English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

فرہنگستان زبان و ادب فارسی

ڈاکٹر انجم حمید
نائب ناظم،مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد

سائنس و ٹیکنالوجی کی روز افزوں ترقی نے دنیا کے تقریبّا تمام ممالک کو نئے نظریات اور مشکل چیلنجوں سے روشناس کیا ہے ۔ جنھوں نے نہ صرف معاشروں اور افراد کو مؤاثر کیا بلکہ مختلف زبانیں بھی جدید سائنسی اصطلاحات پر غوروفکر کرنے پر مجبور ہیں ۔ 
فارسی زبان کا شمار دنیا کی قدیم اور عظیم زبانوں میں ہوتا ہے ۔ جدید سائنسی ترقی نے اس زبان کو بھی متأثر کیا ہے اور ایران کے اہلِ علم حلقوں نے اس چیلنج کو بخوبی قبول کیا ۔ جس کے نتیجے میں ایران میں متعدد علمی ادارے وجود میں آئے جن میں فرہنگستان زبان و ادب فارسی نمایاں ہے ۔ 
فرہنگستان زبان و ادب فارسی اسلامی جمہوری ایران کا ایک نہایت مؤقر اور فعال علمی ادارہ ہے ۔ مذکورہ ادارے نے فارسی زبان کی ترقی و ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ 
مذکورہ ادارہ مدت دراز سے مختلف انداز میں سرگرم عمل رہا ہے ۔ کچھ عرصہ یہ ادارہ غیر فعال بھی رہا ۔ مناسب ہے اس کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے ۔ 
ایران میں قاجاری سلسلے کی ادبی انجمنیں فرنگی الفاظ کے لیے فارسی اصطلاحات سازی و مترادفات سازی کے لیے پیشرو ثابت ہوئی ہیں ۔ یہی امر بعد میں فرہنگستان اول کے اہداف و مقاصد کا اصلی پروگرام قرار پایا ۔ فرہنگستان کے عنوان سے ایک ادارے کی تاسیس کا خیال اس وقت پیدا ہوا جب کچھ بیدار مغز درد مند دانشوروں نے فارسی زبان و ادب کے مٹی پانی پر اپنا حق جتاتے ہوئے ، اس زبان کو چند نا اہل افراد کی غلط سوچ کی نظر ہوتے دیکھا۔ان کے نزدیک فارسی ایک شاندار تاریخ کی حامل زبان ہے ، بہترین تہذیب اس میں سموئی ہوئی ہے ۔ اس کی اصالت کو کسی طور غیر ملکی یلغار کے آگے مجروح نہیں ہونا چاہیے ۔ یہی محرکات ایک ادارے کی تاسیس کی ابتداء ثابت ہوئے ۔ 
اس سلسلے میں ’’ اکادمی طبی ‘‘ نے پہلا قدم اٹھایا اور چند معروف دانشوروں نے متعدد جلسے منعقد کیے ۔ اور ۱۳۱۴ ھ، ش۱۹۳۵ ء ’’ فرہنگستان ایران ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دیا ۔ اس ادارے کے ارکان میں ایران کے مشہور دانشور ، محققین ، ادباء و شعراء شامل تھے ۔ جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں : 
ملک الشعرابہار ، علامہ دھخدا ، محمد علی فروغی ، ابو الحسن فروغی ، سعید نفیسی، سید نصراللہ تقوی ، رضا زادہ شفق ، بدیع الزمان فروز انفر ، علی اصغر حکمت ، عبد العظیم قریب ، رشید یاسمی ، محمد علی جمالزادہ ، فخر ادھم ، کرسٹن سن ( ڈنمارک ) ، ھنری ماسہ (فرانس ) وغیرہ ۔ 
آغاز میں فرہنگستان کا مقصد اصطلاحات سازی سے زیادہ غیر ملکی اصطلاحات کو مہار لگانا اور روکنا تھا ۔ رفتہ رفتہ ادارے نے اپنا منشور تیار کیا اور اسی منشور کی رُو سے فارسی اصطلاحات سازی و مترادفات کی جستجو کا عمل شروع ہوا۔ چند سال تک کامیابی کے ساتھ یہ ادارہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے رہا اور ۱۳۳۳ ھ ش/۱۹۵۴ ء میں سرکاری طور پر بند ہو گیا ۔ اس کے نو سال بعد ۱۳۴۲ ھ ش/۱۹۶۳ ء میں ایران کے ایک ماہر لسانیات استاد محمد مقدم نے صاحبان نظر کو غیر ملکی الفاظ کی موجودگی اور بے پناہ یلغار سے خبردار کیا اور یوں ایران کے ذرائع ابلاغ پر فارسی جیسی پُر مایہ و عظیم زبان کی حفاظت کے موضوع پر بحث و مباحثہ شروع کیا گیا کہ کس طرح فارسی زبان کو جدید علمی و ٹیکنالوجی کی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور یہ زبان اپنے اندر جدید الفاظ و اصطلاحات کو وضع کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکے ۔ یہی شروعات فرہنگستان کی تشکیل کا باعث ہوئیں ۔ بالآخر۱۳۴۷ھِ ش/۱۹۶۸ ء میں ایران میں فرہنگستان دوم کا قیام عمل میں آیا۔ 
فرہنگستان کے ارکان میں ایران کا پایہ اول کے ، شعراو ادباء کے دانشور و محققین شامل تھے جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں : 
ذبیح بھروز ، محمود حسابی ، رضا زادہ شفق ، جمال رضابی ، سپھبد علی کریملو ، صادق کیا ، حسین گل گلاب ، یحیی ماھیار نوابی ، محمد مقدم و مصطفٰی مقربی وغیرہ ۔ 
مذکورہ ادارہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد کچھ عرصے تک کام کرتا رہا اور پھر ۱۳۶۰ ھ /ش۱۹۸۱ ء میں گیارہ علمی و تحقیقی اداروں کے انضمام کے ساتھ جس میں فرہنگستان دوم بھی شامل تھا ، ایک نیا ادارہ مؤسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی کے نام سے منظر عام پر آ یا ۔ 
فرہنگستان دوم کے فرائضِ کار میں درج ذیل ذمہ داریاں اہم تھیں : 

