خود انحصاری کا سفر
اداروں کے ادھورے کام ہماری روز مرہ گفتگوکا حصہ ہوتے ہیں، ایسی باتوں کو اچھال اچھا ل کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ فلاں منصوبے کا دعوٰی کیا گیا مگر عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ اگر وسائل کی کمی اور تنقید کی زیادتی کے باوجود کوئی عہد وفا ہو جائے تو صحرا میں نخلستان کا گمان ہوتا ہے ۔ چند ماہ قبل اخبار اردو کی پالیسی ترتیب دیتے ہوئے اس بات کو شدو مد سے سوچاگیا کہ اخبار اردو جیسے اہم اور مقبول رسالے کو خود انحصاری کی طرف لے جایا جائے ۔ جس سے فوری طور پر دو فائدے ملنے کا امکان تھا ۔ پہلا یہ کہ کم ترین سرکاری وسائل پر انحصار کم ہو جائے گا، دوسرا یہ کہ اخبار اردو کے ساتھ وابستہ افراد میں خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ ان دو میٹھے پھلوں کو حاصل کرنے کے لیے دو راستے اختیار کرنے کا منصوبہ بنا یا گیا ۔ پہلا یہ کہ ۲۰۱۲ء شروع ہونے تک اخبار اردو کے ایک ہزار سالانہ خریدار بنائے جائیں اور دوسرا یہ کہ اخبار اردوکا آڈٹ کروا کر سر کاری میڈیا لسٹ پر لا یا جائے تا کہ اشتہارات کے ذریعے اخبار اردو کو مالی طور پر خود کفیل کرنے میں مدد مل سکے ۔ جنہوں نے ان ارادوں کو سنا ان میں سے کچھ نے کم از کم دل میں اسے ’’ دیوانے کی بڑ‘‘ قرار دیا ۔ بالکل صحیح ، اکثر اوقات مشکل ہدف دیوانے ہی سر انجام دیتے ہیں۔ ۲۰۱۲ء کے شروع میں ہم یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ آپ سب اور خاص طور پر نوجوانوں کے تعاون کے ساتھ اخبار اردو کے ایک ہزار سالانہ خریدار بنانے کا پہلا مشن مکمل ہو چکا ہے اور آڈٹ کروانے کے لیے عرضی بھی داخل کروائی جا چکی ہے۔ ان سب کے لیے آپ سب بہت بہت مبارک باد کے مستحق ہیں۔
سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد انسانی حقوق کا سب سے پہلامألہ پنشن کا ہوتا ہے ۔ مقتدرہ سے ریٹائر ہونے والے ہر فرد کو اس سلسلے میں سہولت میسر نہ تھی ۔ ملازمین نے عدالت کا سہارا لیا،تاہم عدالتی فیصلے کے باوجود معاملہ دفتروں کی فائلوں میں الجھنے لگا لیکن مقتدرہ قومی زبان کی وزارت قومی ورثہ و یکجہتی کے سیکرٹری جناب فرید اللہ خان کی ذاتی دلچسپی کے باعث یہ معاملہ مستقل طور پر بخیر و خوبی انجام پاگیا ۔ مقتدرہ سے ریٹائر ہونے والے اب تک تمام ملازمین کو حسب قواعدپنشن جاری کر دی گئی ۔ اس طرح مقتدرہ قومی زبان نے ۲۰۱۲ء کے ابتدا میں ہی پنشن یافتہ سرکاری ادارہ ہونے کا ہدف بھی حاصل کر لیا۔ پنشن کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرمحترمہ ثمینہ خالد گھرکی نے مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد کی تجویزکو پسند کرتے ہوئے کہا کہ مقتدرہ قومی زبان کو ایکٹ بنانے کا بل جلد از جلد پارلیمنٹ میں لایا جائے گا تاکہ مقتدرہ قومی زبان جیسے باوقار قومی ادارے اپنامشن باوقار انداز سے آگے بڑھاتے رہیں۔
سید سردار احمد پیر زادہ