شیر محمد، ابنِ انشاؔ
(سالگرہ کے حوالے سے خاص مضمون)
ڈاکٹر ریاض احمد ریاض

آبائی ماحول، خاندانی حالات، وطن، پیدائش اور نام ونسب بڑے سکہ بند قسم کے عنوان ہیں جن کو موضوع بنائے بغیر کسی اہم ادبی شخصیت کی سوانح حیات کے بیان میں وہ متنانت اور سنجیدگی پیدا نہیں ہوتی جو ایک علمی اور تحقیقی کام کے لیے ضروری ہے لیکن بات صرف متانت یا سنجیدگی کی نہیں۔ دراصل یہ جاننا کہ کوئی کسی بھی حوالے سے اہم شخصیت فی الحقیقت کیا ہے آسان کام نہیں ۔ انسان کے بیرونی خدوخال کے علاوہ اس کی ایک داخلی کائنات بھی ہوتی ہے جس کی تشکیل میں ہم اس کے توراث، بچپن کے حالات ، ابتدائی تعلیم اور اس کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور تہذیبی پس منظر کو نظر انداز نہیں کر سکتے بلکہ اس کے خاندان اور اَب وجد کا ذکر بھی اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کی ذہنی نشوونما کے تجزیے اور اس کی شخصیت کی باز آفرینی کی کوشش میں ان عوامل سے دوچار ہوئے بغیر چارہ نہیں! یہ الگ بات کہ جب وہ شخصیت اس سارے ماحول سے ابھر کر ہمارے سامنے آئے تو اس طویل مسافت کی گرد تک ہمیں اس کے چہرے پر تو کیا اس کے پائوں پر بھی نظر نہ آئے۔ یہ بات ابنِ انشاؔ کے سلسلے میں خاص طور پر قابل التفات ہے کہ کس طرح دورِ جدید کی متمدن شہری فضائوں سے دور ایک معمولی بستی کے غریب کاشتکارگھرانے کا بچہ اپنی ذاتی لیاقت او ر کوشش سے شعر گوئی میں میرؔ اور نظیرؔ کی روایت کا امین اورا ردو نثر میں شگفتہ نگاری کے ایک لازوال اسلوب کا مالک بنا۔ ابن انشا ۱۵ جون ۱۹۲۷ء کو جالندھر کی تحصیل پھلو کے گائوں تھلہ آباد میں پیدا ہوئے۔ جو اپنے گائوں سے ورنیکلر مڈل کا متحان دینے قریب قصبہ کے سکول میں آیا تو عام کھدر کی چار خانہ دار رنگ دار دھوتی باندھے ہوئے پائوں سے ننگا ایک سہما ہوا جھجکتا کانپتا لڑکا تھا لیکن جب اس نے لندن کے ایک ہسپتال میں قریباً پچاس اکاون سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کیں تو کرۂ ارض کے قریباً سبھی قابل دید نگر اور معروف بستیاں گھوم چکا تھا اور اردو میں شگفتہ نگاری کے ایک ایسے انداز کی داغ بیل ڈال گیا جو اسی سے خاص تھا اور اپنے تراجم ، سیاحت ناموں، طنزومزاح کے مجموعوں، خطوط اور فکاہیہ کالموں کی بدولت ادبیات اُردو کا ایک وقیع اور معتبر نام قرار پایا۔ دنیاوی قدر و منزلت کے لحاظ سے بھی اس کا عہدہ وزیر کے برابر تھا جسے اپنی ابتدائی زندگی میں ہندی اور گورمکھی کی ایک آدھ معمولی کتاب کے سوا کوئی ڈھنگ کی چیز پڑھنے کو نہ ملی، لیکن جس نے مملکت پاکستان میں کتابوں کی ترقی اور فروغ کے لیے بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کتابوں کی دنیا کے مسائل معلوم کر کے ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کیے اور کئی منصوبوں اور ترقیاتی سکیموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، جو متعدد کتاب میلوں، کتابی نمائشوں اور تعارفی تقریبات کا روح رواں تھا۔ جو بیرون ملک پاکستانی مطبوعات کا نہایت کامیاب نمائندہ اور یونیسکو کے مطالعاتی پروگراموں کا سرگرم کارکن تھا اور ملک کے قریباً سبھی قابل ذکر روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کے ذریعے اپنی تمام مصروفیات سے عوام الناس کو اور اپنے خاص طنزومزاح سے بھرپور انداز میں ادبی قارئین کو مطلع رکھتا تھا۔ جس نے بے تحاشا لکھا اور بہت خوب لکھا اور اپنے معاصر لکھنے والوں سے اپنا لوہا منوایا… لوگ اس کے اس بہروپ پر عش عش کر اٹھے لیکن جو اپنی شاعری ہی کو اپنا اصلی روپ اور ویرانیٔ دل کی حکایتیں سنانے اور جوگ بجوگ کی کہانیاں کہنے ہی کو اپنا فن جانتا تھا بقول خود:
انشاؔ جی ہے نام انہی کا ، چاہو تو ان سے ملوائیں؟
ان کی روح دہکتا لاوا، ہم تو ان کے پاس نہ جائیں!
یہ جو لوگ بنوں میں پھرتے، جوگی بے راگی کہلائیں
ان کے ہاتھ ادب سے چومیں، ان کے آگے سیس نوائیں!
سید ھے من کو آن دبوچیں، میٹھی باتیں سندر بول
میرؔ، نظیرؔ، کبیرؔ اور انشاؔ … سارا ایک گھرانا
ابن انشاؔ کے ہمدم دیرینہ ممتاز مفتی نے ایک دفعہ ایک منصوبہ بنایا تھا کہ مشہور ادیبوں کو خود نوشت آپ بیتیاں پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے ابنِ انشاؔ کو لکھا کہ اپنی آپ بیتی لکھیں۔ جو اب میں انھوں نے ممتاز مفتی کو جو مکتوب لکھا، اس میں انھوں نے کہا:
''تم نے جو سکیچ مانگا ہے اس کی نوعیت معلوم نہیں ہوئی۔ اگر تھرڈ پرسن میں چاہیے تو میں کیوں لکھوں۔ تم خود کیوں نہ لکھو لیکن نہیں میاں، تمہارا کچھ اعتبار نہیں۔ جانے کیا لکھ دو۔ لہٰذا اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہے، چند سطریں لکھتا ہوں، انھیں گھٹا بڑھا لو''۔
''مشرقی پنجاب کے دو آبے کا دہقانی کہیں بھی پہنچ جائے۔ لاہور کہ دہلی، لندن کہ کیلیفورنیا۔ اپنی ادا سے فوراً پہچانا جاتا ہے۔ یہ لوگ لکھتے بھی ہیں تو وارث شاہ کے استاد کے بقول مونج کی رسی میں موتی پروتے ہیں لیکن ابنِ انشاؔ کو موتی چنداں نہیں بھاتے۔ اپنی مونج کی رسی میں وہ کاٹھ کے منکے پروتاہے۔ اس کا محاورہ اور لہجہ دہلی، لکھنؤ ہر جگہ کی سکہ بندی سے دور ہے اور سچ پوچھو تو یہی ایک سلیقے کی بات اس نے کی ہے ورنہ ادب کے بازار میں جس کی تعریف پوچھو… اپنے کو فلاں ابن فلاں اور موتیوں کا خاندانی سوداگر بتاتا ہے۔ ابن انشاؔ کو بار ہا اللہ کا شکر ادا کرتے دیکھا گیا ہے کہ اس کے خاندان میں کوئی صاحبِ دیوان یا بے دیوان شاعر نہیں ہوا۔ ورنہ یا تو اسے اس کے نام کا سہارا لینا پڑتا یا اس کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑتا۔ سید انشاء اللہ خاں انشاؔ سے بھی اس کی کوئی نسبت نہیں ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہے اور خطوں میں اسے سید ابنِ انشاؔ تک لکھتے ہیں اور یہ چاہتا تو اس نسبت سے سید بن سکتا تھا لیکن یہ عزت سادات بھی اسے کبھی مرغوب نہیں ہوئی۔ اپنی دہقانیت میں خوش ہے اور اللہ اسے اسی میں خوش رکھے''۔
''پڑھائی کو دیکھیے تو اس نے اعلیٰ تعلیم پائی ہے۔ تجربے کو دیکھیے تو اس نے بہت پاپڑ بیلے ہیں اور ایران تو ران بلکہ فرنگستان تک گھوما ہے۔ مطالعے میں اردو، انگریزی اور پنجابی سے باہر فارسی اور ہندی سے بھی شغف ہے۔ نظم نثر سبھی میں قلم آزمائی کی ہے لیکن اپنے لیے باعثِ عزت صرف شاعری کو سمجھتا ہے۔ شاعری جس میں جوگی کا فقر ، طنطنہ، وارفتگی اور آزادگی ہے۔ بات چیت کیجیے تو بعض اوقات بقراطیت بھی چھانٹے گا، لیکن اصل میں بقراطوں سے نفور ہے۔ فقط انشاؔ جی ہے''۔
''…بچوں کے لیے بھی شاعری کی ہے، لیکن ایسی نظمیں تو بچے بھی لکھ سکتے ہیں یا شاید، بچے ہی لکھ سکتے ہیں۔ نثر لکھنے کا انداز شگفتہ ہے۔ جسے مزاح لطیف بھی کہتے ہیں لیکن اس ذیل میں کم لکھتا ہے حالانکہ اس کا میدان یہی ہوتا تو خوب ہوتا''۔
''خاموش ہے، عزلت گزیں ہے، بھلکّڑ ہے …… عشق بھی کرتا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میاں قیس کے انتقال کے ساتھ یہ قوم ناپید ہو گئی تھی وہ اس سے ملیں۔ یہ ہماری نہیں اس کی اپنی فرمائش ہے:
انشاؔ سے ملو اس سے نہ روکیں گے و لیکن
اس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی!
مشہور ہے ہربزم میں اس شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام میاں کی!''
بھارت کے صوبہ پنجاب کے شہر لدھیانہ سے چودہ کلو میٹر یعنی قریباً پونے نو میل کے فاصلے پر پھلورکاجنکشن واقع ہے۔ لدھیانہ سے اس قربت کے باوجود یہ قصبہ کچھ انتظامی مصلحتوں کے پیش نظر ضلع جالندھر میں شامل تھا اور اس کی ایک تحصیل شمار ہوتا تھا، حالانکہ جالندھر شہر اس قصبے سے سنتالیس کلو میٹر دور تھا۔ گویا لدھیانہ سے قریباً تین گنا فاصلے پر۔ اس لیے انتظامی معاملات سے قطع نظر پھلور کی آبادی کا زیادہ رابطہ اپنے اصل ضلعی صدرمقام جالندھر کی بجائے لدھیانہ سے رہتا تھا۔ چنانچہ اس علاقے کے سکولوں کے طلبا بھی آٹھویں درجے کے بعد مزید تعلیم کے لیے جالندھر کی بجائے لدھیانہ کا رُخ کرتے تھے۔ کاروباری لوگوں کو بھی خرید و فروخت کے لیے لدھیانہ ہی نزدیک پڑتا تھا کیونکہ اپنا ضلع بجا، لیکن یہ شہر ان کے لیے ایک تہائی سے بھی کم دوری پر تھا اور شہری ترقی اور خوشحالی میں بھی کسی طرح جالندھر سے کم نہیں تھا۔
تحصیل پھلور سے اڑھائی تین میل کے فاصلے پر ایک سر سبز شاداب اور پُررونق گائوں تھلّہ آباد تھا جس کی زیادہ آبادی سکھ کاشتکاروں پر مشتمل تھی۔ یہی لوگ نسبتاً خوش حال بھی تھے۔ یہاں دو تین گھر ہندو بنیوں کے تھے۔ مسلمانوں کی تعداد بھی برائے نام تھی اور اس میں نمایاں برادری کھوکھر راجپوتوں کے ایک خاندان کی تھی جن کے پاس سکھوں کے مقابلہ میں بہت کم زمین تھی۔ ان کے اَبّ و جدّ بھکر، ملتان اور سندھ وغیرہ سے نقل مکانی کر کے تلاش روز گار میں ان علاقوں میں آ نکلے تھے اور تین چار پشت پہلے انھوں نے دین اسلام قبول کیا تھا۔ اس ظاہری مذہبی فرق کے باوجود اس گائوں کی عمومی فضا بہت پُر امن تھی کیونکہ مسلمانوں کے ایک دو خاندان تھے۔ ہندو بھی نہ ہونے کے برابر اور سکھ… ان کا تو خیر یہ گائوں تھا۔
اس گائوں کے وسط میں تین کمروں اور دو برآمدوں پر مشتمل ایک لوئر مڈل سکول تھا جس میں چھٹی جماعت تک تعلیم دی جاتی تھی لیکن انگریزی کے مضمون کے بغیر۔ اساتذہ میں اہم نام ماسٹر چین سنگھ اور لالہ رام پرشاد کے تھے۔ پھر ورنیکلر مڈل کے لیے ایک قریبی نسبتاً بڑے گائوںاپرہ کا رخ کرنا پڑتا تھا لیکن انگریزی اس مڈل سکول میں بھی نہیں تھی۔ درس و تدریس کی حد تک زیادہ تر ہندو اور سکھ ہی ان تعلیمی اداروں سے استفادہ کرتے تھے۔ ابن انشاؔ اس گائوں 'تھلہ' کے اس پرائمری سکول کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ایک ڈائری میں رقمطراز ہیں:
''میرے بزرگ ایران یا توران سے نہیں آئے۔ ہفت ہزاری بھی نہیں تھے۔ مغلوں سے کوئی قبالہ یاانگریزوں سے کوئی جاگیر بھی نہیںپائی۔ گھرانے میں کوئی کسی فن کا جیّد عالم نہیں گزرا۔ اساتذہ بھی ماسٹر چین سنگھ اور لالہ رام پر شاد قسم کے تھے۔ درس گاہیں بھی معمولی پائیں''۔
اس بستی کی مسلمان کھوکھر برادری میں ایک نام چوہدری ہیرے خاں نسبتاً زیادہ معروف تھا۔ ان صاحب کے پاس کاشتکاروں کے لیے گائوں سے منسلک ہی رقبے میں تھوڑی لیکن کافی زرخیز زمین تو موجود تھی اور اگر وہ محنت اور جانفشانی سے کام لیتے تو بہت اچھی گزر بسر ہو سکتی تھی لیکن ان کے مزاج میں اپنے متمول ہونے کی نمائش کا جذبہ بہت زیادہ اور سفید پوشی کا عنصر غالب تھا۔ ظاہری ٹیپ ٹاپ کے قائل اور میلوں ٹھیلوں میں شرکت کے رسیا تھے اور تھوڑے کو بھی زیادہ بتا کر ہم چشموں میں ممتاز رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ ادھار لے کر بھی اپنی امارات کے اظہار کا موقعہ نہ جانے دیناجن کی سرشت میں شامل تھا تاکہ خاندان کی ناک نیچی نہ ہونے پائے۔ بس ان کی چودراہٹ یہیں تک تھی۔ طبعاً شریف النفس اور لڑائی جھگڑے سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ اس زمانے کے دیہاتی چوہدریوں کے مشاغل از قسم کتوں اور مرغوں وغیرہ کی لڑائیوں سے بھی انھیں کوئی شغف نہ تھا۔ عام حالات میں ان کی بڑی عیاشی، یہی تھی کہ حقہ درمیان میں ہو۔ چار آدمی بیٹھے ہوں اور گپ لگ رہی ہو جس میں نمایاں آواز انہی کی ہو۔
ان کی پہلی اولاد ایک بیٹی تھی جو چھوٹی عمر میں چل بسی۔ پھر دو بیٹے پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ لبھو خاں اور منشی خاں۔ لبھو خاں منشی خاں سے دس بارہ سال بڑے تھے اور اپنے والد کے صحیح جانشین۔ صرف ایک بات میں باپ سے مختلف کہ ان کے مزاج میں نفاست پسندی، صلح جوئی اور نرمی تھی۔ یہ درشت مزاج اور غصیلے تھے۔ بڑے کھڑکے دڑکے کے قائل۔ اپنے خود ساختہ نظریات کے پابند ۔ لڑکیاں تو درکنار لڑکوں کی تعلیم کے بھی سخت خلاف، صرف قوت جسمانی کے قائل اور عزت و آبرو کے روایتی خاندانی تصورات پر جان دینے پر ہمہ وقت مستعد بلکہ کسی بے حد معمولی بات پر بھی لڑائی مار کٹائی کو تیار۔
مرا دشمن مجھے للکار کے جائے گا کہاں!
