ایک ذہین اور بہترین صحافی طفیل احمد جمالی مرحوم

نجم آراء

 

ریڈیو اسٹیشن میں ایک صاحب میرے پاس آ کر بولے کہ کیا تم شبلی کی بہن ہو؟ میں نے کہا جی!قریب میں جو لوگ تھے انھوں نے پوچھا کہ جمالی آپ نے کیسے اندازہ لگایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس لڑکی کے بات کرنے کا انداز بالکل شبلی مرحوم کی طرح تھا اور مجھے شبلی بہت پسند تھا۔ پھر پتہ چلا کہ شاہد احمد دہلوی صاحب نے بھی ابا کے حوالے سے میرا تعارف کرادیا ہے۔ دراصل اس زمانے میں ہمارے یہاں اخبار امروز آتا تھا اور اس میں جمالی بھائی کا کالم ’’گر تو برا نہ مانے‘‘ بے حد پسند کیا جاتا تھا۔ لہٰذا جب ابا کو پتہ چلا تو انھیں جمالی بھائی سے ملنے کی خواہش ہوئی۔ اتفاق سے وہ پچھلی سڑک پر نجمی صاحب (کارٹونسٹ) کے یہاں قیام پذیر تھے لہٰذا ابا کے پاس آنا جانا مرتے دم تک قائم رہا۔ روحی فلم اور میرے گانے اکثر زیر تذکرہ رہتے ۔ ایک دفعہ الیاس رشیدی صاحب مرحوم کو بھی ساتھ لے کر آئے تو انھوں نے اپنے ہفتہ وار اخبار ’’نگار‘‘ میں میرا انٹرویو چھاپنے کی فرمائش کی مگر ابا کے انکار کے باوجود وہ چھپ گیا۔ وہ بھی تصاویر کے ساتھ۔ ابا ناراض ہوئے مگر جمالی بھائی نے راضی کر لیا مگر زیادہ خوش ہونے کو منع کر دیا۔ جمالی بھائی کی ہمہ صفت شخصیت تھی کہ ہر عمر کے انسان کو اپنا گرویدہ بنا لیتے۔ شاعر بھی تھے لہٰذا ہمایوں مرزا صاحب نے اپنی فلم ’’بڑے آدمی‘‘ میں ان سے گانے لکھوائے جن کو گانے کے لیے ممبئی سے مبارک بیگم صاحبہ کو بلوایا گیا ۔ موسیقی غلام علی عبداللطیف نے مرتب کی تھی جو کافی مقبول ہوئی۔ خصوصیت سے یہ گانا (سن لو رنگیلے جوانو) بہت مشہور ہوا۔ ایک غزل تھی جو مجھے بہت پسند تھی (آسماں والے تیری دنیائے فانی دیکھ لی موت آساں ہو گئی۔،زندگانی دیکھ لی) سلیم احمد کی فلم راز کے گانے بھی انھوں نے تحریر کیے تھے جس میں زبیدہ خانم کا گانا (چھلک رہی ہیں مستیاں) بہت مشہور ہوا۔ مجید لاہور ی کے انتقال کے بعد نمکدان رسالے کی ذمہ داریاں بھی انھوں نے سنبھالیں اور تاد م مر گ شائع کرتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد وہ ’’نگار‘‘ کے دفتر ہی کے فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔ ہم لوگوں کی آمد ورفت رہتی تھی۔ خصوصاً میری والدہ ان سے بہت محبت کرتی تھیں اور بہت دعائیں دیتی تھیں۔ جب جہاز کے کریش والا روح فرساحادثہ ہوا اور پاکستان کے انمول صحافی شہید ہو گئے۔ اتفاق سے جمالی بھائی کا نام بھی تھا مگر آخری وقت پر جب جہاز کے عملے نے کاغذات چیک کیے تو نامکمل ہونے پر جہاز سے اتار دیا اور وہ معجزانہ طور پر بچ گئے۔ ہم لوگوں اور پوری صحافی برادری کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ ایک خوشگوار حادثہ بھی قابل ذکر ہے جب ایک لڑکی نے اچانک ان کو پسند کر لیا اور جھٹ پٹ نکاح ہو گیا۔ بعد میں پریس کلب میں ولیمہ ہوا۔ تھوڑے دن بعد ان کی رہائش PCH میں ہو گئی اور دو بہت پیاری پیاری لڑکیوں کے والد بن گئے۔ ان کی بیگم بھی اچھی تھیں اور ہم لوگوں سے محبت کرتی تھیں۔ ان کا چین بھی جانا ہوا اور کچھ عرصہ کے لیے اخبار ہی کے سلسلے میں رہے۔ واپسی کے بعد ان کو کچھ دل کی تکلیف شروع ہو گئی تھی اور اسی نے ان کی جان لے لی۔ صحافت اور ان کے چاہنے والوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ ان کی بیگم بیٹیوں کے ساتھ ملک سے باہر چلی گئیں تھیں۔ خدا کرے بخیریت ہوں اور خدا جمالی بھائی کو جنت الفردوس عطا فرمائے۔ آمین۔***