معروضات
آزادی

پاکستان کے ۶۵ویں جشن آزادی کے موقع پر بہت سی شخصیات کو نمایاں خدمات کے سلسلے میں سول اعزازات سے نوازا گیا۔ اِن میں ممتاز ادیب اور شاعر بھی شامل ہیں۔ مقتدرہ قومی زبان اِن سب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہے۔ یہ رائٹرز دنیائے ادب کے درخشاں ستارے ہیں، اس لیے خصوصی خدمات کے سلسلے میں انہیں سول اعزازات سے نوازا جانا حکومت پاکستان کا ایک قابل ستائش امر ہے۔ مذکورہ نامور قلم کاروں کی فہرست میں اعزاز حاصل کرنے والے دو نام ایسے ہیں جن کا سن کر حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ اِن میں سے ایک جوش ملیح آبادی ہیں جو شاعر انقلاب کہلاتے ہیں۔ انہوں نے کسی بھی حالات میں منافقت اور مراعات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اُن کے لیے حکومتی انعامات کے دروازے نہ کھل سکے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے بہت سے ادیبوں اور شاعروں کے نام پر اسلام آباد میں سڑکوں کے نام رکھے گئے لیکن شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے نام پر ابھی تک اسلام آباد کی کوئی سڑک نہیں ہے۔ اِس سے جوش ملیح آبادی کو تو شاید کوئی فرق نہ پڑے لیکن رائٹرز کے نظریات کے ساتھ ہماری تنگ نظری والی لابنگ کے نظریے کا ضرور پتہ چلتا ہے۔ اعزازات حاصل کرنے والوں میں چونکا دینے والا دوسرا نام سعادت حسن منٹو کا ہے۔ ذرا سوچئے! سعادت حسن منٹو کو حکومت پاکستان کی طرف سے سول اعزازکے لیے منتخب کیے جانے پر آپ کو کتنی حیرانگی ہوئی ہوگی؟ وہی سعادت حسن منٹو جن کی تحریروں پر پاکستان میں۵۰برس تک پابندی لگی رہی۔ ایک ایسا ادیب جسے پابندی کے دوران بھی لوگ چوری چوری کُھل کر پڑھتے رہے لیکن ہمارے ہاں اس فلسفے پر عمل کیا جاتا ہے کہ چور کو پکڑنے کی بجائے چوری کی نشاندہی کرنے والے کو پکڑا جائے ’’کہ تمہیں یہ بات کیوں پتہ چلی‘‘؟۔ یہ وہی سعادت حسن منٹو ہیں جن پر فحاشی کی نشاندہی کرنے کی فردجرم عائد کرکے حکومت وقت نے کئی مرتبہ مقدمہ چلایا لیکن وہی حکومت معاشرے سے فحاشی ختم نہ کرسکی۔ آخر کار منٹو حکومتِ پاکستان کی طرف سے اعلیٰ سول اعزاز کے حقدار ٹھہرے۔ بیشک یہ بات خوشی کی ہے مگر سعادت حسن منٹو کو سول اعزاز ملنے سے ایک منطقی اعتراف کا پتہ بھی ملتاہے کہ ادب اگر حقیقی ہو اور اُس کی جڑیں معاشرے میں ہوں تو کوئی لکڑ ہارا اُس درخت کو کاٹ کر پھینک نہیں سکتا۔ حقیقی ادب کا درخت اپنی جڑیں پکڑتا رہتا ہے، اپنے بچے پیدا کرتا رہتا ہے جس کا اعتراف کبھی نہ کبھی ضرور ہوتا ہے اور یہی۱۴اگست ۲۰۱۲ء کو ہوا لیکن ایک پچھتاوا رہ گیا کہ ۵۰برس کے دوران پاکستان کے بہت سے طالب علم سعادت حسن منٹو کو بطور ادیب نہ پڑھ سکے جس کی کچھ ذمہ داری ہماری درسگاہوں کے کچھ اساتذہ پر بھی آتی ہے۔وہ اساتذہ نہ جانے اب کہاں ہیں لیکن منٹو یہاں ہی ہیں۔ چلیے دیر آید درست آید۔ جوش ملیح آبادی ہوں یا سعادت حسن منٹو، اِن کی ادبی خدمات کا اعتراف جمہوری دور میں جمہوری حکومت کی طرف سے ہوا۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فرد کی اصل آزادی جمہوریت میں ہی ہے۔ شکریہ

سید سردار احمد پیرزادہ