کی تصویر مجسم! اور دشمنی کی بنیاد معمولی ہنسی مذاق بھی ہو سکتا تھا۔ اگرچہ وہ ہر وقت لیے دیئے اور سنجیدہ رہتے تھے۔ ان کا یہ خوف (فسادِ خلق) برادری میں تو جو تھا سو تھا، گھر کی چار دیواری کے اندر بھی چڑی نہیں پھڑک سکتی تھی۔ ان کے گھر میں داخل ہونے کا مطلب یہ تھا کہ عورتیں اپنے سر اپنی چادروں سے ڈھانپ لیں (شفوں یا شفون قسم کے ٹرانسپیرنٹ دوپٹوں کا رواج ابھی ان دیہات تک نہیں پہنچا تھا اور نہ اس کی یہاں گنجائش تھی۔ اکثر بھائیوں کی طرح چھوٹے بھائی منشی خاں کا مزاج بڑے بھائی کے بالکل برعکس تھا بلکہ والد کی زندگی میں ان کی حوصلہ افزائی سے انھوں نے اپنے گائوں سے لوئر مڈل سکول میں چار جماعتیں بھی پڑھ لی تھیں۔ ان کی بڑی تمنا تھی کہ وہ تعلیم حاصل کریں لیکن باپ کے انتقال کے بعد بڑے بھائی نے ان کی آرزؤوں پر پانی پھیر دیا۔ بلکہ ممتاز مفتی راوی ہیں کہ سکول سے نکل کر جب بھائی کے ساتھ کاشتکاری میں ہاتھ بٹانا شروع کیا تو اس خاندان کی گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتی تھی اور غم غلط کرنے کے لیے انھوں نے پنجابی میں شعر کہنے کا مشغلہ بھی اختیار کیا۔
''منشی خاں ایک معمولی کسان تھا۔ تھوڑی سی زمین تھی۔ مشکل سے گزارہ ہوتا تھا۔ اس دلخراش حقیقت کو بھولنے کے لیے اس نے پنجابی میں شعر کہنے کا شغل اپنا رکھا تھا۔ اچھے شعر کہتا تھا۔ خوش گلو تھا''۔
بہرحال منشی خاں ان لوگوں میں تھے جن کے شب و روز میں کوئی لمبے چوڑے اتار چڑھائو نہیں ہوتے۔ نہ انھیں زندگی سے بہت زیادہ امیدیں ہوتی ہیں۔ روکھی سوکھی کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والے لوگ!
منشی خاں کی شادی اپنی برادری ہی میں لدھیانہ کی تحصیل سمرالہ کے کاشتکار خاندان میں چوہدری فضل خاں کی صاحبزادی مریم سے ہوئی۔ یہ لوگ بھی انہی کی طرح اپنے ہاتھوں سے کھیتی باڑی کرتے تھے اور سخت کوش قسم کے محنتی کسان تھے۔ منشی خاں کی بیوی مریم ایک مکمل گرہستن خاتون ثابت ہوئیں۔ جس طرح کی ہماری محنت کش دیہاتی عورتیں ہوتی ہیں۔
مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر کی تحصیل پھلو کا متذکرہ بالا سرسبز و شاداب گائوں تھلہ ابن انشاؔ کا وطن اور یہ صابر و شاکر میاں بیوی، منشی خاں اور مریم ان کے والدین تھے۔
ابن انشاؔ اپنے کثیر العیال والدین کی ازدواجی زندگی کا پہلا ثمر تھے ۔ پہلو ٹھی کی اولاد۔ ماں باپ نے اپنے پہلے بیٹے کا نام شیر محمد رکھا۔ شیر محمد کے بعد ان کے ہاں سردار محمد اور ریاض محمد نے جنم لیا۔ چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ جن کے موجودہ نام بالترتیب عصمت آرائ، نادرہ خاتون، حمیدہ بانو اور بلقیس ہیں۔
اپنی پیدائش کی قطعی تاریخ خود ابن انشاؔ کو بھی معلوم نہیں۔ اپنی خود نوشت ڈائری میں انھوں نے اپنے وطن، نام اور تاریخ پیدائش کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔
''پیدائش ضلع جالندھر (مشرقی پنجاب) کے ایک دیہاتی کاشتکار گھرانے میں ہوئی۔ اس گھرانے میں تعلیم نہیں تھی۔ فقط والد صاحب نے چوتھی جماعت تک پڑھا تھا۔ پیدائشی نام شیر محمد ہے جو راجپوت ہونے کی نسبت سے شیر محمد خاں ہو گیا۔ پیدائش کی قطعی تاریخ معلوم نہیں۔ دیسی تاریخوں کا جو حساب معلوم ہوا اس سے ہاڑ کی سنکرانت یعنی اساڑھ مہینے کی پہلی تاریخ کا دن۔ ۱۵ جون ۱۹۲۷ء معلوم ہوتا ہے''۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے میٹرک کے سرٹیفیکیٹ میں ان کی تاریخ پیدائش ۴ جنوری ۱۹۲۴ء درج ہے۔
سردار محمود نے اس کی جو وجہ بتائی وہ بھی قابل توجہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس زمانے میں غریب دیہاتی گھرانوں میں تعلیم کا رواج نہیں تھا۔ خصوصاً مسلمان نوجوانوں میں تو اس کا تناسب بہت ہی کم تھا اور اگر کوئی تعلیم حاصل کرتا بھی تھا تو اس کا منتہائے مقصود میٹرک کا امتحان ہوتا تھا۔ جس کے بعد معمولی کلرکی کا حصول، سکول کی ملازمت یا محکمہ مال کے پٹواری بن جانا بہت خوش قسمتی خیال کیا جاتا تھا۔ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے عمر کی کم ازکم پابندی اٹھارہ سال تھی۔ اس سے کم عمر دسویں پاس امیدوار کو اس عمر تک پہنچنے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ جو ظاہر ہے خوشگوار انتظار نہیں تھا۔ چنانچہ حفظ ما تقدم کے طو رپر سمجھ دار والدین اور بعض اوقات پہلی جماعت کے محتاط داخلہ انچارج اساتذہ خود ہی بچے کی عمر آٹھ نو سال لکھ لیتے تھے تاکہ میٹرک کرنے کے ساتھ ہی سرکاری نوکری کی مطلوبہ حد تک پہنچ جائیں۔ یہی صورت حال ابن انشاؔ کے معاملے میں پیش آئی اور پہلی جماعت میں جب ان کی عمر پانچ ساڑھے پانچ سال ہو گئی، انھیں آٹھ سال سے زائد کا ظاہر کیا گیا۔
دوران گفتگو ان کے چھوٹے بھائی سردار محمود نے راقم الحروف کو یہ بھی بتایا کہ:
''بھائی جان اکثر تأسف کا اظہار کیا کرتے تھے کہ زندگی میں دو چیزوں نے مجھے نقصان پہنچایا ہے۔ ایک میٹرک کے امتحان میں لکھی ہوئی میری زیادہ عمر اور دوسرے اوائل عمر کی میری شادی نے''۔
