معین الدین(بنگلہ دیش)

سب رس۔ اردو کی ادبی نثر کا پہلا شاہکار

کچھ دنوں پہلے تک شمس الدین ولیؔ دکنی کو اردو شاعری کا باوا آدم مانا جاتا تھا اور بعض کو اب بھی اس پر اصرار ہے لیکن تحقیق و تلاش سے اب یہ بات قطعی طو رپر ثابت ہو گئی ہے کہ ولی دکنی سے بہت پہلے اردو کے اچھے اچھے شاعر گزرے ہیں۔ اسی طرح اب تک اردو نثر کی پہلی کتاب فضلی سے منسوب کی جاتی تھی اور اس کی ''کربل کتھا'' اردو کی پہلی کتاب سمجھی جاتی تھی لیکن حال ہی میں یہ بات سامنے آئی کہ فضلی سے کہیں پہلے نثر میں بہت سی کتابیں لکھی گئی تھیں، مگر وہ سب پردہ خفا میں تھیں لیکن اب تحقیق و جستجو نے انھیں گمنامی سے نکالا، انہی میں سے ایک قابل قدر کتاب مُلّا وجہیؔ کی ''سب رس'' ہے۔
جناب مُلّا وجہیؔ دور اول کے اردو نثر نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اردو نثر کا آغاز اگرچہ ۷۵۸ ہجری سے ہو چکا تھا، تاہم اس دور میں صرف ایک تصنیف ''معراج العاشقین'' از حضرت گیسو دراز بتائی جاتی ہے۔ تاہم ''سب رس'' کو اردو کی پہلی مستقل تصنیف سمجھا گیا ہے، جو انھوں نے ۱۰۴۸ہجری مطابق ۱۶۳۸ عیسوی میں تصنیف کی۔ مُلّا وجہیؔ عبداللہ شاہ والئی گولگنڈہ کا درباری شاعر اور نثر نگار تھا۔ ''قطب مشتری'' ان کی مشہور مثنوی ہے جس میں انھوں نے سلطان قلی قطب شاہ کے عشق کو موضوع بنایا ہے۔
قطب شاہی بادشاہوں کے عہد میں دکنی یعنی قدیم اردو کو بہت فروغ ہوا۔ یہ لوگ علم و ہنر کے بڑے سر پرست تھے اور شعرا ء و علماء ان کے دربار کی رونق تھے۔ خود ان میں سے بعض بڑے پائے کے شاعر ہوئے ہیں۔ سلطان محمد قلی قطبؔ شاہ جسے اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر مانا جاتا ہے، اس کا ضخیم کلیات اس کی قادرالکلامی اور وسیع النظری پر دلالت کرتاہے۔ اردو میں اس سے قبل کا ایسا پاکیزہ کلام دریافت نہیں ہوا ہے۔ اس کا بھتیجا اور جانشین محمد قطب شاہ بھی اردو کا بہت اچھا شاعر ہوا ہے۔ پھر اس کا جانشیں عبداللہ قطب ؔ شاہ بھی اپنے باپ دادا کی طرح اردو کا سخنور تھا۔ اس کے عہد میں علم کا بہت چرچا تھا اور بعض بڑے فاضل اور شاعر اس کے دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ فارسی لغت کی مشہور اور مقبول کتاب''برہان قاطع'' اس کے عہد میں لکھی گئی اور طب کی بعض مشہور کتابیں اس زمانے کی تالیف ہیں اور اسی بادشاہ کے نام سے منسوب ہیں اور مُلّا نظام الدین احمد نے اپنی کتاب ''حدیقتہ السلاطین'' میں اس کے حالات لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے عہد میں بہت سے علماء نے بھی اپنی کتابیں اسی بادشاہ کے نام سے معنون کی ہیں۔ اس سے اس کی علم پروری اور علمی ذوق کا پتہ لگتا ہے۔ مُلّا غواصیؔ، ابن نشاطیؔ، قطبی، مقیمیؔ اور جنیدیؔ وغیرہ سب اُسی کے دربار سے وابستہ تھے۔
