امام راشدی
پیر علی محمد راشدی کی علمی وادبی خدمات

سندھ کا راشدی خاندان اپنی علمی ، ادبی ، دینی، روحانی، سیاسی اور سماجی خدمات کی بدولت پورے برصغیر میں ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ پیر علی محمد راشدی اسی خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ ان کی شخصیت کے کئی حوالے ہیں۔ تحریک پاکستان کے انتہائی سرگرم کارکن ہونے کے ساتھ وہ بے مثل صحافی ، صاحب طرز قلمکار، باوقار سیاست دان، کامیاب سفارت کار اور وزیر اور مشیر کی حیثیت سے بھی جانے پہچانے جاتے تھے۔ عجیب بات ہے کہ ایک نہایت پسماندہ گائوں میں اور روایتی پیر و زمیندار گھرانے میں جنم لینے والے پیر علی محمد راشدی نے واقعی کمال کر دکھایا۔ انھوں نے اپنے بل بوتے پر اتنا علم حاصل کر لیا کہ ان کا موازنہ ڈگریوں سے کرنا مشکل ہے۔ پیر صاحب سندھی ، اردو ، عربی ، فارسی اور انگریزی زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے تاہم سندھی اور اردو میں انھوں نے زیادہ لکھا ۔ سندھی تو ان کی مادری زبان تھی مگر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ وہ سندھی کے ادیب ہیں یا اردو کے ؟کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ پیر صاحب باقاعدہ کسی مکتب ، اسکول ، کالج یا یونیورسٹی میں نہیں پڑھے مگر انھوں نے اپنی محنت ، لگن اور جستجو سے اتنا علم حاصل کر لیا کہ خو د اہل علم ان کی علمی صلاحیت کی داد دیتے رہے اور تعلیمی ادارے ان کو اعزازی ڈگریاں اور اعزازات سے نوازتے رہے۔
وہ بلا کے ذہین تھے، یوں بھی راشدی صاحب تمام عمر علم کے متلاشی رہے۔ علم سے عشق رکھتے تھے۔ کتابوں کے ساتھ لوگوں سے بھی معلومات حاصل کرتے رہے۔وہ ملکی اور عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے۔ سیاست میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ ان کا شمار تحریک پاکستان کے بنیادی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان بنانے میں ان کا کردار اہم رہا ہے اور پاکستان کی آبیاری میں بھی پیش پیش رہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب بھی تحریک پاکستان کے حوالے سے تاریخ بیان کی جاتی ہے تو پیر علی محمد راشدی کی شخصیت کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ملک کے ایک سچے اور وفادار ساتھی کو سراسر نظر انداز کرنا تاریخی اور اخلاقی طور پر نا انصافی ہے۔ پیر صاحب کا عملی کردار جانچنے کے لیے ان کے لکھے ہوئے کالم، مضامین ، ایڈیٹوریل ، ذاتی حالات ، آثار اور کتابیں دیکھنے اور پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
پیر صاحب قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی اور تحریک پاکستان میں ان کے شانہ بشانہ رہے۔ خود قائد اعظم ان کے معترف تھے۔ بعض موقعوں پر دونوں کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔۲۳، مارچ ۱۹۴۰ء کو لاہور میں قائد اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کی گئی تاریخی قرارداد پاکستان کی ڈرافٹنگ پیر صاحب نے کی تھی ۔ اسی سلسلے میں پیر صاحب نے ایک سال تک لاہور میں قیام بھی کیاتھا۔انھوں نے ۱۹۳۸ء میں کراچی میں مسلم لیگ کانفرنس کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا جس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔ اس اجلاس میں ہندوستان کے بڑے مسلم لیگی رہنما شریک تھے۔ اسی اجلاس میں شیخ عبدالمجید سندھی نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد قائد اعظم اور عبداللہ ہارون کی سربراہی میں ایک '' فیکٹس فائنڈنگ کمیٹی'' بنائی گئی اور راشدی صاحب کو ان کا سیکریٹری بنایا گیا ۔ بعد ازاں قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے راشدی صا حب کو لیگ کی فارن کمیٹی کا سیکریٹری مقر ر کیا ۔ وہ مسلم لیگ کے صوبائی سیکریٹری بھی بنے۔ حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو پیر صاحب قومی یکجہتی کا مکمل نمونہ تھے۔ وہ سچے محب وطن اور پکے مسلم لیگی تھے۔
پیر علی محمد راشدی نے صحافتی زندگی کے ساتھ ادبی اور سیاسی زندگی کا آغاز بیک وقت کیا۔ سیاسی زندگی کی ابتدا انھوں نے ۱۹۲۴ء سے کی۔ جب انہوں نے حیدر آباد میں '' سندھی تعلیمی کانفرنس '' میں شرکت کی وہاں ان کی ملاقات جی، ایم سید سے ہوئی۔ بعد میں انھوں نے '' انجمن سادات راشدیہ'' قائم کی اوراس کی ترجمانی کے لیے '' الراشد'' رسالہ جاری کیا۔ اس کے بعد وہ سندھ کے مسلمانوں کی واحد سیاسی تنظیم '' سندھ محمڈن ایسوسی ایشن '' کے رکن بن گئے۔ اس تنظیم کے صدر سرشاہنواز خان بھٹو اور سیکریٹری خان بہادر ولی محمد حسن تھے۔ ۱۹۲۷ء تک راشدی اس تنظیم کے سیکریٹری بنے رہے۔ ۱۹۲۹ء میں سندھ بمبئی سے علیحدگی تحریک میں بھر پور حصہ لیا اور ۱۹۳۶ء تک ، سندھ کی علیحدگی تک اپنا قلمی جہاد جاری رکھا۔ ۱۹۳۳ء میں لاڑکانہ ڈسٹرک اسکول بورڈ کے ممبر بنے ۔
۱۹۳۹ء میں سکھر میں مسجد منزل گاہ تحریک شروع ہوئی تو ہندو مسلم فسادات کے اسباب جاننے کے لیے جسٹس ویسٹن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن بنا دیا گیا۔ جس کے سامنے راشدی صاحب نے نہایت کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کی وکالت کی۔ وہ خود رقم طراز ہیں کہ:'' اسی اثنا ء میں سکھرمیں منزل گاہ تحریک چلی تھی اور ایک زبردست ٹربیونل بیٹھا تھا۔ اس ٹربیونل کے سامنے بھی مسلم لیگ کی طرف سے میں نے وکالت کے تھی اور کیس جیتے تھے۔'' ۱۹۳۴ء میں سرشاہنواز خان بھٹو کی لیڈر شپ میں ''پیپلز پارٹی '' وجود میں آئی تو اس میں پیر صاحب شریک ہوئے۔ ۱۹۳۶ء میں سر حاجی عبداللہ ہارون کے ساتھ مل کر '' سندھ اتحاد پارٹی'' بنائی ۔ ۱۹۴۰ء میں لاہور میں رہ کر اس اجلاس کا بندوبست کیا جس میں ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کی '' قراردادپاکستان'' منظور کی گئی۔
۱۹۴۶ء میں مشترکہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے الیکشن میں مسلم لیگی امیدوار یوسف ہارون کے مقابلے میں کھڑے ہوئے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ ۱۹۵۳ء میں سندھ اسمبلی کے بلامقابلہ ممبر منتخب ہوئے۔ اور مالیات ، صحت عامہ اور اطلاعات کے وزیر بنے۔ وزیر مالیات کی حیثیت سے ۱۹۵۴ء میں سندھ کی جاگیروں کا خاتمہ کیا اور زمین غریبوں میں تقسیم کی۔ صحت عامہ سے متعلق اداروں کو منظم کیا ۔ جامشورو میں لیاقت میڈیکل کالج قائم کیا ۔ لاڑکانہ ، سکھر اور نواب شاہ میں سول اسپتال قائم کیے۔ سجاول میں زچہ خانہ اور کوٹری میں تپ دق کے مریضوں کے علاج کے لیے ادارہ قائم کیا۔ اس سے پہلے گورنر دین محمد نے جب سندھ میں قلم ۹۲ نافذ کر کے حکومت کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ رکھی تو پیر صاحب نے ان سے تین اہم کام کروائے جن میں پیر صاحب پاگاہ کی گادی بحال کروانا، فرنٹیئرریگیولیشن رد کرانا اور کرمنل ٹرائیس ایکٹ ختم کروا کر حروں کو حاضریوں سے نجات دلائی۔
انھوں نے ۱۹۵۴ء میں سندھ اسمبلی کی جانب سے ون یونٹ میں شامل ہونے والی قرارداد منظور کرانے میں محمد ایوب کھوڑو کی سربراہی میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ ون یونٹ کے بعد پیر صاحب ۱۹۵۶ء تک مرکزی حکومت میں نشر و اشاعت کے وزیر بنے ۔ اسی دوران حیدر آباد میں ریڈیو اسٹیشن قائم کیا۔ پاکستان کے ۱۹۵۶ء کے آئین کو بنانے میں ان کا بڑا ہاتھ رہا۔ ۱۹۴۹ء میں اینٹی ون یونٹ فرنٹ میں جی اے سید کے ساتھ ون یونٹ ختم کروانے کے لیے کام کیا اور ۱۹۷۰ء میں ون یونٹ کاخاتمہ ہوا۔ ۱۹۷۰ء میں ہی سندھ اسمبلی کی ممبر شپ کے لیے سیہون کوٹری حلقے سے الیکشن لڑے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔۱۹۷۲ء تا۱۹۷۷ء ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اطلاعات و نشریات کی وزارت میں مشیر رہے۔ ۱۹۵۷ء میں مرکزی مجلس قانون ساز سے مستعفی ہو کر فلپائن میں پاکستان کے سفیر بن گئے۔ فلپائن کی حکومت نے ان کو چار سال تک سفیر کی حیثیت سے خدمات دینے پر اعلیٰ سول اعزاز ''آرڈر آف سیکا تونا '' سے نوازا ۔ ۱۹۶۲ء میں وہ چین میں سفیر مقرر ہوئے ۔ اسی دوران ان کی ملاقاتیں مائو زے تنگ اور چواین لائی کے ساتھ ہوتی رہیں ۔ چین اور پاکستان کو قریب لانے میں راشدی صاحب کا تاریخی کردار اہم ہے۔
پیر علی محمد راشدی ملک کے واحد سیاستدان تھے جو نہ کبھی عتاب میں آئے ، نہ کیس داخل ہوا ،نہ ایبڈو میں آئے اور نہ کبھی جیل میں گئے۔
سیاست پیر علی محمد راشدی کا پسندیدہ موضوع تھا۔ وہ عملی سیاست کے قائل تھے۔ وہ سیاست میں مہا گرو کی حیثیت رکھتے تھے۔شاید ملک کا کوئی بھی سیاستدان ایسا نہ ہو گا جس نے راشدی صاحب سے سیاست کے گُر نہ سیکھے ہوں۔
ان کی رہائش گاہ ایک سیاسی اکھاڑہ تھی جہاں وقت کے بڑے بڑے سیاستدان آتے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کو سیاست میں متعارف کرانے میں راشدی صاحب کا بڑا کردار تھا۔ بھٹو خاندان سے پیر صاحب کے قریبی تعلقات تھے۔ راشدی صاحب ایک طرف بھٹو صاحب کے قریب تھے تو دوسری طرف پیر پاگاڑہ سے بھی ان کے تعلقات استوار رہے۔ پیر پاگاڑ ان کو '' استاد '' کہتے تھے۔
پیر علی محمد راشدی اپنی ذات میں ایک تحریک تھے۔ ان کے قلم سے افسر شاہی سے لے کر نوکر شاہی تک کتراتے تھے۔ حکمران ان کی تحریروں سے خائف رہتے تھے۔ لکھنے کے معاملے میں وہ بے باک تھے اور ان کا قلم حق و صداقت کی پاسداری کرتاتھا۔ سندھی ان کی مادری زبان تھی۔ مگر اردو پر ان کو ملکہ حاصل تھا۔ خود میر خلیل الرحمان مرحوم ان کی اردو دانی کی تعریف کیا کرتے تھے۔ مزاح کی چاشنی سے بھر پور ان کے کالم ذو معنی ہوتے تھے۔ وہ تاریخ کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے اور مشاہدے کی بے پناہ قوت رکھتے تھے۔ ان کی تحریر تاریخ کاتسلسل ہوتی تھی جس میں حال کی عکاسی اور مستقبل کا پتہ چل جاتا تھا۔ سابق گورنرپنجاب مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم، راشدی صاحب کو ''نیپولین بونا پارٹ'' کے لیول کا آدمی کہتے تھے۔ ان کے بھائی نامور مورخ پیر حسام الدین راشدی کے بقول '' پیر علی محمد راشدی جیسے لوگوں کے ذہن زمین پر زلزلے بر پا کر دیتے ہیں''۔ راشدی صاحب کی زندگی رچرڈبرٹن کی زندگی کا تسلسل تھی ، جو خود لا رینس آف عربیہ کا پر تو تھے۔
پیر علی محمد راشدی خاص نظریے کے تحت لکھتے تھے۔وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ مسائل کی نشاندہی کرتے اور ان کا حل بتاتے رہتے تھے۔ ملکی خواہ غیر ملکی حالات پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ان کی نظر میں ملکی اور دیگر ملکوں کی خرابیوں کا اصل محرک ، نوکر شاہی اور افسر شاہی تھا۔ بد قسمتی سے پاکستان کو یہ بیماری ولادت سے ہی لگ چکی تھی۔ لیاقت علی خان کے قتل سے ملک میں نوکر شاہی اور افسر شاہی کے بھاگ جاگ گئے ۔ وہ خود لکھتے ہیں :''قائد ملت ؒ کی شہادت۱۶، اکتوبر ۱۹۵۱ء کو راولپنڈی میں واقع ہوئی ،اس دن جمہوریت کا چراغ بجھ گیا اور نوکر شاہی کے لیے آگے بڑھنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کا راستہ کھل گیا۔''
پیر علی محمد راشدی ۵ اگست ۱۹۰۵ء کو ضلع لاڑ کانہ کے ایک چھوٹے سے گائوں ''بہمن'' میں پیدا ہوئے۔ تاریخی اعتبار سے یہ گائوں ایرانی باقیات میں شامل ہے۔ راشدی صاحب کے آباواجداد عہد تالپور میں پیر گوٹھ ضلع خیر پور میرس سے ہجرت کر کے یہاںآکر مقیم ہوئے ۔ پیر علی محمد راشدی موجودہ پیر صاحب پاگارہ کے خاندان سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ راشدی خاندان کے جدا مجد حضرت پیر سید محمد راشد روزہ دھنی ؒ کے بڑے صاحبزادوں پیر سید صبغت اللہ شاہ راشدی (اول ) اور پیر سید محمد یاسین شاہ راشدی میں گادی کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوالیکن دونوں بھائیوں میں صلح کرادی گئی۔ لہٰذاپیر صبغت اللہ شاہ پاگارہ بنے اور پیر محمد یاسین کو علم (جھنڈا) عطا کیا گیا۔ اس طرح راشد ی خاندان دو حصوں میں منقسم ہو گیا۔ ایک '' پاگارہ خاندان '' اور دوسرا'' جھنڈے والا خاندان''۔ پیر صبغت اللہ شاہ ( پاگارہ اول ) کے دو فرزند سید علی محمد شاہ اور سید علی گوہر شاہ ہوئے ۔ علی محمد شاہ چھوٹے بھائی کے حق میں دستبردار ہوگئے اور پیر علی گوہر شاہ '' اصغر '' المعروف بنگلے دہنی پاگارہ بن گئے ۔ پیر علی محمد شاہ کو پانچ فرزند عطا ہوئے جن میں ایک سید پیر شاہ راشدی بھی تھے۔ پیر شاہ کو حامد علی شاہ نامی بیٹا ہوا ، جن کو اللہ تعالیٰ نے پیر علی محمد راشدی اور پیر حسام الدین راشدی جیسے عظیم فرزند عطا کیے ۔
راشدی صاحب بچپن سے ہی علم کے متلاشی رہے۔ پیر صاحب نے فارسی سے ابتدا کی ، عر بی ، انگریزی اور اردو پردسترس اپنی ذہانت اور شوق سے حاصل کی ۔ اس کا اندازہ اس بات لگایا جاسکتا ہے کہ راشدی صاحب میں پندرہ سال کی عمر میں ہی لکھنے کی صلاحیت پیدا ہو چکی تھی اور وہ اتنا مطالعہ بھی رکھتے تھے کہ اخبار کے لیے مضامین لکھنے لگے۔انھوں نے اپنے گائوں سے ایک ماہنامہ '' الراشد'' جاری کیا۔ یہ مولانا ابوالکلام آزاد کے ''الھلال '' اور '' البلاغ'' کی طرز پر شائع ہونے لگا۔ اس کا دفتر پیر صاحب نے اپنے گائوں 'بہمن ' میں ہی رکھا ۔ خود لکھتے ہیں کہ:'' ۱۹۲۴ء تک جب میری عمر انیس برس کی تھی ، مجھ میں اتنی صلاحیت پیدا ہو گئی تھی کہ میں کچھ لکھ سکتا ہوں ۔ میں نے ایک ماہنامہ 'الراشد ' کے نام سے وہیں گائوں سے نکالنا شروع کر دیا ،اس کو چھپواتا سکھر سے تھامگر دفتر گائوں میں ہی رکھا''۔
سکھر آنے جانے سے ان کا واسطہ پریس اور اخباری دنیا کے ساتھ بھی پڑالہٰذا وہ جلد ہی صحافتی دنیا میں آگئے اور چھاگئے۔ اس زمانے (۱۹۲۴) میں راشدی صاحب '' سندھ نیوز '' اخبارکے نامہ نگار بنے۔ ۱۹۲۶ء میں '' الحزب '' شکار پور کے ایڈیٹر بنے ۔ ۱۹۲۷ء سے ۱۹۳۴ء میں اپنا اخبار '' ستارہ سندھ'' جاری کیا جو ۱۹۳۷ء تک نکلتا رہا ۔ اس دوران پیر صاحب ۱۹۳۶ء میں ایک اخبار '' صبح سندھ'' کے نام سے جاری کرچکے تھے۔ بعد میں وہ '' مسلم وائیس'' کے نام سے پہلے سکھر سے بعد میں کراچی سے شائع کرتے رہے۔ یہ اخبار ۱۹۴۶ء تک جاری رہا۔ اس اخبار کے ذریعے پاکستان کے متعلق ہندو پریس کے زہرآلودہ بیانات کا مقابلہ بڑی جرأت کے ساتھ کیا گیا ۔ بعد میں پیر صاحب(۱۹۴۷ئ) '' قربانی '' اخبار سے وابستہ ہو گئے۔ یہ اخبار کھوڑ و صاحب کی وزارت میں بند کرایا گیا۔ ۱۹۴۹ء میں کھوڑو صاحب نے جب انگریزی اخبار '' سندھ آبزرور'' کا انتظام سنبھالا تو پیر صاحب دوبرس کے لیے اس کے ایڈیٹر بنے۔ اسی زمانے میں اس اخبار کا تصادم، انتہائی طاقتور اخبار ''ڈان'' سے ہوا۔ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کی پیر صاحب سے قلمی جنگ پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم اور دلچسپ باب ہے۔ ۱۹۴۹ء میں راشدی صاحب ''آل پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرس کانفرنس'' کے صدر منتخب ہوئے۔۱۹۵۱ء میں پاک بھارت کے ایڈیٹر ز کی تنظیم '' جوائنٹ پریس کمیشن '' کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کی سربراہی میں کئی وفود نے مصر ، برطانیہ اور ہندوستان کے دورے کیے۔ ایک وفد ہندوستان بھی گیا تھا ، جس سے لیاقت نہرو معاہدے کے لیے راہ ہموار ہوئی تھی۔وفد نے یوپی دہلی اور بھارتی پنجاب کے فسادات والے علاقوں کا دورہ بھی کیا تھا۔ بعد ازاں وہ ۱۹۵۲ء میں '' اسٹیٹس مین '' اخبار جاری کر چکے تھے۔ ۱۹۵۴ء میں کراچی سے انگریز ی اخبار'' ایسٹرن ایکسپریس '' کے نام سے شائع کرتے رہے اور یہ سلسلہ ۱۹۵۵ء تک جاری رہا ۔ اس کے بعد اخباری کالم نگاری تک محدود ہو گئے۔ روزنامہ '' جنگ'' میں ان کے کالم پوری آب و تاب سے شائع ہوتے رہے ۔ وہ ۲۳ سال مسلسل '' جنگ'' کے لیے کالم لکھتے رہے۔ انھوں نے ہانگ کانگ میں رہتے ہوئے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۴ء تک جنگ کے لیے '' مکتوب مشرق بعید '' کے عنوان سے کالم لکھے۔ ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۸ء تک '' مشرق و مغرب'' عنوان کے تحت کالم لکھے۔اسی دوران ''جنگ ''میں ہی مزاحیہ کالم '' وغیرہ وغیرہ '' لکھنا شروع کیا ۔ ۱۹۶۷ء تا ۱۹۶۹ء تک روز نامہ سندھی اخبار ''عبرت '' میں رندء پند'' کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھا اور ۱۹۷۴ء میں لندن سے شائع ہونے والے '' جنگ '' میں ''A point of view'' کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھا اور ۱۹۷۴ء میں کراچی کے شام کے اخبار '' لیڈر'' میں کچھ ماہ کے لیے '' IMPRESSIONS AND REFLECTIONS'' نام سے کالم لکھے۔
اگرچہ پاکستانی عوام سے پیر علی محمد راشدی کا حقیقی تعارف سادہ اور عام فہم زبان میں تحریر اردو کالم ہی بنے، لیکن سیاست و صحافت میں مصروف رہتے ہوئے وہ اپنی تاریخ ، تہذیب اور ثقافت سے بھی غافل نہ رہے۔ راشدی صاحب نے سندھ کی تاریخ پر مضامین اور تحقیقی مقالے بھی تحریر کیے، جو تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے ۔ سکھر میں رہائش کے دوران راشدی صاحب کا واسطہ سکھر اور روہڑی کے آثار قدیمہ سے بھی پڑا اور ان پر تحقیقی کام کیا ۔
پیر علی محمد راشدی کی یادداشت پر مبنی سندھی کتاب'' اھی ذینھن اھي شینھن'' کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے ۔ یہ کتاب تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جو سندھی ادب کا شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ '' فریاد سندھ'' کتاب بھی سندھی ادب میں اہم ہے ۔ راشدی صاحب نے ایک انگریزی کتاب''STORY OF SUFFERINGS OF SIND''کے عنوان سے لکھی لیکن جو خان بہادر محمد ایوب کھوڑو کے نام سے شائع ہوئی تھی ، اس کے علاوہ پیر صاحب کی ایک اہم کتاب '' SINDH WAYS AND DAYS'' منظر عام پر آچکی ہے۔ اس کے علاوہ بھی سینکڑوں کی تعداد میں سندھی ، اردو اور انگریزی مضامین ، مقالے اور دیگر تحریریں مختلف اخبارات میں شائع ہوئیں جنہیں یکجا کرکے اور شائع کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے ۔
پیر علی محمد راشدی کے بڑے صاحبزادے حسین شاہ راشدی مرحوم بھی ایک مایہ ناز ادیب اور دانشور ہونے کے ساتھ سیاستدان بھی تھے اور سینیٹر بھی بنے۔ پیر صاحب کے دوسرے صاحبزادے عادل راشدی شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں ۔ پیر علی محمد راشدی کی اہلیہ بیگم ممتاز راشدی بنگال سے مولوی فضل الحق کی پوتی تھیں اور جو خود بھی نامور اہل قلم اور سماجی شخصیت تھیں۔پیر علی محمد راشدی جیسے لوگ ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہوتے ہیں ۔ ملک کا یہ چمکتا ستارہ ۱۴ مارچ ۱۹۸۷ ء کو ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ لیکن وہ آج اپنی تحریروں میں زندہ ہے۔
٭٭٭٭
مطبوعاتِ ادارہ فروغِ قومی زبان
جدید صحافتی انگریزی اردو لغت
سید راشد اشرف
قیمت: ۲۸۰ روپے
تعلقات عامہ
زاہد ملک
قیمت: ۱۶۰ روپے
تحقیق کا فن
گیان چند
قیمت: ۳۷۰روپے
ڈاکٹر سید عبداللہ کی اردو خدمات
ڈاکٹر ممتاز منگلوری
قیمت: ۲۰۰ روپے
اردو ، انگریزی ،فارسی، عربی گرامر
پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد رضوی
قیمت: ۱۳۰ روپے
مغرب کے تنقیدی اصول
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی
قیمت: ۳۰۰ روپے
میر حسن اور ان کا زمانہ
ڈاکٹر وحید قریشی
قیمت: ۳۲۵ روپے
جوانسال بگٹی
پروفیسر عزیر بگٹی
قیمت: ۲۵۰ روپے