اس ماہ کے منتخب مصنفین
ڈاکٹر انوار احمد
اسدمحمدخان


اسد محمد خان ۲۶ ستمبر ۱۹۳۲ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۵۰ء میں پاکستان آئے اور کراچی میں بس رہے۔ یہیں تعلیم مکمل کی۔ افسانہ نگاری ، تراجم اور شاعری کے علاوہ ریڈیو اور بعدازاں ٹیلی وژن کے لیے گیت، ڈرامے اور فیچر لکھے۔ اسد محمد خاں کی اب تک چھ کتابیں شائع ہوئی ہیں : ’’کھڑکی بھر آسمان ‘‘ (کہانیاں اور نظمیں ۱۹۸۲ء ) ،’’ برجِ خموشاں‘‘ (کہانیاں ۔ ۱۹۹۰ء ) ، ’’رُکے ہوئے ساون ‘‘ (گیت ۔ ۱۹۹۷ء ) ’’ غصے کی نئی فصل ‘‘ (کہانیاں ۔ ۱۹۹۷ء ) ’’ نربدا اور دوسری کہانیاں ‘‘ (کہانیاں ۔ ۲۰۰۳ء ) ’’ تیسرے پہر کی کہانیاں ‘‘ (کہانیاں ۔ ۲۰۰۶ء) ۔کتاب’’ جو کہانیاں لکھیں ‘‘ میں اسد محمد خاں کی ۲۰۰۵ء تک لکھی گئی سب کہانیاں یکجا ہیں۔
’’
نربدا اور دوسری کہانیاں ‘‘ کو اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ۲۰۰۳ء کا قومی ادبی ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ پاکستان اور امریکا میں بہ یک وقت فعال ادبی تنظیم فیض محمد ٹرسٹ نے اسد محمد خاں کو احمد ندیم قاسمی ایوارڈ برائے فکشن ۲۰۰۴ء میں دیا۔
اسد محمد خان نے لکھا ہے کہ ان کی پیدائش کا خدشوں بھرا وقوعہ ان کے دادا کی بیاض میں یوں درج ہوا، ’ ساعتِ نحس میں تولّد ہوا ، اللہ پاک اپنا کرم فرمائے‘ (کتاب : جو کہانیاں لکھیں ) اپنے اور اپنی معلوم دنیا،حتیٰ کہ نامعلوم دنیا کے بارے میں وہ جو جانتا ہے اور قیاس کر سکتا ہے،اسے ایک لذت بھری یا سرشاری سے لبریزدیانت کے ساتھ بیان کر دینا اس کے اسلوب کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اس سلسلے میں اس کے سب سے بڑے طرف دار غالب،منٹو اور جان ایلیا ہیں۔ ابھی قطر میں ادبی ایوارڈ لیتے ہوئے اپنے خطبے میں اس نے کہا ہے’دیانت داری سے کہی گئی تازہ ، طاقت ور اور دلآویز بات ہر فنِ لطیف کا معاصر بنیادی جوہر بن سکتی ہے،اس لئے میَں تازہ،طاقت ور اور دل آویز بات کی تلاش میں رہتا ہوں اور صحیح وقت پر پوری تیاری کے ساتھ لکھتا ہوں ‘ (’لاہورمعاصرجلد ۹،شمارہ ۵۔۸‘ص۳۰۰) یہ اور بات کہ قلم کی مزدوری پر مامور کسی بھی تخلیق کار کے اس دعوے میں ترنگ کے ساتھ حسرت کو بھی شامل کر لیں تو اس ٹکڑے سے آپ لطف اندوز ہو سکتے ہیں’ میَں صحیح وقت پر پوری تیاری کے ساتھ لکھتا ہوں‘بہر طور اسد محمد خان کے پاس متنوع زندگی کا گہرا تجربہ، فطرتِ انسانی کا شعور اور اظہار کی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ تاریخ، تخیل اور معاصر زندگی سے لپٹی ہوئی پیچیدہ حقیقت کو بیان کرنے کے لئے نئے نئے فنی وسائل اور تکنیک تلاش کرنے کی والہانہ امنگ ہے۔ افسانوی دنیا میں اُن کی شہرت پہلے مجموعے ’کھڑکی بھر آسمان‘سے ہی ہوگئی حالاں کہ اُس میں تیرہ(۱۳) افسانوں کے ساتھ اڑتیس(۳۸) نظمیں بھی شامل تھیں مگر اس مجموعے میں شامل ’باسودے کی مریم‘، ’مئی دادا‘ اور ’ترلوچن‘ ایسے افسانے تھے جنہوں نے اُردو کے یادگارافسانوں میں جگہ حاصل کرلی۔ یہ تینوں کرداری افسانے ہیں۔ پہلے دو تو گھریلو وفادار ملازموں کی قبیل کے وہ افسانے ہیں جن میں جاگیرداری پس منظر کے حامل کنبے کے افراد (والدین) کو اور زیادہ عظیم المرتبت بنایا گیا ہے اور متکلم کے لیے بھی فخر کا یہ حوالہ موجود ہے کہ اُس کی تربیت میں عظیم قدروں اور رویوں کا دخل ہے مگر ’باسودے کی مریم‘ اور مئی دادا‘ غیرمعمولی کردار ہوں گے، جنہیں یادگار بنانے میں اسدمحمدخان کی کردارنگاری، فضاسازی اور مکالمہ طرازی کا گہرا دخل ہے۔ ’باسودے کی مریم اُردو کے نعتیہ ادب میں بے مثال اضافہ ہے۔ ’ترلوچن‘ کراچی کی جھگیوں اور کچی آبادیوں کے دکھوں کے تخلیقی مداوے کے لیے ایک مثالی خیال طرازی ہے، اسدمحمدخان مذہب کے نام پر منافقت اور استحصال کا مخالف ہے مگر ایک گہرا مذہبی اور متصوفانہ تجربہ اُس کے تخلیقی وجود میں ایسے رنگ بناتا رہتا ہے جو اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب یا ممتازمفتی کے حکام رس رنگوں سے مختلف ہیں چنانچہ ’گھس بیٹھیا‘، ’چاکر‘ ، ’شہرکوفے کا محض ایک آدمی‘، ’غصے کی نئی فصل‘ اور وہ افسانے جن کا پہلے ذکر ہوچکا اسی تجربے کے سبب معنوی گہرائی اور حسیاتی وسعت رکھتے ہیں :
(
الف) ’’تمہاری اَنّا بُوا کی دوسری وصیت بھی پوری کرائی، عذاب ثواب جائے بڑی بی کے سر، میاں ہم نے تو ہرے بھرے گنبد کی طرف منہ کرکے کئی دیا کہ یارسول اللہ باسودے والی مریم فوت ہوگئیں، مرتے وَخت کہہ رئی تھیں کہ نبی جی سرکار میں آتی ضرور مگر میرا ممدو بڑا حرامی نکلا، میرے سب پیسے خرچ کرا دیے۔‘‘ (باسودے کی مریم،کھڑکی بھر آسماں، ص۵۰ )
(
ب) ’’خجالت کے آنسوؤں میں بھیگتے ہوئے اُس نے گہوارے کا پایا تھام لیا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا اور ہولے ہولے اپنی صفائی میں کہتا چلا کہ بی بی میں بھول گیا تھا، بٹیا میں بھول گیا تھا، اماں میں بھول گیا تھا اور آٹھ نمبر بلاک کی حد پر اُس نے گہوارے کا پایا چھوڑ دیا پھر عین الحق نے ایک چیخ کی بازگشت میں بلاک نمبردو کی طرف سعی کی اور پکارتا چلا کہ میں بھول گیا تھا__ ایک ایک مکان پر سے گزرتے ہوئے اُس نے اپنے حافظے میں سب چیزوں اور سب لوگوں کی حاجت مندیاں اور تمام چھوٹے بڑے دکھ محفوظ کیے اور طے کیا کہ مرغ کی بانگ سے پہلے اُنہیں فہرست میں درج کرے گا اور جب مرغ بانگ دے رہے ہوں گے تو عمل درآمد کرے گا۔‘‘ (ترلوچن،کھڑکی بھر آسماں، ص۱۴۸ )
مگر اسدمحمدخان کا یہ گہرا داخلی تجربہ اُسے ملّائیت کی معنوی دنیا کو لایعنی قراردینے سے نہیں روک سکتا۔ اُس کے افسانے ’مناجات‘ میں سے چند فقرے دیکھئے :
(
۱ ) ’’مولا اب تو کچھ ایسا ہو کہ ایک فِزی سسٹ ہماری ہی صفوں سے اُٹھے جو کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہو، کہ جیبوں میں ڈھیلے لے کر چلتا ہو، جو اسٹاک ہوم کے چورستوں میں قینچیاں مارے، کہ مشرکین بیرونی اور کفّارِ مقامی کا پِتّا پانی ہووے__ ہم آرام سے تیرے نام کا بھنگڑا ڈال سکیں، اور ملحدوں کافروں مشرکوں کی بستیوں کی جانب مُنہ پر کلائیاں رکھ کر آرام سے بکرا بُلا سکیں __ اے صاحب الکلام! ہمارے قوالوں کے حلق کشادہ کر، ہمارے ڈوم ڈھاڑیوں کو زمین پر پھیل جانے کا اِذن دے__ ہمارے کھلاڑیوں ہی کو ہرنوع کی سربلندی عطا کر، کہ اب تو وہی ہمارا اثاث البیت ہیں__ہمارے دشمنوں کو اب اندر سے سنگسار فرما ، ان کی میانیوں میں برف باری کر، دھماکے فرما۔‘‘ (مناجات،برجِ خموشاں، ص۶۔۸ )
(
۲ )’ میں وکیل عون محمد ہوں، اس وقت وکالت نامے پہ پندرہ سالہ موکل کے دستخط لے کر اپنے دفتر جارہا ہوں۔۔’اصل میں پولیس نے کاکے کے خلاف blasphemy کا کیس درج کیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ لوگ اُسے جان سے نہ مار دیں __ ہوا یہ تھا کہ کاکے نے محلے کے پیش امام کی جلتی ہوئی لالٹین پہ غلیل میں پتھر رکھ کے مار دیا تھا تو حجرے میں آگ پھیل گئی تھی جس سے پیش امام کی نئی واسکٹ، ایک پیلا رومال اور کچھ برکتوں والے کاغذ ضائع ہوگئے تھے ۔ جن پر رحمتوں والا پاک کلام چھپا ہوا تھا۔ اسی وجہ سے وہ لوگ بے حرمتی کا پرچہ کٹوانے میں کامیاب ہوگئے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ آخر کو سچ سامنے آئے گا اور کاکا بری ہو جائے گا۔‘‘ (تیسرے پہر کی کہانیاں،ص۶۹ )
اسدمحمدخان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تاریخ سے انسانی بصیرت کے لیے ایسے معنی کشید کرتے ہیں جو ایک طرف انسانی فطرت کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں اور دوسری طرف تاجداروں، غرض مندوں، سازشیوں اورجلسے جلوسوں کی زینت بننے والوں کی ظاہری اغراض کے پس پردہ یامتوازی، دُھندلکے میں چھپی تمناؤں کو ایک وجدانی انکشاف بنا دیتے ہیں۔ اسدمحمدخان نے ’ایک سنجیدہ ڈی ٹیکٹو اسٹوری‘ ، ’گھڑی بھر کی رفاقت‘، ’نربدا‘، ’رگھوبا اور’ تاریخ فرشتہ‘ اور ندی اور آدمی‘ جیسے بہت اہم افسانے لکھے ہیں۔ اوّل الذکر کا عنوان کافی غیرسنجیدہ ہے مگر یہ عمل اسدمحمدخان کی جانب سے نستعلیقیت اور سنجیدگی پر ہرآن لعنت بھیجنے کے تصورِحیات سے مطابقت رکھتا ہے، تاہم یہ اقتدار کے کھیل کے اندر آرزو، فریب، سازش، بے رحمی، باخبری اور لاعلمی کے سبھی عناصر کی ڈرامائیت پر مبنی ایسا افسانہ ہے جو عزیزاحمد کے ’جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں اور ’خدنگِ جستہ‘ کے پائے کا ہے کہ اس میں تاریخ ، تخیل اور عصری شعور سے بصیرت افروزی کا کام لیا گیا ہے۔
اسی طرح ’گھڑی بھر کی رفاقت‘ (’برجِ خموشاں‘) میں ایک طبع زاد کہاوت ’’مسافرت میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب گھوڑا اپنے سوار کی راسیں سنبھال لیتا ہے‘‘ کی معنویت کو تاریخ کے پردے پر پھیلا کے ایک ڈرامائی منظر تشکیل دیا ہے، جس میں اِس نکتے کو اُجاگر کیا گیا ہے کہ سازشی کے تحفے سے قربت بھی آپ کو اپنے رنگ میں رنگ سکتی ہے۔ ’رگھوبااور تاریخِ فرشتہ‘ تو اس حوالے سے ایک حیرت انگیز افسانہ ہے ، جس میں تاریخ، تہذیب، تصوف اور علم البشر افسانہ نگار کے تخلیقی تخیل سے ہم آہنگ ہو کر اُردو کا ایک یادگار افسانہ تخلیق ہوا ہے جس کی فضا سازی اور تخلیقی زبان اسدمحمدخان کی انفرادیت کو ظاہر کرتی ہے۔
تاریخ کی ورق کوبی سے اسد محمد خان ضعف‘ کے شکار مسلمانوں کو شرر سے لے کر نسیم حجازی تک کے ناول نگار اطبا کی طرح کوئی کشتہ بنا کر نہیں دیتا بلکہ ایسی ہر کہانی کے آغاز یا اختتام پر ایک نوٹ لکھتا ہے یا اس کے متوازی ایک ان لکھا نوٹ اپنے قاری کے حواس پر چسپاں کرتا ہے،جیسے وہ لکھتا ہے :
(
۱ ) ’ بھوپال میں نئے قلعے کے صدر دروازے پر ایک یادگاری تختی لگی تھی ، جس پرانگریز سرکار کی طرف سے تصدیق کی گئی تھی کہ بھوپال وفادار ہے ، اس نے پچاس سپاہیوں سے مدد دے کر بغاوت کچلنے میں ہاتھ بٹایا ہے ، میں نے گیارہ برس کے بے بس غصے میں تختی پر کیچڑ مل کر ذلت کا یہ داغ چھپا دینا چاہا تھا۔ ‘(’جو کہانیاں لکھیں‘،ص ۷۶۴ )
(
۲ ) ’صنوبر اور فتح خان کی کہانی عامیوں میں کئی طرح سنائی جاتی ہے اور لوگوں کو خوب یاد ہے۔ کس لیے کہ مارکھائے ہوئے محروم لوگ ، وہ دلی میں ہوں یا خوشاب میں ۔۔۔ اور کہیں بھی کسی بھی عہد میں ہوں ۔۔۔ جابر سلطانوں سے ناں‘ کہنے والوں کو اور ان کی کہانیوں کو بہت شوق سے یاد رکھتے ہیں۔ (’تیسرے پہر کی کہانیاں‘،ص ۳۱ )
اسدمحمدخان میں ڈرامہ بنانے اور ڈرامہ لکھنے کی بے پناہ صلاحیت ہے، یو۔پی ، پنجاب، سرحد اور کراچی میں آباد متنوع انسانوں کے ہر لہجے کی بازیافت تخلیقی سطح پر کرسکتا ہے، پھر اُس کے مشاہدے، تجربے ، مطالعے اور تخلیقیت نے اُسے اتنا رنگارنگ مواد دیا ہے جو اُس کے بہت کم معاصرین کو نصیب ہوا ہے مگر دوتین چیزیں ایسی بھی ہیں جو ناقدین کو معائب کے طور پر دکھائی دیں گی جن سے اسدمحمدخان اجتناب برتیں تو پھر وہ اسدمحمدخان نہ رہیں۔ اسدمحمدخان اُن لوگوں میں سے ہیں جنہیں انہدام یا ردِتشکیل سے تخلیقی دلچسپی ہے اس لیے وہ اچانک اس طرح کے فقرے بھی لکھ جاتے ہیں جو افسانے کی فضا کی کبھی ضرورت ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔
پاکستانی معاشرہ جس طرح تشدد ،تفتیش اور خودکشی کی لپیٹ میں آیا ہے اورساتھ ہی ساتھ جو پاکستان کے خود ساختہ محافظوں نے، اپنے حقِ شناخت کے طلب گاروں کو جس طرح لاپتہ کرنا شروع کیا ہے، اس سے سبھی واقف ہیں،یہ گم شدہ لوگ یا ان کے تفتیش خانوں میں ہیں،یا ان کے آقاؤں نے خرید لئے ہیں،جو باقی بچے ہیں،وہ جرائم کی زیرِ زمین دنیا میں ہیں،انہیں بردہ فروشوں نے ماں باپ سے جدا کر دیا ہے،اب انہیں کوئی لوری اور کہانی سنانے والا نہیں،اب اگر کسی کی آنکھ میں ہمدردی نظر آتی ہے تو وہ لیاری کا کالا شیر اللہ بخش ہے،یا پھر قبروں میں لیٹے وہ لوگ جنہوں نے ان کی امیدوں کاقاتل بننے کے لئے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی۔اسد محمد خان شاید اردو کا وہ واحد افسانہ نگار ہے،جس نے ان ’لاپتہ‘ ہونے والے،خصوصاً بلوچوں کے بارے میں لکھا ہے اور جو کراچی میں رزق کے لئے ریزہ چینی کرنے والی ہر قوم کی زبان ہی نہیں سمجھتا بلکہ ان کے احساس کو بھی سمجھتا ہے۔ اس کے بعض افسانوں کے اقتباسات دیکھئے:’میری ماں یا بہن بھائی ہوتے تو بھوت پریت کے قصے سناتے،جن لوگوں نے مجھے پالا،انہیں کہانیوں،قصوں کا وقت ہی نہیں ملتا ہو گا،اس لئے میں اس سائے کو آدمی ہی سمجھا‘(دانی کی کہانی، ص ۱۷)__’اب میں اپنی یادگار تُربت میں جندہ دبا دیا گیا ہوں(شہید کی جو موت ہے،وہ قوم کی حیات ہے)اور کئی کنگنی اواجوں والوں بڈھوں سالوں کا مرشد شہید بنا دیا گیا ہوں جو میری کنڈی کھڑکا کے پوچھ رہے ہیں کہ سر! ہم لوگ ابھی ادھر بیٹھیں کہ چلے جائیں؟ٹھیک ہے اس وقت لیٹنا اور عقیدت مندوں مریدوں کی آرادھنا سنتے رہنا ہی مناسب ہے،ہاتھا پائی شور شرابے سے کوئی فائدہ نہیں۔او بئی دھماکا کر کے مرا ہوا بجرگ بننے کے الگ ہی اپنے مجے ہیں۔‘(دھماکے میں چلاہوا بزرگ،ص ۴۷) __ ’ہم لوگ لا وارث نئیں ہے صاب !ہاں یہ رستے کا آدمین،یہ اوٹھ والا ساربان،گوٹھ گاؤں قصبے کا لوگ، شہری مہری،یہ سب کم زور بھلے ہی ہوویں،پر ان کو خبر ہے کہ بئی تم لوگ ہم دو کو پکڑ کے لے جا رئے ہو،ابھی بھوک پیاس میں،بندوق کا بٹ مارنے سے یا گولی چلانے سے ایک دو قیدی کم ہو جاوے تو بات ُ چھپ نئیں سکیں گا سر!۔۔۔اور یہاں اکبر علی کھوسا کی کہانی جتنی کہ مجھے معلوم ہے،ختم ہوتی ہے،کس لئے کہ پولیس لائنز پہنچنے کے بعد مجھے یا کسی اور کو پھر اس کی کوئی خبر نہ مل سکی،تاہمبے گنتی بلوچ اور بے شمار وہ جو بلوچ نہیں ہیں،اُسے لاوارث نہیں مانتے۔‘(وارث، مکالمہ افسانہ نمبر ص؛۵۹،۶۰ )
بلاشبہ افسانے کی سب سے بڑی طاقت اس کی فضا ہے،مگر اس فضا کو بنانے میں اسد محمدخان کرداروں پر بڑی توجہ دیتا ہے،یہ کردار پر چھائیاں نہیں ہیں،معاشرے کے زندہ لوگ ہیں مگر انہیں خود کو پورا دیکھنے کا ہوش یا توفیق نہیں،دوسری بات یہ ہے کہ ان کے ہاں سنائی پہلے دیتے ہیں اور دکھائی بعد میں،یہی وجہ ہے کہ چاروں طرف میں گونجنے اور چھا جانے والا اس کا تخلیقی فقرہ اس کے افسانے کی مطلوبہ فضا بناتا ہے،جس کے اندر نا انصافی اور ریا کاری پر افسانہ نگار اپنے مشتعل نتھنے پھلائے رکھتا ہے :
اسد محمد خان کی والہانہ محبت کا ہدف وہ سب کم وسیلہ لوگ ہیں،جنہیں ہمارے اشراف زیادہ سے زیادہ ہکلانے اور گڑگِڑانے کی اجازت دیتے ہیں یا پھر پاگل ہو جانے کی[الی گجر کی آخری کہانی]مگر ان سے ہونے والی نا انصافی کو کسی اخلاقی آدرش کے نام پر بھی وہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں،مگر حقیقی زندگی میں ایسے مظلوموں کی ڈھیٹ مصالحت اسے تلخ نوا بناتی ہے،وہ لکھتا ہے ’ایک مہا مائی کی کنج کا کمی مٹھو ہے ،دو روپے عطا ،میرے منع کرنے پر بھی مٹھونے ان کے وہ دو روپے لے لیے تھے ، میں سمجھتا ہوں کہ روپے لے کر مٹھو نے میرے ساتھ دغا کی تھی اور پھل تک ہاتھ بڑھانے کے اس استحقاق کو زک پہنچائی تھی‘(’میَں کیوں لکھتا ہوں؟‘ معاصر،لاہور،جلد ۱۰،شمارہ ۵ تا ۱۲،ص،۳۰۰ )
ممبئی،دلی،لکھنؤ اور لاہور کی طرح اب کراچی نے بھی اردو افسانے کی ایک اقلیم کا درجہ اختیار کر لیا ہے،بلکہ شوکت صدیقی،امر جلیل،خواجہ معین الدین اور انور مقصود کے ساتھ اسد محمد خان نے اسے ایک طرح سے آسیب زدہ راج دہانی بنا دیا ہے،بے حدپُر کشش،مگر ہیبت بھری،بہت سادہ لیکن رازوں بھری،تجارت،مفاد اور منافع کے نام پر وسعت پانے کی تمنائی،یہ آسیب نگری جسے فراہم�ئرزق کی امید گاہ بنا تو دیا گیا،مگر اس بلاوے پر کھنچے چلے آنے والوں سے سفاکی کے ساتھ پوری قیمت بھی وصول کرتی ہے،جس کی ملکیت کے کئی دعوے دار ہیں،مگر تخلیق کاروں کے سوا اسے سنوارنے کا خواب کوئی نہیں دیکھتا، گواسد محمد خان کی تخلیقی یادداشت میں یہ شہر درد بھری آوازوں کا ایک بڑا سمندر ہے مگر کہانی کار نا انصافی اور ظلم کرنے والوں کو یہ رجزیہ چتاونی بھی دیتا ہے کہ’میرے خاندان میں آج تک خود کشی کی واردات نہیں ہوئی ‘ (ص۷۶۴) ،اس لئے ہم توقع رکھتے ہیں کہ اسد محمد خان کے قلم کے ذریعے ابھی کئی اور یادگار کہانیاں جنم لیں گی۔
بشیر حسین ناظم
آپ ۴۔ جنوری ۱۹۳۳ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گوجرانوالہ سے حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی ۔ وزارت اطلاعات و نشریات اور مذہبی امور میں خدمات انجام دیں۔ انھوں نے اُردو ، فارسی ، عربی ، اسلامیات اور پنجابی میں ایم اے کیا۔ درس نظامی کی سند ان کے پاس ہے اور انھیں حسن کارکردگی پر صدارتی تمغہ بھی مل چکا ہے۔
آپ ایک خوش نوا شاعر ہی نہیں ، عربی فارسی ، اردو ، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر عالمانہ نظر رکھنے والے کم یاب لوگوں میں سے ہیں ۔ ایک دنیا ان کی مداح اور عقیدت مند ہے مگر میَں نے انہیں اکثر افسردہ پایا ہے کہ لوگوں کی تقریر میں غلط تلفظ اور کتابوں میں غلط املا کا استعمال بڑھ گیا ہے،مجھے اعتراف ہے کہ مجھ سمیت بہت سے اساتذہ بھی اس حسنِ تلفظ کو ملحوظ نہیں رکھتے ، جو انھیں اپنی جاں اور کسی کی دوستی سے زیادہ عزیز ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ہنر انہیں بڑی ریاضت اور وسعتِ علمی کی بدولت میسر آیا ہے۔ مقتدرہ قومی زبان نے ان کی صلاحیتوں سے فیض پایا ہے،ہم نے ان سے بعض کتب پر نظرِ ثانی کا کام کرایا ہے اور اعزازیے کے طور پر شکریہ اور ممنونیت ہی پیش کیے ہیں،یوں انھیں ہم نے صاحبِ علم ہی نہیں صاحبِ دل بھی پایا ہے۔
(i)’
پنجابی اکھان
بشیر حسین ناظم کی ایک عالمانہ کتاب ’پنجابی اکھان‘ ہے جسے انھوں نے ارشد میر، ڈاکٹر اصغر علی، ڈاکٹر فقیر محمد فقیر، مستری احمد دین مرحوم اور میاں محمد اکرم کی محنت کے اعتراف کے ساتھ اور تدوین و ترتیب کا اعزاز پروفیسر غلام رسول عدیم کو دیتے ہوئے شاد پبلی کیشنز گوجرانوالہ سے ۱۹۹۲ء میں شائع کرایا۔ اس میں اکھان،کہاوت اور ضرب المثل کے بارے میں ان کا ایک عالمانہ مقدمہ بھی شامل ہے ،تاہم اس وقیع کتاب میں ان پنجابی اکھان کے ساتھ اگر ان کے متبادل اردو ضرب المثل یا کم از کم معنی بھی درج ہوتے تو اس کتاب کا رتبہ اور بلند ہوجاتا اور شاید پنجابیوں کے علاوہ دیگر لوگ بھی اس سے فیض یاب ہو سکتے۔ اسی طرح اس میں تعدادیا گنتی بھی درج نہیں کی گئی کہ کل کتنے ضرب المثل اس میں شامل ہیں،حالانکہ نمبر شمار لگانے سے ہی یہ مسئلہ حل ہو سکتا تھا،شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اس محنت کو کسی حاسد کی نظر لگے کیونکہ بعض والدین اپنے بچوں کی حقیقی تعداد بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ خود بشیر حسین ناظم نے لکھا ہے ’’زیرنظر کتاب وچ گھٹوگھٹ ساڑھے نو ہزار آکھان نے‘‘۔ ’گھٹو گھٹ‘ کا یہ لفظ جناب بشیر حسین ناظم کے عالمانہ تیقن سے ہم آہنگ نہیں ،بہر طور اس میں بڑی پُرلطف مثالیں ہیں،بعض دیکھیے :
*
پُؤ ابھتریجی ہِکا، لوک پرا یاپھِکاّ
*
پہاڑی مِت کِسکے بھت کھاہداتے کھِسکے
*
پیکے نہ سِکھیاں تے اجڑ گئیاں *تن سکھی تے من سُکھی
*
جیہدے ہتھ ڈوئی اوہدا سبھ کوئی
*
رنڈیاں دِی نئیں سنی جاندی یتیماں دی سُنی جاندی اے
*
عورت ایمان ، دولت گزران ، پُترّ نشان
ii) ( ’
جمال جہاں فروز
یہ مجموعہ مرزا سداﷲ خان غالب کے دیوان کی تمام غزلوں پر کہی گئی نعتوں کا گلدستہ ہے۔ ایک طرف تو یہ ان کے غالب کے روحانی مدارج بڑھانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے کہ انھیں ساتھ لے کر دربارِ نبیﷺ میں پیش ہوگئے اور دوسری طرف ان کی زمینوں میں ایسی نعتیں کہیں جن میں غالب کی ترکیبوں کا شکوہ بھی دل کھینچتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بشیر حسین ناظم کی قدرت سخن بھی اپنا سکہ جماتی ہے، چند مثالیں دیکھیے :
آنکھ سے ہجرِ مدینہ میں جو طوفاں نکلا
اس کا ہر قطرہ دلِ لعلِ بدخشاں نکلا

سلکِ تقویٰ و تورّع پہ تجمل آیا
درجِ ہاشم سے جو دُردانۂ ایماں نکلا

محرم ہے کون تیرے سوا دل کے راز کا
محور ہے تیرا عشق ہماری نماز کا

تیرے کرم سے خلق میں اشرف ہے آدمی
ارفع ہے بادشاہ سے پایہ ایاز کا

بختِ عشاق ہے صیدِ غمِ جاناں ہونا
کشتۂ تیرِ کمانِ شبِ ہجراں ہونا

ان کی ہستی سے ہے مشروط وجودِ عالم
ان سے وابستہ ہے عالم کا گلستاں ہونا

اے نفس!زیرِ دامِ معاصی نہ لا مجھے
عاصی کو آچکی ہے خدا سے کبھی کی شرم

ذکرِ ممدوحِ خدا کن کی زبانوں پر نہیں ؟
یہ زمینوں پر نہیں یا آسمانوں پر نہیں ؟
(iii)’
ارمغانِ موہُوب
کشف المحجوب کا ترجمہ کئی اصحاب علم نے کیا مگر بشیر حسین ناظم کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے نہ صرف اس عظیم کتاب کے متعدد نسخہ جات کو سامنے رکھ کر ترجمہ کیا بلکہ مروج تراجم کی اغلاط کی نشاندہی بھی کی اور ا پنے مخصوص جلالی انتباہ کے انداز میں مترجمین کو آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے اپنے ترجمے میں ان اغلاط کی تصحیح کرلیں۔ اس خزینۂ معرفت کے چند اقتباسات دیکھئے :
’’
کہتے ہیں بصرہ کا ایک رئیس اپنے باغ میں گیا۔ اچانک اس کی نظر اپنے مالی کی حسینہ وجمیلہ بیوی پر پڑی ۔ اس نے مالی کو کسی کام کے لیے بھیج دیا اور عورت سے کہا دروازہ بند کردو۔ اس عورت نے کہا میں نے سب دروازے بند کردئیے ہیں لیکن ایک دروازہ بند نہیں ہوسکتا۔ اس نے پوچھا وہ کون سا دروازہ ہے ؟ خاتون نے جواب دیا یہ وہ دروازہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور ہمارے درمیان ہے۔ اس پر وہ پشیمان ہوگیا اور مغفرت طلب کی ۔ (ص ۵۳ )
’’
آپ نے فرمایا : ’’پہلی چیز یہ ہے کہ درویش کو معلوم ہو کہ پیوند کس جگہ لگانا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ سچی بات کس طرح جانے اور سنے۔ تیسرے یہ کہ زمین پر قدم پڑے تو سیدھا ہی پڑے۔ اس وقت میرے ساتھ کچھ درویش تھے۔ جب ہم دروازے کی طرف لوٹے تو ہر ایک شیخ کے کلام میں تصرف کرنے لگا۔ ان میں سے کچھ صوفی جہالت کی وجہ سے اختلاف میں بٹ گئے ،ان میں سے بہت سے فقر کے معنی یہ سمجھے کہ پیوند خوبصورت طریقے سے لگائے جائیں اور زمین پر پاؤں اچھی طرح مارے جائیں یعنی رقص کیا جائے۔ ان میں سے ہر ایک کو یہ زعم تھا کہ وہ طریقت کی باتیں سمجھتا ہے اور سنتا ہے لیکن میں نے دل کے کان حضرت گر گانی کے حکم پر لگا رکھے تھے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کی بات زمین پر ماردی جائے میں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک اس بارے میں کچھ کہے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی طرز پر بات کی ۔ جب میری باری آئی تو میں نے کہا صحیح پیوند وہ ہوتا ہے جو فقر پر چسپاں کیا جائے نہ کہ زیب وزینت جسم کے لیے ۔ جب تم فقر پر لگاؤ گے تو درست نہ ہونے کی صورت میں بھی ٹھیک ہوگا۔ سچی بات وہ ہوتی ہے جو حال کی کیفیت سے سنی جائے نہ کہ بادلِ ناخواستہ ۔ اس وقت وجد میں ہونے کی صورت میں حق کی طرف رجوع ہونا چاہیے نہ لہو ولعب کی طرف اور روح کے ذریعے اسے سمجھا جائے نہ کہ عقل کے ذریعے صحیح قدم کے یہ معنی ہیں کہ وجد کے عالم میں زمین پر مارا جائے نہ کہ لہو ورسم (Game and Formality) کے طورپر۔ کسی نے یہ باتیں سید گرگانی رحمتہ اللہ علیہ کو پہنچا دیں۔ انھوں نے فرمایا علی نے خوب کہا ہے۔ اللہ اسے جزائے خیر دے۔ (ص ۸۸۔۸۹ )
’’
توحید تین قسم کی ہے ایک توحیدِ حق اسی کے لیے اور یہ اس کا علم اپنی یگانگت کے بارے میں ہے۔ دوسری توحیدِ حق مخلوق کے لیے یہ اس کا حکم ہے کہ بندے اسے یکتا جانیں لہٰذا ان کے دل میں توحید پیدا کردی تیسری تو حیدِ مخلوق کی یگانگت ہے‘‘۔ (ص ۳۲۶ )

منٹو مطلعہ سیاقو سباق میں
اجمل کمال
ترجمہ: نبلی پیرزادہ
سعادت حسن منٹو کی پیدائش کاسال ۱۹۱۲ء۔۔۔ وہی سال تھا جب مولانا عبدالکلام آزاد نے کلکتہ سے اپنے مشہور زمانہ مجلہ الہلال کی اشاعت کا آغاز کیا اور اگرچہ یہ رسالہ برطانیہ کے پہلے نو آبادیاتی دارالخلافہ سے شائع ہوا---ایک ایسا شہر جس پر بہت کچھ بیتا تھا، یہ بات جان کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس رسالہ کی ابتدائی اشاعتوں میں کلکتہ تو درکنار، ہندوستان کا ذکر تک موجود نہیں بلکہ وہ خالصتاً دوجنگی معاملات کے بارے ہیں جو دونوں کے دونوں زوال پذیر ہوتی ہوئی ایک اور نو آبادیاتی طاقت، سلطنت عثمانیہ کے اثاثو ں سے متعلق ہیں۔ اس ضمن میں ایک تووہ جنگ تھی جو مغرب میں اس وقت طرابلس اور موجودہ لیبیامیں سلطنت عثمانیہ کی قابص افواج اور اٹلی کی حملہ آور افواج کے درمیان اس علاقہ اور اس کے نوآبادیاتی عوام پر قابض ہونے کے لیے تھی۔ دوسری وہ جنگ بلقان میں لڑی جا رہی تھی جہاں نوآبادیاتی عوام خودمختاری حاصل کرنے کے لیے سلطنت عثمانیہ کی مورچہ بند افواج کے ساتھ لڑائی میں مصروف تھے۔
۱۸۵۷ء کے بعد کے اِن سالوں میں برطانوی ہندوستان کی ایک ایسے ملک کی حیثیت سے تبدیلی کا عمل مکمل کیا جا چکا تھا جو برطانیہ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی کپڑے اور دیگر صنعتوں کے لیے خام مال پیدا اور فراہم کرتا تھا۔ برصغیر کے شمالی حصے میں نہروں کا ایک وسیع جال بچھا دیا گیا، ہندوستان کے طول و عرض پر سڑکوں اور ریلوے کے نظام کی تعمیر کی جا چکی تھی۔ منڈیوں کے طور پر کام کرنے کے لیے نئے قصبے اور شہر معرض وجود میں آ چکے تھے۔ بندرگاہ کے فرائض انجام دینے والے کراچی اور بمبئی جیسے شہروں کو وہ تمام تر ضروری وسائل فراہم کیے جا چکے تھے جس سے کپاس ، گندم ، چاول اور دیگر زرعی اجناس برطانیہ برآمد کی جا سکیں اور وہاں سے تیار شدہ مصنوعات ہندوستانی منڈیوں کے لیے درآمد کی جا سکیں۔ شہروں کے انتظام و انصرام کا ایک نیا طریقۂ کار متعارف کرایا جا چکا تھا جس کا مقصد مراعات یافتہ طبقے کو روز مرہ زندگی میں پانی، بجلی جیسے جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات مہیا کرنا تھا۔ حتیٰ کہ نسبتاً کم مراعات یافتہ طبقے کے ایک مخصوص حصے نے بھی شہری تعمیر و ترقی کے اس عمل سے استفادہ حاصل کیا۔ اب اقتصادی اور سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ایک بہت بڑی سماجی تبدیلی بھی رونما ہو چکی تھی اور ۱۸۵۷ء کے بعد کی نصف صدی میں نوآبادیاتی شہریوں کے نئے طبقات کی تشکیل ہو چکی تھی۔ ایسے ہندو اور مسلمان شہریوں کی صورت میں جن کا تعلق نچلی ذاتوں سے تھا ، ان نئے طبقات میں شمولیت کا یہ سفر بلندی کی جانب تھا۔ انہیں عام لوگوں کے لیے ایک ایساتعلیمی نظام متعارف ہونے سے فائدہ پہنچا تھاجس میں ان کے اور اونچی ذات کے ایسے لوگوں کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا تھا، جنھوں نے اعلیٰ تعلیم کو ہمیشہ اپنی جاگیر سمجھا اور نچلی ذاتوں کے افراد کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع اور سہولت سے محروم رکھااور جس کے ذریعے وہ ذات پات کی یہ حدود پار کر کے اپنا آبائی پیشہ چھوڑ سکیں۔ تعلیم کے اس نئے نظام نے نچلی ذاتوں کے لوگوں کو ان نئے پیشوں کو اپنانے کا موقع فراہم کیا جو سلطنت برطانیہ کے اس اہم ترین حصہ میں، نو آبادیاتی نظام کو چلانے کی ضرورت کے تحت وجود میں آئے تھے۔ نچلی اور درمیانی ذاتوں کے ان لوگوں نے تعلیم یا ہنر میں اپنی استعداد کے مطابق مختلف شعبوں ریلوے، بندرگاہوں، ڈاک، ٹیلی گراف، آبپاشی کے محکموں، عدالت اور کچہریوں، پولیس اور نوآبادیاتی افواج کے عملے میں ملازمت اختیار کی۔ تاہم آب پاشی کی سہولت والے زرعی علاقوں میں متوسط اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے ان کے دیگر ساتھیوں میں خوشحالی کا یہ سفر مقابلتاً آہستہ اور کم مؤثر تھا۔
مندرجہ بالا افراد کے علاوہ ان نئے طبقات میں اونچی ذاتوں کا خوشحال طبقہ بھی موجود تھا۔ شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کے حوالے سے یہ طبقہ سید، مغل، افغان، شیخ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے شرفا یا اشرافیہ پر مشتمل تھا۔ مسلمانوں کے ان طبقات سے تعلق رکھنے والے امراء جن کا تعلق ہندوستان پر حکومت کرنے والے شاہی خانوادوں سے تھا، اپنی سماجی حیثیت میں تنزل سے دوچار ہوئے۔ اشرافیہ کے درمیان اس نئی صورت حال سے پیدا ہونے والی تشویش ہمیں علی گڑھ کالج میں کی جانے والی ان کوششوں میں واضح طو رپر نظر آتی ہے جن میں ان اشرافیہ کے جوان بیٹوں کو دن رات یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی تھی کہ وہ جدید تعلیم حاصل کر کے ان نوآبادیاتی ملازمتوں (Colonial services)کو اختیار کریں۔ اشرافیہ کا یہ طبقہ اس احساس سے دوچار تھا کہ وہ زندگی کے دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے جیسا کہ اونچی ذاتوں کے ہندو اور درمیانے طبقے کے مسلمان، دونوں ہی جدید تعلیم سے استفادہ کرتے ہوئے اسے ترقی کا زینہ بنا کر آگے بڑھ رہے تھے۔ دیوبند مدرسہ کے بانیوں میں بھی یہی تشویش دیکھی جا سکتی ہے جو شرفاء کی اولادوں کے لیے مذہبی تعلیم کا حصول چاہتے تھے۔
اسی دور میں پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے دیگر زبانوں کی طرح اردو صحافت کا بھی آغاز ہوا۔ اردو زبان کے یہ رسالے اور اخبار خالصتاً ان افراد کی وساطت سے شائع ہوئے جو کہنے کو کسی نہ کسی ’’علمی گھرانے‘‘ سے تعلق رکھتے تھے اور جن کا خاندان نسلوں سے علم کے کاروبار سے وابستہ تھا ۱؂۔ یہی وہ لوگ تھے جنھوں نے اردو زبان پڑھنے والے عوام کے لیے موضوعات کا انتخاب کیا۔ تاہم الہلال، ہمدرد اور زمیندار جسے وسائل نے نہ جانے کیوں سلطنت عثمانیہ کی جنگوں سے ان موضوعات کا تعلق جوڑنا ضروری سمجھا۔
شمالی افریقہ اور بلقان کی جنگوں سے لے کر جدید اردو تحریر تک جس میں منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی اور بہت سے دوسرے شامل ہیں، ایک لمبا سفر تھا۔ یہ نئے ادیب جنھوں نے پریم چند اور انگارے جسے جوشیلے انتخاب (Sensational Anthology) کے لکھاریوں سے تحریک حاصل تھی۔ اردو زبان کی ادبی تحریروں کو نئی سمت دیتے ہوئے ان کے موضوعات کا رخ ان مذکورہ بالا نئے طبقات کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کی جانب موڑ دیا۔ ’’داستان امیر حمزہ ‘‘ اور ’’طلسم ہوشربا‘‘ جیسی کلاسیکی داستانوں نے مسلمان حملہ آوروں کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ جب کہ نظیر احمد یا رسوا اور ایسے دیگر جن کا تعلق علی گڑھ کے بانیوں ہی کی نسل سے تھا ، نئے حالات شرفاء کی تنزلی کا ماتم کرتے رہے۔
منٹو اور اس کے ہم عصر اردو ادیبوں نے لکھنے کے لیے ان موضوعات کو اختیار کیا جن کا تعلق اس پرانے اور تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرے کے نچلے طبقات سے تھا۔ مختصراً یہ وہ کردار ہے جو ایک تخلیق کار کی حیثیت سے منٹو نے ادا کیا اور جس کا مثبت اور منفی دونوں قسم کا رد عمل ہوا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد شرفاء کے اردو دان طبقے کے اختیار کردہ موضوعات کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے جہاں منٹو نے اس طبقے کا اشتعال مول لیا وہاں تبدیلی کے متمنی قارئین نے منٹو کی تحریروں کا نہایت پرجوش خیر مقدم کیا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ قدامت پرستوں کے برعکس منٹو بھی انہی کی طرح واضح طو رپر تبدیلی کا حامی ہے۔
بشکریہ: دی ایکسپریس ٹریبیون، ۷؍اپریل۲۰۱۲ء