English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

تقریب پذیرائی بہ سلسلہ اعترافِ خدمات استادان زبان فارسی

سفارتِ جمہوریہ ایران، اسلام آباد ، پاکستان میں منعقدہ ایک پُروقار تقریب کے دوران اس ملک میں فارسی زبان کے فروغ کے سلسلے میں ڈاکٹر افتخار عارف ، سربراہ ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) و اعزازی رکن برائے فرہنگستان زبان و ادب فارسی اور ڈاکٹر مہر نور محمد خان، سابق سربراہ شعبہ فارسی نمل یونیورسٹی ، اسلام آباد کی خدمات کو سراہا گیا۔
پاکستان میں متعین سفیر محترم اسلامی جمہوریہ ایران عزت مآب جناب مہدی ہنر دوست نے تقریب کے آغاز میں فارسی زبان کی مختصر تاریخ اور برصغیر میں اس کے سوابق و اثرات پر روشنی ڈالی اور اس بات کا ذکر کیا کہ اُردو زبان اور فارسی زبان ایک اٹوٹ انداز میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور دونوں ممالک کی ثقافت کے مشترکہ پہلووں میں شمار کی جاتی ہیں۔
جناب سفیر محترم نے مذکورہ اساتذہ کی پاکستان میں فارسی زبان کو زندہ رکھنے اور اس کے فروغ کے سلسلے میں انجام دی جانے والی خدمات کی تعریف کے سلسلے میں اس بات کی اُمید ظاہر کی ہے کہ یہ راستہ دونوں ممالک کی مشترکہ مدد اور تعاون سے پہلے سے زیادہ ہموار ہو گا۔
بعدازاں جناب جنرل ضیاءالدین نجم ، ریکٹر نمل یونیورسٹی نے مذکورہ اساتذہ کی خدمات کے اعتراف میں منعقد کی جانے والی تقریب کے لیے سفارت اسلامی جمہوریہ ایران اور سفیر گرامی کا بے حد شکریہ ادا کیااور ضمناً ان کے نزدیک زبان فارسی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے اور جس کا تعلق عظیم تمدن اور چند ہزار سال قدیم تاریخ سے ہے۔
مزید برآں ڈاکٹر افتخار عارف نے اپنی تقریر کے دوران اس تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا میرے لیے باعث ِ اعزاز ہے کہ میں زبان و فارسی کی ترقی کی راہ میں چند قدم خواہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں، اُٹھاتا رہا ہوں۔ کیونکہ ایران گہوارہ تمدن ، ادب، ثقافت، ہنر و فن رہا ہے اور دنیا میں اس کی مثال کم نظیر یا دوسرے الفاظ میں بے نظیر ہے۔
بعدازاں انھوں نے اُردو اور فارسی کے مشترکات پر روشنی ڈالی اور کہا: پاکستان میں فارسی زبان کو زندہ رکھنے کے بارے میں پہلے سے زیادہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔
ضمناً تقریب میں جناب افتخار عارف کی خدمت میں فرہنگستان زبان و ادب فارسی کی اعزازی رکنیت کا حکمنامہ بھی عطا کیا گیا۔ اس تقریب میں جناب مہدی ہنر دوست نے ڈاکٹر حدادعادل کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب افتخار عارف کی پاکستان میں زبان فارسی کے احیاءو فروغ کے سلسلے میں انجام دی جانے والی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
جناب افتخار عارف نے اس تقریب کے انعقاد اور فرہنگستان زبان و ادب فارسی و ڈاکٹر حداد عادل کی عنایت پر جو ان کے بارے میں کی گئی ہے پُرخلوص شکریہ ادا کیا اور کہا: ایک طرف مجھے عطا کی جانے والی یہ لوح ناقابل تعریف کوششوں کی علامت ہے جو کہ دنیا میں فارسی زبان کی ترویج و فروغ کے لیے فرہنگستان زبان و ادب فارسی انجام دے رہا ہے اور اسی لیے اس ادارے نے ایک غیر ایرانی شخصیت کو اپنے اعزازی رکن کے عنوان سے قبول کیا ہے اور دوسری طرف میرے لیے فخر کا مقام ہے کہ مجھے اتنی گراں قدر خدمت کے قابل سمجھا گیا اور یہ اقدام کیا گیا۔
تقریب میں جنرل ضیاءالدین نجم، ریکٹر نمل کے علاوہ دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔

فارسی:
طی مراسمی که در محل سفارت جمهوری اسلامی ایران در اسلام‌آباد، پایتخت پاکستان، برگزار شد، از خدمات دکتر افتخار عارف، رئیس سازمان گسترش زبان ملی پاکستان و عضو افتخاری فرهنگستان زبان و ادب فارسی، و دکتر مهرنور محمدخان، رئیس سابق بخش فارسی دانشگاه نومل اسلام‌آباد، در راه ترویج زبان فارسی در این کشور تقدیر به عمل آمد.
در ابتدای این مراسم آقای مهدی هنردوست، سفیر جمهوری اسلامی ایران در پاکستان، به بیان تاریخچه‌ای از زبان فارسی و سابقۀ حضور و نفوذ آن در شبه‌قاره پرداخت و یادآور شد که زبان فارسی و زبان اردو به‌گونه‌ای تفکیک‌ناپذیر در هم عجین شده‌اند و به‌عنوان یکی از وجوه مشترک فرهنگی دو کشور به شمار می‌روند.
وی ضمن تقدیر از خدماتی که استادان مذکور در زنده نگه داشتن و ترویج زبان فارسی در پاکستان به عمل آورده‌اند، ابراز امیدواری کرد که این مسیر با مساعدت و همکاری مشترک دو کشور بیش از پیش هموار شود.
پس از آن آقای ضیاءالدین نجم، رئیس دانشگاه نومل (دانشگاه ملی زبان‌های نوین)، ضمن تقدیر و تشکر از مراسمی که سفارت جمهوری اسلامی ایران به‌منظور قدردانی از استادان و شخصیت‌های فرهنگی این دانشگاه برگزار نموده است، زبان فارسی را دارای بنیه و ریشه‌ای بسیار محکم دانست که از تمدنی بزرگ و دارای قدمت چندهزارساله نشئت گرفته است.
وی ابراز امیدواری کرد که با بازنشسته شدن دکتر مهرنور محمدخان و انتصاب دکتر سفیر به‌جای وی، این بخش کماکان و بیش از گذشته در راه آموزش زبان فارسی به علاقه‌مندان فعّال و موفق باشد.
در ادامه دکتر افتخار عارف، طی سخنانی از برگزاری این مراسم تقدیر و تشکر کرد و گفت: برای بنده مایۀ افتخار است که توانسته‌ام در راه اعتلای زبان فارسی گامی هرچند کوچک بردارم؛ چرا که ایران مهد تمدن و ادب و فرهنگ و هنری است که نمونۀ آن در جهان کم‌نظیر و شاید بی‌نظیر است.
وی پس از آن به اشتراکات زبان فارسی و اردو اشاره کرد و گفت: شایسته است که اهتمام بیشتری نسبت به زنده نگه داشتن زبان فارسی در پاکستان صورت پذیرد.
همچنین در مراسم دیگری حکم عضویت افتخاری دکتر افتخار عارف از طرف فرهنگستان زبان و ادب فارسی به وی اهدا شد. در این مراسم ابتدا جناب آقای هنردوست به نمایندگی ازطرف دکتر حداد عادل، از زحمات و خدمات دکتر افتخار عارف در مسیر احیاء و ترویج زبان فارسی در پاکستان تقدیر و تشکر کرد.
در ادامه دکتر افتخار عارف مراتب سپاسگزاری صمیمانۀ خود را از برگزاری این مراسم و عنایتی که فرهنگستان زبان و ادب فارسی و دکتر حداد عادل به وی داشته‌اند ابزار کرد و گفت: اهدای این لوح از یک سو نشانگر اهتمام و کوشش وصف‌ناپذیری است که فرهنگستان زبان و ادب فارسی به ترویج زبان فارسی در جهان دارد و بنابراین یک شخصیت غیرایرانی را به‌عنوان عضو افتخاری خود می‌پذیرد، و از سوی دیگر مایۀ مباهات بنده است که مشمول چنین اقدام ارزشمندی گردیده‌ام.
در این مراسم دکتر مهرنور محمدخان نیز که حدود پنج دهه در راه ترویج و تقویت زبان فارسی در پاکستان تلاش نموده است، به برنامه‌های مبادلات فرهنگی دو کشور اشاره کرد و گفت: در تفاهم‌نامۀ فرهنگی‌ای که در این زمینه به امضا رسیده است، نام دانشگاه ملی زبان‌های نوین پاکستان (نومل) ذکر شده، که نشانگر اهمیتی است که جمهوری اسلامی ایران برای این دانشگاه و پیوستگی میان زبان فارسی و اردو قائل است.
وی حفظ و تقویت جایگاه زبان فارسی در پاکستان، به‌ویژه در دانشگاه‌های این کشور را مستلزم اراده و تلاش بیش از پیش مسئولان فرهنگی و دانشگاهی دو کشور دانست.
علاوه بر آقای ضیاءالدین نجم، رئیس دانشگاه نومل، مسئولان آموزش و بخش زبان‌های خارجی و بخش زبان فارسی دانشگاه نومل و برخی از اصحاب رسانۀ پاکستان نیز در این مراسم حضور داشتند.

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں