English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

13دسمبر2011ء

پریس ریلیز 

اوساکا یونیورسٹی ،جاپان کے پروفیسر سویا مانے کا دورہ مقتدرہ 

جاپان کی او ساکا یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے پروفیسر سویا مانے یاسر نے کہا ہے کہ قومی زبان قوموں کی شناخت اور فخر ہوتی ہے ۔ جاپان میں دوسری زبانوں کے الفاظ بولے اور سمجھے جاتے ہیں مگر جاپانی زبان کی قیمت پر نہیں ۔ یہ بات انہوں نے مقتدرہ قومی زبان کے دورے کے موقع پر کہی ۔ 
پروفیسر سویا مانے یاسر ان دنوں پاکستان کے مختصر دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ پروفیسر سویا مانے نے مقتدرہ کے سکالرز اور دیگر علمی شخصیات جن میں ڈاکٹر انور نسیم ،ڈاکٹر خرم قادر، رؤف کلاسرا ،ڈاکٹرحمیرا اشفاق اور معتمد مقتدرہ رانا سرفراز طارق شامل تھے ۔اُنہوں نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے اردو اور جاپانی زبان کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ اصطلاح سازی میں ہمیں دوسری زبانوں کے الفاظ مستعار لینے پڑتے ہیں۔ جاپانی زبان میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ دوسری زبانوں کا میل جول آپ کی اپنی زبان کو کمزورنہیں کرتا بلکہ تقویت دیتا ہے۔ پروفیسر سویا مانے یاسر نے مختلف سوالا ت کے جوابات بھی دیے۔
اس سے قبل صدرنشین مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے پروفیسر سویا مانے کو خوش آمدید اور تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ پروفیسر سویا مانے اور نٹیئل 
کالج پنجاب یونیورسٹی میں اردو زبان کے طالب علم رہے یہ اردو ارو پنجابی بیک وقت پڑھتے اور عمدہ انداز میں بول لیتے ہیں۔ انہوں نے جاپان یونیورسٹی میں پنجابی صوفی شعراء کے کلا م کی تدریس کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے 
ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ اوساکا یونیورسٹی ،جاپان کے پروفیسرسویا مانے یاسر جاپان اور پاکستان کے باہمی تعلقات اور ثقافتی رشتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

(جاوید اختر ملک )
مشیر ابلا غ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں