ایک جنم دو یادداشتیں
جستجو کیا ہے؟ اور چراغوں کا دھواں ، انتظار حسین کی پریم کتھا

ڈاکٹر ارشدخانم
یہ امر خوش آئند ہے کہ انتظار حسین نے اپنے اسی جنم میں اپنی دو آپ بیتیاں لکھ لی ہیں۔ کہنے کو کوئی چاہے تو ان کتابوں میں تکرار کے کئی پہلو تلاش کرے مگر اس عظیم فکشن رائٹر کے پاس ایک ایسا اسلوب ہے کہ وہ اپنی کہی ہوئی باتوں کو بھی دہراتا جائے تو مجھ ایسے طالب علم مسحور ہو کر ان کی باتیں سنتے جاتے ہیں۔ شاید ہی کسی ادیب کی آپ بیتی پر ان کی کسی خاتون مبصر نے انھیں ویسا سندیسا بھیجا ہو جیسا کشور ناہید نے اپنے کالم میں ’جستجو کیا ہے ‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے بہت زیادہ ملفوف انداز میں انہیں بھیجا تھا اور ایک طرح سے کہنے کی کوشش کی تھی کہ تنہائی کی کوکھ سے جنم لینے والا یہ سوال ’جستجو کیا ہے ‘ کو اب ختم ہونا چاہیے یعنی آپ کی تنہائی کو اور شاید خوب تر کی جستجو کو بھی۔ بہر طور میں نے مناسب خیال کیا کہ ان کی شائع ہونے والی دو آپ بیتیوں پر تبصرہ پیش کردوں۔
جستجو کیا ہے ‘انتظار حسین کی دوسری سوانح عمری ہے جو ۲۰۱۱ء میں منظر عام پر آئی ہے۔ اس میں انتظار حسین نے عمر بھر کے حسین لمحات کو یادوں کی صورت میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ انتظار حسین کو جوانی کے جذباتی دور میں اپنے لوگوں ، اپنے شہر، اپنی گلی محلوں سے جدا ہونا پڑا۔ اپنی تہذیب سے بچھڑنے کا یہ دکھ ایساحرزِجاں بنا کہ وہ تمام عمر کھوئے ہوؤں کی جستجو میں متلاشی رہے۔ عمر کے بظاہرآخری حصے میں لکھی جانے والی اس سوانح عمری میں شروع سے آخر تک ماضی پرستی کا یہ عمل جذباتی اتار چڑھاؤ کے ساتھ نظر آتاہے۔ انتساب کے لیے غالب کے شعرکا مصرعۂ ثانی منتخب کیا گیا ہے۔
؂ کریدتے ہو جواب راکھ جستجو کیا ہے
قبل ازیں ’’ چراغوں کا دھواں ‘‘ ۱۹۹۹ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں بھی ا نتظار حسین نے ہجرت کے بعد کے ۵۰ سال کے حالات واقعات بیان کیے ہیں۔ ہجرت کے تکلیف دہ عمل نے انتظار حسین کو کہانیاں لکھنے پر مجبور کیا۔ پھر لاہور کی علمی وادبی محفلوں نے مصنف کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی ۔ لاہور کی ان علمی وادبی محفلوں میں بہت سی نامور ہستیاں پروان چڑھیں اور آسودۂ خاک ہوگئیں۔ ان دوستوں کے ساتھ گزرا وقت اگر نشاط کا پہلو لیے ہوئے ہے تو ان سے بچھڑنے کا دکھ بھی غالب نظر آتا ہے۔ ان محفلوں کے اجڑنے سے انتظار حسین رنجیدہ ہوجاتے ہیں ۔ گویا ہجرت کے دکھ میں یہ دکھ بھی شامل ہوگیا۔ ایسے میں ہندوستان جانے کا موقع ملتا ہے تو گویا صورت پیدا ہوتی ہے اپنی تہذیب، اپنے لوگوں کے حیلے سے اپنے آپ سے ملنے کی۔
جستجو کیا ہے ؟ کا آغاز ہندیاترا سے ہوتا ہے،جسے انتظار حسین نے ’’ پریم یاترا ‘‘ کا نام دیا ہے ۔دوستوں کے ہمراہ جب وہ اپنی بستی میں جاتے ہیں تو وقت کے ہاتھوں مٹتی ہوئی تہذیب کے آثار انھیں افسردہ کردیتے ہیں گویا کبھی کبھی اپنی بستی اپنی لاجونتی کوپہچاننے سے انکار کردیتی ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہوتے بلکہ تلاشنے اور کھوجنے کا عمل بالآخر انھیں بار بار اس در پر لے جاتا ہے۔
’’
