ادبیات
مرتب : علی اکبر ناطق
حضرت جوش ملیح آبادی بیسویں صدی کے ایک بڑے شاعر، زبان دان اور ایک پُرتاثیر نثر نگار کے طور پر سامنے آئے۔ ان کا لہجہ تمکنت اور دبدبے کا تاثر پیش کرتاہے۔ ذاتی طور پر وہ نہایت شریف النفس اور سادہ لوح انسان تھے۔ انھوں نے بہت سے مرثیے اور رباعیات بھی کہیں۔ نثر میں ان کی ایک آپ بیتی، یادوں کی برات، بہت شہرت کے حامل قرار پائی۔ درج ذیل اقتباس جوش صاحب کی اسی آپ بیتی سے پیش کیا جا رہاہے۔
از جوش ملیح آبادی
میں کبھی قوی حافظے کا مالک نہیں رہا اور اب تو یہ عالم ہو گیا ہے کہ رات کو کیا چیز کھائی تھی، صبح کو یہ بھی یاد نہیں رہتا۔ کئی مہینے کی بات ہے کہ ، تاروں کی چھاؤں میں ٹہلنے کے لیے نکلا تھا، واپسی میں اپنے گھر کا راستہ بھول گیا ، وہ تو کہیے ایک میرے ہم عمر ٹہلتے مل گئے ، میں نے ان سے پوچھا کہ یہیں کہیں برساتی نالے کے کنارے جو ایک گنبد والا مکان ہے، کیا آپ اس کا راستہ بتا سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کیا آپ جو ش صاحب کے مکان جانا چاہتے ہیں۔ مَیں نے کہا جی ہاں ، اور اُن نیک مرد نے مجھ کو میرے گھر تک پہنچا دیا ۔ اور رخصت ہوتے ہوئے انھوں نے مجھ سے کہا آج سے چالیس بیالیس برس پیشتر میں نے جوش صاحب کو آگرے میں دیکھا تھا ، میرا نام نصیر احمد ہے۔ جوش صاحب سے میر ا سلا م کہیے گا اور میں نے فرطِ شرم سے یہ نہیں بتایا کہ میں ہی جوش ہوں۔
اور تو اور آپ کو مشکل سے یقین آئے گا کہ ایک روز ایک خط لکھنے کے بعد جب دستخط کی نوبت آئی تو اپنا تخلص بھول گیا ، چند سیکنڈ تک مجھ پر عجیب کرب کی کیفیت طاری رہی، دل دھڑ دھڑ کرنے لگا ، اور اگر دوچار سیکنڈ کے اندر اندر اپنا تخلص یاد نہ آ جاتا ، تو یقین فرمائیے کہ میرا دم نکل جاتا ۔
میں نے یہ بات اس واسطے لکھ دی کہ اگر میری زندگی کے کسی واقعے میں کمی بیشی ، یا تقدم و تاخّر نظر آئے تو آپ اسے میرا ارادی فعل نہ سمجھیں ، اور میری حالت پر ترس کھا کر ، اسے معاف کر دیں۔
حالات قلم بند کرنے کی جگر کا ویاں
پچھتر برس کی پہاڑ سی زندگی کا احاطہ کرنا ، بچو ں کا کھیل نہیں ۔ میں نے ، بُجھے ہوئے حافظے کی ، تہ در تہ پیچیدہ اور گُھورا ندھیروں میں ، ٹٹول ٹٹول کر ، یہ سفر طے کیا ہے ۔ ان اندھیاروں میں میرے حالات اس قدر الجھے ، اور ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ملے کہ یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ کون واقعہ مقدم ہے اور کون واقع موخر اور نسیان کا غول بیا بانی مجھے کس طرف لے جا رہا ہے۔ میں پھونک پھونک کر قدم رکھتا ، آگے بڑھتا رہا ، اپنی پیری کو لڑکپن کی سرحدوں تک کھینچ کر لے گیا ، لڑکپن سے ریحانِ شباب کی جانب باگ موڑی ، ریحان شباب سے ، بھر پور جوانی اور جوانی سے ، ادھیڑ عمر کے کوہ و بیابان طے کرتا ہوا بڑھاپے کے اس بہیٹر تک آگیا۔ کیا بتاؤں ا س جاں کاہ سفر میں کیا کیا جتن کرنے پڑے ۔ میں نے اپنے بڑھاپے کو بچہ بنا کر ، اپنے ماں باپ کے آغوش میں بٹھا دیا،اپنے گھر کی انگنا میں کلیلیں کیں ، پرانی برساتوں کو جگا دیا ، اپنے مدرسوں اور بورڈنگ ہاؤسوں میں گیا ، اپنے لنگوٹیا یاروں کو پکارا ،اپنے موت کی نیند سوئے ہوئے مور خان کے شباب کے شانے ہلا ئے ، اپنے دُور افتادہ دوستوں کو اشاروں سے قریب بلایا، اپنے جوانی کے شبستانوں میں پہنچا ، جہاں زلفوں کی شمیم اب تک مچل رہی ہے ، اور ٹوٹے پیمانوں اور بجھی شمعوں کے انبار لگے ہوئے خوشبو آور گیسوؤں سے گری ہوئی افشاں کے ذرے اب تک دمک رہے ہیں۔ وہاں پہنچ کر اپنے بچھڑے ہوئے معشوقوں کو اس مسند پر بٹھایا۔ قوس قزح اور کا ہکشاں کے رنگ جس کا طواف کیا کرتے تھے اور ماضی سے اپنے کو جب ڈسوا چکا تو ، قلم کو خون میں ڈبو ڈبو کر ، سب کچھ قلم بند کر لیا۔ اور آپ کو سنانے بیٹھ گیا۔
کہتے ہیں لکھنو میں ایک بوڑھے میرزا رہتے تھے ، جنھوں نے حضرت جان عالم واجد علی شاہ کی آنکھیں دیکھی تھیں ، ایک بار چند نوجوانوں نے اصرار کیا کہ میرزا صاحب قبلہ کچھ پرانے حالات سنائیے۔ انھوں نے سینہ پیٹ کر کہا لڑکو مجھ سے وہ داستان نہ سنو ورنہ میری چھاتی شق ہو جائے گی، تمھاری تھوڑی دیر کی دل چسپی ہو جائے گی اور میں پہروں کے لئے بیکار ہو کر رہ جاؤں گا ، لیکن جب ان نوجوانوں نے ان کے قدم پکڑ لئے ، تو ماضی کی طرف پلٹنے پر مجبور ہو گئے اور حالات سناتے سناتے تھوڑی دیر میں ان کا یہ عالم ہو گیا کہ گلا رندھ گیا ، ہچکیاں لے لے کر رونے لگے ، اور ’’ہائے جانِ عالم ‘‘ کہہ کر بے ہوش ہو گئے ۔ سو ، بندہ پرور ، اپنا حال سنا کر ، میں بھی ، اس طرح ، ہچکیاں لے لے کر رو رہا ہوں ۔ ہائے ماضی کے ڈنک !!
اپنے کبھی کے رنگ محل میں جو ہم گئے
آنسو ٹپک پڑے ، در و دیوار دیکھ کر
خود کشائی
میری زندگی کے چار بنیادی میلانات ہیں : شعر گوئی، عشق بازی ، علم طلبی اور انسان دوستی۔ ان سب کو ، سلسلہ وار ، دیکھ لیجئے: تاکہ آپ سمجھ لیں کہ میں کیا ہوں۔
۱۔شعر گوئی : میں نے شاعر بننے کی تمنا کبھی نہیں کی ، بلکہ شعر خود خواہش آں کر دکہ گردفن ما۔ شاعری کے پیچھے نہیں دوڑا ، شاعری نے خود میرا تعاقب کیا اور ، نو برس کی عمر ہی میں مجھ کو پکڑ لیا ۔ اگر شاعری کوئی اچھی شے ہے ، تو واللہ میں کسی آفرین کا مستحق نہیں ہوں اور وہ اگر کوئی بُری چیز ہے ، تو خدا کی قسم ، میں کسی ملامت کا بھی سز ا وار نہیں۔
بار ہا گفتم و بار دگرے می گویم
کہ من دل شدہ ،ایں راہ نہ خودی پویم
درپس آئینہ ،طوطی صفتم داشتہ اند
آنچہ استاد ازل گفت ،بگو می گویم
شاعری ، میری حاکم ہے میں محکوم ۔ وہ جابر ہے ، میں مجبور ، وہ قاہر ہے میں مقہور وہ آمر ہے ، اور میں مامور ۔ شاعری کے باب میں بعض بزرگوں نے ایک خالص دینی مصلحت کی بنا ء پر جس کی شرح کایہاں موقع نہیں ، یہ عجیب کلیہ وضع فرمایا ہے کہ صرف اس موزوں کلام پر شعر کا اطلاق ہو گا۔ جو ’’بالقصد ‘‘ کہا گیا ہو ۔ اگر یہ کلیہ تسلیم کر لیا جائے تو چوں کہ میں نے آج کی تاریخ تک ایک مصرع بھی ’’ با لقصد ‘‘ موزوں کرنے کا ارتکاب نہیں کیا ہے ، ا س لئے آپ کو اختیار کامل حاصل ہے کہ میرے تمام کلام کو شاعری سے کلیتہً خارج فرما کر ، میرے غیر شاعر ہونے کا اعلان فرما دیں ۔ میں خوش ، میرا خدا خوش، آپ نے مجھ کو شاعر ہونے کا انعام ہی کب دیا تھا کہ اب مجھے نا شاعر تسلیم فرما کر ، اس انعام سے محروم فرما دیں گے۔ اس سلسلے میں ایک بات اور بھی سن لیجئے ۔ شاعری وہ بد بلا ہے کہ ہر موزوں طبع تخلص دار کے کان میں یہ افسوں پھونک دیتی ہے کہ بیٹا تم اپنے دور کے سب سے بڑے شاعر ہو اور اسی لیے باورچی ٹولے کا ہر لونڈا ، اپنے کو نعمت خان عالی سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔
جھوٹ کیوں بولوں ،میرے گوش مبارک میں بھی، شاعری یہ افسو ں پھونک چکی ہے کہ حضور اقدس واعلی ، ا س بیسویں صدی کے سب سے عظیم شاعریعنی اشعر الشعراء ہیں۔ لیکن ، قوت و حیات کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری عقل بیمار نہیں ہے اور وہ مجھ سے نہایت سنجیدگی و دیانت کے ساتھ کہتی ہے کہ خاں صاحب بہادر انائے شاعری کے فریب میں نہ آجائیے گا ۔ اور وہ جو کچھ کان میں پھونک رہی ہے اس سے پھول نہ جائیے گا ۔ بے شک ہو سکتا ہے کہ آپ شاعر یا بہت بڑے شاعر ہوں لیکن ، ا س طرح اس کابھی مساوی امکان ہے کہ آپ ، معمولی شاعر ، برے شاعر ، یا سرے سے شاعر ہی نہ ہوں۔ اس لیے دانائی یہی ہے کہ ابھی آپ اپنے باب میں کوئی قطعی رائے قائم نہ کریں ۔
ذہن انسانی میں عمل ارتقاء برابر جاری ہے۔ آپ کی موت کے سو ، ڈیڑھ سو برس کے بعد نقاد انِ ادب کا ذہن اس سطح پر آ جائے گا کہ وہ آپ کے متعلق فیصلہ کر سکیں۔ اس لیے سرِ دست دانش مندی یہی ہے کہ آپ گو مگو میں رہیں۔ عقل کا مشورہ باون تولے ، پاؤرتی کا ہے ، اس معقولیت میں شبہ کرنا حماقت ہے۔ لیکن میں اس وقت اعراف میں بیٹھا ہوا ہوں ، ایک طرف کھوکھلا انا ئے شاعرانہ ہے ، ایک طرف ٹھوس عقل سلیم ۔ جب انا ء کی طرف سے ہوا آتی ہے تو ، اکٹر کر ، باون گز کا ہو جاتا ہوں ، اور جب عقل کی جانب سے ڈانٹ پڑتی ہے تو سکڑ کر ، بالشیتا بن جاتا ہوں۔ دو عملی میں ہمارا آشیاں ہے۔
۲۔عشق بازی : ہوش آتے ہی ،اچھی صورتیں میری نگاہوں کو، اپنی طرف کھینچنے لگی تھیں۔ ،اور یہ شعر سب سے زیادہ مجھ پر صادق آتا تھا کہ
ہوئے جوان ، تو، مرنے لگے حسینوں پر
ہمیں تو، مو ت ہی آئی ،شباب کے بدلے !
یہ سچ ہے کہ عشق فطر ت کا ایک بہت بڑا فریب ہے ، جو ا س لیے دیا جاتا ہے کہ انسان ، افزائش نسل کے توسط سے ، موت کے مقابلے میں حیات پیدا کرتا رہے۔ اپنے وجود میں کمی ،اور آبادی کے تن و توش میں اضافہ کرے ، اپنی جوانی گھالے، اور فطر ت کے بچوں کو ، اپنا بچہ سمجھ کر پالے ،اپنا جوہر گھٹالے دنیا کی رونق بڑھائے ، اور جب تک جوان رہے ،
مرا مہرِسیہ چشماں ، زسربیروں نہ خواہد شد
قضائے آسما نست ایں و دیگر گُوں نہ خواہد شد
کے نعرے لگاتا رہے ۔ اور پھر ، مرتے دم تک ، شیرہ ٹپکی ہوئی جلیبی کی طرح پڑا رہے ،’’لیکن یہ بات بہت دیر میں سمجھ آئی ہے ۔ کل دورِ عشق میں روتا تھا ، اب عہد عقل میں اپنے پر ہنستا ہوں ۔ لیکن اب کیا فائدہ ۔’’ جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت ۔ چالاک فطرت ، دھوکا دے کر ، مسکرا رہی ہے اور میں ، ایک فریب خوردہ انسان کے باشد ، جھینپا ہوا بیٹھا ہوں :
پر جھڑ گئے ، دم گر گئی ، پھرتے ہیں لنڈورے
لیکن ماہ رخوں کی ناشکری اور سلونیوں کی نمک حرامی ہو گی۔ اگر میں اس بات کا اعتراف نہ کروں کہ عشق کے بغیر، میں آدمی نہیں بن سکتا تھا ، میراتمام کلام اورباالخصوص جمالیاتی شاعری کی کج کلاہی انھیں متوالیوں اور مدھ ماتیوں کی جوتیوں کا تصدّق ہے ، اگر ان کی نظروں کے بان میرے دل کو چھلنی کر کے ، گدا ختگی نہ پیدا کر دیتے تو ، خدا کی قسم مرتے دم تک میں گنگوہ شریف کا مولوی عبدالصمد ہی بنا رہتا ۔
میں نے کوئے بتاں میں ، جس قدر اپنی دولت ، صحت جوانی ، اور زندگی مٹھیاں بھر بھر کر لٹائی ہے ، اس سے کہیں زیادہ ذہنی کمائی کر چکا ہوں اور مکھڑوں کے خدو خال چن چن کر میں نے اپنے گرد وپیش اس قدر عظیم سرمایہ جمع کر لیا ہے۔ جسے آج تک گھر بیٹھے کھا رہا ہوں۔ ادر مرتے دم تک کھاتا رہوں گا۔
شدم از زندگی خویش کہ کارے کر دم !
ربِّ شباب کی سو گند کہ آج بھی جب کسی نکیلے مکھڑے کو دیکھ لیتا ہوں ، وہ مکھڑا انی بن کر ، میرے سینے میں کھچ سے چبھ جاتا ہے
جانتاہوں کہ بد توفیق صالحین ،میری یہ بات سن کر ، منھ بنائیں گے ، لیکن ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہتا ہوں کہ ہر چند میرے بال سفید ہو چکے ہیں ، لیکن بحمداللہ کہ میرا نامہ اعمال ابھی تک سیا ہ ہے ۔ اور آ ج بھی یہی کہ رہا ہوں
گرچہ پیرم ، تو چنا تنگ در آغوشم گیر
کر سحر گہ ، زکنا ر تو ، جواں بر خیزم
۳۔علم طلبی : عشق کی طرح ، مجھ کو حصول علم کا چسکا بھی لڑکپن ہی سے تھا ، میرا باپ چاہتا تھا کہ مجھ کو گھر کے مکتب میں پڑھائیں اور نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں ، لیکن میں نے اتنا مہنا مت مچایا کہ ، وہ مجھ کو باہر بھیج کر ،پڑھانے پر مجبو ر ہو گئے ۔ اگر میرے دل میں علم کی لگن نہ ہوتی تو دیگر رئیس زادوں کے مانند جاہل رہ جاتا۔ میں نے بچپن سے کوئی کھیل نہیں کھیلا ،اورہوش آتے ہی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔
جوانی کی اندھیری برساتوں میں بھی ، ہر چند میری جھنجھناتی راتیں ، سارنگیوں کی رؤں رؤں، مجیروں کی کھن کھن، طبلوں کی ٹکوروں اور گھنیری زلفوں کی مہکتی چھاؤں میں پینگ لیا کرتی تھیں۔ لیکن میرے دن کتابوں کے مطالعہ شعر کی تخلیق اور علما ء و شعرا کی صحبتوں میں بسرا کرتے تھے۔ اور جب دن کے وقت میرے منچلے دوست رامش و رنگ کی دعوت دیتے تھے تو میں ان سے کہا کرتا تھا کہ یاروں کا تو یہ اصل اصول ہے کہ دن کو سولجر (سپاہی) بنے رہو، اور رات کو لوفر (اوباش)۔
