ڈاکٹر طارق ہاشمی

مولانا صلاح الدین احمد کی اُردو خدمات

مولانا صلاح الدین احمدکی اُردو کے لیے خدمات کا اگر ایمان داری سے احاطہ کیا جائے تو شاید اُن کی پوری سوانح عمری کو دُہرانا ہو گا کہ اُن کی زندگی کے شعوری حصے کا کوئی ایسا پل نہیں ہے، جو خدمتِ اُردو سے خالی ہو۔اُردو زبان کی تحسین، فروغ، دفاع اور نفاذ اُن کی زندگی کا مقصدِ اوّل اور مدّعائے آخر تھا۔ اُردو اُن کی تہذیب تھی، اُن کا ماحول تھا، اُن کی ثقافتی فضا تھی، اُن کی وجہِ دوستی اور سببِِ عداوت تھی، اُن کا نظریہ تھا، اُن کا نظامِ خیال تھا حتیٰ کہ اُن کا جزوِ ایمان تھا۔
بقول ڈاکٹر انورسدید:
’’مولانا صلاح الدین احمدکی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اعلائے کلمتہ الاردو تھا اور اِس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے مصلحت کوشی سے بے نیاز ہو کر اُردو زبان اور ادب کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ اپنا تن، من اور دھن نثار کیا اور اِس کی بقأ اور ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی اور بہترین صلاحیتیں وقف کر دیں۔‘‘(۱)
اُردو کے لیے مولانا صلاح الدین احمدکی مذکورہ خدمات کو زمانی لحاظ سے دو حصوں میں جب کہ عملی اقدامات کی روشنی میں کئی ایک جہات میں دیکھا جا سکتا ہے۔
زمانی لحاظ سے اُن کی خدمات کا پہلا عرصہ قیامِ پاکستان تک کا ہے جب کہ اُردو اور ہندی کا تنازعہ اُسی طرح عروج پر تھا جیسا کہ ہندوستان کی دو بڑی اقوام کے مابین مذہب کا جھگڑا۔ اگرچہ یہ لسانی مناقشہ قطعی طور پر مصنوعی تھا اور اُس زبان کے خلاف ایک محاذ تھا جو عوام میں رائج اور مقبول تھی۔اُس وقت کی ہندوقیادت کا یہ خیال تھا :
’’اُردو کا مستقبل مسلمانوں کے فرقے کا نجی معاملہ ہے اور اگر وہ اِسی زبان میں لکھنا پڑھنا چاہیں تو اُن پر کوئی پابندی مناسب نہ ہو گی۔ البتہ قومی سطح پر فوقیت ہندی یا ہندوستانی کو حاصل ہو گی۔‘‘(۲)
یہی وہ نقطۂ نظر تھا جس کے باعث اُردو کے قومی سطح پر فروغ یا نفاذ کے خلاف سرگرمیاں شروع ہوئیں اورہر سطح پر اُردو کے فروغ کا راستہ روکا گیا۔ ہندی نواز طبقہ اُردو دُشمنی میں ہر نوع کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اُردو کے خلاف جلسے بھی منعقد کیے جانے لگے اور قراردادیں بھی پاس ہونے لگیں۔ الغرض کوئی موقع ضائع نہ کیا گیا۔ جون ۱۹۴۵ء میں پنجاب ساہتیہ منڈل کا ایک جلسہ زیرِصدارت بہاری لال چاننہ منعقد ہوا جس میں یہ قرارداد پاس کی گئی:
’’چونکہ ریڈیو کی زبان عربی اور فارسی الفاظ کی کثرت کے باعث حدِ درجہ ناقابلِ فہم ہے، اِسی لیے اِس محکمے کے عملے میں فوری تبدیلیاں کی جائیں اور پچھتّرفی صد اسامیاں ایسے لوگوں سے پُر کی جائیں جو ہندی دان پبلک کے نمائندے ہوں اور جو زبان کے معاملے میں ہم سے انصاف کر سکیں۔‘‘(۳)
اُردو کے خلاف اِس محاذ کے باعث یہ ضروری سمجھا گیا کہ اِس لسانی مناقشے میں بھرپور دفاعی پالیسی اپنائی جائے۔ چنانچہ اُردو کے تحفظ کے لیے تمام مسلمانانِ ہند اور اُن کی نمائندہ جماعتیں ایک ہو گئیں اور اُسی شدومد کے ساتھ اُردو دفاع کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، جس قدر کہ جارحیت تھی۔ بقول فرمان فتح پوری:
’’مسلم لیگ، مسلم ایجوکیشنل کانفرنس، خلافت کمیٹی اور انجمن ترقی اُردونے اُردو کو برصغیر کے مسلمانوں کی ثقافتی رگ سمجھ کر اُس کو بچانے کی کوشش کی۔ مسلم لیگ نے سیاسی سطح پر اُردو کا دفاع کیا اور اپنے مطالبات میں اُردو کی حفاظت کو بھی شروع ہی سے پیشِ نظر رکھا۔‘‘(۴)
مولانا صلاح الدین احمدنے اِس صورتِ حال میں جو کردار ادا کیا وہ کسی جہاد سے کم نہیں۔ اُردو کو اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہوئے اُردو کے فروغ اور اُس کے خلاف کارروائیوں کے سدِّ باب کے لیے تن، من اور دھن کی بازی لگا دی۔ اِسی سلسلے میں انھوں نے جو نمایاں اقدامات کیے،وہ یہ ہیں:
