عارفہ شمسہ
ریڈیوکہانی
کچھ یادیں کچھ باتیں

اﷲ بٹ صاحب آدمی نہیں جن تھے جن۔ ہر صفحے کی ٹائمنگ کرتے اور اگر کوئی غلطی کر جاتاتو یوں گھورتے جیسے منہ نوچ لیں گے۔ شمس الدین بٹ میرے استاد۔ میرے دوست جن سے میں بہت متاثر تھی۔ ڈارمے کی جو سوجھ بوجھ وہ رکھتے تھے میں نے کسی میں نہیں دیکھی۔وہ سٹوڈیو نمبر ۹ (ریڈیو پاکستان کی تاریخ کا ایک حصہ) کے بانی تھے۔ جب وہ پروڈیوسر تھے تو انھوں نے بے شمار فنکاروں کو روشناس کرایا جن کے نام نامی پاکستان کی پہچان ہیں۔
بٹ صاحب میں بہ یک وقت کئی چیزیں گُندھی ہوئی تھیں۔ ان کے خمیر میں عجب عجب رنگ تھے۔ اصلی مسلمان، خالص پاکستانی، سخت وقت کے پابند، مطالعہ کے انتہائی شوقین ، روزانہ صفحوں کے صفحے پڑھنا ان کی عادت تھی۔ ایسا آدمی جس سے ملے اس کی ذات پہ اپنا رنگ چھوڑے جاتا ہے۔ کاموں میں بے حد اصولی، نظم و ضبط کی پابندی ان کا شعار۔ دوستوں کے دوست لیکن مجال ہے کہ کاموں کے درمیان دوستی حائل ہو۔ کاموں سے فراغت میں دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا، ریڈیو اسٹیشن سے نکل کر پرنس روڈ سے کباب کھانا وغیرہ وغیرہ۔ ان کا تکیہ کلام تھا۔ مولانا …… بڑے مزے سے ہر بات پہ کہتے۔ مولانا آؤ ذرا کچھ کھانے پینے کی تیاری کریں۔ ڈراموں کی ریہرسل کے دوران کوئی دیر سے آئے تو اس پر چائے کا جرمانہ۔ اس زمانہ میں جبکہ ڈراموں کے پیسے بہت کم ہوتے تھے۔ کاسٹ کافی بڑی ہوتی تھی۔ ڈرامے لائیو ہوتے تھے جس کو چلانا آسان نہ تھا۔ بٹ صاحب کے جرمانے کے ڈر سے سب جلدی جلدی پہنچتے۔ ریہرسل کے درمیان مجال ہے جو سنجیدگی برقرار نہ رہے۔ بعد میں ہلا گُلا بھی ہوتا۔ اگلے ڈرامے کی شان ہی نرالی تھی۔ اتنی سخت کہ جیسے کوئی سنگتراش پتھر کی چٹان کو تراش کر کسی حسین مجسمے کی تخلیق کرتا ہے۔ وہ پہلے شخص تھے جنھیں ریڈیو کی ٹریننگ کے لیے امریکہ بھیجا گیا۔ واپس آنے کے بعد ان پر ایک ایسی ذمہ داری ڈالی گئی جو پہلی چیلنجنگ (Challenging)تھی۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ کمرشل سروس کا آغاز ہونا تھا۔ اس کے پہلے ڈائریکٹر شمس الدین بٹ تھے۔ تقریبا ہفتہ بھر دن اور رات اس کی تیاریوں میں آرٹسٹ بھی مصروف رہے۔ انتظامی ذمہ داریاں بٹ صاحب دن بھر کرتے اور رات کو ہم سب ریکارڈنگ کرنے جنگلز(Jingles)اور اسپالس(Spols)یعنی کمرشل اور شہر میں جو آرٹسٹ ہوتے ان کی ریکارڈنگ رات میں ہوتی۔ حمیرا نسیم، فاطمہ خانم، صفیہ معینی، عرش منیر، میں اور بہت سے دوسروں کے علاوہ قاضی واجد، مقبول علی، صفدر علی رحمت (گلو) لالہ نصیر، قدسیہ ، عاقل ہاشمی، نجمہ، نسرین شگفتہ، نرگس خاں، عاصم، شیریں گل اور بہت سے معروف نام جو مجھے اس وقت یاد نہیں آ رہے۔ بٹ صاحب نے کمرشل سروس میں کچھ لوگوں کو سروس بھی دے دی تھی جیسے مسرور انور، طاہر علی۔ یہ لوگ بولنے اور لکھنے پر معمور ہو گئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ حبیب بینک کا پہلا اشتہا'' میرابینک 'میری آواز میں تھا۔ جس پر مجھے کئی ایوارڈ بھی ملے۔ عاقل ہاشمی کہتے تھے۔' حبیب بینک'۔ میں کہتی تھی 'میرا بینک' اور اختر عاصم کے بیٹے عامر کہتا تھا''میرا بھی تو ہے''۔ یہ اس قدر مشہور ہوا کہ ہم لوگو ں کو جگہ جگہ بلوایا جاتا۔ اسی طرح ایک اشتہار تھا ''گیروٹ کی ہے نا'' یہ ایک فلم ریل تھی۔ چھوٹی آپا نے کئی Jingles کی دھنیں بنائیں جو سرور لکھتے تھے۔ رشیدہ بیگم، احمد رشدی، مہدی حسن، روبینہ بدر، نسرین گیلانی کی آواز وں میں وہ ریکارڈ ہوتے۔ ایک پروگرام ڈالدہ کی باجی کے نام سے شروع ہوا۔ اس کا جملہ بہت مشہور ہوا۔ ''بڑی بہو کا نام'' اور'' صابن ہو تو ایک سو ایک'' وغیرہ۔ اس زمانہ کے پہلے اور مشہور اشتہارات تھے جنھوں نے پراڈکٹ کی دھوم مچا دی تھی۔
بٹ صاحب نے بھی امریکہ سے آ کر بچوں کے پروگرام میں چستان پروگرام شروع کیا تھا جو 20-questionsسے ماخوذ تھا۔ اسی طرح مرحومہ خواجہ بیگم سے ایک پروگرام شروع کرایا تھا۔ کوئی مشہور شخصیت کسی بھی جگہ چلی جائے، جہاں اسے جاننے والا کوئی نہ ہو تو وہ اپنا تعارف کس طرح کراتے اور پھر کون کون سے نغمے سنواتے۔ اس پروگرام کا نام مجھے یاد نہیں لیکن یہ اتنا مشہور ہوا کہ بیرون ملک سے بہت سے لوگوں کے خطوط کا انبار لگ گیا تھا۔
بٹ صاحب ہمہ گیر شخصیت تھے۔ دعوتوں کے شوقین۔ کبھی کسی کے ہاں تو کبھی اپنے ہاں۔ والدہ اور بھائی بہنوں کی ذمہ داریوں کی وجہ سے شادی بھی کافی عمر میں کی۔ نزھت بھابی بہت ہی پیاری سی بھابی ہیں۔ ان کے ماشاء اﷲ چار بیٹے ہیں۔ کسی بیٹے کی شادی نہ دیکھی۔ بڑے بیٹے ضیاء الدین کی شادی دو سال قبل نزھت بھابی نے کی اور اسی وضع داری سے سب کو بلوایا۔ میرے شوہر امداد علی کے انتقال پر بھی آئیں۔ فون کر کے خیریت بھی پوچھتی رہتی ہیں۔ کیا یہ سب خصوصیات بٹ صاحب کو ہم میں اب تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
٭٭٭٭
صدرِپاکستان کی طرف سے ادیبوں اور شاعروں کے لیے سِول اعزازات کا اعلان
( پاکستان کے پینسٹھویں یوم آزادی کے موقع پر۱۴ اگست ۲۰۱۲ ء کو صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ۱۹۲ ملکی و غیر ملکی شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا۔ شعبۂ ادب میں جن شخصیات کو ایوراڈ کا حق دار قرار دیا گیا وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ سعادت حسن منٹو (بعد از مرگ) نشانِ امتیاز
۲۔ شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی
(بعد از مرگ) ہلالِ امتیاز
۳۔ انور مقصود ہلالِ امتیاز
۴۔ فاطمہ ثریا بجیا ہلالِ امتیاز
۵۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ (بھارت) ستارہ امتیاز
۶۔ ڈاکٹر پش پا الیاس/ پش پا ولبھ تمغۂ امتیاز
۷۔ محمد خان مجیدی تمغۂ امتیاز
۸۔ جاوید امیر عثمانی الیاس احمد جاوید تمغۂ امتیاز
۹۔ ڈاکٹر زینت ثنا تمغۂ امتیاز
۱۰۔ کامیلا شمسی تمغۂ امتیاز
۱۱۔ ڈاکٹر سلطانہ بخش تمغۂ امتیاز
۱۲۔ احمد عقیل روبی تمغۂ امتیاز
۱۳۔ سید نسیم تقی جعفری تمغۂ امتیاز
۱۴۔ ڈاکٹر عرفان احمد بیگ تمغۂ امتیاز
٭٭٭٭