ڈاکٹر محمد علی صدیقی
مابعد جدیدیت، ادب اور سرمایہ دارانہ نظام


ویسے تو امریکہ اشیائے صارفین کے کوڑے کے ساتھ اپنی جامعات کی راہداریوں سے نت نئے مباحث کا کوڑا (waste) بھی پھینکتا رہتا ہے۔ ہمارے یہاں مباحث کا کوڑا یا باقیات بھی کچھ دیر سے ہی سہی لیکن درآمد ہوتی رہتی ہیں۔ مابعد جدیدیت کے مباحث بھی اس قسم کی ایک لایعنی بحث ہیں جسے ہمارے بعض درآمد شدہ خیالات سے مرعوب کرنے والے دانشوروں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ مابعد جدیدیت کا لب لباب یہ ہے کہ یہ بنیادی مرکز (Foundationalism) ، حقیقت پسندی (Realism) اور انسان دوستی (Humanism)کے خلاف ایک منظم تحریک ہے جس کا مقصدLogocenric اظہار پر مبنی مباحث کی بیخ کنی (undemining)ہے۔ یہ تحریک سماجی اور فکری علوم کے ارتقأ کے ساتھ انسانی تاریخ کے ارتقائی سفر سے یکسر انکار کرتی ہے۔ یہ تحریک اپنے بیان کردہ معانیاتی نظام کے علاوہ کسی اور معانیاتی اور تہذیبی نظام کو حشووزائد کی فہرست میں رکھتی ہے۔ سامراج، نو آبادیاتی ذہن اور کشتگانِ خاک کے بارے میں وہ تصورات پیش کرتا ہے جو مروجہ تاویلات کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ مذہب کو افسانہ اور سائنسی علوم کوجادو قرار دینے والوں سے اور کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔
آخر یہ حقیقت کیونکر حرفِ غلط کا روپ دھار سکتی ہے کہ مشرق ناگزیر طو رپر سامراج کو سامراج اور نو آبادیاتی ذہن کو نو آبادیاتی ذہن اور کشتگانِ خاک سمجھتا ہے اور مغرب کے ’مابعد جدیدیے‘ لاکھ زور ماریں وہ مشرق تو مشرق مغرب کے پادریوں (Evangelists) اور دیگر متشدد مذہبی گروہوں سے مابعد الطبیعیات (metapyysics)چھین سکتے ہیں نہ سماجی تغیر کے ارتقأپذیر پر قانون کو حصہ پارینہ قرار دے سکتے ہیں۔ مابعد جدیدیت کے بعض مارکسی مفکرین بھی حقیقت پسندی اور انسان دوستی اور علم انسانی کے بنیادی مصور اور منہاج کے منکر ہیں تو پھر مابعد جدیدیت سے متاثر دریدا اور فوکوتک اسی وقت مارکسی کہلائے جا سکتے ہیں جب وہ جدید معنوں میں مارکسزم کی تھیوری کے متوازی المحور (paraxis) کو تسلیم کرتے ہوں ورنہ مارکسزم کو قصہ پارینہ ماننے والوں کو غیر مارکسی‘ کہنے میں کیا عار ہے۔
مابعد جدیدیت اپنے اطلاقات میں کیا ہے؟ اس ضمن میں مابعد جدیدیت کے ایک شارح کے اس فلسفے کے بارے میں درج ذیل تصورات یا دعاوی پیش کرتا ہوں :
۱۔ جو تجربہ مقامی ہے، اپنے ہی تناظر میں قابلِ فہم اور قابلِ عمل ہے۔
۲۔ کوئی نظریہ، تصور، علم تحقیقی طو رپر غیر جانب دار اور بے قدر (value-free)نہیں ہے۔
۳۔ تاریخ کا سفر لازماً آگے کی سمت نہیں ہوتا، تاریخ میں عدم تسلسل ہوتا ہے۔
۴۔ دنیا میں نقطہ ہائے نظر(ورلڈ ویوز) تصورات اور نظریات کی کثرت ہے۔
۵۔ آفاقیت کا دعویٰ اپنی اجارہ داری یا قائم کرنے کی غرض نہیں ہے۔
۶۔ مطلق اتھارٹی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ طاقت کا کوئی مرکز نہیں ہے بلکہ طاقت مختلف اور متعدد مراکز میں بٹی ہوئی اور منتشر ہے۔