کتنی دیر تک تکتا رہا ، سمجھ میں نہ آیا کہ یہ گھر کون سا ہے ۔ ہمارا تو ہے نہیں ، پھر صدر دروازے کی دہلیز پر دائیں بائیں دو پتھر کی چوکیاں دیکھ کر تھوڑا تجسس ہوا۔ ہمارے صدر دروازے کے دائیں بائیں بھی تو چوکیاں تھیں مگر یہ وہ دروازہ تو نہیں ہے، پھر برابر میں کرنے کے تین دروازے دیکھ کر توڑا ٹھٹھکا ۔ ہمارے گھر میں وہ جوہال کمرہ تھا۔ اس کے بھی تین دروازے باہر سڑک پر کھلتے تھے مگر یہ وہ دروازے نہیں ہیں۔ پریشان ہو کر میں آگے چل پڑا۔ چند قدم چلا تھا کہ ایک مسجد کے مینار نظر آنے لگے۔ ارے، یہ تو وہی مسجد ہے ۔ میں اسے کیسے بھول سکتا ہوں ۔ کتنی نمازیں میں نے یہاں پڑھی تھیں۔ ‘‘ (ص ۱۰ )
’’
بھلا وہ کون سا موسم تھا جب اس حوض کے سبز رنگ پانی پر بھنبھیریاں منڈ لاتی نظر آتی تھیں۔ کوئی بھی موسم ہو بہر حال بھنبھیری سے میرا تعارف اسی حوض پر ہوا تھا۔ حوض آنکھوں سے اوجھل ہوا تو بھنبھیری بھی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ حوض کہاں گیا ، اس کا نشان اب کہاں ڈھونڈیں۔ یہ تو نصف صدی پہلے کا قصہ ہے تو اس مسجد پر آدھی صدی بلکہ اس سے بھی زیادہ دن بیت چکے ہیں۔ اس دوران کتنا کچھ بدل گیا اور کیا کیا کچھ اس کے اردگرد سے غائب ہوگیا۔ اس کے سامنے جوبڑی حویلی اپنے لمبے چبوترے کے ساتھ کھڑی تھی وہ کہاں گئی۔ مسجد کے بغل میں جو کھڑکی والا گھر تھا وہ کدھر گیا ؟میں نے سوچاکہ گلیوں میں گھوم کر دیکھوں ، کچھ تو بچا ہوگا ۔ ہاں ، خانصا حبنی کا وہ دو منزلہ گھر بچا کھڑاتھا۔ جہاں محرم میں کم اور چہلم کے دنوں میں زیادہ گہماگہمی ہوتی تھی ۔ اس کی برجیاں ، اس کی منڈیریں کتنی بلند وبالا تھیں ۔ جب ہی تو بلند ی میں اڑنے والے کبوتر جب تھک جاتے تو سانس لینے کے لیے ان منڈیروں پر اترتے تھے ۔ لگتا تھا کہ اب جو یہ کبوتر اس منڈیر سے پھڑ پھڑا کر اڑے گا تو پھر آسمان ہی کسی کنگرے پر جا کر دم لے گا لیکن اب یہ منڈیریں کھسک کر کتنی نیچے آگئی تھیں پورا مکان ہی جیسے کھسک کر نیچے آگیا ہے۔ ‘‘ (ص ۱۲ )
ڈبائی کی یہ وہ بستی ہے جہاں انتظار حسین نے جنم لیا۔ کتاب کے ابتدائی آٹھ ابواب میں مصنف نے اپنے خاندانی حالات وواقعات کو بیان کیا ہے ۔ ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی اور میرٹھ کالج سے ایم اے اُردو کیا ۔ میرٹھ کالج میں دوران تعلیم حسن عسکری سے ملاقات ہوئی۔ یہ تعلق بڑھتا چلا گیا۔ حسن عسکری کی ایماء پر ہجرت کی اور لاہور کا رخ کیا اور لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے۔ ’’ ساتھ اس کارواں کے ہم بھی تھے‘‘سوانح عمری کا نواں باب ہے۔ جس میں لاہور کی طرف ہجرت کا مفصل ذکر موجود ہے۔ لاہور کی پچاس سالہ علمی وادبی زندگی کا تفصیلی ذکر ’’ چراغوں کا دھواں ‘‘ میں بھی موجود ہے۔ اگرچہ ہجرت حسن عسکری کے کہنے پر کی گئی لیکن زیادہ قریبی تعلق ناصر کاظمی سے استوار ہوگیا۔ شاید بنیادی وجہ خیالات کی ہم آہنگی تھی دونوں کے ہاں ہجرت کا دکھ پایا جاتا تھا۔ اس دور میں نقادوں ، شاعروں اور ادبیوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے جس میں ایک دو مصور بھی نظر آتے ہیں۔ ادبی محفلیں عروج پر ہیں۔ زندگی کے جذبوں سے بھرپور لوگ ان محفلوں کی شان ہیں۔ کبھی یہ محفلیں پاک ٹی ہاؤس میں جمتی ہیں اور کبھی کافی ہاؤس، نگینہ بیکری ،چینز ہوٹل یا میٹرو ہوٹل میں۔ میٹرو ہوٹل میں نوجوان شاعروں اور ادیبوں کی دلچسپی کا باعث وہاں کی خوبرو رقاصہ انجیلا تھی جس کا رقص دیکھنے کے لیے لوگ جو ق درجوق ہوٹل کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔۔۔