کتاب ''سب رس'' میں مُلّا وجہیؔ نے ایک عام اور عالمگیر حقیقت کو مجاز کے پیرائے میں بیان کیا ہے اور حسن و عشق کی کشمکش اور عشق و دل کے معرکے کو قصے کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ''سب رس'' کا دیباچہ پڑھنے سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ اسی کی ایجاد ہے اور اس کے دماغ کی اپج ہے۔حالانکہ یہ بات نہیں۔ یہ پُر لطف داستان سب سے پہلے محمد یحییٰ ابن سیبک فتاحی نیشا پوری نے لکھی۔ یہ نیشا پورکا علاقہ خراساں کے مشاہیر میں ہے اور شاہ رخؔ مرزا کے عہد میں تھے اور فتاحی ؔ تخلص کرتے تھے۔ یہ بہت فاضل اور قادر الکلام شاعر تھے۔ علاوہ دیوان کے ان کی کئی تصنیفات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک ''دستور العشاق'' یعنی حسن و دل کا قصہ ہے۔ دستور العشاق قصہ مثنوی ہے جس میں پانچ ہزار اشعار ہیں۔ اس قصے کو مصنف نے ''شبستان خیال'' اور ''حسن دل'' کے نام سے الگ الگ بھی لکھا ہے لیکن یہ دونوں دستور عشاق کے بعد لکھی گئی ہیں۔ ''حسن و دل'' جو بہت مشہور ہوئی، نثر میں دستور عشاق کا خلاصہ ہے۔ اس کی مسجع اور مقفیٰ اور صنائع بدائع کی اس میں خوب داددی ہے۔
ایک عرصے تک ''سب رس'' کو طبع زاد کتاب کہا جاتا رہا ہے لیکن بعد میں جانچ پڑتال اور تحقیق سے ثابت ہوا کہ گرچہ وجہی ؔ نے اس قصے کو نہایت احسن انداز میں ایک تخلیقی صورت میں پیش کیا ہے لیکن اصل میں یہ تمثیلی قصہ فارسی کی مشہور کتاب''دستور العشاق'' سے لیا گیا ہے جس کو فتاحی نیشاپوری نے تصنیف کیا گو کہ مُلّا وجہیؔ نے قصے کی اصل کی طرف کہیں اشارہ نہیں کیا ، مگر دونوں کتابوں کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وجہیؔ نے قصے کی واردات حرف بہ حرف فتاحیؔ سے لی ہے اور اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کیا ہے تو یہ کہ جابجاموقع بے موقع پندو نصیحت اور موعظمت کا دفتر کھول دیا ہے جس کا اصل کتاب میں نام و نشان نہیں۔
کتاب''سب رس'' اس دقیق اور رنگین طرز میں لکھی گئی ہے جس کو مقفّٰی اور مسجع کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ فارسی اور عربی میں اس انداز کی بہت سی کتابیں ملتی ہیں جن میں زیادہ تر مشہور مقامات بدیعی، مقامات حدیدی، مقامات حمیدی اور تاریخ اصناف وغیرہ قابل ذکر ہیں لیکن اردو زبان کی قدیم ادبیات میں بھی ایسی کتابیںملتی ہیں جو اس مرصع طرز بیان سے متاثر ہو کر لکھی گئیں۔ ان میں ''نو طرز مرصع'' از تحسین اور فسانۂ عجائب'' از مرزا رجب علی بیگ سرمدؔ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ دراصل رنگینی اور رنگین بیانی مسلمان قوم کی خاص خوبی ہے۔
مُلّا وجہی اپنے زمانے کا قادر الکلام شاعر ہی نہیں بلکہ بے مثل ادیب بھی تھا۔ نظم و نثر میں اس کی تصانیف اس کے علم و فضل اور کا بیّن ثبوت ہیں۔ اسلامی علوم والسنہ کے علاوہ ہندوستانی زبانوں میں بھی اسے کافی دسترس حاصل تھی۔ مرہٹی، گوجری یعنی گجراتی اور اردو کے ساتھ ساتھ برج بھاشا کے لٹریچر سے وہ آشنا تھا۔ امیر خسرو کے ہندی کلام سے بھی آگاہی رکھتا تھا۔ لہٰذا وجہیؔ کے ادبی ذوق یا مذاق کا کیا کہنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجہیؔ کو زبان دانی، زبان تراشی اور لغت سازی میں قدرت حاصل تھی۔
کتاب ''سب رس'' کی زبان تقریباً تین صدی پہلے کی زبان ہے اور وہ بھی دکن کے بہت سے الفاظ اور محاورات ایسے ہیں جو اب بالکل متروک ہیں اور خود اہل دکن بھی نہیں سمجھتے۔ عربی اور فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال ہوتے ہیں اور بعض محاورات آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً شان نہ گمان، خالہ کا گھر، کہاں راجہ بھوگ اور کہاں گنگوا تیلی،گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے وغیرہ۔ علاوہ ازیں اردو زبان کی صرف و نحو اور بعض الفاظ کے تغیر و تبدل کابھی پتہ چلتا ہے۔ مذکر اور مؤنث کی جمع ''اں'' سے آئی ہے جیسے باتاں، جھاراں اور کتاباں وغیرہ۔ بھائی کی جمع بھائیاں۔ ایسے افعال متعدی جن کی ماضی مطلق ، ماضی قریب، ماضی بعید، ماضی احتمالی کے ساتھ ''نے'' آتاہے تو فعل ہر حالت میں مذکر ہی استعمال ہوتا ہے۔ خواہ فاعل مؤنث ہی کیوں نہ ہو لیکن دکن میں مذکر کے لیے مذکر اور مؤنث کے لیے مؤنث فعل ہوتا ہے، جیسے اس عورت نے کہی، لڑکی نے پانی پی۔ لیکن ''نے'' کا استعمال بہت بے قاعدہ ہے۔ اس حرف کے استعمال کے قواعد بعد میں منضبط ہوئے۔ میر تقی میر اور مرزا رفیع سودا وغیرہ کے زمانے میں بھی یہی بے قاعدگی پائی جاتی تھی۔ جیسے رقیب نے، روسیاہ نے اور بے نصیب نے وغیرہ۔
یوں تو ہر ملک اور ہرزبان میں تمثیلی قصے ملتے ہیں۔ جیسے سنسکرت زبان میں ''ہت ایدیش''، فارسی میں ''انوار سہیلی'' اور منطق الطیر'' اور عربی میں اخوان الصفا وغیرہ۔ اسی طرز کی مشہور کتابیں ہیں لیکن اس سلسلے میں ایک بات قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ جن ملکوں میں دیومالا یعنی علم الاصنام کا رواج رہاہے، وہاں کے مصنفین کو اس طرز کے قصے لکھنے میں اس دیو مالا سے بڑی مدد ملی ہے۔ یعنی جہاں دیوی دیوتا مانے جاتے ہیں وہاں کے تمثیلی ادب میں ان سے خوب کام لیا گیا ہے۔ مثلاً ہندی یا سنسکرت کے ادب میں جہاں دولت یا علم کو مجسم کرنے کی ضرورت پڑی وہاں لکشمی اور سرپرستی کے کردار پیش کر دیئے۔ فرانسیسی، انگریزی اور دیگر مغربی زبانوں کے ادب میں یونانی دیو مالا سے کام لیا گیا ہے۔ جیسے حسن کو مجسم اور مشخص کر کے پیش کرنا ہے تو زہرہ (وینس) کو پیش کر دیا۔ عشق کو زندگی بخشنی ہے تو کیوپٹر کی شکل میں سامنے لے آئے۔ لیکن اسلامی ممالک میں چونکہ اصنام پرستی ممنوع ہے، اس لیے وہاں کے مصنفین کو ان غیر مجسم کیفیات کو مجسم اور جاندار بنانے کے لیے دقت پیش آئی، سوائے اس کے کہ وہ انہی کو مجسم بنا دیں۔ یعنی عشق کو عشق کہیں اور حسن کو حسن اور کوئی صورت ان میں جان ڈالنے کی نہ تھی۔
اگرچہ وجہیؔ کی کتاب''سب رس'' بنیادی طو رپر ایک تمثیل ہے، لیکن اس میں داستان اور افسانے کی طرز بھی ملی جلی معلوم ہوتی ہے۔ وجہی نے اپنے خیالات کو داستان اور افسانے کی طرز پر پیش کیاہے۔ چنانچہ سب رس میں پلاٹ ، کردار اور ماحول وغیرہ بھی ہے۔
نثر اردو کی ابتدا، نظم اردو کی طرح دکن میں ہوئی۔ نثر اردو کا ابتدائی ترقی یافتہ نمونہ سب رس ہے جس میں نثری اسلوب نے ایک انگڑائی لی ہے۔ سب رس سے پہلے کے نثری نمونوں کو نوگفتار بچے کی زبان سے مناسبت دی جا سکتی ہے لیکن جو چیز سب رس کو ہماری نگاہ میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے وہ اس کے اسالیب ہیں اور جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقابلہ کرتے ہیں تو آج کی زبان میں اور اس زمانے کی زبان میں بہت خفیف سا فرق معلوم ہوتاہے۔
زمانہ بدل گیا۔ ہندوستان میں مغل خاندانوںکی حکومت ختم ہو کر انگریزوں کی عملداری شروع ہوئی اور انگریزوں کو دیسی زبان سکھانے کی غرض سے ۱۸۵۵ء کو کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا۔ چنانچہ سادگی اور سلاست کو عقیدے کے طو رپر فورٹ ولیم کالج میں اپنایا گیا۔ خاص طو رپر مصنف میر امنؔ نے اپنی کتاب ''باغ و بہار'' میں اور حیدر بخش حیدریؔ نے ''توتا کہانی'' میں اس اسلوب کے بہترین نمونے پیش کیے۔ فورٹ ولیم کالج کا وجود اردو نثر کی شاہراہ پر ایک بہت بڑا سنگ میل ہے لیکن فورٹ ولیم کالج کی نثر ماسوائے ''باغ و بہار'' کے زندہ نثر نہ تھی۔ کیونکہ اس میں شخصی تحریروں کے بجائے ترجموں کے ذریعے قصہ کہانیاں لکھی گئیں مگر یہ فائدہ ضرور ہوا کہ سادگی اور سلاست کے دروازے کھل گئے۔ اس آزادی سے مستفید ہو کر آئندہ لوگوں نے نثر کو ذریعہ اظہار بنایا۔ پھر مرزا غالبؔ نے انہی خطوط نویسی کے ذریعے نثر کو شخصی ترجمان بنایا اور اردو نثردیکھتے دیکھتے ایک زندہ نثر بن گئی بلکہ بہت شگفتہ اور زندگی سے قریب مضامین ادا کرنے لگی۔ مرزا غالب کے بعد سر سید احمد خاں کا دبستان آتا ہے اور یہ عقلی نثر کا دور ہے۔ یہ ایسا دبستان ہے کہ جس کا ہر فرد اردو نثر پر مستقل نقش چھوڑ گیا ہے۔ اس زمانے کی تقریباً تین کتابیں شعر العجم، مقدمہ شعروشاعری اور ابن الوقت وغیرہ مختلف مصنفوں کی مختلف موضوعات پر نمائندہ کتابیں ہیں، جو اپنے اپنے موضوع کے لحاظ سے ایسے منفرد اسلوب کی حامل ہیں جس نے نثر اردو کو آگے بلکہ تیز رفتاری سے آگے بڑھایا۔سر سید کے دور کے بعد رومانوی دور شروع ہوا جس میں نثر اردو نے بے پناہ ترقی کی اور یہ دور ۱۹۳۵ء تک چلا گیا۔ اس دور میں نثراردو سپاٹ پن اور سادگی محض کو ترک کر کے شاعری کے قریب تر آگئی۔ پھر ۱۹۳۵ء سے ترقی پسندانہ دور شروع ہوا، اسے نثر اردو کاسائنٹیفک دور بھی کہاجا سکتاہے۔ یہ اردو نثر کا طویل ارتقائی سفر جو صدیوں پر پھیلا ہواہے۔ کہنے کو تو ایک لمبا سفر ہے لیکن اردو نثر نے بہت تیز رفتاری سے ارتقائی مسافتوں کو طے کیا۔ لہٰذا خلاصہ یہ کہ اس طویل ارتقائی سفر کا نقطۂ آغاز مُلّا وجہیؔ کی کتاب''سب رس'' ہی ہے، اگرچہ یہ اولین کوشش ہے لیکن بہترین کوشش ہے۔
مآخذ
۱۔ جدید اردو ادبیات از محمد ظریف
۲۔ اردو میں جدید نثر نگاری کا ارتقا، از پروفیسر ارشد کیانی
۳۔ جدید اردو نثر، از ڈاکٹر سید عبداللہ
۴۔ تاریخ زبان و ادب اردواز پروفیسر جمیل احمد انجم
٭٭٭٭