۷۔ کسی نظریے ، نظام، اقدار ، تصور یا ورلڈ ویو کو مرکزیت حاصل نہیں ہے۔
۸۔ کوئی شے آزاد، خود مختار نہیں ہے۔ وہ دوسرے پر منحصر اور دوسروں سے جڑی ہوئی ہے۔
۹۔ حاشیے پر موجود علوم، طبقات، اصناف، ثقافتیں اتنی ہی اہم ہیں جتنی مرکز میں موجود اہم ہیں۔
۱۰۔ دنیا اور متن کی تعبیر کے کئی طریقے اور ان کی تعبیریں ممکن ہیں اور کوئی تعبیر حتمی اور آخری نہیں ہے، اس کے بعد مذہب افسانہ اور سماجی و سائنسی علوم جادو بن جاتے ہیں۔ کسی تعبیر کی قیمت پر اصرار دراصل اس تعبیر کی اجارہ داری قائم کرنا ہے۔
۱۱۔ آخری تجربے میں ہر علمی تصور، قدر سماجی تشکیل ہے چونکہ سماجی تشکیل ہے اس لیے آئیڈیالوجیکل ہے۔ ۱؂
مزید برآں یہ کہ اب ’کوئی وحدانی مہالسان (مہابیانیہ) باقی نہیں جو آج کے انتشار آشنا بوقلموں اور کثیر المزاج سماج کی سمت و اقدار کا احاطہ کر سکے۔ ما بعد جدیدیت ہر طرح کی کلیت پسندی کے خلاف ہے۔‘ اس لیے انسان مرکزیت (Humanist) قصہ پارینہ ہو چکا ہے یعنی ہم مابعد جدیدیت والے اپنے نظریات کو انسان کی آزادی کا نظریہ‘ سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ کے آگے کی طرف مسلسل سفر اور ارتقأ پر یقین رکھنے والوں کے تصورات اور علوم کو طاقِ نسیاں پر رکھ سکیں اور ساتھ میں یہ بھی کہ مابعد جدیدیت کی فکر کے بیشتر کسی بھی علم یا ایقان کے بنیادی مرکز کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ اس علم کے مسلمہ مفروضات سے برآمد ہونے والے دعاوی کو درست تسلیم کرتے ہیں۔
ہر چند کہ ما بعد جدیدیت کے بعض وکلاء کا یہ خیال درست ہے کہ تکثیریت عملی حقیقت ہے اور بنیادی انسانی مسائل کے ساتھ بیرونی (peripheral)معاملات بھی توجہ طلب ہوتے ہیں لیکن مابعد جدیدیت کے بیشتر فلسفی ایک نکتہ، کسی ایک مرکزیا کسی point of referenceیا کسی ایک بیانیے سے وابستہ نہیں ہونا چاہتے۔ یہ کھلا ڈھلا معانیاتی نظام ہے جو grid meaningاور systemکے خلاف ہے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ آخر دنیا متحارب اور متخالف نظریات کی کب آماجگاہ نہیں رہی۔ کیا عینیت پسند خیالات کے ساتھ مادہ پرستوں کی فکر کے دھارے نہیں ہیں۔ کیا جدیدیت اور وجودیت علیحدہ دھارے انسانی فکر کے حصے نہیں رہے۔ مابعد جدیدیت بھی ایک نقطۂ نظر ہے خواہ پس ساختیات کے ضمنی پہلو کے طور پر سامنے آئے یا جدیدیت کی نفی یا توسیع کے طور پر۔ سوال یہ نہیں ہے کہ مابعد جدیدیت تقاضوں کو درخور اعتناہی سمجھا جائے لیکن یہ مابعد جدیدی تقاضے خالصتاً مابعد صنعتی (post-Industrial) دور کا مسئلہ ہیں جس کے تجارتی اور صنعتی روبہ عمل طریقے (operations)مشرق کو اپنی جولان گاہ ضرور بنا رہے ہیں۔ صرف جولان گاہیں لیکن یہ ہنوز، مشرق کے وسیع و عریض منظرنامہ (landscape)میں ’جزیروں‘ کی طرح ہیں۔ چونکہ مشرق جدیدیت کے لیے اپنی تمام تر جدوجہد کے باوجود مشرق ہے اور رہے گا۔ مثلاً ایک فیکٹری کا ڈیزائن بھارت میں بن سکتاہے، اس کی تعمیر کے مختلف حصے دنیا کے کسی علاقے میں بھی تیار ہو سکتے ہیں اور وہ چین میں نصب (instal)ہو سکتا ہے۔ یہ نئے سرمایہ دارانہ نظام کا تقاضا ہو سکتا ہے لیکن عوام دوست طریقہ معیشت نہیں ہے۔ اس کے ذریعے محنت کشوں کی سیاسی طاقت کمزور کی جا رہی ہے۔