وضع اصطلاحات 
مطالعہ و جائزہ ایرانی زبانیں اور بولیاں 
فرہنگستان زبان و ادب فارسی 
موجودہ فرہنگستان زبان و ادب فارسی کے نام سے جمہوری اسلامی ایران کے آئین کی دفعہ ۱۵ کے تحت اپنی جداگانہ اور مستقل حیثیت میں تاسیس ہوا ۔ ادارے کی شوریٰ کا پہلا اجلاس ۲۶۔۶۔۱۳۶۹ھ ش/۱۹۹۰ء کو منعقد ہوا ۔ پہلی شوریٰ کے منتخب ارکان کے نام درج ذیل ہیں :
احمد آرام ، ڈاکٹر نصراللہ پور جوادی ، ڈاکٹر حسن حبیبی ، ڈاکٹر غلام علی حداد عادل ، بھاء الدین خرمشاہی ، ڈاکٹر محمد خوانساری ، ڈاکٹر محمد تقی دانش پژوہ ، ڈاکٹر علی رواقی ، ڈاکٹر سید جعفر شھیدی ،

ڈاکٹر حمید فرزام ، ڈاکٹر فتح اللہ مجتبایی ، ڈاکٹر مھدی محقق ، سید محمد محیط طباطبایی ، ابوالحسن نجفی ، ڈاکٹر غلام حسین یوسفی ، ڈاکٹر سیمین دانشور ، ڈاکٹر طاہرہ صفار زادہ وغیرہ۔
آج کل فرہنگستان سے وابستہ ارکان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں : 
قیصر امین پور ، ڈاکٹر حسن انوری ، ڈاکٹر نصراللہ پور جوادی ، ڈاکٹر یداللہ ثمرہ ، ڈاکٹر حسن حبیبی ، ڈاکٹر غلام علی حداد عادل (ادارے کے چیئرمین بھی ہیں ) ، بھاالدین خر مشاھی ، ڈاکٹر محمد خوانساری ، ڈاکٹر علی رواقی ، ڈاکٹر بھمن سرکاراتی ، اسماعیل سعادت ، احمد سمیعی گیلانی ، ڈاکٹر علی اشرف صادقی ، کامران فانی ، ڈاکٹر حمید فرزام ، ڈاکٹر بدرالزماں قریب ، ڈاکٹر سید فتح اللہ مجتبایی ، ڈاکٹر مھدی محقق ، ھوشنگ مرادی کرمانی ، ڈاکٹر حسین معصومی ھمدانی ، ڈاکٹر محمد علی موحد ، ابو الحسن نجفی ، ڈاکٹر سلیم نیساری وغیرہ ۔
فرہنگستان زبان و ادب فارسی کے اہم مقاصد میں فارسی زبان کی اصالت اور حفاظت شامل ہیں ۔ مزید برآں فارسی زبان و ادب کی ملک کے اندر اور باہر بہتر طریقہ سے ترویج و ترقی بھی اس کے فرائضِ کار میں شامل ہے ۔ 
فرہنگستان کے فرائضِ کار میں بہت وسعت ہے اور اس کے متعدد شعبے فارسی زبان و ادب کی ترویج و توسیع کے لیے تحقیقات میں مصروف عمل ہیں ۔ فی الحال اس مقالے میں محض اصطلاحات سازی پر بات ہو گی ۔ فرہنگستان میں اصطلاحات سازی کا شعبہ نہایت فعال ہے ۔ مختلف علوم پر مشتمل اصطلاحات پر تحقیق کے لیے متعلقہ علوم کے ماہرین کی معاونت اور مشاورت سے کام کیا جاتا ہے ۔ باقاعدہ اجلاس میں صدر شعبہ نئے وضع شدہ اصطلاحات و الفاظ کی منظوری فرماتے ہیں ۔ آج کل صدر شعبہ ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر حداد عادل ہیں ۔ 
وضع اصطلاحات ایک طویل اور علمی عمل ہے ۔ جس کے مختلف مراحل ہیں ۔ فی الحال مقالے کی طوالت کے پیشِ نظر اس سے صرفِ نظر کرتے ہیں ۔ امکان ہے کسی دوسری بحث میں اس موضوع پر بھی بات کی جائے ۔ 
مقتدرہ قومی زبان کی خواہش اور کوشش ہے کہ فرہنگستان زبان و ادب فارسی کے قیمتی تجربات سے استفادہ کرے۔ اس سلسلے میں فرہنگستان مسلسل مقتدرہ کو اپنی گرانقدر مطبوعات ارسال کرتا رہا ہے ۔ فرہنگستان زبان و ادب فارسی کے شعبۂ اصطلاحات سازی نے جدید علوم و ٹیکنالوجی کی اصطلاحات و الفاظ کے فارسی مترادفات وضع کیے ہیں۔
آج ہم اُردو زبان میں ان الفاظ کے لیے کوئی مناسب لفظ وضع نہیں کر سکے اور ہم نے اپنی سہولت و ضرورت کے پیشِ نظر ان الفاظ کو جوں کا توں اپنی زبان کا حصّہ بنا لیا ہے ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اردو میں بعض الفاظ کے مترادفات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود انگریزی اصطلاحات کا چلن نمایاں ہے ۔ 



http://www.persianacademy.ir/

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں