غزلیات

غزل
میں کہہ روشن جنم جنم سے ہوں
شمع خاموش ہوں سِتم سے ہوں

غیر مشروط تیرے ساتھ ہوں
میں تو قائم اسی بھرم سے ہوں

سر کٹا کے جو سرنگوں نہ ہوا
کربلا کے میں اُس عَلَم سے ہوں

ہے نشیب و فراز میں نشہ
متلاطم جو زیر و بم سے ہوں

حادثوں نے شعور بخشا ہے
متوازن ہی بیش و کم ہوں

پاک طینت ریاض میرا ہے
اس لیے بھی کہ میں حزم سے ہوں
سید ریاض حسین زیدی
غزل
حالات سے ہم الجھ پڑیں گے
خاموش کبھی نہیں رہیں گے

تہذیب کریں گے نخلِ دل کی
پھر اس کو غمِ بہار دیں گے

اب سوچ لیا ہے، دل کا قصہ
تجھ سے تو کبھی نہیں کہیں گے

آنسو نہ بہائیں گے مگر ہم
اس شخص کو یاد تو کریں گے

جب درد کی مے نہیں رہے گی
ہم شیشہِ عمر توڑ دیں گے

مرہم کا خیال چھوڑ عامر
یہ زخم ابھی نہیں بھریں گے
اشفاق عامر
غرل
یہ درد کہانی میں جگا کیوں نہیں دیتے
بچھڑے ہوئے یاروں کو ملا کیوں نہیں دیتے

تصویر میں کیا کیا ہے پسِ رنگ بھی موجود
اب دیکھنے والوں کو دکھا کیوں نہیں دیتے

اس موڑ سے آگے تو کوئی موڑ نہیں ہے
اب مجھ کو مرے گھر کا پتا کیوں نہیں دیتے

آنکھوں میں مچلتی ہیں کسی کل کی امیدیں
تم آج ہی وہ کل بھی دکھا کیوں نہیں دیتے

پھیلا ہے بہت خام خیالی کا دھندلکا
یہ منظرِ بے رنگ مٹا کیوں نہیں دیتے

آگے تو وہی خلوتِ بے فیض ہے عامر
گزری ہوئی گھڑیوں کو صدا کیوں نہیں دیتے
اشفاق عامر
غزل
تمہارے غم میں رعنائی بہت ہے
یہ دل اس کا تمنائی بہت ہے

اُسے ہم راستے پر لے تو آتے !!
مگر وہ شخص ہر جائی بہت ہے!!

مجھے یوسف کے بھائیوں سے غرض کیا
مرا اپنا سگا بھائی بہت ہے

ذرا جلتے بدن پر ہاتھ رکھ دو
محبت میں مسیحائی بہت ہے

اکیلا تو نہیں میں اب بھی انجمؔ
مرے اطراف انتہائی بہت ہے
پروفیسر محمد امین انجم
غزل
خامشی اِتنی رہی ہے مجھ میں
گفتگو ڈوب گئی ہے مجھ میں

ایک بس تم ہی نئے آئے ہو
اور سب کچھ تو وہی ہے مجھ میں

دُور تک دنیا نظر آنے لگی
ایسی دیوار گری ہے مجھ میں

میں مہکتا ہوں تری خوشبو سے
خود کو تُو بھول گئی ہے مجھ میں

کتنا شفّاف تھا منظر میرا
کس قدر دُھول اُڑی ہے مجھ میں

زندگی رقص کبھی کرتی تھی
اب تو چُپ چاپ پڑی ہے مجھ میں
فہیم شناس کاظمی
غزل
تمہارے بعد جو بکھرے تو کُو بہ کُو ہوئے ہم
پھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہم

تمام عمر ہَوا کی طرح گزاری ہے
اگر ہوئے بھی کہیں تو کبھُو کبھُو ہوئے ہم

یوں گردِ راہ بنے عشق میں سمٹ نہ سکے
پھر آسمان ہوئے اور چارسُو ہوئے ہم

رہی ہمیشہ دریدہ قبائے جسم تمام
کبھی نہ دستِ ہُنر مند سے رفو ہوئے ہم

خود اپنے ہونے کا ہر اک نشاں مٹا ڈالا
شناسؔ پھر کہیں موضوعِ گفتگو ہوئے ہم
فہیم شناس کاظمی

 

حارث خلیق کی نظمیں

 

کراچی، میرا شہر
ایسی شدّت ہے اب کے موسم میں
بچ کے جائیں تو کس طرف جائیں
آگ سے موت ڈھالتا سورج
آخری سائباں میں اُترا ہے
خوف اِس شہرِ بے نہایت کی
ہر گلی، ہر مکاں میں اُترا ہے

کیا مگر کیجیے کہ وحشت میں
خونِ ناحق کے رنگ لانے کا
وہ پرانا خیالِ دل افروز
پھر مرے جسم وجاں میں اُترا ہے
جیسے حرفِ خدائے ذوالااجلال
قلبِ پیغمبراں میں اُترا ہے
O
اُداسی کی ایک نظم
اُسے یاد بھی نہ رکھا
اُسے بھول بھی نہ پائے
کسی راہِ بے ثمر میں
جو ہُنر تھے آزمائے
کسی جادہِ جنوں میں
شب و روز سب گنوائے
اُسے یاد بھی نہ رکھا
اُسے بھول بھی نہ پائے
وہ جو غم تھا بیش قیمت
اسے سینت سینت رکھا
نہ تو پوری نیند سوئے
نہ ہم آنسوئوں سے روئے
تھے خوشی کے چند لمحے
سو غمِ جہاں میں کھوئے
اُسے یاد بھی نہ رکھا
اُسے بھول بھی نہ پائے
یہ ہوا کہ موسمِ گل
کسی شاخ پر نہ اترا
کہ سکوں بھی رائیگاں ہے
یہ جنوں بھی رائیگاں ہے
جو یقین ہے بظاہر
وہ بھی عالمِ گماں ہے
اُسے یاد بھی نہ رکھا
اُسے بھول بھی نہ پائے
O
خوف
رات کا خوف نہیں
رات تو کٹ جائے گی
اَن گنت ہجر کی راتوں میں سے
اک رات ہے یہ
جو کہ ہر رات کی مانند
حریم جاں میں
شام ڈھلتے ہی اُتر آئی ہے
آنکھوں آنکھوں میں بَسر ہو
کہ حسیں خوابوں میں
جاگتے سوتے ہوئے رات گزر جائے گی
رات کا خوف نہیں
رات تو کٹ جائے گی
ڈر کوئی مجھ کو اگر ہے
تو وہ دن کا ڈر ہے
O
ستاروں کی پتنگ
اَے ستاروں کی پتنگ
آسماں پر تیرا اپنا ایک رنگ
تیرے اندر بھی خلا ہے
تیرے باہر بھی خلا
وہ خلا جس کی نہیں ہے انتہا
کون جانے بھید اس کا
عشق کے گُم کردہ راہی کے سوا
تیری وسعت دیکھ کر
ہوتی ہے میری عقل دنگ
اے ستاروں کی پتنگ
ڈھونڈتا ہوں میں تری اُس ڈور کو
جو ہے لا محدود
اور آکاش کے سایوں میں گُم
بس سرا مل جائے مجھ کو ڈور کا
یا وہ چرخی جس پہ لپٹی ہے وہ ڈور
ڈور اگر ہاتھوں میں آئے
میں تجھے قبضے میں کر لوں
خوب اُڑائوں رات بھر
ہجر کی بے خواب راتوں میں
تو مجھ سے دور
مجھ سے بے خبر
اے ستاروں کی پتنگ
O
نوحہ
شہرِ بلا کشاں نے
اپنی تمام وحشت
بوجھل فضا سے لے کر
دل میں اُتار دی ہے

وحشت کے تیز جھکڑ
جن میں لہو کی بو ہے
خوابوں کے سب گھروندے
مسمار کر رہے ہیں

شَہ رگ کے چار جانب
درماندگی کے سائے

حلقہ سا اک بنائے
بدمَست رقص میں ہیں

یہ ساعتیں ہیں بھاری
لمحے یہ جاں گُسل ہیں
بدلے یہ حال کیسے
ہم لوگ بے عمل ہیں
O
کچھ مال منال کا ذکر کرو
کچھ مال مَنال کا ذکر کرو
کوئی پیار کی میٹھی بات کرو
یاں ظلم تو ہوتا رہتا ہے
اور لوگ بھی مرتے رہتے ہیں
دن بھر یہ ننگے پَیر پِھریں
اور رات کو بُھوکے سوتے ہیں

یہ بات کسے معلوم نہیں
تم پھر یہ قصّہ لے بیٹھے
کچھ مال منال کا ذکر کرو
کوئی پیار کی میٹھی بات کرو

کچھ باتیں پیرس، لندن کی
کچھ امریکہ، واشنگٹن کی
کیوں افریقہ کا ذکر کرو
ہر دم اِفلاس کی بات کرو

یہ بات کسے معلوم نہیں
تم پھر یہ قصّہ لے بیٹھے
کچھ مال منال کا ذکر کرو
کوئی پیار کی میٹھی بات کرو

سرمائے کے بُھوکے شیروں نے
محنت کے ریوڑ پالے ہیں
جب چاہیں ان کو کھا جائیں
آخر کو قوت والے ہیں

یہ بات کسے معلوم نہیں
تم پھر یہ قصہ لے بیٹھے
کچھ مال منال کا ذکر کرو
کوئی پیار کی میٹھی بات کرو

ہر روز ستم کے شعلوں میں
عزت کی چتا اک جلتی ہے
اور جاہ و حَشم کی ناگن یہ
انساں کے خون پہ پلتی ہے

یہ بات کسے معلوم نہیں
تم پھر یہ قصہ لے بیٹھے
کچھ مال منال کا ذکر کرو
کوئی پیار کی میٹھی بات کرو
دیوانوں کا کیا ذکر کرو!
منصور کی تم کیوں بات کرو
یہ بات پرانی بات ہوئی
جانی پہچانی بات ہوئی
یہ بات کسے معلوم نہیں
تم پھر یہ قصہ لے بیٹھے
کچھ مال منال کا ذکر کرو
کوئی پیار کی میٹھی بات کرو
O
جھوٹے جہنم رسید ہوں گے
ہمارا دودھ والا شیرو جھوٹا تھا
بڑا ہی جھوٹا
اس کے جھوٹ بھی دودھ کی طرح سفید ہوتے تھے
''دودھ کبھی خالص نہیں ہوتا، تم پانی ملاتے ہو''
میری امی ہر صبح اس سے کہتیں
اسی مصالحت آمیز غصے کے ساتھ جو اُن کی عادت ہے
''پانی؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا''
شیرو اُن کی بات یکسرمُسترد کر دیتا
اس کی توند اس کے باپ کی توند سے بھی بڑی تھی
دودھ کی سب سے بڑی بالٹی سے زیادہ بھاری
جب وہ چلتا تو لگتا کہ ایک چھتری ہے
ٹٰھنسی ہوئی
اور اس کی ناف بجائے آسمان کے آپ کی طرف ہے

چُھٹی کے دن
ہماری گلی کے بچے
اُس کے گرد جمع ہو کر پوچھتے
''تمہارے پیٹ میں کیا ہے شیرو؟ یہ اتنا بڑا ہے؟!
''دودھ، اس میں دودھ بھرا ہے''
وہ ایک قہقہہ مارتا جس سے گائے کے گوبر کی بو آتی
بچے اس کی بات پر یقین کر لیتے مگر شک کے ساتھ
وہ چھوٹے ضرور تھے بے وقوف نہیں
کچھ سال بعد
بچے بڑے ہو گئے اور انھیں یقین ہو گیا کہ شیرو جھوٹا ہے
اور سونے پر سہاگا
وہ ایک دوسرے لہجے میں جھوٹ بولتا ہے
چنانچہ ایک دن انھوں نے اس کا پیٹ پنکچر کر دیا
جس میں سے صرف خون نکلا
دودھ تو کہیں بھی نہیں تھا
سچ ہے، جھوٹے جہنم رسید ہوں گے
ؑؑؑ__________________
ہمارے شجرے بکھر گئے ہیں
گماں کی بے رنگ ساعتوں میں
نواح ِکرب و بلا سے دربارِ شام تک ہم
لہو کی اک ایک بُوند کا سب خراج دے کر
تمام قرضے چُکاتے آئے
شکستہ دہلیز
لہو کی محراب
سناں کا منبر
ہماری عزّت بڑھاتے آئے
وہ ہم ہی تھے جو قیام کرتے
رکوع میں جھکتے
زکواۃ دے کر
خود اپنے حصے کا طعام دے کر
درُود و صلوات پڑھتے آئے
وہ ہم تھے جو گھرو ں سے نکلے
تو پھر ابد تک …
پلٹ کے گھر کی طرف نہ دیکھا
ستارہء سحری گواہ ہے
کہ ہم نے انساں کو