پھر پہلے مارشل لاء نے لوگوں کو سراسیمگی کی کیفیت سے دوچار کردیا۔ ۱۹۵۷ء کے اس زمانے کے حالات کو ۱۸۵۷ء کے حالات کے تناظر دیکھا گیا ہے۔ ادب پر جمود کی کیفیت طاری ہوگئی، محفلیں اجڑ گئیں۔ کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے اورکچھ اہل قلم کراچی چلے گئے۔ روسی ادب کے خلاف تحریک، سقوط ڈھاکہ کا واقعہ پیش آیا جو ہجرت کے بعد انتظار حسین کے لیے ایک اور بڑا حادثہ تھا۔ ادب میں مزاحمتی تحریک نے جنم لیا۔ سیاسی اور معاشی حالات نے شاعروں اور ادیبوں کو بھی متاثر کیا ۔ پاکستانی معاشرہ جب اس قسم کے حالات سے دوچار تھا تو الطاف گوہر کی دعوت پر انتظار حسین کو لندن جانے کا موقع ملا۔ لندن سے مانچسٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ دیار غیر کی رنگینی اور دلفریبی تو نظر وں کو لبھاتی ہے لیکن اپنی بنیادوں سے جڑے رہنے کا جذبہ ماند نہیں پڑتا :
’’
میں تولندن میں پہنچ کر سارے آداب سحر خیزی بھول گیا تھا۔ ارے بھائی! ہم تو مرغ کی بانگ سن کر جاگتے چلے آئے تھے ۔پہلے مرغے نے بانگ دی ۔ پھر کہیں دور سے مور کی جھنکار سنائی دی۔ پھر کہیں قریب میں کوئی چڑیا چہچہائی۔ جب ایسی کوئی آواز ، کوئی بانگ، کوئی چہچہاہٹ سنائی نہ دے تو آنکھ کیسے کھلے؟ پھر بھی اگر علامہ نے آداب سحر خیزی کو برقرار کھا تو اس پر حیرت ہی ہونی چاہیے۔ ارے میں نے تو ہائیڈ پارک جاکر کوؤں کو بھی ٹوہ کے دیکھا۔ ہر چند کہ اس گورے دیس کے سب کوے اتنے ہی کالے تھے جتنے ہمارے دیس کے کوے ہیں مگر عادتیں سب گوروں والی ہیں۔ کائیں کائیں کرنا ہی بھول چکے ہیں۔ پتہ چلا کہ زاغ وزغن کا بے ہنگم شور ہمارے دیس تک ہے۔ ولایت کے زاغ وزغن بہت مہذب ہیں،بالکل شور نہیں کرتے۔‘‘ (۵۲۔۱۵۳ )
لندن کے علاوہ اوسلو ، برلن ، فرینکفرٹ، نیو یارک ، ٹورنٹو اور ایڈمنٹن جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ پھر یہاں کی تہذیب کا موازنہ کسی قدر نیم متبسم انداز میں اپنی تہذیب سے کرتے اور اپنے تعصب یعنی اپنی تہذیب کو سراہتے ہیں۔
یہ دیار مغرب ہے ، یہاں آدم گردی مچی ہوئی ہے۔ آدمی اپنے سوا باقی مخلوقات کو گردانتا ہی نہیں۔ ادھر ہمارے بستیوں میں آدم لوگ اور چرند پرند کتنا مل جل کر رہتے ہیں۔ ایک ہی گلی میں ، ہم آپ بھی ہیں اور بھینسیں بھی ہیں۔ چھت پر کبوتروں کی کابک رکھی ہے۔ کوّ ے تو اپنے زورپر منڈیروں پہ اترتے ہیں اور کائیں کائیں کر کے اپنے وجود کا اعلان کرتے ہیں مگر خیر چلو دیار مغرب کو ہاتھ لگا آئے اچھا کیا اور ہاں اس اقلیم کو بھی چھو آئے جو ہمارے خوابوں میں چھائی ہوئی ہے مگر اٹھتے بیٹھتے اس پہ تبرا بھیجتے ہیں، عجب ماجرا ہے۔ پاکستان کا ہربے غیرت اور غیرت مند اٹھتے ، بیٹھتے امریکہ پر تین حرف بھیجتا ہے اور ہر بے شعور اور ذی شعور اور ہر بے غیرت اور غیرت مند امریکہ جانے کے لیے بے قرار رہتا ہے۔ سواس کے ویزا دفتر کے سامنے لگی ہوئی قطار کبھی گھٹتے دیکھی نہیں گئی۔ مری سنو کو لمبیا یونیورسٹی(نیویارک) میں کوئی اُردو کانفرنس ہونے والی تھی، دعوت نامہ مجھے بھی آیا ، بس اسی تقریب سے اس دیار کا ویزا گھر بیٹھے میری گود میں آن پڑا مگر جاتا کیسے ؟ نیل کنٹھ رستہ کاٹ گیا ۔ ۔ (۱۵۴ )
دیار مغرب کے طواف کے لیے دنیاپاگل ہوئی جاتی ہے لیکن انتظار حسین نے چند شہر دیکھ لیے ، اور جی بھر گیا۔ ان کے دل کو ایک ہی چٹیک لگی ہے کہ کسی طور ایسی صورت نکلے کہ اپنی چھوڑی ہوئی گرد آلود بستیوں میں گھوم پھر کر دیکھیں۔ جذبہ صادق ہو تو منزل مل ہی جایا کرتی ہے۔ انتظار حسین کو حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے عرس پر جانے کا موقع مل گیا۔ پھرا س مبارک سفر کے بہانے بہت سے بنددروازے کھلتے چلے گئے ۔ جامعہ ملیہ میں افسانہ سیمینار، پھر دلی سے علی گڑھ اور یہاں سے ڈبائی (میرٹھ) جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں انتظار حسین پرافسردگی طاری ہوجاتی ہے کیونکہ ’’ میری بستی نے مجھے پہچاننے ہی سے انکار کردیا ،کتنے چکر لگائے کبھی اس راہ کبھی اس راہ پرہر راہ اجنبی نظر آئی ، جیسے کہہ رہی ہو کہ اے دور سے آنے والے تو کون ہے۔ ہم تجھے نہیں پہچانتے ۔ بس میں دروازے کو چھوکر اپنا سامنہ لے کر واپس چلا آیا۔‘‘(۵۷۔ ۱۵۶ )