ظاہر ہے کہ صنعتی یونٹوں کی تنصیب کے اس بکھراؤ (diffusion) سے ٹریڈیونیز اور ان کی سیاسی اہمیت پر اثر پڑ رہاہے۔ مغرب کی بعض صنعتیں تیار مال کی صنعتوں کی جگہ خام مال کی صنعتیں بن رہی ہیں اور وہ مغرب سے ترقی پذیر ممالک کی طرف برآمد کی جا رہی ہیں جس سے مغربی مزدور تحریکوں میں ہلچل بھی نظر آ رہی ہے۔ ورلڈ سوشل فورمز کے Seattle ، جنیوا، بمبئی اور برازیل میں منعقدہ اجلاس میں مغربی مزدور تنظیموں کی طرف سے احتجاج کے سلسلے بتا رہے ہیں کہ دنیا مابعد جدیدیت کے معاشی ایجنڈے کے تقاضوں کے سب صنعتوں کی نقل مکانی (relocations)کی طرف جا رہی ہے جس سے ترقی پسندانہ روشن خیالی (enlightened)نقطۂ نظر کی مقامی تحریکیں کمزور پڑ رہی ہیں اور شاید اسی سبب سے مابعد جدیدیت نے انسانی سماج کی تبدیلی کے نظریے کی جگہ ثقافتی تبدیلی کو زیادہ بنیادی تبدیلی کا درجہ دے دیا ہے تاکہ برانڈز کی جنگ (Brands War) کا دائرہ عالمی (globalize)ہو سکے اور معاشی قوت کا ارتکاز تیسری دنیا کے ممالک کی بجائے چند درجن برانڈز (Brands)میں منتقل ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں تیسری دنیا کے ممالک کی اہمیت’منڈیوں‘ کے علاوہ کیا ہو سکے گی۔
مجھے تعجب ہے کہ مابعد جدیدیت کی فکری موشگافیوں میں دلچسپی لینے والے برصغیری دانشور اگر ڈاکٹر وزیر آغا کی طرح مابعد جدیدیت کو مغربی فکر کا ایک انحراف سرمو (aberration)بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو کم از کم ان کے مضمون ’جدیدیت اور مابعد جدیدیت‘ (ناصر عباس نیئر۱۳۱۔۱۲۱)۲؂ کے اس اہم ممکنہ پر توجہ دیں کہ مشرق سے یہ حق کس طرح چھینا جا سکتا ہے کہ ’میں سوچتاہوں اور میں ہوں۔‘ ڈاکٹر وزیر آغا مابعد جدیدیت کو جدیدیت کی ضد کی بجائے ایڈورڈ سعید کی اصطلاح اعلیٰ جدیدیت (high modernism)کا ردِ عمل قراردیتے ہوئے بھی ڈاکٹر صاحب نے اسے تصوف کی اصطلاح میں ’اناالحق‘ سے تشبیہ دی ہے۔ یعنی وہ بہرحال مابعد جدیدیت کی کورانہ تقلید کے مرتکب قرار نہیں ہو پائیں گے لیکن ڈاکٹر وہاب اشرفی نے تو کمال ہی کر دیا کہ انھوں نے اپنی کتاب’مابعد جدیدیت‘ میں اردو شاعری اور فکشن سے مابعد جدیدیت کے حق میں اقتباسات (quotations) بھی پیش کر دیے۔ ہر چند کہ یہ سب سے آسان کام ہے اور وہ جس سماج کو اپنی کتاب کے صفحہ نمبر۱۵۔ تن آسان ’روایت پرست اور ذہنی طور پر کاہل‘ ہو چکے ہیں ۳؂ اس کے بعدیہی کہا جا سکتا ہے کہ شاید مابعد جدیدی نظریے پر منطبق ہونے والی ان کی اردو ادب سے مثالیں کہیں تن آسانی پر مبنی اور محص خانہ پُری کے لیے من پسند مثالیں نہ سمجھی جائیں۔ ان کے اقتباسات سے مقتبس شعراء اور فکشن نگاروں پر مابعد جدیدیت سے کہیں زیادہ اپنے ماحول کی عکاسی کی تہمت لگائی جا سکتی ہے جسے ڈاکٹر وہاب اشرف مصلحتاً ما بعد جدیدیت کے اثرات خیال فرما رہے ہیں۔ جو کام سہل پسند مذہبی اسکالروں نے صحیفہ آسمانی کے ساتھ کیا ہے وہ ڈاکٹر وہاب اشرفی نے ہم عصر اردو ادب کی مثالوں کے ذریعے کیا ہے۔ میں ان کی فراہم کردہ مثالوں کو ترقی پسند اور جدید ادب کی مثالیں بھی قرار دے سکتا ہوں باوجودیہ کہ اردو کے یہ ادیب ایسے معاشروں میں رہ رہے ہیں جن کے ۵۰ فی صد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے کراہ رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان پر روشن ہونا چاہیے کہ برِ صغیری عوام کا وینس پیکارڈ (Vance Packard)کی کتاب The Waste Makersکے امریکیوں جیسا حال نہیں ہے جن کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ اپنی ضرورت سے چار گنا زیادہ ’مال‘ خریدتے ہیں اور اصرافِ بے جا بلکہ غیر اخلاقی اسراف (prodigality) کے شکار ہیں۔ ان حضرات کے بارے میں ٹاکِ ول (Toqueville)نے نیسویں صدی کے شروع میں کہا تھا : ۴؂
(4) America is a land of wonders, in which every thing is in constant motion...and every change seems an improvement.
(Vance Packard, the waste makers, David Mckay Co. Inc. 1969, p.274)
اور مشہور برطانوی مفکر جون اسٹورٹ مل نے کہا تھا : ۵؂
United States was a land where material progress was such a pre-occupation that the life of the whole one sex is devoted to dollar-hunting & the other to breeding dollar-hunters.
۶؂ (The Waste Makers p.274)
یعنی یہ ملک بنی نوع انسان کے دونوں صنفوں (genders) کا ایسا ملک ہے جن میں سے ایک ڈالر کمانے والی جنس ہے اور ایک ڈالر خرچ کرنے والوں کو پیدا کرنے والی جنس ہے۔ امریکہ کو ادبی شوشے یا مضحک ادبی تصورات جنم دینے کی عادت ہے۔ مابعد جدیدیت بھی ایک ایسا ہی شوشہ ہے۔
مجھے حیرت ہے کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی کتاب ’ساختیات، پسِ ساختیات اور مشرقی شعریات‘ میں نکتہ ہائے ہنر دیکھنے والوں میں ڈاکٹر وہاب اشرفی کے خیال کے مطابق درج ذیل ادیب بطورِ خاص ہیں: نظام صدیقی، ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹر وزیر آغا، عتیق اللہ، شافع قدوائی ، فہیم اعظمی اور ناصر عباس نیئر، حامدی کاشمیری، مناظر عاشق ہرگانوی، احمد سہیل، قاضی قیصر الاسلام اور رؤف نیازی لیکن ان میں سے کسی ادیب نے مابعد جدیدیت کے سیاسی مضمرات کو درخور اعتنانہ سمجھا اور وہ اسی سبب سے اس بینڈ ویگن پر سوار ملتے ہیں۔ راقم الحروف کا نام بھی اس تحریک کے بارے میں لکھنے والوں میں لیا گیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ میں وکیل ہونے سے زیادہ اس تحریک کا مخالف ہونے کی وجہ سے صرف نام گنانے کی حد تک نظر آتاہوں۔ میں ساختیاتی تنقید کی مخالفت میں ۱۹۷۵ء میں لکھنے والا پہلا فردہوں ۷؂ اور میں نے مابعد جدیدیت کے نقطہ ہائے نظر کے خلاف سب سے پہلی بار ۲۰۰۱ء میں اپنے انگریوی مقالے میں لکھا تھا۔ ۸؂