میرے دل میں جوانی آتے ہی ، دین سے بغاوت کا میلان پیدا ہو گیا تھا۔ اور میرے راسخ العقیدہ باپ تک جب یہ خبر پہنچی تھی کہ میں بعض مسلمات کا مذاق اڑاتا ہوں تو انھوں نے میرے منھ پر تھپڑ مار کر فرمایا تھا کہ مجھے اس کا خوف پیدا ہو گیا ہے کہ تو ، آگے چل کر گم راہ ہو جائے گا (اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ میرے باپ کا خیال درست نکلا اور میں ’’گم راہ ‘‘ ہو گیا۔ اسے فضل کرتے نہیں لگتی بار )
ستاروں کے مشاہدے سے میرے تفکر کی ابتداء ہوئی تھی۔ تارے دیکھ کر میں بار بار سوچتا تھا کہ یہ ہیں کیا۔ ان کی چمک دمک کا راز کیا ہے۔ انھیں کس نے بنایا ہے اور کیوں بنایا ہے ۔ شاید یہ تارے ہی ہیں جو سب سے پہلے بچوں کا دل موہ کر ان سے پوچھتے ہیں۔ ننھے میاں بھلا بتاؤ تو ہم کیا ہیں۔
جب سِن آگے بڑھا ، فکر کا میدان بھی وسیع ہو گیا پورے نظام شمسی پر نظر پڑنے لگی اور ا س بات کی لگن لگ گئی کہ علت العلل کا سراغ لگاؤں ، ذات و صفات کے تمام مسائل کو الٹوں ، پلٹوں ،پّکھلاؤں ، کُھرچوں ، کریدوں ، ناپوں، تولوں، ، جانچوں ، پرکھوں، ٹھونکوں، بجاؤں ، کوٹوں، چھانوں ، پھٹکوں،اساؤں ،چُھوؤں ، چکھوں ، سُونگھوں ، بُلواؤں ، سُنوں اور دیکھوں۔
مجھے خوب یاد ہے کہ اندھیر ی راتوں کو جب تاروں بھرے آسمان کی طرف نگا ہ اُٹھاتا تھا ، تو بار بار یہ سوال دل کو برمانے لگتا تھا کہ ارے یہ سب کچھ ہے کیا ، یہ سب کچھ ارادی ہے کہ اتفاقی ؟ یہ سب کچھ کسی حکیم و عادل کا کارخانہ ہے یا کسی اندھی توانائی کی فقط اچھل کود ؟ اور یہ سب کچھ آخر ہے کیوں، اس کی پشت پر آخر کوئی مقصد ہے کہ نہیں۔ اور ، اپنے رب کی موجودگی میں یہ بے چارہ مربوب اس قدر پائے مال و معتوب کیوں ہے۔
میں نے ان مسائل پر غور کیا ، بار بار غور کیا ، دم گھٹنے کی حد تک غور کیا۔ اس کوچے میں برسوں پا پڑ بیلے ، کتابوں پر کتابیں پڑھیں ،ہندو مسلم ، یہودی ،زرتشتی بدھی ، جہینی اور عیسائی علماء کے سامنے برسوں ، در یوزہ گروں کے مانند ، کاسہ گدائی بڑھایا ، علم کی بھیک مانگی ، آگاہی کے واسطے ان کے آستانوں پر ناک رگڑی ، گڑ گڑا ، گڑ گڑا کر ، دامن پھیلایا ، لیکن کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا ۔
اس کے بعد مدعیان معرفت یعنی صوفیا و مشائخ کے دروازے کھٹکھٹائے، اُن کی جوتیاں سیدھی کیں ، لیکن چنداشراقی اشاروں کے سوا ، کچھ بھی پلے نہ پڑ ا ۔ اور وہ اشارے بھی کیا ۔سارے کے سارے وجدانی فریب ۔ اسی طرح عمر گزرتی اور جوانی ڈھلتی گئی اور آخر کار ، پیری آگئی۔ پیری آتے ہی سر کے بال گر گئے اور کھوپڑی میں آگاہی کا اَکھوا پھوٹ آیا ، ناتوانی نے ، توانائی پیدا کر دی ، اور آخر میں نے علم کے قلعے کو فتح کر لیا۔ آپ سمجھے کیوں کر ؟ یعنی مجھے اس بات کا پورا پورا علم حاصل ہو گیاکہ میں جاہل ، نر ا جاہل اور بے پناہ جاہل ہوں۔
بندہ نواز ارتقاء کی اس ابتدائی طفلانہ تاریک منزل میں ، ایک نیم وحشی انسان کو اپنے جہل کا پتا چل جانا ہی سب سے بڑی سعادت ہے۔
سُن ہو گئے کان ، تو سماعت پائی
آنکھیں پتھرائیں ، تو بصارت پائی
جب علم کے سب کھنگال ڈالے قلزم
تب ، دولتِ عرفان، جہالت پائی
گواہ رہنا اے زمین و آسمان کہ میں نے علم ڈھونڈا، لیکن پایا نہیں ، میں جاہل پیدا ہو ا تھا ، اور جاہل ہی مروں گا ، تجھ پر ہزار افسوس اے ’’خلیفہ رحمن ‘‘ اے مظلوم و جہول انسان !!
۴۔انسان دوستی :
(
الف) ہاں انسان۔ کرہ ارض کی جان ۔ انسان دشمنی ۔ عظیم عدوان ۔ حب انسانی ، عین ایمان ۔ انسان کا چہرہ ، گیتا اور قرآن ۔ اور لا سلطان الا الا نسان !
اے مجھے ’’ کافر باللہ‘‘ کہنے والو، تم کو معلوم نہیں کہ یہ ’’کافر‘‘ مومن بالا نسان ہے ۔ خود تمہارا دین کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت ، سے یہ بعید نہیں کہ وہ کافروں کو ، معاف کردے ، لیکن ، حقوق العباد کے پامال کرنے والے یعنی کافر بالا نسان کی بخشش کے بارے میں خدا نے اپنا اقتدار بندوں کو بخش دیا کہ جب تک مظلوم ، اپنے ظالم کو معاف نہیں کرے گا اسے بخشا نہیں جائے گا۔ کافر باللہ کے لیے تو !
شنیدم کہ در ورزِ امید وبیم
بداں را، بینکاں بہ بخشد کریم
کاسہارا موجود ہے ، مگر کافر بالانسان کے واسطے جب تک کہ انسان اس کو معاف نہ کردے بخشش کا کوئی امکان ہی نہیں ہے دوستو ، انسان دوستی ، کوئی ہنسی کھیل نہیں۔ اس کوچے میں ،ہر قدم پر ، خون تھوکنا پڑتا ہے،
رہ روِ راہِ محبت کا خدا حافظ ہے
ا س میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں
تمہاری نیت مجاہداتِ نفس کے سامنے حور و قصور اور کوثر وظہور کے پرے جمے ہوئے ہیں۔ لیکن میرے جذبہ حب انسانی کی گلی حور ان مقصورات کے خیموں کی طرف نہیں مڑتی ، براہ راست دار کی طرف جاتی ہے۔
جی ہاں میں خود اپنے تجربوں کی بنا ء پر اس امر کا اعتراف کر تا ہوں کہ عشقِ شہوانی بھی ایک ایسی بلائے بد ہے کہ انسانِ بلبلا اٹھتا اور کہتا پھرتا ہے ۔
وہ نہیں بھولتا ، جدھر جاؤں
ہائے میں کیا کروں ، کدھر جاؤں
اور ایک عشق کی ماری نعرہ زن ہوتی ہے۔
جو سکھی میں جانتی کہ پیت کرے دکھ ہوئے
نگر ڈھونڈ ورا پیٹتی کہ پیت کرے ناکوئے
لیکن عشقِ شہوانی اور حب انسانی کے شداید کو جب تولا جائے تو عشق کا پلا آسما ن سے باتیں کرنے لگتا ہے اور حب کا پلا زمین سے جنبش نہیں کرتا۔
ہم نے مانا کہ کل وہ آئیں گے
عقل حیراں ہے ، آج کیا کیجئے
آج تو انسان اس قدر آفات میں گھرا ہو ا ہے کہ دل چٹکیوں میں ملا کرتا ہے۔ چھوٹے کنبے والے کے مصائب بھی چھوٹے ہوتے ہیں اور کنبہ جس قدر بڑا ہوتا جاتا ہے اس کے مصائب میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے ، اور مجھ نامراد کا کنبہ توساری دنیا کا احاطہ کئے ہوئے ہے ، غورفرمائیے کہ میرے مصائب کیاہوں گے۔
جب کسی مفلس کے گھر کے چولھے میں آگ نہیں روشن ہوتی۔ میرے سینے سے دھواں اٹھنے لگتا ہے ، جب کسی یتیم کی پسلیں نکلی نظر آتی ہیں ،میرے بدن میں خود اپنی ہڈیاں چبھنے لگتی ہیں ، جب کسی گوشے سے رونے کی آواز آتی ہے ، میری کم بخت آنکھیں آنسو برسانے لگتی ہیں ، اور ، جب کسی گھر سے بھی جنازہ نکلتاہے تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ جنازہ خود میرے ہی گھر سے نکل رہا ہے۔
