عطا شاد کا تخلیقی ارتقاع
فیصل احمد گوندل


اردو شعر و ادب کی بات ہو تو بلوچستان کا ذکر ہوتے ہی جو پہلا نام ذہن میں آتا ہے وہ عطا شاد کا ہے۔ یہاں دو باتیں وضاحت طلب ہیں ایک تو یہ کہ کیا بلوچستان کے حوالے سے صرف اردو شعر وادب کی بات ہو؟ اور دوسری یہ کہ کیا عطا شاد کے ادبی مقام کے تعین کے لیے بلوچستان کا لاحقہ لگانا ضروری ہے؟ پہلی بات کا جواب تو یہ ہے کہ بلوچستان کی ادبی روایت کا بیشتر سرمایہ اردو کے علاوہ بلوچی، براہوئی، پشتو اور فارسی زبان و ادب پر مشتمل ہے اور ان زبانوں کا ادب اردو سے کم وقیع نہیں ہے۔ چنانچہ ان زبانوں کے ادبیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بلوچستان کے کسی بھی فنکار کی ادبی اہمیت متعین کرنے کے لیے زبان کی تخصیص ایک ناگزیر امر ہو گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اصولاً شاعر اور فنکار کو کسی مخصوص علاقے اور جغرافیے سے وابستہ کر کے اس کی مقبولیت کو ایک خاص علاقائی وحدت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ ہر ادیب اور شاعر کسی مخصوص علاقے، سماج، ثقافت اور عصر میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کی اٹھان جس تمدن میں ہوتی ہے اس کی شخصیت کی نسبت سے اس کے ثقافتی خط و خال کی گہری چھاپ ہوتی ہے جس کا اظہار اس کے فن میں کم و بیش ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہی خصوصیت اسے دوسرے فنکاروں اور ادیبوں سے متمیز کرتی ہے۔ عالمی اور قومی ادب میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ مختلف ادیبوں کی تحریر وں میں ان کا سماج، اس کی ثقافتی عناصر، تہذیبی رنگ، سیاسی و سماجی ماحول اور ملکی و عصری صورت حال کی عکاسی ملتی ہے اور یہی چیز ان کی انفرادیت کو ظاہر کرتی ہے۔ چنانچہ ان کے فن کا مطالعہ اس تناظر میں کیا جاتا ہے۔
جہاں تک عطا شاد کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں عطا شاد بلوچستان کا شاعر ہے۔ وہ مکران میں سنگانی سر کے مقام پر پیدا ہو۔ پربت میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر مزید تعلیم کوئٹہ میں حاصل کی۔ اس کی ظاہر ی و باطنی شخصیت کے بننے سنورنے میں بلوچستانی معاشرت و ثقافت نے اساسی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف اس دھرتی کا زائیدہ تھا بلکہ اسے ایک محب وطن انسان کی طرح اپنی سر زمین سے بے پایاں عشق تھا۔ چنانچہ بلوچستان اپنے مختلف خواص کے ساتھ اس کی شاعری میں جلوہ گر ہوا اور اردو شاعری پہلی بار عطا شاد کے شعری پیکر کی صورت میں ایک بالکل جداگانہ لہجے سے آشنا ہوئی۔ اس نے دہلی و لکھؤو اور لاہور و کراچی کے ماحول سے نکل کر کوئٹہ کی کوہستانی فضاؤں میں سانس لیا۔ اسی وجہ سے عطا شاد کا قد نہ صرف اپنے ہمعصروں میں بلند ہوا بلکہ اس نے اسے ایسی انفرادیت و مقبولیت بخشی جو کم شاعروں کے حصے میں آتی ہے۔ اس کا بلوچستانی لہجہ کوئٹہ سے نکل کر ہر اس دیار تک پہنچا جہاں اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے رہتے ہیں اور اس نے عام قارئین کے ساتھ ساتھ اہل علم و ادب سے اپنا آپ منوایا۔ اس لیے اس کے ہمعصر ناقدینِ ادب نے اسے خراج تحسین پیش کیا۔ عطا شاد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اردو شاعری کو بلوچستانیت کا تڑکا لگا کر ایک نیا ذائقہ بخشا اور اردو کی شعری روایت سے جڑے ہونے کے باوجود اپنی انفرادیت کا واضح احساس دلایا۔
عطا شاد کی شاعری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنا ایک الگ اور انفرادی ماحول رکھتی ہے جو کہ صرف اسی سے مخصص ہے۔ چنانچہ یہ اپنے قاری کو کچھ دیر کے لیے ایسے ماحول میں پہنچا دیتی ہے جو بالکل الگ، منفرد اور حد درجہ دلکش ہے اس کے مطالعے سے قاری پر بیک وقت مختلف و متضاد حالتیں اور کیفیات طاری ہوتی ہیں، اسے بلند و بالا کہسار اور قدرتی چشمے، صحرا و رریگستان، ہنستے برستے جھرنے، دشتِ تپاں اور خلوتِ یخ کے مشاہدات، زمستاں میں شبِ گرم کی برکتیں اور گلاب نژاد اور آفریدۂ مہتاب لوگ اور چہرے نظر آتے ہیں۔ ایسے عناصر سے تشکیل پانے والا منظر نامہ قاری کے لیے حیرت کا وافر سامان اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس شاعری کا قاری خود کو اپنے ماحول سے الگ محسوس کرتے ہوئے ایک بالکل نئی آب و ہوا اور اجنبی سر زمین پر کھڑا ہوا پاتا ہے۔ اس کا اعتراف ناصر عباس نیئر نے اس طرح کیا۔ ’’عطا شاد کی غزلیں پڑھتے ہوئے قاری خود کو ایک خاص جغرافیائی فضا میں محسوس کرتا ہے۔ ‘‘اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عطا شاد کے شعری منظر نامے پر بلوچستان اپنے جغرافیائی، تہذیبی اور ثقافتی و سماجی خط و خال سمیت چھایا ہوا ہے۔ عطا شاد تربت مکران میں پیدا ہوا ، پلا بڑھا جو کہ بلوچستان کا گرم ترین علاقہ ہے اور پھر اس کی باقی کی ساری زندگی تقریباً کوئٹہ میں گزری۔ کوئٹہ اور اس کے مضافات زیارت، کان مہترزئی، برشور وغیرہ بلوچستان کے سرد ترین علاقے ہیں۔ وہ بلوچستان کے سر و گرم ، دشت و دریا، کوہ و صحرا، برف و دھوپ ہر دو طرح کے شدید موسموں اور مختلف ثقافتی عناصر سے بخوبی واقف تھا۔ اس لیے یہ سب اس کے شعری نظام کے مستقل استعارے بن کر سامنے آتے ہیں اور ایک نئی شعری فضا تشکیل دیتے ہیں اور اپنے قاری کو ورطہ حیرت میں ڈالتے ہیں، اسی کا اعتراف ناصر عباس نے کیا ہے۔
لسانی حوالے سے عطا شاد کا ہم کام نئی لفظیات و تراکیب کی تعمیر اور ان کا فنکارانہ استعمال ہے۔ ان لفظیات کی جڑیں زمین میں پیوست ہیں اگرچہ اس طرح کی لفظیات و تراکیب کی ایجاد کی اکا دکا مثالیں بلوچستان کی شاعری میں عطا شاد کے علاوہ بھی نظر آتی ہیں تاہم وسیع پیمانے پر اور ایک تسلسل کے ساتھ نئی تراکیب نہ صرف وضع کرنا بلکہ انھیں فنی چابکدستی کے ساتھ جزوِ شاعری بنانا بلاشبہ عطا شاد کا کارنامہ ہے۔ اس کی چند منفردو ممتازتراکیب میں سنگاب، خطۂ جاں، خلوتِ یخ، وقفِ زمستاں، دشتِ ہوابستہ، بلاکشانِ نظر، گلباغ خاک، طشتِ جاں ، خمارِ آبِ بقا، گلاب نژاد، آفریدۂ مہتاب، خشکابۂ مراد ، چوب صحرا، جانِ صدا، گنگ، ہنر، حرفِ جاں بار، سرِ گنگ زارِ ہوس، پندارِ عرض طلب اور دشتِ تپان وغیرہ ہیں۔ ان تراکیب کی ساخت میں اس دھرتی کا تہذیبی و جغرافیائی پس منظر پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اس لیے معنوی ندرت کے ساتھ ساتھ یہ اعلیٰ درجے کی صوری اور صورتی انفرادیت بھی رکھتی ہیں اور اس کی شاعری کو اردو کی مجموعی شعری روایت سے مختلف بناتی ہیں۔
اس کے علاوہ عطا شاد نے بعض خالص بلوچی الفاظ کو اپنی شاعری میں برتا ہے۔ اس نے یہ الفاظ اس طرح اردو ائے ہیں کہ یہ اجنبی ہونے کے باوجود مانوس لگتے ہیں اور طبیعت پر گراں گزرتے ہیں نہ ہی شعر کے آہنگ کو متاثر کرتے ہیں۔ بلوچی کے جن الفاظ نے اس کی شاعری میں ظہور کیا ان میں تنگیں (پیاسا ) ، تلکیس (دام)، ذوباد (جنوب کی ہوا)، گلگ (بال) اور عومر (بلوچی داستان کا کردار) وغیرہ ہیں۔ اس طرح عطا شاد نے اردو زبان کے لسانی ذخیرے میں اضافہ کیا اور اس نظریے کو تقویت پہنچائی کہ اردو زبان کا خمیر اسی دھرتی سے اٹھا ہے جو آج کے موجودہ پاکستان پر مشتمل ہے اور جہاں پنجابی، بلوچی، پشتو، سندھی، سرائیکی اور دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ مختلف دیگر چھوٹی چھوٹی بولیاں بولی جاتی ہیں اور اردو کا مستقبل ان زبانوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تال میل پر ہے۔
عطا شاد کا شمار بلوچستان کے ان اولین بلکہ اکا دکا شعراء میں ہوتا ہے جو نہ صرف جدید طرز احساس سے آشنا ہیں بلکہ جدید حسیت کا اظہار ان کی شاعری میں فنکارانہ سطح پر ہوتا ہے جبکہ اس کا فن دیگر لوازمات شعری سے بھی مملو ہے، چاہے وہ امیجری ہو کہ غنائیت، بلکہ غنائیت عطا شاد کی شاعری کی جان ہے۔ اس کی شاعری کا بیشتر حصہ مختصر اور مترنم بحروں پر مشتمل ہے۔ جس نے اس کی شاعری کو ایسا پر لطف اور دلکش بنا دیا ہے کہ صرف ایک بار کی قرأت سے شعر ذہن نشین ہو جاتاہے۔ شاید اس کے قبولیتِ عام کا ایک سبب یہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے مختلف شعر عوام و خواص کی یادداشت کا مستقل حصہ ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ عطا شاد بلوچستان کا واحد شاعر ہے جس کے بہت سارے اشعار زبان زدِ خاص و عام ہیں، چند شعری مثالیں ملاحظہ ہوں :
یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے
اس خلوتِ یخ میں کوئی مہمان ہی رہ جائے
قربت میں شبِ گرم کا موسم ہے ترا جسم
اب خطۂ جاں وقفِ زمستان ہی رہ جائے
مجھ شاخِ برہنہ پہ سجا برف کی کلیاں
پت جھڑ پہ ترے حسن کا احسان ہی رہ جائے
برفاب کے آشوب میں جم جاتی ہیں سوچیں
اس کربِ قیامت میں ترا دھیان ہی رہ جائے

سوچوں تو شعاعوں سے تراشوں ترا پیکر
چھو لوں تو وہی برف کا انسان ہی رہ جائے

پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
ہم سے پی اور ہمیں رسوا سرِ بازار کیا
رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا

برف کی رات سنا کرتے تھے تیرے جسم کے گیت
یاد کے موسم میں پڑھتا ہوں آج بھی وہی کتاب
لمس کی تہہ میں عکس چھپا ہو پسِ نظر ہو رنگ
گیان مسافت کے ہر پل میں لو دے تری کتاب
کوئی کہیں تو سنے تیرے عرضِ حال کا حبس
ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا

ترسے یہ گرم زادِ جاں، برسے گھٹا سی چاندنی
اے شبِ حبسِ بے کراں، کوئی ہوا سی چاندنی
خیموں سے رکی ہوئی ہے بارش
دیوار کی قید میں ہوا ہے

کس کو اس دور میں ہے فرصتِ عشقِ خوباں
آگ تیرے لب و رخسار نے برسائی ہے
دشت میں سفر ٹھہرا پھر مرے سفینے کا
میں نے خواب دیکھا تھا برف کے پگھلنے کا
دھوپ کی تمازت تھی موم کے مکانوں پر
اور تم بھی لے آئے سائبان شیشے کا
سیلاب کو نہ روکیے رستا بنائیے
کس نے کہا تھا گھر لبِ دریا بنائیے
کوہساروں کی عطا رسم نہیں خاموشی
رات سو جائے تو بہتا ہوا چشمہ بولے
کاروبارِ ہستی میں سود ہی زیاں کا ہے
تھا ہی کیا جو کھویا ہے، ہے بھی کیا جو پایا ہے
رس اس کے قربِ گرم کا ہے حرف حرف میں
وہ خوش بدن گلاب کھلاتا ہے برف میں
میں شادؔ یوں بھی گیا اپنی عمر سے آگے
کہ میرے ساتھ میری حسرتوں کا لشکر تھا
عطا سے بات کرو چاندنی سی شبنم سی
خنک نظر ہے مگر دل الاؤ رکھتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ عطا شاد کی غزل ہو کہ نظم، ہر دو اصنافِ شعری میں اس کا سیاسی و سماجی شعور نمایاں طور پر نظر آتاہے۔ وہ اپنی زمین سے جڑا ہوا ہے اور اس کے گونا گوں مسائل سے بے خبر نہیں۔ اس کے پہلے مجموعہ کلام ’’سنگاب‘‘ کا آغاز جس نظم سے ہوتا ہے وہ ’کوہ کا کرب‘ ہے۔ یہ ایک مختصر مگر جامع اور بلیغ نظم ہے ۔ وہ اس نظم میں جو مختلف سوال اٹھاتا ہے وہ نہ صرف اس کی دھرتی کے حوالے سے با معنی ہیں بلکہ زندگی کی ازلی و ابدی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ چاہے وہ وقت کی مسلسل گزران ہو یا انسانی بستیوں کا آباد اور ویران ہونا عطا شاد روزِ ازل سے جاری ان واقعات کی گتھیاں سلجھانا چاہتا ہے۔ وہ زندگی کے ایسے بنیادی سوالات کا جواب چاہتا ہے جو ہمیشہ سے اہلِ نظرکو آمادۂ فکر کرتا ہے۔ عطا ایسے سوالات اپنے مخصوص سماجی تناظر میں اٹھاتا ہے۔ نظم ’’کوہ کا کرب‘‘ ملاحظہ ہو :
یہ چشمے کے پانی میں کیسا غبار آ گیا ہے
گزرتے ہوئے کاروانوں کی یادیں
جلے پتھر وں پر
ٹھہرتی شبوں کی، یہ کیا راکھ لکھ کر گئی ہیں
شکستہ طنابوں پہ خیموں کی تحریر کیا تھی
پڑھی بھی نہ جائے سنی بھی نہ جائے
وہ بوڑھی زبانوں کی مشفق کہانی تھی کیا
نقش جن کے ہواؤں نے کملا دیئے ہیں
یہ جب میں نے سوچا
تو ایسے لگا
جیسے وادی کے سب سرد پتھر پگھلنے لگے ہیں
بلوچستان کوہساروں، صحراؤں، چشموں اور سنگریزوں کی سرزمین ہے ، کوہ سے مراد بلوچستا ن ہے۔ اسی طرح گویا ’کوہ کا کرب‘ بلوچستان کا کرب ہے۔ آج یہ دھرتی جس انتشار اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے وہ سبھی کو معلوم ہے۔ نظم کے عنوان ’کوہ کا کرب‘ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے پہلے مصرعے کو پڑھیے۔ یہ چشمے کے پانی میں کیسا غبار آ گیا ہے۔ اب اس کی قرأت زیادہ با معنی ہو جاتی ہے اور بلوچستان کا موجودہ معاشرتی منظر نامہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ ذہن کی سکرین پر نمودار ہو جاتا ہے اور پھر نظم کے آخری مصرعے ’’جیسے وادی کے سب سرد پتھر پگھلنے لگے ہیں‘‘ میں وہ انجام صاف دکھائی دیتا ہے جو ایسے حالات کا لازمی نتیجہ ہو سکتا ہے۔ نظم کی بار بار کی قرأت سے ذہن کے آفاق روشن ہونے لگتے ہیں اور معنی کی ایک دنیا نظر آتی ہے۔ یاد رہے کہ ’سنگاب‘ ۱۹۸۵ء میں شائع ہوئی تھی اور یہ اس مجموعے کی پہلی نظم ہے جس سے شاعر کا تاریخی اور سیاسی شعور اجاگر ہوتا ہے۔ اس نے گویا قبل از وقت آنے والے حالات کی ایک طرح سے نشاندہی کر دی تھی۔ اب اگر کوئی نہ سمجھے خصوصاً وہ مقتدر قوتیں جو روایتی بے حسی اور ہٹ دھرمی پر بضد ہوں تو اس کا کیا علاج ! اور نہ شاعر نے تو اپنا فریضہ ادا کر دیا کہ وہ معاشرے اور اپنے عہد کا ضمیر ہوتا ہے۔ عطا شاد کی غزل بھی اس جوہر سے خالی نہیں خصوصاً ’’بولان ہو جیسے‘‘ ردیف والی ساری غزل اس طرز فکر کی نمائندہ غزل ہے۔ اس غزل کے تین شعر ملاحظہ ہوں :
جنم جنم کی پیاس بجھائے، ایک سلگتی آس،دل سیلابِ طلب بولان ہو جیسے
برق گرے، یا شعلے برسیں، پھر بھی رہے شاداب یہ تشنہ کشتِ طرب بولان ہو جیسے
زلزلہ در داماں ہے ، لیکن خاک بسر ہے ، چاک گریباں زخمِ غمِ احساس سے چور
صدیوں کا محروم، ہزاروں عمروں کا ناکام وہ اک انسان کہ اب بولان ہو جیسے
بچھڑے ہوئے ساتھی نہ ملے پھر، آتے جاتے موسم بھی ناکام رہے، پر جانے کیوں؟
دل کی راہ گزر ہے سونی، آس تھکی ہے، وہ عالم ہے جان بلب بولان ہو جیسے
یہاں بولان استعارہ ہے بلوچستان کا اور اسی وادئ بولان میں میر گڑھ واقع ہے جو ہزاروں سال پرانی تاریخ او رتہذیب رکھتا ہے اور یہ اہلِ بلوچستان کے لیے فخر و انبساط کا سرمایہ ہے۔ بنظرِ غور دیکھا جائے تو بلوچستان کے سیاسی المیوں کے تناظر میں ایسے اشعار کی معنویت کی قدر برھ جاتی ہے اور شاعر کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔ بلوچستان کا سماجی پس منظر رکھنے والی اور معنوی گہرائی کی حامل عطا شاد کی دیگر نظموں میں نہیں کا نغمہ، میرے میونے کا عنوان، ازل کا آتش کدہ، لوری، وفا، تین کے بعد نو، حکمِ حاکم، کوئی بگولہ کوئی الاؤ اور بگولوں کے ستون وغیرہ شامل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عطا شاد کے کلام کا بالاستیعاب مطالعہ کیا جائے تو معنی کے نئے دروا ہوتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعض لوگ جانتے بوجھتے اس کے تخلیقی کارنامے کو سطحی دلائل کے بل بوتے پر رد کرنے پر تُل جائیں اور قصداً غلط تجزیہ کریں یا غلط نتائج مرتب کریں ورنہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ عطا شاد کی شاعری کثیر الجہت ہے ۔ یہ نہ صرف اسلوب کی سطح پر مختلف و منفرد ہے بلکہ اس کے بغور مطالعے اور بار بار کی قرأت سے معنی کی تہہ در تہہ پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ اس میں نہ صرف بلوچستان کے جغرافیائی اور سماجی خط و خال ملتے ہیں، حسین اور خوبصورت موسم دھوپ چھاؤں کرتے نظر آتے ہیں بلکہ اس کے باطن میں یہاں کے باسیوں کی صدیوں پر محیط محرومیاں سسکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ عطا شاد کا کمال یہ ہے کہ اس نے فنی پختگی کے بل پر ان آوازوں اور صداؤں کو اپنی شاعری میں زیر یں سطح پر رکھا ہے۔ شاعری کی بالائی سطح پر شکوہ لفظیات سے مزین ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں تخلیق کار کے تنقیدی شعور کا دخل ہے جس کی وجہ سے احتجاج کی لے بہت تیز معلوم نہیں ہوتی ورنہ اس کی تقریباً ہر غزل میں یہ معاشرتی روگ اور سماجی المیہ کسی نہ کسی حد تک شامل ہے جو بعض اوقات پھیل کر مجموعی انسانی صورتحال پر بھی منطبق ہوتا ہے اور اس کا فن مقامیت سے بالا ہو کر ابدی حقائق اور آفاقی قدروں کا حامل نظر آتا ہے اور شاید اسی میں عطا شاد کی بڑائی مضمر ہے۔ آج متن اساس تنقید اور معنی کے مباحث جدید اردو تنقید کے بھی دل پسند موضوعات ہیں۔ اس ذیل میں عطا شاد نے کیا کمال کا شعر کہا ہے :
معنی کے شہر میں عطا ؔ ، کوئی نہیں ہے دور تک
آدمی بابِ ہست کا نقش ہے اک مٹا ہوا
یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ معنی کے فنا آشنا ہونے کی تعلیم پانے والے نقاد کم از کم اس وقت بلوچستان میں پیدا نہیں ہوئے۔ جب آج سے تین دہائیاں قبل عطا شاد اس نوعیت کے شعر کہہ رہا تھا جو اس کے شاعرانہ شعور اور تخلیقی ارتفاع کا بین ثبوت ہے۔ یقیناً وہ اس حوالے سے بھی بعد میں آنے والوں کا پیش رو ہے۔
عطا شاد نے کلاسیکی اسلوب کی حامل کچھ غزلیں کہی ہیں تاہم یہ مقدار میں اس قدر زیادہ نہیں کہ اس کی پوری شاعری پر حاوی نظر آئیں پھر یہ اس کا کوئی ایسا ناقابلِ معافی جرم نہیں ہے۔ اردو کے قریباً سبھی بڑے شعرا اس مرحلے سے گزرے ہیں کہ انھوں نے دوسروں کے تقلیدی رنگ میں غزل سرائی کی ہوچاہے وہ غالب جیسے بے مثل شاعر کا طرزِ بیدل میں ریختہ کہنا ہو یا پھر اقبال کا بہ رنگِ داغِ ؔ غزل گوئی کرنا اور اس کے در پر بذریعہ مکتوب باقاعدہ اصلاح کے لیے حاضری دینا۔ آج ان واقعات کی اہمیت صرف تاریخی حیثیت سے ہے۔ ہر دو شعرا کے معام و مرتبے کی تعین اور ان کی شاعری کی تفہیم کے لیے ان کے ایسے کلام پر انحصار نہیں کیا جاتا ۔ پھر یہ بات عطا شاد کے باب میں کہاں مناسب سمجھی جائے گی کہ اس کے فنی مطالعے کے لیے اس طرح کے محدود کلام پر تکیہ کیا جائے اور اس کی قدر پیمائی کے لیے ایسے کمزور نکات کی بنیاد پر تنقید کی عمارت قائم کی جائے۔ کم سے کم لفظوں میں یہ بد انصافی ہی کہلائے گی۔ حالانکہ کسی شاعر کے تنقیدی مطالعے میں اہم بات شاعر کی انفرادیت، اس کی تخلیقی اُپج ، کسی نئے پیرائیہ اظہار کی تشکیل، نئے موضوعات و اسالیب (چاہے وہ کسی جغرافیائی وحدت سے ہی متعلق کیوں نہ ہوں) اور اس کی شاعری کی مجموعی طو رپر ایک ایسی الگ فضا بنانا ہے جو پہلے سے موجود شعری روایت میں موجود نہ ہو اور جو قاری کو نہ صرف ایک نئی دنیا کی سیر کرائے، اسے حظ بخشے بلکہ بہت کچھ غور وفکر کی دعوت بھی دے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ عطا شاد ان مراحل سے کامیاب گزرا ہے۔ چنانچہ اس بنیاد پر اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا کہ عطا شاد بلوچستان کی ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے پر محیط اردو شعری روایت کا حاصل ہے۔ اس حوالے سے دوسرا کوئی شاعر ایسا نظر نہیں آتا جو اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکے۔

اخبار اردو کے نام
برادرم انوار احمد صاحب، تسلیمات !
اسلام آباد میں آپ سے ملاقات مختصر رہی۔ میرا ارادہ اس سے دوسرے روز واپس آپ کے پاس آنے کاتھا، مگر افسوس کہ ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
اخبار اردو ، شمارہ جون ۲۰۱۲ء، میں نے بیش از بیش پڑھ لیا ہے۔ اس میں مبالغہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ جھوٹی تعریف ہے کہ پرچے کے خدوخال پہلے والے ادوار سے کہیں بہتر ہیں۔ پاکستان میں، جہاں بالعموم ہر آنے والا دور پہلے سے بدتر ہوتا ہے، ’’اخبار اردو‘‘ کی موجودہ پیش کش اس کلیے یا تخمینے کی نفی کرتی ہے۔اداریہ میں سردار احمد صاحب نے بڑی نپی تلی باتیں کیں ہیں جو عین اپنے اہداف پر بیٹھ کر گہری توجہ کی متقاضی ہیں۔ ’’کرغزستان میں اردو کی تدریس‘‘، ’’منشی پریم چند: فن و شخصیت‘‘، اکیسویں صدی کیا کہتی ہے ‘‘ ، ’’مطبوعات مقتدرہ‘‘ اور ’’جگر مراد آبادی‘‘ خاصے کے مضامین ہیں۔ علاوہ ازیں میں دو اور مضامین کا ذکر علیحدہ طور پر کرنا چاہوں گا۔ ان میں سے ایک ’’ایک ترقی پسند خوش فکر دانش ور، ارشد محمود‘‘ اور دوسرا ’’حمید جہلمی کی آخری دعائیں قبول ہوئیں‘‘ ہے۔ اول الذکر کے حوالے سے میں ارشدمحمود صاحب کو ان کے اخباری کالموں کی وساطت سے جانتا ہوں اور وہ جس فکری ایمانداری اور خلوص دل سے ایک نہایت بے باکانہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اس پر میں انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آخر الذکر مضمون پڑھتے ہوئے مجھے گزشتہ صدی کی ستر کی دھائی کے وہ اولین سال یاد آ گئے جب میں روز نامہ امروز ، لاہور میں مضامین لکھا کرتا تھا اور اس سلسلے میں متذکرہ اخبار کے دفتر جایا کرتا تھا توحمید جہلمی اور منو بھائی ، جو دونوں ایک ہی کمرے میں بیٹھا کرتے تھے، سے بھی ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ایک زمانے کی آخری نشانیاں بھی دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہیں۔ اس سے مجھے بائبل کا ایک فقرہ یاد آتا ہے جس میں خدا کہتا ہے :’’تم دیکھتے ہو میں تم سے پہلے کتنے زمانوں کو گزارتا ہوں‘‘۔ فاروق خالد، کراچی