اربوں باشندوں کو بحی ایک کر سکتی ہے
عائشہ تنظیم ۔ تحریر : زکریا چوہدری
میرا یقین ہے کہ اردو میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ صرف پاکستان کے وفاق کو ہی مضبوط نہیں کرسکتی بلکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر میں اردو سمجھنے والوں کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے اور وہ متحد ہو کر دنیا کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ میرا یہ یقین اس وقت مزید پختہ ہوگیا جب میں نے وائس آف امریکہ کی ویب گاہ پر ایک مستشرق ڈیوڈ میتھیوز کی اردو کی طرف مائل ہونے اور پھر اردو سیکھنے کی کہانی پڑھی۔ پروفیسر ڈیوڈ میتھیوز نے ’لندن اسکول آف اورئنٹل اینڈ افریکین سٹڈیز‘ میں چالیس برس تک اردو پڑھائی ہے۔ چند برس قبل وہ ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔پچھلے برس، وہ ’پانچویں بین الاقوامی اردو کانفرنس‘ میں شرکت کے لیے نیویارک آئے۔ وہاں اْن سے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی براڈ کاسٹرعائشہ تنظیم نے اردو کے ساتھ وابستگی کی کہانی پوچھی تو میتھیوز صاحب نے بڑے دل چسپ انداز میں اِس تعلق کا ذکر کیا۔ اْن کی اِس دلچسپ اور بے تکلف گفتگو کے چند اقتباسات آپ بھی پڑھیے :
یونیورسٹی میں تو میں یونانی اور لاطینی زبانیں سیکھ رہا تھا۔ پھر کیمرج یونیورسٹی میں تحقیق کے لیے میں نے قدیم یونان اور مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات پر کام کرنا شروع کیا۔ اِس سلسلے میں، مجھے کئی زبانیں سیکھنی پڑیں۔مثال کے طور پر شامی اور عبرانی، وغیرہ۔یہ بات ہے ۱۹۶۵ء کی ،جب میرا چند پاکستانی اور ہندوستانی طلبا کے ساتھ ملنا جلنا رہا۔ یہ نوجوان وہاں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔’ اْس زمانے میں مجھے ہندوستان اور پاکستان کے بارے بہت کم علم تھا۔ بہر حال، اْن سے باتیں کرتے کرتے مجھے اْن کی زبان سے بھی دلچسپی پیدا ہوگئی۔
مجھے اْن دوستوں کے ساتھ ملاقاتوں میں سب سے زیادہ تعجب اِس بات پر ہوا کہ یہ لوگ ہندوستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں کے تھے کوئی پنجابی، کوئی بنگالی، کوئی سندھی اور کوئی یوپی کا۔ مگر یہ سب لوگ آ پس میں ایک ہی زبان میں باتیں کرتے تھے۔ ظاہرہے، یہ زبان اردو تھی۔ شوقیہ طور پر میں نے اردو کے کچھ الفاظ سیکھ لیے۔
میں، اْن دنوں اپنے روزگار کے بارے میں فکر مند تھا کہ کون سی زبانیں سیکھ کر اْس کے ذریعے میں ملازمت حاصل کر سکوں۔انہی دنوں میں نے ایک اشتہار دیکھاجس میں ہندوستانی زبانوں پر کام کرنے کی ایک اسامی نکلی تھی۔ میں نے درخواست دے دی۔
انٹرویو سے پہلے، مجھے اردو کے محض چند الفاظ آتے تھے سو میں نے اپنے پاکستانی اور ہندوستانی دوستوں سے مشورہ کیا سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے مجھے عمر خیام کی رباعی یاد کرا دی اور کہا کہ بس یہی سنا دینا۔
میں انٹرویو دینے چلا گیا۔ وہاں بورڈ میں ایک خاتون شامل تھیں، جو ہندوستانی زبانوں کی صوتیات کی ماہر تھیں۔ اْنھوں نے مجھ سے انگریزی میں سوال کیا کہ کیا مجھے ہندوستانی زبان آتی ہے تو میں نے عمر خیام کی رباعی پڑھ دی۔ یہ سن کر وہ خاتون کہنے لگیں کہ آپ تو بہت اچھی اردو بول سکتے ہیں۔ میں نے کہا، جی ہاں، تھوڑی بہت آتی ہے۔ سو یہ ملازمت مل گئی اور یوں میرا اردو سے رشتہ بندھ گیا۔
میں لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریکین سٹدیز میں تقریباً چالیس برس تک اردو پڑھاتا رہا۔ اردو کی یہ خاصیت ہے کہ یہ شہروں کی زبان ہے، دہلی، لکھنؤ اور حیدرآباد میں پروان چڑھی۔ اِس زبان میں بہت تنوع ہے جو ہندوستان کی دوسری زبانوں میں نہیں پایا جاتا۔
اب ہندوستان میں اردو ذرا کم اور ہندی زیادہ ہوگئی ہے۔ پہلی بار، جب دہلی گیا تھا تو اردو میں لکھے سائین بورڈ نظر آتے تھے، مگر اب ایسا کم کم ہے۔میں ہندوستان جاکر اردو ہی میں بات چیت کرتا ہوں۔ ممبئی ہو یا مدراس ہر جگہ یہ زبان سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ میں جب وہاں اردو بولتا ہوں تو لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے ہندی زبان کہاں سے سیکھی۔
میں دہلی کے ایک ریستوران گیا اور وہاں بیرے سے بات کرنا شروع کی۔ اْسے بڑی حیرت ہوئی اور اْس نے پوچھا کہ آپ نے ہندی کہاں سے سیکھی ؟ میں نے کہا کہ میں تو دہلی کا پرانا پاپی ہوں۔ ممکن ہے کہ دوران گفتگو میں نے فارسی اور عربی کے الفاظ بھی استعمال کیے ہوں۔ اْس نے میری باتیں سن کر کہا کہ آپ تو بہت شاہی ہندی بولتے ہیں جس کا دراصل مطلب اردو تھا‘۔