۱۔ ’’ادبی دُنیا‘‘ کے اداریوں میں فروغ و دفاعِ اُردو کو مستقل اہمیت دی۔
۲۔ ’’ادبی دُنیا‘‘ میں اپنے تنقیدی شذرات میں اُردو کے دفاع کے لیے بطورِ خاص لکھا۔
۳۔ ’’ادبی دُنیا‘‘ میں اُردو کے حق میں اور ہندوستان کی لسانی صورتِ حال پر مضامین لکھوائے اور شائع کیے۔
۴۔ ’’اُردو بولو‘‘ تحریک شروع کی اور اِس کے لیے مختلف سلوگنز بنائے۔ (اِس کی تفصیل آگے آئے گی۔)
۵۔ ’’پنجاب اُردو کانفرنس‘‘ کی بنا ڈالی۔
۶۔ اُردو یونیورسٹیوں کے قیام کی تجویز پیش کی اور اِن کی عملی شکل کے لیے جدوجہد کی۔
۷۔ ’’مجلسِ تعمیرِ جامعہ اُردو‘‘تشکیل دی، جس کا ایک اہم شعبہ ’’دارالتحقیق علم و ادب‘‘ قرار پایا۔
۸۔ اُردو زبان کے دفاع کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور ہر اُس عملی جہد کا حصہ بنے جو اُردو کی بقاءکے لیے ناگزیر تھی۔
ذیل میں’’ادبی دُنیا‘‘ میں اُن کے اداریوں اور تنقیدی شذرات سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں جو انھوں نے اُردو کے دفاع اور فروغ کے لیے تحریر کیے:
’’آثار نہایت مبارک ہیں اور کام کرنے والوں کا جوش ٹھنڈا نہ ہو تو کچھ عجب نہیں کہ ہمارے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد عادتاً اُردو بولنے لگے اور آئندہ چند سالوں میں ہندوستان کے لسانی نقشے میں ایک حیرت انگیز تبدیلی واقع ہو جائے۔‘‘(۵)
’’زبان کی حفاظت درحقیقت اپنے تمدّن اور اپنی تہذیب کے اُن سرچشموں کی حفاظت ہے، جن سے ہم انفرادی زندگی میں مسرت حاصل کرتے ہیں اور قومی زندگی میں حرکت اور طاقت اور جب مسرت، حرکت اور طاقت آپ کے پاس ہوں تو دُنیا میں آپ کو ترقی اور فروغ سے کون روک سکتا ہے۔‘‘(۶)
مولانا صلاح الدین احمدکی ’اُردو بولو تحریک‘
ہندی کے مقابلے میں اُردو کے فروغ کے سلسلے میں مولانا صلاح الدین احمدکی ’’اُردو بولوتحریک‘‘ کا کردار بہت بھرپور ہے۔اگرچہ یہ تحریک ابتداً اُن مختصر فرمودات بلکہ نعروں( سلوگنز) پر مبنی ہے جو ’’ادبی دُنیا‘‘ کے صفحات پر خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لیے درج کیے جاتے تھے مگر اپنے اثر اور اُردو کے فروغ کے سلسلے میں خاصے کارگر ثابت ہوئے۔ بعدازاں اِس کے لیے صفحہ مختص کر دیا گیا اور ادبی دُنیا کا سرورق اُلٹتے ہی اِس تحریک کے نعروں پر نظر پڑتی جو جلی حروف میں درج ہوتے تھے۔ اِس تحریک کی اِبتدا کے بارے میں آغا بابر کا دعویٰ ہے کہ یہ اُن کی تجویز تھی۔ اِس سلسلے میں اُن کا کہنا ہے:
’’دو برس ہوئے جب ادبی دُنیا کا دفتر مال روڈ کی ایک عمارت میں تھا۔ میں نے ایک ملاقاتِ شام کے دوران میں ایڈیٹرادبی دُنیا سے کہا کہ آپ پرچے میں مضمون ختم ہونے پر میر،غالب یا حالی کا کوئی شعر چھاپ دیتے ہیں۔ یہ خانہ پری اچھی چیزہے مگر میری ایک تجویز ہے۔۔۔ یہ کہ کہیں لکھ دیا جائے اُردوبولوکہیں یہ کہ بچوں سے اُردو بولو۔(۸)
یہ مختصر سے نعرے(سلوگن) اپنے حلقہ اثر کے اعتبار سے بہت وسعت کے حامِل ثابت ہوئے اور یہ تحریک وقت کے ساتھ ساتھ اذہان میں ایک مثبت شعور اور تبدیلی کا باعث بنی۔اِن اعلانات میں نہایت سادہ مگر پراثرانداز کے الفاظ شامل کیے جاتے، جن میں لسانی سطح کی ایک فکری دعوت ہوتی۔ یہ اعلانات اُردو کے حق میں ہوتے لیکن کوئی ایسا اعلان شائع نہ ہوا، جو ہندی کے خلاف ہو، جس کا مقصد یہ تھا کہ بغیر محاذ آرائی کی فضا پیدا کیے اُردو کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ چنانچہ صرف اُردو کے فروغ اور اہمیت پر اعلانات درج کیے گئے۔
ادبی دُنیا کے صفحات پر اِن اعلانات کی نوعیت کیا تھی۔ مناسب ہو گا کہ چند منتخب اعلانات درج کیے جائیں:
’’اُردو بولو۔‘‘ (۹)
’’اُردو بولو تحریک کی مدد کیجیے۔‘‘ (۱۰)
’’اُردو بولو۔ اُردو بولنے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔‘‘(۱۱)
’’اُردو بولو۔ اگر آپ کی زبان ایک ہے تو کبھی نہ کبھی آپ کے دِل بھی ایک ہو جائیں گے۔‘‘(۱۲)
’’اُردو ایشیا کی سب سے بڑی زبان ہے۔‘‘(۱۳)
’’اُردو بولو اور ایشیا کی سب سے بڑی قوم بن جاؤ۔‘‘(۱۴)
’’قاہرہ سے لے کر شنگھائی تک اُردویکساں طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اُردو بولو۔‘‘(۱۵)
’’اُردو اور انگریزی، انگریز اور امریکن، کو انگریزی زبان ملاتی ہے۔ ہندو اور مسلمان کو اُردو زبان ملائے گی۔
اُردو بولو۔‘‘(۱۶)
’’اُردو کے تین گُن:
اُردو ہندوستان کی علمی زبان ہے
اُردو ہندوستان کی سماجی زبان ہے
اُردو ہندوستان کی عوامی زبان ہے
اُردو بولو۔ اور اُردو بولو تحریک میں شامل ہو جاؤ۔‘‘(۱۷)
’’اُردو بولو۔ اُردو بولنے سے ہماری قومی عزت بڑھتی ہے۔‘‘
اُردو کو انگریزی کی جگہ دے کر اپنا قومی وقار بڑھایئے۔ اُردو بولو۔‘‘(۱۸)
’’پنجابی،پشتو، سندھی سب ہمیں پیاری ہیں مگر اُردو،
اُردو ہماری جان اور ایمان ہے۔
اُردو بولو۔ اور ایک ہو جاؤ۔ اُردو۔اُردو۔اُردو۔‘‘(۱۹)
’’ہم زبانی ہم دِلی کی پہلی شرط ہے۔ اُردو بولو۔
اُردو بولو اور یک جان ہو جاؤ۔‘‘(۲۰)
’’اُردو وہ جادو ہے جو سَر چڑھ کر بولتا ہے۔
اُردو بولو۔‘‘(۲۱)
یہ مختصر، بے ضرر مگر پراثر اعلانات بڑی سرعت کے ساتھ ذہنی بیداری کا باعث بنے۔ اِس تحریک کے اثرات کس قدر وسیع تھے۔ اِس سلسلے میں مولوی عبدالحق کا یہ بیان ملاحظہ ہو:
’’آپ کی تحریک’اُردو بولو‘ نہایت قابلِ قدراور لائقِ عمل ہے۔یوں تو پنجاب میں اور خاص کر لاہور میں بہت سی انجمنیں اور بزمیں ہیں اور کام بھی کرتی ہیں لیکن اِن سب کے کام مِلا کر بھی اِس تحریک کو نہیں پہنچتے۔ یہ بنیادی کام ہے۔ اِس وقت تو شاید لوگ اِسے زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن ایک ایسا وقت آئے گا جب اِس کے حیرت انگیز نتائج کا قائل ہونا پڑے گا۔ اِس کی کامیابی پر ہمارے بہت سے مسائل کی کامیابی کا انحصار ہے۔‘‘(۲۲)
تقسیمِ ہندکا واقعہ کئی ایک جہتوں سے غیرمعمولی ہے۔ ہندوستان کا دو ملکوں میں بٹوارا ہوا۔وحدت کی شکست کا یہ واقعہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا لیکن عجیب اسباب ہوئے کہ ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ قتل و غارت اور آتش زنی اِسی طرح عام ہوئی گویا یہ کوئی زندگی کے روزمرہ معمولات میں سے ہے۔
اِن واقعات میں خود مولانا کا مکان نذرِآتش ہو گیا۔ اُن کا قیمتی کتب خانہ اور اُن کی معیشت کے اسباب جل گئے مگر خواب تاحال زندہ رہے۔ گوپال متل کا بیان دیکھیے:
’’لاہور جلنے لگا اور مسلمانوں کے لٹے ہوئے قافلے وہاں پہنچنے لگے لیکن مولانا صلاح الدین احمدکی گفتگو کا محور ایک ہی رہا۔ پنجاب میں اُردو کا کیا بنے گا؟ اُن کا مکان جل کر راکھ ہو گیا تھا اور اُن کی پیشانی پر کوئی شکن نہیں اُبھری تھی۔ جب بھی مولانا کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی ہوتی اور وہ ہندوؤں اورمسلمانوں کے مصائب سے بے پروا صرف اُردو کے مستقبل کے بارے میں پریشانی کا اظہار کیا کرتے تو وہ صرف دوسروں کے مصائب ہی سے نہیں، اپنے مصائب سے بھی بے نیاز ہوتے تھے۔ انھوں نے اُردو کے غم کو اِتنا اپنا لیا تھا کہ باقی تمام غموں سے بے نیاز ہو گئے تھے۔‘‘(۲۳)
قیامِ پاکستان کے بعد مولانا صلاح الدین احمدکی خدماتِ اُردو کا زاویہ تبدیل ہو گیا اور انھوں نے حالات کے نئے تناظرکی روشنی میں ایک الگ لائحہ عمل اختیار کیا۔