انتظار حسین کے نام ۲۵ مئی۱۹۵۳ء کے تحریر ایک خط میں یوں رقمطراز ہیں:
''…میں نے مدت ہوئی چیزوں کا تجزیہ کرنا چھوڑدیا ہے اور اب بڑے مزے سے گزرتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہمی، اوہام پرست، خبطی، سنکی، آزادہ رو، وارستہ مزاج… میں ہمیشہ سے تھا لیکن لاہور میں رہ کے کمانا کھانا اور کھلانا پڑا تو دل پر عقل کا مارشل لا لگا دیا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ عمر عزیز کے بہترین سال ہر گئے۔ اگلی جون یعنی اگلے ماہ میں ستائیس سال کا ہو جائوں گا۔ بہت گزر گئی۔ اب تھوڑی رہ گئی ہے۔ داڑھی میں بھی چاند ی سا سفی بال نظر آ گیا ہے۔ اب تو وہ وقت ہے کہ راج پاٹ نئی نسل کو سونپ کر باقی عمر یاد الٰہی میں صرف کروں''
بچے کی عمر ابھی بمشکل پانچ ساڑھے پانچ سال ہو گی کہ خود محروم لیکن تعلیم کے شائق باپ چوہدری منشی خاں نے اپنے بڑے بھائی ملک لبھو خاں کھوکھر کی بھرپور مخالفت کے باوجود ایک خوشگوار صبح گائوں کے ہندو بنیے کی دکان سے سیر بھر بتاشے بطور شیرینی ساتھ لیے اور اپنے شیر محمد کی انگلی پکڑ کر اسے تیسری گلی کی نُکڑ پر واقع پرائمری سکول کی پہلی جماعت میں جا بٹھایا۔ سردار محمود راوی ہیں کہ بھائی شیر محمد اپنے سب بہن بھائیوں اور ہم مکتبوں میں حیرت انگیز حد تک حساس تھے۔ چپ چاپ ، خاموش، بچپن کے معصوم کھیلوں وغیرہ سے بھی نفور۔ ایسے بچوں میں سے ایک جن کی خواہش ہوتی ہے کہ سب انھیں اچھا کہیں۔ اپنے اساتذہ اور بزرگوں کا وہ خوف زدگی کی حد تک احترام کرتے تھے۔ بہت سریع الحس ہونے کی وجہ سے وہ استادوں سے ڈانٹ ڈپٹ سے بچنے کی کوشش کے علاوہ کسی دوسرے بچے کو بھی پٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انھوں نے سکول کا کام نہ کیا ہو۔ اگرچہ گھر کا ماحول تعلیم کے لیے قطعاً سازگار نہیں تھا۔ اس مشترکہ خاندانی نظام میں صرف ان کے والد بچے کو پڑھنے کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرتے تھے۔ لیکن گھر کے بعض معمول کے کاموں سے پھر بھی مفر نہیں تھا۔ چھوٹی چھوٹی مصروفیتوں کے علاوہ گھر میں رکھی ہوئی چند بکریوں کو گائوں سے باہر اٹھالی گئی فصل کے کھیتوں میں چرانا ابن انشاؔ نے اپنے ذمہ لے لیا تھا لیکن اس سے ان کے تعلیمی انہماک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تھی۔ بقول ممتاز مفتی:
''شیر محمد کو بچپن میں بکریاں چرانا پڑیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے امکانات بہت کم تھے۔ البتہ شوق باپ سے ورثے میںپایا تھا''۔
ممتاز مفتی کی یہ بات بہت حد تک قابلِ اعتنا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ منشی خاں کو جب سکول کی چوتھی جماعت سے اٹھا لیا گیا تو وہ اپنی جماعت کا سب سے اچھا طالب علم تھا لیکن اسے تعلیمی دنیا سے نکال کر بڑے بھائی نے اپنے ساتھی کھیتی باڑی کے معمولات میں شامل کر لیا تھا چنانچہ کمی وہ اپنے بیٹے میں پوری کر رہاتھا۔
چوہدری منشی خاں کے پوتے یعنی ابن انشاؔ کے پہلے صاحبزادے چوہدری عبدالستار نے ایک ملاقات کے دوران راقم الحروف کو بتایا کہ ہماے دادا باوجودیکہ نیم خواندہ تھے لیکن انھیں پنجابی کے بہت سے اشعار یاد تھے۔ بالخصوص ہیر وارث شاہ، سیف الملوک اور بابا فرید کے کلام میں سے انھیں کئی کئی بند یاد تھے۔ جنھیں وہ خاص خاص موقعوں پر بے تکلف دوستوں کی محفل میں سنایا بھی کرتے تھے بلکہ وہ خود بھی پنجابی میں کلام موزوں کرتے تھے لیکن صرف خود محظوظ ہوتے یادو چار۔ قریبی دوستوں کو سنانے کی حد تک وہ اکثر اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے کہ باوجود شوق کے انھیں تعلیم سے محروم کر دیا گیا۔ اسی لیے جب ان کے اپنے بیٹے کی تعلیم کا سوال آیا تو اگرچہ وہ حلیم الطبع اور نرم خو آدمی تھے لیکن انھوں نے اس کی مخالفت میں کسی کی نہ سنی اور گائوں کے رسم و رواج کے برخلاف بہت چھوٹے سے شیر محمد کو سکول بھیجنا شروع کر دیا۔ نہ صرف اسے سکول میں داخل کرایا بلکہ سکول کے اساتذہ سے بھی راہ و رسم بڑھائے اور اپنے بچے کی بتدریج تعلیمی ترقی کا جائزہ لینے اکثر سکول جایا کرتے اور ان کی ذات میں جو علمی کمی رہ گئی تھی اسے وہ اپنے بچے کے آئندہ شب و روز سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ شاید اسی لیے بھی وہ اسے چار چھ بکریاں دے کر باہر کھیتوں کی طرف بھیج دیتے تھے تاکہ مشترکہ گھر کے ہنگاموں سے دور وہ اطمینان سے اپنے اسباق بھی دہرا سکے۔ کیا معلوم آگے چل کر ابن انشاؔ کے ہاں جن جذبات نے اس کے پہلے شعری مجموعے کی درج ذیل نظموں کا روپ دھارا، ان کی بنیادیں گائوں سے باہر کھیتوں کی ان ہی فضائوں میں رکھی گئی ہوں۔ خاص طورپر ان میں جن شاموں کا ذکر ہے ان سے انشاؔ جی اپنے بچپن ہی میں آشنا ہو گئے تھے۔ جب کبھی شام ڈھلے اور رات گئے وہ ایک معصوم سوچتے ہوئے ذہن کے ساتھ گھر لوٹتے تھے۔ مثلاً ۱۹۳۵ء میں جب ان کی عمر اٹھارہ انیس سال سے زیادہ نہیں تھی۔ کہی گئی ان کی نظم 'انتظار کی رات' اس طرح شروع ہوتی ہے:
امڈے آئے ہیں شام کے سائے
دم بدم بڑھ رہی ہے تاریکی!
اسی طرح اسی مجموعے میں شامل ان کی کئی دوسری نظموں کے نام اور ان کے آغاز بھی قابلِ غور ہیں۔ مثلاً
اداس رات کے آنگن میں:
اداس رات کے آنگن میں رات کی رانی
مہک رہی ہے … دل بیقرار بات تو سن!
خزاں کی ایک شام :
شام ہوئی پر دیسی پنچھی گھر کو بھاگے
دل اپنا ہم کھول کے رکھیں کس کے آگے
اسی طرح ان کے دوسرے شعری مجموعے ''اس بستی کے اک کوچے میں'' میں بھی ایسے عنوان موجود ہیں۔ نظم…'پھر شام ہوئی' کا آغازاس شعر سے ہوتا ہے:
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواں
اک اداسی کا تنتا ہوا سائباں!
ابن انشا اپنے اس پرائمری سکول میں اپنے تعلیم کے شائق باپ کے معیار پر ان کی امیدوں سے بڑھ کر پورے اترے اور چھٹی جماعت کے امتحان میں اس اعزاز کے ساتھ کامیاب ہوئے کہ اپنے گائوں میں تو پہلی جماعت ہی سے ان کا کوئی حریف نہیں تھا۔ اس سال جب کہ ان کا پرائمری سکول علاقے بھر کا امتحانی مرکز تھا۔ انشاؔ اس میں اول رہے۔ یہ ان کا پہلا بڑا امتحان تھا جس میں اس شاندار کامیابی نے ان کے والد کاسر فخر سے اونچا کر دیا۔ چنانچہ مزید تعلیم کے لیے منشی خاں نے اپنے بیٹے کو اڑھائی تین میل کے فاصلے پر قصبہ نما گائوں اپرہ کے مڈل سکول میں داخل کرا دیا جہاں سے انشاؔ جی کو ونیکلر مڈل کا امتحان پاس کرنا تھا۔ انگریزی کا مضمون ان کے گائوں تھلہ کے سکول میں بھی نہیں تھا۔ نہ یہاں۔ البتہ ہندی اور گورمکھی لازمی طو پر پڑھائی جاتی تھیں۔
اپرہ سے ابن انشاؔ کو روزانہ اپنے گائوں آنا ہوتا تھا کیونکہ وہاں کسی اقامتی ہوسٹل وغیرہ کی سہولت نہیں تھی۔ سردی ہو یا گرمی ، برسات ہو یا لو چلے ، دیہاتی پگڈنڈیوں پر پانچ چھ میل کی یہ آمدورفت قریباً دو سال تک انشاؔ جی کا معمول رہا۔ وہ
صبح سویرے گھر سے روانہ ہوتے اور رخصت کا یہ منظر بہت جذباتی ہوتا۔ سردار محمود بیان کرتے ہیں کہ:
''ہماری اماں پہلے تو گھر کے دروازے سے بھائی جان کو چوم تھپتھپا کر اور پیار دے کر خدا حافظ کہہ دیتیں اور وہ ایک آدھ بار پیچھے دیکھ کراپنے راستے پر قدم آگے بڑھانے لگتے۔ اماں کا یہ حال کہ جب تک بیٹا لمبی گلی میں جاتا نظر آتا رہتا ادھر دیکھتی رہتیں اور خدا معلوم اپنے رب سے کیا کیا دعائیں مانگتی رہتیں۔ جونہی وہ گلی کا موڑ مڑ کر ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے وہ خاموشی سے گھر کی چھت پر آ جاتیں اور کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں سے انھیں جاتا ہوا دیکھتی رہتیں۔ تاحدِ نظر، پھر جب وہ اور ان کے تین چار ساتھی طالب علم درختوں کی اوٹ میں غائب ہو جاتے تو کچھ دعائیں پڑھتی نیچے اتر آتیں''۔
''اس زمانے میں گھڑیاں عام نہیں تھیں۔ کم از کم ہمارے گھر میں نہیں تھی لیکن ہماری والدہ کو معلوم ہو جاتا تھا کہ بیٹے کی سکول سے آمد کاوقت قریب ہے۔ چنانچہ وہ کافی دیر پہلے ہی پھر چھت پر پہنچ جاتیں''۔
سردار محمود نے اس طرح کے چند اور واقعات بھی راقم الحروف کو سنائے کہ کس طرح وہ ہر بات میں اپنے بیٹے کا دفاع کرتیں اور تعلیمی معاملات میں ان کا دل بڑھاتیں اور ایک چھٹی گائوں میں گزار کر جب وہ لدھیانہ کے لیے روانہ ہوتے تو کس طرح وہ ان کے لیے اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ خوردنی اشیا کی پوٹلیاں بناتیں اور بار بار انھیں ہدایت کرتیں کہ ہوسٹل پہنچ کر وہ انھیں ضرور اپنے استعمال میں لائیں اور ساری دوستوں میں تقسیم نہ کر دیں۔
اپنے طور پر یہ والہانہ مادرانہ شفقت کتنی دلآویز ہے لیکن دردناک صورت احوال یہ ہے کہ اس سے ابن انشاؔ کی آئندہ زندگی پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے۔
خاص طور پر ان کی پہلی بیوی سے سالہا سال کی علیحدگی (طلاق نہیں) اور اپنے بچوں سے بلا جواز دوری بلکہ ان سے بے باپ کے سنے بچوں کا برتائو۔ اسی طرح ترقی کے بہترین مواقع کے باوجود صرف ماں کی قربت کے خیال سے کئی اعلیٰ ملازمتوں سے احتراز و انکار کہ فاصلے کی بہت زیادہ دوری ماں بیٹے کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ پھر ماں کے ہر حکم کی تعمیل۔ چاہے اس کے لیے کتنا ہی دکھ سہنا پڑے اور اپنے دوسرے چاہنے والوں کو دکھی کرنا پڑے ۔ جس کی انتہا یہ تھی کہ والدہ کے انتقال کے بعد ان کی قبر پر باقاعدہ حاضری اور ان کے پہلو میں دفن ہونے کی تمنا۔ اس والہانہ پن کے اظہار میں انشا بالکل بے بس تھے۔ اس زمانے میں ابن انشاؔ کی عمر چالیس سال سے متجاوز تھی۔ اس غیر متوازن طفلانہ وابستگی نے ابن انشاؔ کی زندگی میں جس طرح دکھ بھرے اس کا خاطر خواہ ذکر ان کی شادی کے بعد کے واقعات میں تفصیل سے آئے گا جو ان کی پہلی بیگم عزیزہ بی بی نے راقم سے بیان کیے جو ۱۹۵۱ء سے تا دم تحریر ۱۹۸۳ء تک اپنے چھوٹے بھائی عبدالرشید خلجی کے ہاں فیصل آباد کی ایک کالونی میں رہائش پذیر تھیں اور جو ابن انشاؔ کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہیں۔ ان خاتون کے ساتھ ابن انشاؔ نے ازدواجی زندگی کے گیارہ سال بسر کیے لیکن پھر اپنی موت تک قریباً ستائیس سال کوئی سروکار نہ رکھا۔ اگرچہ انھوں نے اس نہایت مہذب اور سادہ دل عورت کو طلاق بھی نہ دی! اور اپنے پہلے تین بچوں عبدالستار، محمد انوار اور اپنی بیٹی راحت بانو کو بھی وہ محبت اور پدرانہ شفقت مہیا نہ کی جس کے وہ ہر لحاظ سے مستحق تھے لیکن قابل رحم کیفیت یہ ہے کہ خود ابن انشاؔ بھی اس صورت واقعات سے خوش نہ تھے۔ کراچی تعیناتی کے دوران ابن انشاء نے پہلی بیوی کو کراچی لے جانے کی کوشش کی ۔ ساس بہو کے اختلاف کی وجہ سے یہ کوشش بھی رائیگاں گئی۔انھیں ماں کے احکامات کی بجا آوری اور بیوی بچوں کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری… دونوں میں سے ایک کو بچانا تھا۔ انھوں نے ماں کے جذبات کو ترجیح دی۔ ابن انشاؔ کا بیٹا انوار تو چھوٹی عمر میں انتقال کر گیا لیکن اس خاتون سے انشاؔ جی کے باقی دونوں بچوں یعنی عبدالستار اور راحت بانو نے انشاؔ جی کے والدین کے گھر میں ہی اپنی دادی اور پھوپھیوں کی زیر نگرانی پرورش پائی اور شادی بیاہ کے بعد گھر بار والے ہوئے۔
بہرحال اپرہ میں ابن انشاؔ نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل اور ورنیکلر مڈل کے امتحان میں بھی علاقے بھر میں اول رہ کر اپنا سابقہ ریکارڈ برقرار رکھا۔
اب انگریزی کی کمی پوری کرنے اور مزید تعلیم کے لیے ان کی اگلی منزل لدھیانہ تھی جہاں چاند کے اس تمنائی کے لیے
صد ہزار باتیں تھیں حیلۂ شکیبائی!
کرۂ ارض پر دوسری عالمی جنگ کے مہیب بادل چھا چکے تھے جب ابن انشاؔ نے ۱۹۳۹ء کے موسم بہار میں گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ کی سینئر سپیشل کلاس میں داخلہ لیا۔ جس میں انھیں صرف انگریزی کا مضمون پڑھ کر ہائی کلاسوں میں پہنچنا تھا اور انگریزی کے ساتھ کوئی اور زبان… فارسی وہ شروع سے پڑھتے آ رہے تھے اور انھیں اس زبان سے شغف بھی تھا چنانچہ یہاں انھوں نے فارسی اور ہندی کو بطور اختیاری مضمون ترجیح دی۔
گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ ہی میں ابن انشاؔ نے شعر گوئی کا باقاعدہ آغاز کیا اور اپنے تخلص کے بارے میں سنجیدہ ہوئے۔ پرائمری سکول تھلہ سے فراغت پر وہ شیر محمد اصغر تھے۔ یہاں سے اپرہ وارد ہوئے تو شیر محمد مایوس عدم آبادی ہو گئے اور ورنیکلر مڈل کر کے لدھیانہ پہنچتے پہنچتے شیر محمد مایوس صحرائی ہو چکے تھے۔ ممکن ہے کسی کم ظرف شہری طالب علم نے دیہاتی ہونے کا طعنہ دے دیا ہو۔ چنانچہ انھوں نے بندۂ صحرائی بننا زیادہ پسند کیا۔ اس روداد کا ذکر بھی ان ہی کی زبانی سنیے:
''سب سے پہلا تخلص اصغرتھا، پھر مایوسؔ عدم آبادی، پسند آیا۔ ان کے اردو اور فارسی کے استاد مولوی برکت علی لائق نے انھیں بتایا کہ 'مایوس' اچھا تخلص نہیں ہے پھر 'قیصر' کا دُم چھلا لگایا۔ 'قیصر یا قیصر صحرائی ' بھی رہے لیکن چھپے تو ''ابن انشاؔ'' کے نام سے، یہ نام سکول ہی کے زمانے میں عمر کے پندرھویں سولھویں سال ہی اختیار کر لیا تھا، سکول میں مضامین اسی نام سے چھپتے ،اگرچہ شاعری ' قیصر' کے تخلص سے کی''۔
ابن انشاؔ کو کتابیں پڑھنے کا بہت چسکا تھا۔ وہ ہائی سکول لدھیانہ کے ذہین طلبا میں شمار ہوتے تھے، ایک مسلمان نوجوان کے لیے ہندو اور سکھ طلباء کے مقابل آ جانا قابل فخر بات تھی۔ میٹرک کے امتحان میں انھوں نے پنجاب بھر میں پہلی پوزیشن لی، درسی کتابوں پر دسترس کے علاوہ وہ سکول کی علمی و ادبی مجلسوں کی جان بھی تھے۔ اپنے ہر سال بدلتے تخلصوں سے مطمئن نہیں تھے چنانچہ ادبی ہوش سنبھالتے ہی انھوں نے اپنا نام ابنِ انشاؔ رکھ لیا۔ میٹرک کے امتحان میں کامیابی پر ان کا وظیفہ مقرر ہوا لیکن یہ رقم کالج کے تعلیمی اخراجات کے لیے کافی نہیں تھی۔ ادھر اس کے والد منشی خاں بھی مزید تعلیم بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ابن انشاؔ دوسری جنگ عظیم کے ان دنوں اپنی وہ بعض نظمیں کہہ چکے تھے جو ۱۹۴۴ء میں اس کے شائع ہونے والے اولین شعری مجموعے''تلخیاں'' میں شامل اشاعت ہیں۔ ابن انشاؔ کے لیے یہ دن بڑی سوچ بچار کے تھے کوئی ملازمت یا مزید تعلیم؟ ادھر دنیا جنگ کی لپیٹ میں تھی جس کی وجہ سے پورے خطے میں بیروزگاری بھوک کا راج تھا ، وہ میٹرک کے امتحان سے فراغت کے بعد اپنے گائوں پہنچا جہاں ہمیشہ سے والہانہ محبت کرنے والی والدہ کے ساتھ ساتھ ایک رفیقۂ حیات بھی اس کی منتظر تھی۔ اس کے برعکس گھر کے ماحول میں اس کے لیے کوئی جاذبیت نہیں ۔ حتیٰ کہ کوئی اخبار و رسائل تک میسر نہیں تھے چنانچہ وہ کچھ ہی عرضہ گائوں میں رہنے کے بعد ملازمت کے حصول کے سلسلے میں لدھیانہ پہنچے اور پھر ایک ہم جماعت کے ہمراہ بٹھنڈہ آگئے جہاں سے حمید اختر کے ساتھ خط و کتاب کا سلسلہ جاری رہا جو کہ لاہور آمد کا ذریعہ بن گیا۔ لاہور آ کر حمید نظامی سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس نوجوان کو اسلامیہ کالج میں داخل کرا دیا اور ساتھ ہی نوائے وقت کی بالائی منزل پر رہائش کا بھی بندوبست کر دیا۔ لاہور متحدہ ہندوستان میں کالجوں کا شہر کہلاتا تھا جس کی ایک اپنی ہی علمی ، سیاسی ، ادبی، ثقافتی اور صحافتی فضا تھی۔ نامور شعراء ادیب صحافی پھر نت نئے سیاسی، ادبی اور ثقافتی ہنگامے لاہور کی روزمرہ کی زندگی کا لازمہ تھے اس سے پہلے بڑے ادیبوں شاعروںکا ابن انشاؔ نے ان کا صرف نام سنا تھا۔ وہ ایک نئی دنیا میں پہنچ گئے۔ اسلامیہ کالج کے سامنے عرب ہوٹل ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کا اڈا تھا ۔ ان میں زیادہ تر لکھنے والے ایسے اداروں میں کام کرتے تھے جہاں تنخواہ قلیل ملتی تھی۔ بروقت نہیں ملتی تھی لیکن وہ سب اپنے حال میں مست رہتے ۔ چراغ حسن حسرتؔ اس مجلس کے امیر تھے۔ ابن انشاؔ کو بھی عام طو رپر اسی ہوٹل سے کھانے کا اہتمام کرنا پڑتا۔ یہ ہوٹل بڑا ہی غریب نواز تھا۔ اگر کسی کی جیب میں پیسے نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کھانے اور چائے سے محروم رہے۔ ادیبوں کا دوسرا بڑا ٹھکانہ نیلا گنبد کے پاس چائے کی مختصر سی دکان 'نگینہ بیکری' تھی۔ چراغ حسن حسرت کی سرکاری ملازمت میں چلے جانے کے بعد عرب ہوٹل کی رونقیں درہم برہم ہو گئیں اور نگینہ بیکری آباد ہو گئی۔ مولانا صلاح الدین احمد ''ادبی دنیا'' کا دفتر بھی قریب ہی مال روڈ پر تھا۔ بہت سے شاعر ادیب یہاں بھی باقاعدگی سے آنے لگے۔
ابن انشاؔ کے لیے لاہور کی ان فضائوں میں بسر ہوتے یہ شب و روزیقیناً دلآویز تھے، وہ شہر کی ہر تقریب میںپہنچتے اور اس کا احوال حمید اختر کو لکھ دیتے۔ ابن انشاؔ اب مایوس نہیں تھے اور تصویر کا رخ روشن ان کے پیش نظر تھا۔ اب وہ حمید اختر کو بھی خط کے جواب میں مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے۔ وہ مجید نظامی سے اخبار کے کام میں ہاتھ بٹاتے۔ آہستہ آہستہ ابن انشا کی پڑھائی کا کام کم ہونے لگا اور اخبار کا کام بڑھتا گیا اور انشا ؔ جی اس میں سمٹ کر رہ گئے، اب لاہور کی روشن سڑکیں انھیں تاریک نظر آنے لگیں اور بالآخر چار ماہ کے بعد لدھیانہ واپس لوٹ آئے۔ جہاں والدین اور ان کی بیوی اور ان کا ننھا بیٹا ان کا منتظر تھا بعد ازاں وہ بیوی کے ہمراہ شہر سسرال آ گئے۔اب اس کی شامیں دوست حمید اخترکے ساتھ گزرتیں۔
نوکری کی تلاش جاری تھی کہ مارچ ۱۹۴۳ء میں انبالہ چھائونی کے ملٹری اکائونٹس سے محرر صغیر کی ملازمت کا بلاوا آ گیا۔ ان دنوں حمید اختر میٹرک کا امتحان دے رہے تھے۔ دفتر چھٹی کے بعد وہ لائبریری کا رخ کرتے اور فارغ اوقات میں کلیات میر کا مطالعہ کرتے۔ بعد ازاں وہ پرائیویٹ طو رپر منشی فاضل کا امتحان بھی دے گئے۔ اس دوران ملٹری اکائونٹس سے منسلک دوست لوک پال سیٹھی ان کے بہت کام آئے۔ وہ کافی پڑھے لکھے تھے۔
ابن انشاؔ اس زمانے میں شعر وشاعری کا باقاعدہ آغاز کر چکے تھے۔ گھر میں اختلاف کی وجہ سے ان کی شادی اب ایک سانحہ بنتی جا رہی تھی۔ ان کے پہلے شعری مجموعے'چاند نگر' کی ابتدائی نظمیں ان کی اسی زمانے کی ذہنی کیفیات کی غماز ہیں۔
میری منزل ہے بے نشاں ناداں!
ساتھ میرا ترا کہاں ناداں؟
اس کے بعد انھوں نے نکولس کے ایک ناول کا ترجمہ کیا جسے وہ آپ بیتی کہتے ہیں اسے انھوں نے ''محبوبہ'' کے نام سے شائع کیا، یہ ان کی پہلی نثری ادبی کاوش تھی، ۱۹۴۴ء میں منشی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد اگلے سال ایف اے انگریزی کے پرچے میں کامیاب ہوئے اور ۱۹۴۶ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا، بعد ازاں وہ امپیریل کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ اور پرسا انسٹی ٹیوٹ دہلی میں ملازم ہوئے۔ یہاں وہ ایک رسالے کی مجلس ادارت سے منسلک ہوئے۔ پھر آل انڈیا ریڈیو میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت کی درخواست دی ، بلاوا آ گیا ، لیکن وہاں حاضری کی نوبت نہ آئی کیونکہ اگست ۱۹۴۷ء کا تاریخی مہینہ آ چکا تھا اور متحدہ ہندوستان کے ملازمین دونوں نئے ممالک میں تقسیم کیے جا رہے تھے۔ یہاں ان کی ملاقات معروف ریڈیو میزبان شکیل احمد اور ایک ہمدرد کار احمد حسن شیخ سے ہوئی۔ یہ سب لوگ ریڈیو پاکستان میں شمولیت پر آمادگی کا اظہار کر چکے تھے۔ ابن انشاؔ کا بھی اب نیا وطن پاکستان تھا، ان دنوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ادھر دلی کی فضابگڑنے لگی۔ ایک روز تو چند سکھ کرپانیں باندھے ہمارے کمرے میں دندناتے چلے آئے، آخر ہم نے دلی سے کنارہ کیا اور اپنے گائوں انبالہ پہنچ کر اگلے ہی دن پاکستان کی راہ لی۔ اس دوران حمید اختر بھی ان کو ملنے گائوں آ گئے۔اب ابن انشاؔ کا نیا وطن پاکستان تھا۔ اس مملکت کا جیتا جاگتا شہر لاہور ان کی نئی منزل جہاں سے تقریباً ساڑھے چار سال پہلے کسمپرسی کے عالم میں لدھیانہ سدھارے تھے، لیکن اب اور تب میں بہت فرق تھا۔ ان کے اہل خانہ بعد ازاں چند دن بعد ان سے آن ملے۔
اب لاہور کے لکشمی چوک کے ہوٹلوں میں سرشام محفلیں جمتیں جن میں ابن انشاؔ ، احمد ندیم قاسمی، حمید اختر، ظہیر کاشمیری، احمد راہی، عبداللہ ملک، قتیل شفائی، اے حمید اور بہت سے نئے لکھنے والے جمع ہوتے۔ چپ چاپ رہنے والا ابن انشاؔ اب بولنے لگا۔ رسالہ ''سویرا'' میں احمد راہی نے ابن انشاؔ کا تعارف اپنے ادارتی صفحات میں کر دیا، ان کا نام علمی و ادبی حلقوں کے معروف ناموں میں شمار ہونے لگا، انہی دنوں مولانا چراغ حسن حسرت سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس وقت روزنامہ امروز سے وابستہ تھے۔ ریڈیو کے بعد کبھی ''امروز'' کبھی ''سویرا'' اور کبھی 'ادب لطیف'' کے دفاتر میں فراغت کے لمحات بسر کرتے اور اے حمید کے ساتھ شہر کی گلیوں میں مٹر گشت کرتے۔ شام کو ''ٹی ہائوس'' آ جاتے جہاں سبھی دوست موجود ہوتے۔انہی ایام میں (۴۹۔۱۹۴۸ئ) میں وہ مختلف چینی شاعروں کی نظموں کے انگریزی تراجم پڑھنے لگے اور اردو میں ان کے ترجموں کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ نظمیں ان کے اپنے احوال کے قریب تھیں۔انھوں نے ''ٹھنڈا پربت'' کے نام سے انھیں اردو میں منتقل کر دیا۔
میں ٹھنڈے پربت کا راہی
اس راہ کا کٹنا سہل نہیں
ریڈیو ملازمت کے دوران انھوں نے ایم اے اردو میں داخل ہونے کی درخواست ریڈیو حکام کو دی جو کہ قبول کر لی گئی۔ ابن انشا کا مزاج ان لکھنے والوں کا سا تھا جن کے خیال میں حقیقت اساطیری کہانیوں اور پر اسرار داستانوں میں تاریخی حقائق سے کہیں زیادہ ملتی ہے۔ وہ امروز میں مضامین لکھتے اور ان کے ترجمے بھی شائع ہوتے تھے۔
وہ چار و ناچار اپنے شب و روز بسر کیے جا رہے تھے کہ ۱۹۴۹ء میں دو اہم واقعات سرکای ملازمین کے لیے حکومت کے قائم تنخواہ کمیشن کی وجہ سے (مترجمین کے ساتھ ناروا سکول کی وجہ سے) ان کی ترقی کا رکنا اور ریڈیو پاکستان لاہور سے خبروں کا یونٹ کراچی منتقل ہونے سے انھیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ استعفیٰ کے لیے گھر کے حالات اجازت نہیں دے رہے تھے، بالآخر کراچی جانا پڑا اور کراچی ہی کے ہو کے رہ گئے۔ کراچی اس وقت پاکستان کا دارالخلافہ تھا۔ شروع میں انھیں یہاں کے حالات سے مطابقت پیدا کرنے میں سخت جدوجہد کرنا پڑی۔ انھیں ۱۹۵۰ء میں ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ اسی دوران ابن انشاؔ نے ایم اے اردو کے لیے اردو کالج کراچی میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی انھیں کالج کے ادبی مجلے ''برگِ گل'' کی ادارت کا اعزاز بھی ملا، بابائے اردو مولوی عبدالحق کی سرپرستی اس ادارے کو حاصل تھی۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے آخری اور بہت سخت زمانے میں ان سے نہایت مخلصانہ نیازمندی برقرار رکھی اور انھیں انجمن واپس کرانے کا ایک بڑا وسیلہ ثابت ہوئے۔ یہ داستان بابائے اردو کے کتابچے ''انجمن کا المیہ'' میں موجود ہے۔ ابن انشاؔ کا اردو کالج کے حوالے سے بابائے اردو کے ساتھ ایک شاگردانہ تعلق قائم رہا۔ وہ ان کے مخلص خاموش مگر باعمل کارکن ثابت ہوئے۔ وہ بابائے اردو کی طرف سے ان کے نیاز مندوں اور دوستوں کے خطوط کے جواب بھی لکھنے لگے، دو سال بعد دستور ساز اسمبلی کی ملازمت چھوڑ کر محکمہ دیہات سدھارے تو مصروفیات کے باعث اس خدمت کی بجا آوری میں پہلا سا معیار قائم نہ رکھ سکے۔ اس نئے ادارے میں حفیظ جالندھری، احمد بشیر اور ممتاز مفتی بھی ان کے ساتھ ملازم تھے۔ اسی دوران ان کا مجموعہ ''چاند نگر'' بھی شائع ہوا۔ انھوں نے ''ادارہ مطبوعات فرنیکلن'' میں بھی مترجم کی خدمات سر انجام دیں جہاں کئی کتابیں انھوں نے اردو میں ترجمہ کیں۔ ان دنوں اس ادارے سے مولانا صدرالدین ، مولانا عبدالمجید سالک، انتظار حسین اور اشفاق احمد جیسے نامور ادیب منسلک تھے۔ اسی زمانے میں انھوں نے بچوں کے لیے نظمیں لکھنے اور کہانیاں ترجمہ کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ پھر ادارۂ مطبوعات پاکستان کے لیے پاکستان کی علاقائی زبانوں کی شاعری کو بھی اردو کے منظوم روپ میں ڈھالا۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی وفات کے بعد روزنامہ''امروز'' کے کراچی ایڈیشن کی خدمات ان کے سپرد ہوئیں ۔ اس میں وہ کالم نگاری بھی کرتے رہے۔ پھر کئی روزناموں اور رسالوں میں باقاعدہ لکھتے رہے، ان کالموں نے ان کی شہرت کو چارچاند لگا دیئے۔ وہ ''پاکستان رائٹر گلڈ'' کی مجلس عاملہ میں بھی رہے۔ ۱۹۵۵ء میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ''اس بستی کے اک کوچے میں'' شائع ہوا۔ ۱۹۶۱ء میں سرکاری دورے پر بیلجیم گئے جہاں دنیا بھر کے شاعروں کا اجتماع تھا۔ اس میں انھوں نے پاکستان کی نمائندگی کی، اس دوران وہ دیگر کئی ممالک بھی گئے جہاں وہ کتاب ساز اداروں اور پبلشروں سے ملے تاکہ نیشنل بک سنٹر کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی اہلیت اور استحقاق ثابت کر سکیں۔ ۱۹۶۴ء میں وہ اس ادارے کے سربراہ ہوئے۔
۱۹۶۹ء میں والدہ کے اصرار پر شکیلہ بیگم کے ساتھ ان کی دوسری شادی ہوئی۔یہ شادی ممتاز مفتی کی بیگم کی وساطت سے ہوئی۔
۲۶ فروری ۱۹۷۷ء کو علاج کی غرض سے ابن انشاؔ لندن روانہ ہوئے۔ لندن قیام کے دوران مختلف شاعر ادیب دوستوں سے خط و کتابت جاری رہی جن میں احمد ندیم قاسمی، بیگم سرفراز اقبال اور کشور ناہید وغیرہ شامل ہیں۔ اس دوران بھی وہ ''جنگ'' کے لیے کالم لکھتے رہے اور اس دوران وہ برٹش میوزیم کتب خانے سے مستفید بھی ہوتے رہے اور کئی کتابوں، مخطوطوں اور قیمتی دستاویزات کی مائیکرو فلمیں بنوا کر پاکستان بھیجیں۔ اس دوران وہ پاکستانی سفارتخانے سے بھی عارضی طور منسلک رہے۔ لندن قیام کے دوران اسی سال دسمبر میں ان کی حالت تشویشناک ہو گئی اور گیارہ جنوری ۱۹۷۸ء کو ابن انشاؔ اکاون برس کی عمر میں دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو
٭٭٭٭