ڈاکٹر نارنگ نے اپنی انعام یافتہ کتاب میں جن مصنفین کے افکار کو پیش کیا ہے وہ زیادہ تر من و عن رمان سیلڈون (Ramon Seldon) اور ڈاؤسن (Dowson)کی کتاب A Reader's Guide to Contemporary Literary Theoryسے ترجمہ کیے گئے ہیں۔ مابعد جدیدیت دراصل گلو بلائزیشن کا ادبی اور ثقافتی رخ ہے اور اس کی بابت ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے چالیسویں یوم تاسیس پر شائع شدہ رپورٹ میں وہ سب کچھ کہہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں نوبل انعام یافتہ جوزف اسٹیگلز (Joseph Stiglitz) نے اپنی کتابMaking Globalization Workمیں مابعد جدیدیت اور گلوبلائزیشن کو ایک ہی سکے کے دورخ قرار دیا ہے۔ یہ کارپوریٹ سامراج کی سیاسی حکمت عملی کا زائیدہ ہے اور چومسکی نے اسے نئی دنیا کے بارے میں امریکی سوچ (vision)کا ناگزیر حصہ قرار دیا ہے جس کے مظاہر عراق اور افغانستان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں برملا کہا گیا ہے جس پر مابعد جدیدیت کے برِصغیری شارحین پردہ نہیں ڈال سکتے۔ اس رپورٹ کے بعض حصے پیش کیے جاتے ہیں۔ ’ایک ایسی جگہ جہاں گلوبلائزیشن کا عمل لا تعداد ممالک میں ریاستی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے اور افلاس انسانی حقوق کے ایجنڈے پر نمایاں حیثیت اختیار کرتا جا رہاہے، وہاں آج کا سب سے بڑا مسئلہ ریاستوں کو اس ضمن میں ان کی ذمہ داریوں کی جانب توجہ دلانا ہو جاتاہے۔
گلوبلائزیشن، فری مارکیٹ اکانومی اور تکنیکی متبادلات جہاں معیشت کے نمایاں فروغ کا سبب بنے ہیں وہیں غربت، قرض اور نابرابری کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ کر رہے ہیں اور غربت، قرض اور نابرابری کا پھیلاؤ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جائزے کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی کے عمل میں بھی اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ ۱۰؂
چالیسویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ سے موجودہ حالات کا جو خاکہ ابھرتا ہے اس کے مطابق دنیا کے کم از کم ۱۴۰ ممالک میں انسانی حقو ق کی پامالی کے مرتکب نہ صرف حکومتی کار پرداز پائے گئے ہیں بلکہ ایک بہت بڑی تعداد کا تعلق متمول، کمیونٹی اور آجروں سے بھی پایا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے :
زیادہ تر ریاستوں کا مؤقف ہے کہ انھیں ایسی معاشی پالیسیاں جو عوام کے سماجی ، معاشی اور ثقافتی حقوق کی نفی کرتی ہیں، اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حکومتوں کا یہ دعویٰ مہمل اور غلط ہے کیونکہ حکومتیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بین المملکتی کارپوریشنوں (Multinational Corporations)کے ناجائز دباؤ سے اپنے عوام اور ان کے مفادات کے تحفظ کا پورا حق اور مؤثر اختیار رکھتی ہیں۔ ۱۱؂
مغرب میں مابعد جدیدیت کے غلغلہ سے پہلے تک غالب خیال یہ تھا کہ تاریخ کا سفر لازمی طو رپر آگے کی طرف ہوتا ہے اور اس کے علاوہ درج ذیل مسلمات مغربی فکر کے لابدی حصے تھے۔ اس پریونانی فکر، مسلم ، ہندو، بدھ، کنفیوشس، لاؤزی فلسفے اور تمام سیاسی فلاسفہ کو بڑی حد تک اتفاق تھا۔ اس اتفاق کو درج ذیل اتفاق رائے (consensus) کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے !
۱۔ عقل خود مختار ہے، عقل ہی تمام علوم کی مسلمہ اساس ہے۔
۲۔ موضوع اور معروض لازماً جدا ہیں۔
۳۔ انسانی عقل میں اعتقاد، ترقی کے نا مختتم عمل کو جاری رکھا جا سکتاہے۔
۴۔ سائنسی علم حقیقی غیر جانبداری اور بے قدری (Value-Free) ہے۔
۵۔ تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔
۶۔ آدمی خود مختار فرد وجود ہے۔
۷۔ مغربی تہذیب ماڈل تہذیب ہے۔ ۱۲؂
اوپر دیے ہوئے نکات میں بعض حضرات ’عقل‘ کے متبادل کے طور پر ’عشق‘ رکھ سکتے ہیں۔ مثلاً اقبال کے یہاں عقل کسری راستہ ہے، عشق کلی راستہ ہے۔
اگر درج بالا نکات کو مابعد جدیدیت کے چیدہ چند نکات کے ساتھ پڑھیں، جنھیں اس مضمون کے شروع میں بیان کر دیا گیا ہے تو پھر یہ سوچنا بجا ہو گا کہ سیاسی تحریکیں اور فلسفے اپنے ثقافتی اور ادبی ایجنڈوں کے ساتھ آتے ہیں اور یہ وہ کھیل ہے جس میں معاشی طور پر زیادہ طاقتور زیادہ بڑے سیاسی فائدے حاصل کرتے ہیں۔
اس لیے ادباء کی ذمہ داریوں میں یہ ذمہ داری بھی شامل ہے کہ ان کے معصوم، بظاہر بے ضرر فرمودات کا براہ راست فائدہ اٹھانے والے (beneficiary)کا نظام کون ساہے کہیں سامراجی ایک قطبی نظام تو نہیں؟

فیض صاحب پی ایچ ڈی بن جاتے تو کیا ہوتا
فیض صاحب کی درس وتدریس کا حوالہ تو آتا رہا ہے لیکن اس میدان میں ان کا طور کیا رہا ‘ کیا انھوں نے تعلیم کو نئی سمت دینے کی کوشش کی اور پھر انھیں پی ایچ ڈی کا خیال کیسے آیا ‘ کیا انھوں نے اس سلسلہ میں واقعی کوئی عملی قدم اٹھایا تھا‘ اس کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔
رؤف ملک کے بیان کے مطابق یہ اواخر ۱۹۳۹ء کا ذکر ہے ۔ ان دنوں فیض صاحب ایم اے او کالج امرتسر میں انگریزی کا مضمون پڑھانے پر معمور تھے۔ ان کے اردگرد جو کتنی عالم فاضل شخصیتیں درس و تدریس کے شعبہ میں نظر آرہی تھیں ۔ شاید انھیں دیکھ کر ہی انھیں خیال آیا ہو کہ اگر اس شعبہ ہی سے وابستہ رہنا ہے تو پھر تم بھی عالم اور سکالر قسم کی شے بننے کی کوشش کرو ۔ سو مزید تعلیم و تحقیق کے خیال سے انھوں نے لندن جانے کا منصوبہ باندھا ۔ سفر کا سارا انتظام ہو چلا تھا مگر رفتہ رفتہ پتا چلا کہ جنگ کی وجہ سے بحری سفر خطرناک بن چکا ہے ۔ سو لندن جانے کا ارادہ تو منسوخ ہو گیا۔ سوچا کہ پنجاب یونیورسٹی سے اردو کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی جائے۔
سوچ بچار کے بعد انھوں نے طے کیا کہ جدید اردو شاعری کے موضوع پر تحقیق کی جائے ۔ اس سلسلہ میں پنجاب یونیورسٹی کو درخواست دی گئی اور مقالہ کا خاکہ ساتھ میں نتھی کیا گیا۔ پھر کیا ہوا۔ رؤف ملک نے آگے جو لکھا ہے وہ ان معلومات پر مبنی ہے جو انھیں ڈاکٹر عبادت بریلوی نے فراہم کیں ۔ پنجاب یونیورسٹی نے تو یہ درخواست یہ کہہ کر نامنظور کر دی کہ یہ موضوع بہت وسیع ہے ۔ عبادت صاحب لکھتے ہیں :’’ شکر ہے کہ فیض صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوانگریزی زبان میں یہ خاکہ کسی غیبی مدد سے میر ے ہاتھ آگیا اور میں نے اس کو ایک ادبی دستاویز سمجھ کر محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ ‘‘
رؤف ملک کہتے ہیں کہ عبادت صاحب نے یہ فائل انھیں دکھائی تھی۔ انھوں نے اس ساری عبارت کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا اور
حوالہ جات
۱۔ ناصر عباس نیئر؛ ’مابعد جدیدیت‘ ؛ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور؛ ۲۰۰۷؛ ص: ۴۰۔۳۹
۲۔ ناصر عباس نیئر؛ ’مابعد جدیدیت‘ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور؛ ۲۰۰۷ء؛ ص: ۱۳۱۔۱۲۱
۳۔ وہاب اشرفی؛ ’مابعد جدیدیت‘؛ پورب اکادمی، اسلام آباد؛ ۲۰۰۷ء؛
4. Vance Parkard; The Waste Makers; David Mckay; p.274
5. Vance Parkard; The Waste Makers; David Mckay; p.274
۶۔ ایضاً
۷۔ محمد علی صدیقی؛ ’نشانات‘؛ ادارہ عصرِ نو، کراچی؛ ص: ۱۱۷۔۱۲۶
8. Literary Round-up; by: Ariel Daily Dawn...12-2001
۹۔ عرفان شاہد بھنڈ؛ مابعد جدیدیت؛ مائراکیڈمی، گوجرانوالہ؛ ۲۰۰۹ء
10. Amnesty International Report; 1 Eastern Street, London, WCIX ODW (UK); p.2
۱۱۔ ایضاً
۱۲۔ ناصر عباس؛ ’مابعد جدیدیت‘ ۲۰۰۷ء ؛ ص: ۳۶
بشکریہ مجلہ’ارتقا‘ ۵۱؛ کراچی
اپنے مفصل مقدمہ کے ساتھ اسے ۱۹۸۹ء میں شائع کیا۔ وہاں سے لے کر یہ پوراخاکہ رؤ ف صاحب نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ موضوع کا تعین فیض صاحب نے اس طر ح کیا ہے ’’جدید اردو شاعری ۱۸۵۷،۱۹۳۹ء‘‘۔اس خاکہ میں جدید تحریک کا آغاز انھوں نے سرسید اور ان کے رفقا سے کیا ہے ۔ اس سے تو اردو ادب کا ہرطالب علم ان سے اتفاق کرے گا مگر فیض نے کمال یہ کیا ہے کہ جدید تحریک کے پیش رو انھوں نے کلاسیکی عہد میں دریافت کیے اب ذرا۱۹۳۹ء کو تصور میں لائیے، جب فیض صاحب نے اپنی تحقیق کا یہ خاکہ مرتب کیا تھا ۔ ترقی پسند تحریک زوروں میں تھی۔ اسی کے پہلو بہ پہلو جدیدیت کی تحریک بھی رنگ پر آئی ہوئی تھی ۔ اور یہ دونوں ہی تحریکیں پورے کلاسیکی عہد کو مردود قرار دے چکی تھیں۔ خاص طور سے غزل کو۔کتنااچھا ہو تا کہ پنجاب یونیورسٹی اس تحقیق کی منظوری دے دیتی ۔ مگر کیسے دے دیتی ۔ اپنی انھیں اداؤں سے وہ پہچانی جاتی ہے اور اب عبادت صاحب نے اس مقالہ کی نامنظوری پر اسے قدامت پرست نادان اور کم فہم قرار دے ڈالا۔ لیکن کیا عجب ہے کہ اگر ادھر سے منظوری ہو جاتی اور ان خطوط پر یہ مقالہ لکھا جاتا تو اس وقت کے ادبی باغیوں کے حساب سے فیض صاحب قدامت پسند اور کم فہم قرار پاتے ۔ چلو اچھا ہوا‘ اب تو سارا وبال پنجاب یونیورسٹی ہی پر پڑا۔
بندگی نامہ۔۔۔ انتظار حسین
)
بشکریہ روزنامہ ، ایکسپریس)