اُردو کے بارے میں مولانا کوئی محدود نقطۂ نظر نہیں رکھتے تھے۔ اُن کے نزدیک یہ زبان پوری ملتِ اسلامیہ کی زبان ہے اور افرادِ ملت کے مابین وحدت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اُردو زبان کا فروغ ہندوستان میں بڑے فطری انداز میں ہوا اور صدیوں کے اشتراکِ تمدن نے اِس زبان کے ارتقأ میں ایک خاص کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اُردو زبان کو تہذیبی اشتراک کی علامت، امین اور سرمایہ خیال کرتے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ ایک حقیقت تھی کہ یہ زبان پاکستان کے باشندوں کی زبان بن کر رہ گئی۔ ایسا نہیں کہ اب بھارت میں اِس کی تہذیبی شناخت ختم ہو گئی بلکہ سیاست نے کچھ ایسا زاویہ اختیار کیا کہ وہاں کی حکومت نے اپنی پالیسیوں کی روشنی میں ہندی کو باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا اور ذرائع ابلاغ و تعلیم میں ہندی کی برتری قائم کر دی۔ یہی وہ دُکھ تھا جس سے مولانا صلاح الدین احمد مغلوب ہو گئے لیکن اب یہ قضا کا فیصلہ تھا جسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اُن کے خیال میں تقسیمِ ملک کے بعد اُردو کی عالمگیر حیثیت ختم ہو چکی ہے اور وہ زبان جو نہ صرف برعظیم ہند، ایشیا، یورپ اور افریقہ کی ہر بندرگاہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی، اب ایک چھوٹے سے ملک بلکہ اُس کے ایک حصے کی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔اِسی لیے انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ یہ زبان جس عجیب دوراہے پر کھڑی ہے، اِس میں سے پھوٹنے والا ایک رستہ چندہی قدم پر ایک مہیب چٹان کے کنارے پہنچ کر ختم ہو جاتاہے اور دوسرا خم کھا کر دُور سے نظر آنے والے ایک جنگل کی طرف چلا جاتا ہے ، جہاں ایک غیریقینی مستقبل کا دُھندلکا چھا رہا ہے۔
مولانا کے مذکورہ خیالات جزوی صداقت رکھتے ہیں، خصوصاً ان کا یہ نقطۂ نظر کہ اُردو زبان کی عالمگیر حیثیت ختم ہو چکی ہے اور اب وہ ایک چھوٹے سے ملک کے ایک مخصوص خطے کی زبان ہے۔ معاصر حالات میں دیکھا جائے تو اِس زبان نے اپنے فروغ کے حوالے سے کم از کم ملکِ پاکستان میں مکانی حدود کو اہمیت نہیں دی اور یہ زبان ہر خطے میں برابر فروغ پا رہی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ پنجاب میں اپنی تہذیبی تاریخ کے باعث زیادہ کام ہوا ہے۔
تقسیمِ ہندکے بعد اُردو کے جس دوسرے راستے کی طرف مولانا صاحب نے جو اِشارہ کیا ہے کہ وہ جنگل میں کھو جاتا ہے اور دراصل دشتِ فرنگ ہے۔ یہ انگریزی زبان کا وہ دُھندلکا ہے، جس میں کھو کر اُردو کو راستہ نہیں مِل رہا اور مولانا صلاح الدین احمدکی معاصر کوششوں کا محور یہی تھا کہ اُردو کو کس طرح انگریزی کے مقابلے میں اُس کا جائز اور صحیح مقام دلایا جائے۔
اُن کی موجودہ کوششوں کو دیکھا جائے تو اُن میں علمی سطح پر ایک وسعت نظر آتی ہے۔ اُن کی فکری اساس کے لحاظ سے اُن کا مقالہ ’’تقسیمِ ملک کا اثر اُردو زبان و ادب پر‘‘بہت اہم ہے جو انھوں نے حلقہ اربابِ ذوق کے سالانہ جلسے مارچ ۱۹۴۸ء میں پیش کیا اور بعدازاں پنجاب یونیورسٹی کی اُردو کانفرنس منعقدہ اپریل ۱۹۴۸ء میں پڑھا۔ اِس مقالے میں انھوں نے نہایت دردمندی اور دُکھ کے ساتھ لکھا:
’’ایک غلط قسم کی وطنیت اور فرقہ پرستی نے ہندوستان کے صاحبِ اقتدار طبقے میں یہ غلط فہمی پیدا کر دی ہے کہ اُردو مسلمانوں کی زبان ہے یا کم از کم ہندومسلم اشتراکیت و اتحاد کی یادگار نہیں بلکہ مسلم اقتدار کی یادگار ہے اور اِس لیے اِسے مٹا دینا چاہیے۔ چاہے اِس کے مٹا دینے سے خود اپنی تہذیب اور اپنے کلچر کا ایک نہایت خوبصورت حصہ بھی نہ مٹ جائے ۔۔۔ ۔۔۔ ایک بے خیال ذریعۂ اظہار سے ہاتھ دھو لیں اور مصنوعی اور بے جان کو اپنی قومی زبان سمجھ کر اختیار کر لیں۔‘‘(۲۳)
مولانا صلاح الدین احمدکے مذکورہ بیان میں کیفیتِ کرب واضح ہے لیکن اُنھوں نے اِس بات کو روگ بنانے کے بجائے اُردو کی موجودہ حیثیت میں اِس کے فروغ، ارتقأ اور نفاذ کے لیے اپنی کوششوں کو مربوط کیا اور آئندہ لائحۂ عمل پر غور کیا۔ اِس سلسلے میں انھوں نے اپنی تحریروں میں اُردو کی قومی زبان کی حیثیت کے موضوع کو ایک مرکزی نقطے کے طور پر اختیار کیا اور ہمہ وقت اِس پر لکھتے رہے۔ انھوں نے پاکستان میں اُردو کو حقیقی معنوں میں قومی زبان بنانے کے لیے عمدہ تجاویز دیں۔ اِس حوالے سے اُن کا خیال تھا:
۱۔ زبان کو سخت جکڑبندیوں سے نجات دلائیں اور اِسے اپنے نئے ماحول میں پنپنے کا موقع دیں۔
۲۔ اُردو کے وسیع تر مفاد کے پیشِ نظراِس کے دروازے صوبائی بولیوں کے مخصوص الفاظ اور محاوروں کے لیے کھول دیے جائیں۔
۳۔ اُردو میں انتقالِ علوم کا کام بڑے پیمانے پر جاری کیا جائے اور اکنافِ عالم کے علمی ذخیرے سے اُردو کی علمی اور ادبی تعمیر کی بنیادی توسیع کا کام لیا جائے۔
۴۔ ادبی مشاغل کے نام پر پانے والی تفریح کا سدِ باب کیا جائے۔
مذکورہ بالا تجاویز کی روشنی میں انھوں نے متعدد مقالات لکھے جو شائع بھی ہوئے اور انھوں نے مختلف کانفرنسوں اور سیمی ناروں میں پیش کیے۔ اِس کے علاوہ انھوں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ’’اُردو بولو تحریک‘‘ کو ایک نئی توانائی کی ضرورت ہے اور اِس کے لیے نئے حالات کے تناظر میں ایک تازہ لائحۂ عمل تیار کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے سلوگنز کے ساتھ ساتھ اپنے اداریوں اور تنقیدی شذرات میں مزید شدومد کے ساتھ لکھا اور قومی زبان کے لیے باقاعدہ ایک مجاہد کا کردار ادا کیا۔ اِس سلسلے میں انھوں نے پاکستان کے تمام باشندوں، وہ چاہے کسی بھی شعبۂ زندگی سے وابستہ ہوں، سے خطاب کیا اور انھیں انگریزی سے گریز کے لیے تاکید کی۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اگر ہم اپنے مخاطبین سے اُردو کے سوا کسی اور زبان میں بات کرنے سے اِنکار کر دیں۔ اگر ہم ڈاکخانے، ریلوے، میونسپلٹی، یونیورسٹی، بینک، انکم ٹیکس وغیرہ کے محکموں سے صرف اُردو میں خط و کتابت کریں اور اُن کے انگریزی خطوط واپس کر دیا کریں تو مجھے اُمید ہے کہ اِن اداروں میں اُردو کے رواج کی تحریک چل نکلے گی۔‘‘(۲۴)
اُردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے ’’اُردوبولوتحریک‘‘ کے علاوہ انھوں نے اپنے وسائل سے ’’اکادمی پنجاب‘‘ کی بنیاد رکھی۔اِس سلسلے میں اُن کو سیّد وحیدالدین،اے ڈی اظہر اور ڈاکٹر وزیرآغا کا تعاون حاصل تھا۔ اِس اکادمی کے مقاصد میں اُردو زبان و ادب کی نشوونما کے لیے متنوع جہتوں میں کام کرنا تھا۔
’’اکادمی پنجاب‘‘ کے مقاصد کا تعین کرتے ہوئے ڈاکٹر انورسدید نے درج ذیل پانچ نکات پیش کیے ہیں:(۲۵)
۱۔ قومی زبان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا۔
۲۔ اُردو کی ترقی اور فروغ کی علمی کامرانیوں میں اضافہ۔
۳۔ ملک و قوم کی تہذیب و ارتقأ کے لیے اعلیٰ درجے کے مصنّفین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا۔
۴۔ مغربی پاکستان میں سنجیدہ ادب کی نشرواشاعت۔
۵۔ ملک کے بہترین دِل و دماغ کو تسکین و آسائش فراہم کرنا۔
مولانا صلاح الدین احمدنے اُردو زبان کے قومی مرتبے کی راہ میں دو بڑی رکاوٹوں کے خلاف کھل کر لکھا اور انھیں دُور کرنے کے لیے سنجیدہ تجاویز پیش کیں۔ اِن میں پہلی رکاوٹ برسرِاقتداراور انگریزی نواز طبقہ تھا جو مختلف حیلوں بہانوں سے اُردو کے لیے سرکاری زبان سے اجتناب کی راہ اختیار کر رہا تھا۔ وہ ایوانوں میں اُردو کے حق میں آواز بھی اُٹھاتا تھا تو اِس طور سے کہ اُس کے مفادات کو زک نہ پہنچے۔
دسمبر۱۹۵۶ء میں انجمن ’’آزاد خیال مصنّفین‘‘ کے پہلے سالانہ جلسے میں انھوں نے اپنے خطبۂ صدارت میں کہا:
’’حضرات! یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ عہدِ حاضر کے اُن خواص کے لیے جو آج اپنی زبان کو درخورِ اعتنا ہی نہیں سمجھتے اور اپنے گزشتہ فرنگی حاکموں کی زبان کو اپنے سینے سے لگائے اور اپنی زبانوں پر چڑھائے پھرتے ہیں اور اگرچہ اِن میں کوئی خسرو، کوئی فیضی، کوئی بیدل اور کوئی گرامی نہیں ہے اور اگرچہ یہ اَمر بے حد مشکل ہے اور قریب قریب محال ہے کہ وہ انگریزی میں صاحبِ تصنیف ہو سکیں یا کم از کم اہلِ زبان کی سی زبان بول یا لکھ سکیں۔ تاہم وہ اپنی اور بچو ں کی بہترین توجہ انگریزی کے حصول پر صرف کرتے اور کرواتے اور اِسی نسبت سے خود اپنی زبان کی طرف سے تغافل و تساہل میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔‘‘(۲۶)
۲۷؍اپریل ۱۹۶۲ء کو انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں مولانا صلاح الدین احمد نے صدرِ پاکستان سے بعض تقاضے کیے جو تاریخی بھی تھے اور دیرپااثرات کے حامل بھی۔ انھوں نے یہ واضح مطالبہ کیا کہ بنگالی زبان کا رسم الخط عربی کیا جائے تاکہ بنگال کلکتے کے بجائے ڈھاکہ کی طرف دیکھے۔ تعلیمی اداروں سے انگریزی کا طنطنہ ختم کیا جائے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے تہذیبی ورثے کے سوادِاعظم سے قریب تر ہو۔مولانا صاحب کا آخری تقاضا بہت بھرپور تھا کہ ایک وزارتِ قومی زبان قائم کی جائے جو دس سال کے اندر اندر اُردو کو سرکاری ودفتری زبان کے طور پر نافذ کرے اور انگریزی کے دیس نکالے میں اپنا کردار ادا کرے۔
مذکورہ تقاضوں کے علاوہ مولانا صلاح الدین احمد نے اُردو یونیورسٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ یہ تجویز دراصل بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی وہ تمنا تھی، جس کے لیے وہ اپنے آخری ایامِ زندگی میں نہایت بے تاب اور بے چین رہ چکے تھے۔
اُردو زبان کے فروغ میں محض برسرِاقتدار طبقہ ہی رکاوٹ نہ تھا۔ مولانا صلاح الدین احمد اُن تعصبات کے شعلے بھی دیکھ رہے تھے، جو وطنِ عزیزمیں لسانی بنیادوں پر بھڑکائے جا رہے تھے۔ اِس سلسلے میں بطورِخاص مشرقی پاکستان میں جو صورتِ حال تشکیل پا رہی تھی، اُسی کے اثرات پورے ملک میں منفی طور پر سامنے آنے لگے اور جن سے قومی وحدت کا شیرازہ بکھرتا ہوا نظر آرہا تھا۔ ایسے میں مولانا صلاح الدین احمد نے نہایت دردمندانہ انداز میں لکھتے ہوئے اہلِ قوم کو متنبہ کیا:
’’آج خلیج بنگال سے جو آندھی اُٹھی ہے، اُس کے جھونکے مغربی پاکستان کے میدانوں میں پہنچ کر ان چنگاریوں کو اور بھی اُجلا کر رہے ہیں، جو وحدتِ قومی کی راکھ میں کجلا کر رہ گئی تھی اور کوئی دِن کی بات ہے کہ یہ اخگر بھی شعلوں کی صورت اختیار کر لیں گے۔‘‘(۲۷)
مولانا صلاح الدین احمد کا مزاج رجائی تھا۔ وہ یاسیت پسند نہ تھے لیکن اُردو کونظرانداز کیے جانے کا رویہ اُن کے لیے سخت تکلیف دہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں اُردو کی حوالے سے لکھی گئی اُن کی تحریروں میں طنز اور زہرخند کا رویہ نمایاں ہے۔ آخری دور کی تحریریں دیکھی جائیں توانھیں اپنی موت اور اُردو کے حوالے سے اپنی خواہشات کے ادھورے پن کا احساس بڑا واضح نظر آتا ہے۔ انھیں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ ’’جادۂ حیات کا یہ مسافر اپنے سفر کے آخری مراحل‘‘(۲۸) طے کر رہا ہے اور ’’رخشِ زندگانی اب پر لگا کراُڑا جا رہا ہے۔‘‘(۲۹)
’’ادبی دُنیا‘‘ کا آخری اداریہ ملاحظہ کیا جائے تو یہ تحریر ایک نوحہ دِکھائی دیتی ہے۔ اِس تحریر میں یہ اَمر حیران کن ہے کہ انھیں اپنی موت کا احساس بڑی شدت سے ہوا لیکن اِس سے بڑھ کر یہ اَمر حیرت بڑھاتا ہے کہ انھیں اپنی موت کی صورت میں اپنے بچوں کی یتیمی کا اتنا احساس نہیں تھا جتنا انھیں اُردو کے یتیم ہونے کا دُکھ ہو رہا تھا۔ یہ اداریہ ملاحظہ ہو:
’’اگر ایک پیارا سا یتیم بچہ آپ کے سپرد کیا جائے اور آپ سے یہ توقع کی جائے کہ آپ اِسے اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھیں گے اور اِس کی صحت مندانہ پرورش میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے تو یقیناًیہ کوئی غیرفطری یا قابلِ اعتراض بات نہیں ہو گی۔ حوادثِ زمانہ کی بدولت ہماری قومی زبان اُردو کی حیثیت بھی ایک یتیم بچے کی سی ہو چکی ہے۔ آج سے سترہ برس پہلے ہم نے ایک عظیم الشان جائیداد اس نونہال کی پرورش کے بہانے سے حاصل کی تھی اور جب تک یہ حاصل نہیں ہوئی تھی ہم شب و روز یہ واویلا کرتے تھے کہ جب تک ہمیں یہ جائیداد نہیں ملے گی، ملت کے اس لال کی صحیح پرورش کبھی نہیں ہو سکے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نالہ و فریاد کا جواب اس عظیم الشان عطیے کی صورت میں دیا جسے عرفِ عام میں مملکتِ خداداد پاکستان کہتے ہیں۔ ہماری ساری آرزوئیں پوری ہوئیں۔ آزادی نصیب ہوئی، دولت بڑھی،عزت بڑھی، اِمکانات بے پایاں ہو گئے لیکن افسوس ہے کہ اسی نسبت سے ہماری بے نیازی، بے توجہی اوربے حمیّتی میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور آج کیفیت یہ ہے کہ وہ زبان جو ہماری قومیّت اور ثقافت کی نمائندہ تھی اور جو مطالبہ پاکستان کے عناصر جواز میں ایک عنصر عظیم کی حیثیت رکھتی تھی اور جسے معمارِ پاکستان نے اس مملکت کی واحد قومی زبان قرار دیا تھا۔ آج ایک نامطلوب اور غیرپسندیدہ اجنبی کی طرح ہماری آنکھوں میں کھٹکتی ہے اور ہم طرح طرح کے بہانے بنا کر اس ’روزبد‘ کو دُور سے دُور کرتے چلے جا رہے ہیں جس روز یہ اپنے صحیح منصب پر فائز ہونے کی اُمیدوار اور حق دار ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا تازہ ترین کارنامہ یہ ہے کہ برسوں سے ہم نے اس یتیم بچے کو زمین پر لٹا رکھا ہے اور خدّام کو تاکید کر دی گئی ہے کہ خبردار اسے اُٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے نہ دینا۔ مبادا اس کے دست و پا میں اِتنی طاقت آ جائے۔۔۔ کہ ہمیں اس کا وہ قرض چکانا پڑ جائے جو مدتوں سے ہم پر واجب الادا ہے۔ بارہ برس کی اس عجیب و غریب میعاد میں سے ،جو ہم نے اس یتیم بچے کے جائز اہلیت کے لیے مقرر کر رکھی ہے، چار برس گزرنے کو آئے ہیں۔ اس عرصے میں جو کچھ ہم نے اس غریب کے لیے کیا ہے اس کو پیشِ نظر رکھا جائے تو آئندہ آٹھ برس کی فتوحات کی نسبت کسی قسم کی خوش آئند توقعات رکھنا قطعاً بے معنی ہو گا۔ اگر ہم دِل سے چاہتے ہیں کہ بارہ برس کے اس وقفے میں ہماری قومی زبان علوم و فنون سے اس قدر مالامال ہو جائے کہ اس کے لیے قومی زندگی کے بیش تر شعبوں میں انگریزی کی جانشینی قطعاً مشکل نہ رہے تو ہم اسے زمین پر لٹائے رکھنے اورآہستہ خرامی کا مشورہ دینے کی بجائے اسے اس قدر تیزی سے دوڑاتے کہ مہینوں کی منزلیں دِنوں میں طے ہو جاتیں مگر ایسا اسی صورت میں ہوتا جب ہمارے مقاصد بھی وہی ہوتے جو زندہ قوموں کے مقاصد ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ قومی اہمیت کے ایسے مسائل میں جیسا کہ قومی زبان کا مسئلہ ہے جب تک ساری قوم سعی و عمل کے ایک بخار میں مبتلا نہ ہو جائے، بات نہیں بنا کرتی۔ یہ اور بات ہے کہ بات بنانا مقصود بھی ہے یا نہیں۔ انگریزی روز بروز ہماری انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں پر چھائے چلی جا رہی ہے اور آئندہ آٹھ برس میں آج کی نسبت بہت زیادہ چھا چکی ہو گی اور آج اعلیٰ طبقے کے جو بچے انگریزی اسکولوں میں تعلیم پا رہے ہیں وہ اسی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو کر حکومت کے اعلیٰ مدارج پر پہنچ چکے ہوں گے۔ اس وقت ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ انگریزی کی جگہ اُردو کو دِلانے کی کوشش کریں گے، ایک دیوانے کا خواب ہے جس کی کوئی تعبیر کبھی برآمد نہیں ہو گی۔‘‘(۳۰)
