحصر ہے کہ وہ منفی روش کے دھارے میں بہہ جائے یا پھر مثبت روی اور ثابت قدمی کا دامن تھا م لے۔
کائنات کی تخلیق ہی اس لیے ہوئی ہے کہ اس کو تسخیر کیا جائے ۔پہلے پہل ناممکن نظر آنے والے مسخرات کو انسان کے غور و فکر، ارادے کی پختگی اور عمل نے ناممکنات کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ انسان کا خواہش کا ارادہ کرنے اور اس ارادے کوحاصل کرنے کے درمیان صرف ہمت کرنے کا فاصلہ ہے۔
ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
ہے کون سا عقدہ جو وا ہو نہیں سکتا
ورنہ اس کائنات میں ناممکن کچھ بھی نہیں۔ اصلی اور حقیقی نااہلی تو انسان کے ذہن میں پوشیدہ منفی سوچوں کی اختراع ہے جو ذرا سی مشکل پر ناممکن کا شود مچا دیتی ہے لیکن جو انسان مشکلات کا مردانہ وار سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کر لیتا ہے اس کے لیے تسخیر کے در وا ہو جاتے ہیں۔ ارادوں کی پختگی جہان کو مسخر کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ نپولیئن کہتا ہے ''You can make your own miracles'' تو بالکل درست کہتا ہے مگر ان معجزات کو عملی طور پر وقوع پذیر کروانے کے لیے سنگلاخ ارادوں کی ضرورت ہے اور ارادے کی پختگی سوچ کی پختگی سے آتی ہے جو سوچ بچار اور غور وفکر کی متقاضی ہے۔ یونہی بیٹھے بٹھائے نہیں مل سکتی کیونکہ انسان کیلئے وہی کچھ ہوتا ہے جس کیلئے وہ کوشش کرتا ہے۔ ہر انسان کے اندر ایک فاتح آنکھیں موندھے چھپا بیٹھا ہے ضرورت صرف اس کو تلاش کرنے اور جگانے کی ہے۔ اینتھونی روبر بھی یہ ہی کہتے نظرآتے ہیں:
''Awakened the giant within''
تغیراس کائنات کا خاصہ ہے اور انسان اس کائنات کا اہم ترین جزو اور تغیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انسان کی سوچ، خیالات ہر پل ایک نئے انداز سے سامنے آتے ہیں۔ ہر لمحہ اس کے لیے آشنائی کے نئے دروا کرتا نئی حقیقتوں اور سچائیوں سے روشناس کرواتاہوا گزر جاتا ہے مگر ہر گزر جانے والا لمحہ ایک تاریخ رقم کرتا ہوا ماضی کا ناقابلِ فراموش پَنّا اور مستقبل کیلئے مؤثر لائحہ عمل تشکیل کرنے والا رائٹر ثابت ہوتا ہے مگر ان تحریروں کو وہ ہی پڑھ سکتے ، سمجھ سکتے اور محسوس کر سکتے ہیں جو کُھلی آنکھوں سے وقت کی کرشمہ سازیوں کو ملاحظہ کرتے ہیں، جن کے کان بہتی ہواؤں کی سرگوشیوں کو سُنتے ہیں اور جووقت کی قدروقیمت سے آگاہی رکھتے ہیں۔ وقت کو قابو میں نہیں کیا جا سکتا یہ گلیشئر نہیں جو جم جاتا ہے۔ تھم جاتا ہے بلکہ یہ اس جھیل کی مانند ہے جو بظاہر پرسکون بہتی چلی جاتی ہے مگر درحقیقت اس کی روانی اور طغیانی زبانِ بے زبانی سے بیان کرتی ہے کہ وقت بھی دبے قدموں غیر محسوس انداز سے بہتا چلا جا رہا ہے۔ اسے روکا تو نہیں جا سکتا مگر ہم رکابی کا شرف تو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
''بات جو نکلی تو پھر دور تلک جائے گی'' کے مصداق کہنے کو اور بہت کچھ ہے مگر طوالت ہمیں قلم روکنے کا مژدہ سناتی ہے ۔بہرحال ہم اپنی بات کا اختتام گوتم بدھ کے ان زرّیں خیالات سے کرتے ہیں کہ
''We are what we think, with our thoughts we make our world.''
تو سوچیے، ضرور سوچیے کیونکہ سوچنا بھی زندگی کی علامت ہے لیکن ہر ممکن کوشش کریں کہ ہماری سوچ اور خیالات Positivity کی جانب محوِ پرواز ہوں کیونکہ مثبت روی دلوں کے اطمینان کا باعث ہے۔