علی گڑھ سے بنارس اور الٰہ آباد کا سفر کیا پھر بندرابن کی کنج گلی مرکز نگاہ بنی ، جہاں رادھا کی بڑی بڑی تصویریں لگی تھیں۔ لوگ سلام یارام رام کی بجائے رادھے رادھے کہتے نظر آتے تھے ۔(ص ۱۶۲) جو ں توں اس سفر کا اختتام ہوا ۔ لاہور واپس پہنچے لیکن پھر دلی آنے کا بہانہ بن گیا۔ فائیو سٹار ہوٹل میں قیام کا موقع ملا لیکن اس قیام کی وہ مبارک ساعتیں یاد گار بن گئیں جب لفٹ میں مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ سفر کے چند لمحے میسر آجاتے ہیں۔ اس واقعہ کو انتظار حسین نے دومختلف مقامات پر (ص ۲۱۲، ۲۲۷) بیان کیا ہے۔
’’
لفٹ خالی رکی کھڑی تھی ، میں اور آصف دونوں اطمینان سے جاداخل ہوئے۔ دوسرے ہی لمحے کیا دیکھتے ہیں کہ بس جیسے بجلی کا ٹکڑا لپکتا ہوا آیا اور لفٹ میں کود کر ہمارے بیچ ساکت ہوگیا مگر وہ ساکت کب تھا۔ سارے بدن میں جیسے پارہ بھرا ہوا اور بوٹی بوٹی میں لہریں لے رہا ہو۔ لفٹ چلی اور مختلف فلور سے گزرتی ہوئی گراؤنڈ فلور پر آکر تھمی۔ در کے کھلتے ہی وہ جس تیزی سے لفٹ میں داخل ہوئی تھی اسے تیزی سے نکلی اور گیٹ کی طرف لپک کر چلی‘‘(۱۱۔۲۱۲ )
جب نظارہ پرشوق ہو تو نظروں میں گرمی اور دل میں امنگ پیدا ہو ہی جاتی ہے۔ ایسے میں ہونٹ کچھ کہنے کو بے تاب اور قلم میں روانی آجاتی ہے۔ انتظار حسین بھی اس خار دار راہ سے دامن بچا کر نہ گزر سکے ۔ مادھوری کے جلوے تادیر دل ودماغ پر مسلط رہے۔
’’
ایک آفت کا پرکالہ لپک جھپک آئی اور ہمارے بیچ آکر کھڑی ہوگئی۔ بس جیسے کوئی بجلی کوند کے ہمارے بیچ ٹھٹھک گئی ہو۔ ہم دم بخود ، ادھر وہ ہوش ربا اردگرد سے بے پروا گراؤنڈ فلور پر جا کر جیسے لفٹ کا دروازہ کھلا، وہ تڑپ کر باہر نکلی۔ دم کے دم میں یہ جا وہ جا اور کاؤنٹر پر کھڑے ریسیشنشٹ کو دیکھو، ہمیں دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ کاؤنٹر پر پہنچے تو بولا ’’ آپ لوگ خوش قسمت ہیں، لفٹ میں چھوٹا سا سفر آپ نے مادھوری ڈکشٹ کی سنگت میں کیا ہے۔ ‘‘ میں چونکا۔ ارے مادھوری ڈکشٹ تھی؟ فوراً گیٹ کی سمت میں نظر دوڑائی مگر وہ اب وہاں کہاں۔ جھونکا ہوا کا تھا۔ ادھر گیا ، بجلی کو ندی اور دم کے دم میں غائب ۔ ‘‘
پریم چند فیلو شپ اور قراۃ العین حیدر سیمینار کے سلسلے میں پھر دوبار انڈیا جانے کا اتفاق ہوا۔ ان میں قابل ذکر یادوں کا تسلسل ہے جس میں انتظار حسین نے قرۃ العین حیدر سے ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ :
’’
اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ چلی گئی ہیں تو مجھے زیادہ یاد آتی ہیں۔ خوب لکھا ۔ اپنی ذات میں بھی خوب تھیں ۔کیا تنک مزاج پایا تھا، گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ۔ جب پاکستان میں تھیں تو بس ایک ہی مرتبہ ملاقات ہوئی تھی ، وہ بھی کھڑے کھڑے ۔ کراچی میں جب رائٹرز کنونشن ہوا تھا تب کی بات ہے۔ میں اور ناصر کاظمی وقت سے پہلے ہی وہاں جا پہنچے تھے۔ ہال خالی تھا۔ ہم ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ چند منٹ گزرے ہوں گے کہ جمیل الدین عالی ایک چہکتی مہکتی خاتون کے ساتھ ہال کے دوسرے گوشے سے ہم سے خاصی دور داخل ہوئے۔ بس وہیں کھڑے کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ دونوں کی نظریں ہم پر پڑیں۔ آپس میں جانے انھوں نے کیا کہا کہ فوراً ہی عالی کی آواز آئی ’’ ماموں‘‘ !میرے ایک بھانجے سے عالی کی گاڑھی چھنتی تھی۔اس لحاظ سے مجھے ماموں کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ’’ ماموں! قرۃ العین حیدر تمہیں بلا رہی ہیں، ذرا ادھر آؤ۔ میں لپک کر وہاں گیا۔ گھڑی دوگھڑی کھڑے ڈیڑھ دوبات ہوئی ۔‘‘ (ص ۲۶۲ ) انتظار حسین لکھتے ہیں کہ اس کے بعد وقتاً فوقتاً جو ملاقاتیں ہوئیں وہ ہندوستان ہی میں ہوئیں۔ پھر ان کا انتقال ہوگیا اور انتقال کے بعد انتظار حسین کو پھر ایک بار دلی جانے کا موقع ملا،تو وہ یاد آئیں۔اگرچہ ہندوستان کے پے درپے کئی چکر لگ جاتے ہیں لیکن آتشِ شوق ہے کہ سرد نہیں ہوئی۔ انتظار حسین خود اس کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’
اگر دلی، علی گڑھ سے بلاوا آجائے تو پھر کیسے اپنے آپ کو روکوں؟ قدم خود بخود اس طرف اٹھنے لگتے ہیں۔ سوچتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کتنے پھیرے تو لگا لیے بار بار وہاں کے ،لینے جاتے ہو کیا ڈھونڈنے ، بس کرو ، کرید تے ہو جواب راکھ، جستجو کیا ہے ؟
ایک تڑپ ہے ، ایک امنگ ہے ماضی کو کھوجنے کا ایک عمل ہے جو بار بار انتظار حسین کو ہندیاترا پر آمادہ کرتا ہے لیکن جب واپس لاہور آتے ہیں تو ایک بار پھر بھولے بسرے ساتھیوں کو یاد کرتے ہیں۔ وہی دوست، احباب جو کبھی لاہور کی محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے۔ اب بچھڑگئے ہیں۔ اب ان دوستوں کی یاد انتظار حسین کو ادا س کردیتی ہے۔ حسرت ویاس کی ایک کیفیت ہے جو ہر طرف سے گھیر لیتی ہے۔
’’
تو ہر پھر کر پھرلاہور میں ، پھر وہی زندگی ہماری ہے پھر وہی مال روڈ، ہال روڈ، جیل روڈ اور وہی ہم اور وہی ہمارا ٹھیا۔ ٹھئے کے نام اپنا اکیلا گھر۔ پہلے اس گھر میں دو دم سانسیں لیتے تھے ۔ ان دودموں ہی سے یہ گھر شاد آباد نظر آتاتھا۔ ایک دم اللہ میاں کے گھر سدھار گیا اب یہاں اکیلا ایک دم ہے۔‘‘(ص ۲۵۹ )
ایک طرف دوست احباب بچھڑگئے ۔ دوسری طرف شریک زندگی ساتھ چھوڑ گئی۔ تنہائی کا احساس دکھ کی کیفیت کو مزید اجاگر کردیتا ہے۔
’’
اس حوا کی بیٹی ‘‘ کی کہانی بھی عجیب ہے۔ اہل مذہب کے نزدیک معتوب اور اہل ادب کے نزدیک مرغوب ، روزازل سے متنازعہ ہونے کے باوجود سکون اس کے پہلو میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ تنہائی کا مداوا اور دکھ سکھ کی سانجھ بلا شبہ شریک حیات ہی کرسکتی ہے۔ انتظار حسین کو عمر کے اس حصہ میں شدت سے اس کمی کا احساس ہے۔ اپنی سوانح عمری میں مختلف جگہوں پر بہت شدت سے عالیہ کو یاد کیا ہے۔
ایک طرف عمر کا آخری پہر ہے یاس کی کیفیت ہے دوسری طرف لاہور میں ہونے والے دھماکے ، ٹارگٹ کلنگ ، قتل وغارت گری کی کیفیات اداسی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ بنی نوع انسان کی باہمی کشمکش ،تفرقہ بازی اور مار دھاڑ نے انتظار حسین کو اداس کردیا ہے۔
چراغوں کا دھواں
انتظار حسین معروف ناول نگار، محقق اور نقاد ہیں تاہم ان کی اصل پہچان ماضی پرستی کا وہ عمل ہے جس کی چھاپ ان کی تحریروں پر جابجا نظر آتی ہے۔ آپ بیتی تو ہوتی ہی ماضی کی روداد ہے’’ چراغوں کا دھواں‘‘ ایسی ہی روداد ہے جو یادوں کے پچاس برس کے نام معنون کی گئی ہے۔ انتظار حسین لکھتے ہیں کہ دو ستوں کے پیہم اصرار نے مجھے یہ کتاب لکھنے پر مجبور کیا ۔ انتساب کے طور پر حالیؔ کا شعر پیش کیا گیا ہے۔
بزم کو برہم ہوئے مدت نہیں گزری بہت
اٹھ رہا ہے شمع سے اس بزم کی اب تک دھواں
چراغوں کا جلنا وہ نشاطیہ عمل ہے جو محفل کی رونق کو دوبالا کرتا ہے لیکن محفل کے درہم برہم ہوجانے کے بعد چراغ گل کردئیے جاتے ہیں۔ دھویں کی دبیز تہہ گزرے وقت کی یادوں کا پتہ دیتی ہے۔ انتظار حسین کے ہاں اسی قسم کی ملی جلی کیفیات نظر آتی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ہندوستان چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنا ایسا ناخوشگوار تجربہ تھاجس کو وہ کبھی اپنے دل سے نہ بھلا سکے۔ وہ خود لکھتے ہیں :
’’
یاروں نے ایک فلسفۂ ہجرت مجھ سے منسوب کردیا حالانکہ مقصود صرف اتنا تھا کہ جب اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے تو اسے تاریخ کے کسی بڑے تجربے کے ساتھ پیوست کر کے دیکھا جائے کہ شاید اس سے اس عمل میں کوئی بڑے معنی پیدا ہوجائیں مگر اپنی نجی نقل مکانی کو کسی قسم کے معنی پہنانے کا یا آئیڈیلائز کرنے کا خیال ہی نہیں آیا۔‘‘ (ص ۱۰ )
ہجرت کا المیہ ہی درحقیقت وہ تخلیقی تجربہ ہے جس نے انتظار حسین کو کہانیاں لکھنے کی طرف مائل کیا۔ پھر پچاس سال بعد آپ بیتی ، لکھتے وقت وہ یادیں وہ باتیں مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہیں :
’’
کچھ یادیں ہیں ، کچھ باتیں ہیں اور یادوں کا یہ سفر بھی ایک خاص تاریخ سے شروع ہوجاتا ہے۔ ان تاریخی لمحوں سے جب گائے سینگ بدل رہی تھی اور میں اس بھونچال میں اپنی بستی چھوڑ کر اس نئے دیس کی طرف گرتا پڑتا چلا آرہا تھا۔ جس کا نام پاکستان ہے اور اب پاکستان کو بنے ہوئے پچاس برس ہورہے تھے اور میری ہجرت کو بھی جس کے بیچ میں نے ایک لکھنے والے کی حیثیت سے آنکھ کھولی تو میں نے اس ہنگام میں اپنے اس نئے جنم کی بھی گولڈن جوبلی منا ڈالی۔ سو اگر یہ آپ بیتی ہے تو بھی آدھی آپ بیتی ہے جسے واقعی آپ بیتی کہنا چاہیے وہ کیسے لکھوں۔ پھر تو مجھے اس بستی میں واپس جانا پڑے گا جو مجھ سے چھٹ چکی ہے ۔ وہ بستی تو اب میرے حسابوں کھوئی ہوئی جنت ہے، اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اسے یاد کر کے بس کہانیاں ہی لکھی جاسکتی ہیں۔ سو میں نے لکھیں ، اچھا میں پہلے یہ بتاتا چلوں کہ جب میں نے لکھنے کا آغاز کیا تو اس وقت ہماری دنیائے ادب میں ایک بیماری کا بہت چرچا تھا۔میں اس موذی بیماری کا ذکر ان دنوں بہت سنتا تھا اور نہیں جانتا تھا کہ ایک بیماری میرے اندر بھی پل رہی ہے۔ اس بیماری کی تشخیص بھی میرے ترقی پسند دوستوں ہی نے کی اور ترحم اور تحقیر کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دنیائے ادب کو بتایا کہ یہ شخص نوسٹلجیا کا مریض ہے۔شاید میری نوسٹلجیائی ذہنیت کا کرشمہ ہے کہ اب مجھے پاکستان کا ابتدائی زمانہ پاکستان کی ادبی تاریخ کا سنہری دور نظر آتا ہے۔ کیا خوب زمانہ تھا کہ تخلیقی جوش بھی نظر آتا تھا اور نظریاتی لڑائیاں بھی ہورہی تھیں۔ (ص ۶۲۔۳۶۳ )
یادوں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے انتظار حسین نے یہ واضح کیا ہے کہ زمانہ طالبعلمی کے دوست حسن عسکری کے ایما پر اپنے خاندان کو چھوڑ کر اکیلے ہی پاکستان کی طرف ہجرت کی اور پھر :
’’
میرٹھ سے لاہور تک کا سفر قیامت کا سفر بن گیا ۔ جیسے گاڑی میں نہیں بیٹھے ، تاریخ کے جہاز میں بیٹھے ہیں اور بے اختیار بیٹھے ہیں ۔ گھر سے منہ اندھیرے نکلے تھے ۔ اب دوپہر ہونے لگی ہے۔ سہارنپور کا اسٹیشن گزرگیا یعنی یوپی کی سرحد سے نکل کر اب اس دیار سے گزر رہے ہیں جہاں کل تک بہت قیامت مچی ہوئی تھی۔ اب سناٹا ہے جس کی قسمت میں نکلنا تھا وہ نکل گئے۔ جن کے لکھے میں کھیت ہونا تھا وہ کھیت ہوگئے۔ اب ان کے نام قریب ودور کچھ جلے پھنکے گھر نظر آرہے ہیں۔ جہاں تہاں اجڑی پجڑی بستیاں ۔ ‘‘ (ص ۱۱ )
یہ تباہی وبربادی ، آگ اور خون کی ہولی ، فسادات کا منظر اور ماضی کے ان مٹ نقوش انتظار حسین کے دل سے کبھی محو نہ ہوئے لیکن ہجرت کا غم غلط کرنے اور آزادی کا جشن منانے کے لیے ایک دن بعد ہی بالا خانے کا رخ کرتے ہیں کیونکہ بالا خانوں میں سجے ہوئے روشن چہرے ، ہیرا منڈی کے خاص سیخ کباب ، گرم جلیبیاں اور ساتھ میں برفی بھی موجود ہو تو کون کفران نعمت کرتا ہے۔ لکھتے ہیں :
’’
پاکستان میں میرا پہلا دن جس کا خلاصہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ اول آفتاب احمد خان، دوم لنڈ ا بازار ، سوم میاں ایم ، اسلم ، چہارم ہیرا منڈی ۔اول اول ان چار چیزوں کے واسطے سے میں نے پاکستان کو جانا ، آج بھی ان چاروں اشیاء میں سے کسی ایک کو بھی منہا کر کے میں پاکستان کا تصور نہیں کرسکتا۔ ‘‘ (ص ۱۹ )
پاکستان کا ابتدائی خاکہ پیش کرنے کے بعد انتظار حسین نے لاہور میں گزارے ہوئے شب وروز کی پچاس سال کے عرصے پر محیط واردات کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ۴۷ء میں ہجرت کر کے آنے والے بہت سے شاعر ادیب لاہو رمیں سکونت اختیار کرچکے تھے۔ کچھ لوگوں نے کراچی کا رخ کیا لیکن انتظار حسین نے دوست احباب کے اصرار کے باوجود لاہور کو خیر باد نہ کہا ۔ یہاں کی ادبی محفلوں میں بے شمار لوگ آئے اورعرصہ حیات بِتا کے یہیں کی خاک میں آسودہ ہوگئے۔ اس دور میں بڑے بڑے نامور لوگ پیدا ہوئے۔ جس کی بناء پر انتظار حسین نے اس دور کو ادب کا زریں دور قرار دیا ہے۔ حسن عسکری ، قیوم نظر، شہرت بخاری، زاہد ڈار، قدرت اللہ شہاب ، منٹو ،فیض احمد فیض ، صوفی تبسم ، سعید محمود ، حنیف رامے ، عبادت بریلوی ، حسرت موہانی ، احمد بشیر، سبط حسن ، عبدالمجید سالک اور نجانے کتنی ہی نابغہ روزگار ہستیاں اس دور کی رونق رہیں۔ تاہم ناصر کاظمی سے دوستی کا تعلق زیادہ گہرا تھا۔ یہ محفلیں پہلے انڈیا ٹی ہاؤس جسے بعد میں پاک ٹی ہاؤس کا نام دے دیا گیا، کافی ہاؤس ، چائینیز ہوٹل اور ہوٹل میٹرو میں منعقد ہوتی رہیں۔ ہوٹل میٹرومیں دلچسپی کا باعث وہاں کی رقاصہ انجیلا تھی جس کی یاد ان محفلوں کے درہم برہم ہونے کے بعد بھی مصنف کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی ہے۔ اس دور میں انہی محفلوں میں کچھ خواتین لکھنے والی بھی متعارف ہوئیں۔ جن میں کشور ناہید کا ذکر بطور خاص تفصیل سے کیا گیا کیونکہ
’’
کشور کو فتے بہت اچھے بناتی ہیں۔کشور کو غالباً اس بات کا احساس تھا کہ دلوں کو جیتنے میں زبان کا ذائقہ معاون ہوتا ہے ،اسی لیے بے دریغ دعوتوں کا اہتمام کرتیں اور دلوں کو مسخر کرتی رہیں اور زاہد ڈار جیسے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے۔’’ کیا کروں ؟ مجبوری ہے، جب کشور ناہید کا پیغام آجاتا ہے تو میراجسم خودبخود اس گھر کی طرف حرکت کرنے لگتا ہے‘‘(ص ۳۵۶ )
نقاد شکوہ کرتے ہیں کہ انتظار کی کہانیوں میں ایک عرصے تک ادھوری عورت تک کو باریابی کا اذن نہ ملا،پر ان کی یادداشتوں میں ایسا نہیں۔ جہاں کہیں عورت کی بات ہوتی ہے انتظار حسین کا شہوار قلم کچھ الگ ہی دھج دکھاتا ہے۔ لئیق تانگے والا اپنی جو روداد سناتا ہے، اسے انتظار یوں بیان کرتے ہیں :
’’
مت پوچھو جی ۔ وہ عورت تھی بھی بہت بانکی ، میرا دل یوں یوں کرے ۔ میں نے دل میں کہا لئیق آج تو اپنی قسم توڑ دے ۔ تو میں اس کوتانگہ میں بٹھانے لگا تھا کہ اچانک میری نظر اس کے پیروں پہ پڑ گئی ۔ میں چونکا ، ابے لئیق مارے گئے ، یہ تو پچھل پیری ہے ۔۔۔۔۔۔ اگر عورت پچھل پیری نہ ہو تو پھر اسے کیسے قابو کیا جائے ، اس کے بھی بہت سے گر لئیق کے پاس تھے۔ ‘‘ (ص ۱۶۴ )
زندگی میں شب وروز اورماہ وسال کا جو چکر چلتا ہے اس میں بے شمار لوگوں سے ملنا اور بچھڑنا مقدر میں لکھا ہوتا ہے، ہر شخص سے ملنے کا مزاج پر مختلف اثر ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جہاں صنف نازک کی بات آئے تو محفلوں کا درہم برہم ہوجانا زیادہ ہی دیکھا ہے۔ جیسے ہوٹل میٹرو کے بارے میں انتظار حسین لکھتے ہیں :
’’
میٹرو پر تو زوال آچکا تھا۔ اس کی راتیں تو اسی وقت اجڑ گئی تھیں ، جب انجیلا وہاں سے رخصت ہوئی تھی ۔ پھر وہ اجڑتا ہی چلا گیا ، حتیٰ کہ بندہوگیا ۔ ‘‘ (۱۶۶ )
بحیثیت کالم نگار انتظار حسین کی مشکل یہ تھی کہ دوستوں کا اصرار تھا ’’ مشرق‘‘ کا یہ کالم بھاٹی دروازے کے تھڑوں پر پڑھا جانا چاہیے۔ اس مشکل کا حل کیسے ڈھونڈا یہ انہی کی زبانی سنیے :
’’
اس قسم کا کالم کیسے لکھ پاؤں گا ، سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔ اس مشکل صورت حال سے فلمی اداکارہ نیلو نے مجھے نجات دلائی۔ افواہ اڑی کہ نیلو شادی کر رہی ہے۔ نیلو نے لارڈز میں ایک پریس کانفرنس کر ڈالی۔ میں اپنی چائے کی میز سے اٹھا اور پریس کانفرنس میں جا بیٹھا ۔ نیلو اپنی اینگلو انڈین قسم کی اُردو میں اپنی صفائی پیش کر رہی تھی کہ دوسری شادی کی اس کی کوئی نیت نہیں ۔ میں نے نیلو کے اس منفرد طرز بیان کو احتیاط سے گرہ میں باندھا اور اپنے کالم میں پرودیا۔ دوسرے دن جب میں دفتر پہنچا تو عنایت صاحب میرے انتظار میں بیٹھے تھے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ’’لاہور نامہ‘‘ آج بھاٹی دروازے کے تھڑوں پر پہنچ گیا۔ انتظار صاحب کالم نگار پکے ہوگئے‘‘ ۔ (ص ۱۹۸ )
یکے بعد دیگرے لگنے والے مارشل لاء نے لوگوں کومعاشی اور معاشرتی لحاظ سے بھی متاثر کیا کچھ لوگ ہجرت کر گئے، کچھ آسودۂ خاک ہوگئے۔ زمانے کی روش میں تبدیلی آگئی پرانی قدریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں۔ نئی اقدار نے جنم لیا جن کو قبول کرنا انتظار حسین کے لیے مشکل ہوگیا۔ لاہور کے ہوٹلوں میں نمکین لسی کی جگہ کوکاکولا کی بوتلیں انتظار حسین کو پسند نہیں آتیں۔ پیزا، برگر ان کے دل کو نہیں لبھاتا۔ ایسے میں ابن انشاء کے ساتھ ریڑھی پر گول گپے کھانے کا مزہ یاد آتا ہے۔ گھر میں آنے والی پہلی پنجابی بہو[شاید منہ بولے بیٹے کی بیوی] کے ہاتھ سے پکے ہوئے شلجم گوشت انھیں میٹھے لگتے ہیں۔ لاہور کی گلیوں میں بکنے والی نہاری پسند نہیں آتی۔ حال کے تقاضوں کو نبھانا مشکل ہوجاتا ہے تو ماضی کی تلاش انھیں دلی اور میرٹھ کی گلیوں میں لے جاتی ہے۔ اس طرح حافظے میں محفوظ یادیں انفرادی اور اجتماعی تشخص کی بنیاد رکھتی ہیں اورزندہ رہنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ زندہ رہنے کا یہ عمل ’’ آپ بیتی ‘‘ کی صورت میں زندگی سے محبت کا درس دیتا ہے۔ ’’میری تمام سرگزشت کھوئے ہوئے دل کی جستجو‘‘۔
***