مولانا صلاح الدین احمد کے یہ الفاظ گویا مستقبل کے منظرنامے کی تصویر ہیں۔ اُن کی تمام تر زندگی اُردو کے تحفظ، فروغ، دفاع اور نفاذ کی کوششوں میں گزری۔ یہ کوششیں ایک ایسی زبان کے لیے تھیں جو ایک عظیم تہذیب کی ترجمان اور امانت دار تھی مگر جس ہوائے مخالف کو ورثے میں پایا اور تاحال اِس تندئ بادِ مخالف کا سامناکر رہی ہے، غنیمت نہیں۔ وہ لوگ جنھوں نے شعبۂ اُردو کے لیے ایک مضبوط بادبان کا کام کیا ورنہ تو اِس کے دُشمنوں ہی نے نہیں بعض نادان دوستوں نے بھی اِ س کے ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
مولانا صلاح الدین احمدنے اُردو کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم بھی اُٹھایا اور آواز بھی۔ ’’ادبی دُنیا‘‘ کے اداریے، تنقیدی شذرات، اُردو بولوتحریک، اکادمی پنجاب ہروہ تدبیر آزمائی جو اُردو کے تحفظ کے لیے کارگر ہو سکتی تھی۔ یہ کہنا قطعی طورپر بجا ہو گا کہ مولوی عبدالحق کے بعد مولانا صلاح الدین احمد نے اُردو کے لیے جو مجاہدہ اور ایثار کیا، اُردو کی تاریخ میں اُس کی دوسری مثال آج تک سامنے نہیں آئی۔‘‘(۳۱)
یہ سوال اپنی جگہ کہ دوسری مثال کیوں سامنے نہیں آئی؟ اُردو زبان و ادب کے لیے فی زمانہ اِتنے ادارے موجود ہیں اور متعدد جامعات میں اُردو کے شعبے بھی کام کر رہے ہیں لیکن تاحال اُردو کا وہی حال ہے جو مولانا صلاح الدین احمد کے آخری اداریے کی سطور میں دِکھایا گیا ہے۔ کیا اُردو کا نفاذ واقعی ایک دیوانے کا خواب ہے؟ جس کی تعبیر کی تلاش ایک بے سود عمل ہے؟ اِس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، ممکن ہے مستقبل میں اِس کا جواب مثبت نتائج کی صورت میں مِل جائے، فی الحال تو
ع اِک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
حوالہ جات و حواشی

۱۔ ڈاکٹرانورسدید؛’’مولانا صلاح الدین احمد۔۔۔ ایک مطالعہ‘‘؛اسلام آباد، اکادمی ادبیاتِ پاکستان؛ ص: ۶۵
۲۔ یہ اقتباس مولانا صلاح الدین کے نام گاندھی کے خط سے ہے، جس کا حوالہ مولانا صاحب کے صاحبزادے وجیہہ الدین نے دیا ہے۔ملاحظہ ہو اُن کا مضمون ’’اب جی کی باتیں‘‘ ،’’مولانا صلاح الدین احمد ۔۔۔شخصیت اورفن‘‘؛انجمن ترقی اُردو، پاکستان؛ ص: ۳۲
۳۔ ڈاکٹر انورسدید؛’’مولانا صلاح الدین احمد۔۔۔ایک مطالعہ‘‘؛ص: ۷۹
۴۔ ایضاً ؛ ص: ۷۷
۵۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘ ؛جولائی۱۹۴۳ء؛ص: ۷
۶۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘ ؛مارچ۱۹۳۴ء؛ص: ۷
۷۔ ایضاً؛ص ۷۱
۸۔ آغابابر؛’’اُردو بولو تحریک‘‘؛’’ادبی دُنیا‘‘ ؛فروری ۱۹۴۸ء؛ص: ۲۶
۹۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘ ؛مارچ ۱۹۴۴ء؛ص:۷۱
۱۰۔ ایضاً؛اکتوبر۱۹۴۵ء
۱۱۔ ایضاً؛دسمبر۱۹۴۵ء
۱۲۔ ایضاً؛مارچ۱۹۴۷ء؛ص :۹
۱۳۔ ایضاً؛مئی۱۹۴۶ء؛ ص:۳
۱۴۔ ایضاً؛اپریل۱۹۴۶ء،؛ص: ۳
۱۵۔ ایضاً؛جون۱۹۴۶ء؛ص :۳
۱۶۔ ایضاً؛جولائی۱۹۴۶ء؛ ص: ۳
۱۷۔ ایضاً؛اگست ۱۹۴۶ء؛ ص :۱
۱۸۔ ایضاً؛ستمبر۱۹۴۶ء؛ ص: ۱
۱۹۔ ایضاً؛اکتوبر۱۹۴۶ء؛ ص: ۱
۲۰۔ ایضاً؛نومبر۱۹۴۶ء؛ ص: ۱
۲۱۔ مولوی عبدالحق کا یہ بیان آغابابر کے مضمون ’’اُردو بولوتحریک‘‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔
۲۲۔ گوپال متل؛’’لاہور کا جوذِکر کیا‘‘دِلّی، مکتبہ تحریر؛۱۹۴۹ء؛ص: ۸۵
۲۳۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘؛ دسمبر۱۹۴۸ء؛ ص:۲۵
۲۴۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘؛ مارچ ۱۹۴۹ء؛ ص:۲۴
۲۵۔ ڈاکٹرانورسدید؛’’مولاناصلاح الدین احمد۔۔۔شخصیت اور فن‘‘؛ص: ۹۸
۲۶۔ صلاح الدین احمد؛خطبۂ صدارت انجمن آزاد خیال مصنّفین؛ص: ۴
۲۷۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘ فروری ۱۹۵۷ء؛ ص:۵
۲۸۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘ دورپنجم،شمارہ ۱۱؛ص:۲۵۵
۲۹۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’صریرخامہ‘‘(جلد سوم)،لاہور،؛المقبول پبلی کیشنز؛ س۔ن؛ ص: ۱۵۳
۳۰۔ مولانا صلاح الدین احمد؛’’ادبی دُنیا‘‘ ؛مارچ۱۹۶۴ء؛ص: ۹۔۱۰
۳۱۔ محموداحمد اسیر؛’’مولانا صلاح الدین احمد۔۔۔احوال وآثار‘‘؛لاہور،مجلس ترقی ادب؛ ۲۰۰۹ء؛ص :۴۰۳