ہر چند امریکہ ظالم ہے اور ویٹ نام مظلوم لیکن ویٹ نام کے مظلوم شہیدوں پر ہی نہیں ،امریکہ کے ظالم مقتولوں پر بھی ماتم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں ۔ اللہ نہ کرے کہ کسی بد بخت کے سینے میں ابو الا نسان کا دل دھڑکنے لگے۔
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد، ہمارے جگر میں ہے
انھوں نے انتہائی بددیانتی کے ساتھ ، بین الاقوام ‘‘ کی ترکیب تراشی ہے ، اور نوعِ انسانی کو،جو مشرق سے لے کر مغرب تک صرف ایک قوم ہے ، زبانوں ، وطنوں ، دینوں او ر رنگوں کی آویزشوں میں مبتلا کر کے پوری دنیا کو جہنم بنا رکھا ہے، ان ظالم مسخروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ :۔
لفظ ’’اقوام ‘‘ میں ، کوئی جان نہیں
ایک نوع میں ہو دین ، یہ امکان نہیں
جو مُشر کِ یزداں ہے ، وہ ناداں ہے فقظ
جو مُشرکِ انسان ہے وہ انسان نہیں ہے
لطف تو یہ ہے کہ وہ بانیان فساد ، خود تو سلامتی کے گوشوں میں دبکے بیٹھے ہیں اور روٹی کی خاطر ، اپنے بھائیوں کی جانیں لینے والی فوجوں کو للکار دیا ہے کہ وہ خون کی ہولی کھیلتے پھریں۔
منھ پیٹنے کی بات تو یہ ہے کہ ان روٹی کے مرے ، اور حب وطن کے فریب کھائے ہوئے سپاہیوں کو جن کی کہنیوں سے ان کے بھائیوں کا تازہ خون ٹپک رہا ہے ، فیلڈ مارشل ، قومی ہیروں اور غازی اعظم کے خطابات مرحمت فرمائے جا رہے ہیں ۔جہالت کی لے اس قدر بڑھ چکی ہے کہ خود بڑے بڑے تعلیم یافتہ افراد بھی اس دھوکے میں آ چکے ہیں کہ ہم پاکستانی ، ہندوستانی ، افغانستانی ، ترکستانی ، اور انگلستانی ہیں ، اور اسی کے ساتھ ساتھ ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ میں ہندو ہوں ، مسلمان ہوں ، عیسائی ہوں ، زرتشی ہوں ، یہودی ہوں ، لیکن ان سادہ لوحوں کے ذہنوں میں یہ تصور اجاگر ہی نہیں ہوتا کہ میں انسان ہوں ۔ سب سے پہلے انسان ہوں ، اور اس کے بعد اور کچھ پروپگنڈے کی طاقت تو دیکھئے کہ دین وملک کے چکر میں آ کر ، ہم اپنی انسانیت کو قطعاً فراموش کر چکے ہیں ، اور یہ دیکھ کر بڑی بے پایاں حیرت ہوتی ہے کہ انسانیت کی اس اکائی میں سے ، اعدا کا یہ جرار لشکر کہاں سے نکل پڑا۔ عینیت کے اس چشمہ شیریں میں یہ غیریت کا زہر کس نے ملا دیا اور اس کعبۂ وحدت میں ، یہ خنزیر شرک کیوں کر داخل ہو گیا ۔ بسوخت عقل زحیرت ، کہ ایں چہ بوا لعجبی !